اگست 19, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے بجھا دیئے گئے تو کیا

0

گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا

دیے تھے ہم تو ماند سے بجھا دیئے گئے تو کیا

کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا

خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا

کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا

ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا

ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا

ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں

اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا

ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو

وفا کی راہ میں ہزار ہا  دیّے گئے تو کیا

ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے

ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا

ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی

تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا

کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی

نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا

رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب

گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا

دیے تھے ہم تو ماند سے بجھا دیئے گئے تو کیا

Title Image by vinod shakya from Pixabay

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Oldest
Newest Most Voted

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com

0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x