Tag: میرا

  • ضلع اٹک کی بارانی زمین اور کاشتکاری

    ضلع اٹک کی بارانی زمین اور کاشتکاری

    آبی

    اٹک کی وہ زمین جو دریائے ہرو میں سلطان پور سے نیچے کٹ لگا کر اور وہ زمین جو چشموں اور دوسرے ندی نالوں میں کٹاؤ ڈال کر سیراب کی جاتی ہے آبی کہلاتی ہے۔

    سب سے زیادہ مفید زمین وہ ہے جو واہ اور حسن ابدال کے چشموں سے سیراب ہوتی ہے، یہ بہت زیادہ اچھی ہے۔باقی کہیں کہیں ٹکڑوں میں بھی ایسی زمینیں ملتی ہیں لیکن زیادہ تر دیہات میں ایک ہی قسم کی زمین ہے۔

    پنڈی گھیب میں آبی سے مراد ہر جگہ چاہی زمین کو ہی شامل کیا جاتا ہے اور اس طرح علاقہ جندال میں بھی یہ بات اہم ہے اور وہاں بھی 200 ایکڑ سے کم ہے۔

    نہری۔

    آبی اور نہری میں فرق آبپاشی کی قسم پر ہوتا ہے جو کہ ہرو دریا سے کی جاتی ہے۔

    سلطان پور سے اوپر جہاں ندیاں زمین کے اوپر پھیل کر بہتی ہیں پنج کٹھ کے علاقے میں پانی کی فراہمی سال بھر نہیں رہتی۔

    iattock

    ہرو اپنے بہاؤ کے اس علاقے میں سال کے زیادہ حصہ میں خشک رہتی ہے۔

    اور آب پاشی ایک سیلابی نہر سے مختلف نہیں ہوتی۔

    ہر بارش کے ساتھ تازہ پانی دریا میں آتا ہے اور اسے روک کر زمین کو سیراب کیا جاتا ہے۔باقی آبپاشی سارا سال ہوتی رہتی ہے، وہ چشموں سے ہو یا ندی نالوں سے جو چشموں کے پانی کے بہاؤ سے وجود میں آتے ہیں یا پھر سلطان پور گاؤں سے نیچے جہاں ہرو سال بھر بہتی ہے۔

    تاہم یہاں دریا کے کنارے پر ہی تھوڑا علاقہ سیراب ہوتا ہے اور پانی بھی حقیقتاً ہرو کا پانی نہیں ہوتا بلکہ یہ ان چشموں سے آتا ہے جو ہرو کے دامن میں تھوڑی اونچائی سے آ کر ہرو میں شامل ہوتا ہے۔

    لہزا نہری کی اصطلاح صرف اس زمین پر پنج کٹھ میں یا ایک اور دو دیہات جو سلطان پور سے نیچے آتے ہیں میں شامل ہوتی ہے باقی ہر قسم کی آبپاشی ابی کہلاتی ہے۔

    حسن ابدال اور واہ کے دیہات میں آبی زمینوں سے بعض اوقات دو کے بجائے تین فصلیں لی جاتی ہیں۔

    کئی ایک دیہات کی اعلیٰ نہری زمینوں سے جب کے اچھی کھاد ڈالی جاتی ہے۔

    اور جو آبپاشی کے راستوں نزدیک ہوں سے ششماہیوں میں چھ فصلیں بھی لی جا سکتی ہیں۔

    ایسی زمین "دو فصلی نہری کہلاتی ہے”.

    1907 میں کل رقبہ 1٫702 ایکڑ تھا جو 1925 میں بڑھ کر 1٫788 ایکڑ ہو گیا۔

    سلطان پور کی نہری زمینیں مختلف زرخیزی کی اہمیت کی حامل ہیں۔

    نہری زمینیں صرف اٹک تحصیل میں ہیں جو تحصیل کے اندر نلہ سرکل کے شمال مشرقی کونے میں ہیں، سارا پانی تقریباً ہرو سے حاصل ہوتا ہے۔

    نہروں کے سرے زیادہ تر ہزارہ کی ہری پور تحصیل میں ہیں اور اٹک کے مالکان کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ خانپور کے گکھڑ خاندان سے پانی کی فراہمی کی خاطر اچھے تعلقات استوار رکھیں۔سیلابی زمینیں اٹک اور فتح جنگ تحصیلوں میں اہم ہیں۔(پنڈی گھیب میں 400 ایکڑ سے کم ہیں)۔

    فتح جنگ اور پنڈی گھیب میں گندم بڑی فصل ہے پورے ضلع میں مزروعہ رقبہ کا 74٪ رقبہ قابل کاشت ہے۔اٹک کی لپاڑہ زمین کو جب بھی وسائل اجازت دیں تو چاہی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، ان پر زراعت ہمیشہ احتیاط سے کی جاتی ہے، اچھی کھاد ڈالی جاتی ہے اور زیادہ تر دوہری فصل نہیں لی جاتی۔پنڈی گھیب میں مٹی بہت حساس قسم کی ہے۔

    سخت گرمی یا دیر سے بارش ہونے پر لپاڑہ کی فصلیں سب سے پہلے بکھر جاتی ہیں۔

    فتح جنگ میں احتیاط سے اس زمیں پر حل چلایا جاتا ہے یہاں یہ زمین بہت قیمتی ہے۔چھچھ میں لس سے مراد وہ زمینیں ہیں جو گندھ گڑ کے پہاڑوں سے آنے والے پانی سے سیراب ہوتی ہیں قیمتی تہہ نشین مادوں جو کہ زمین کو بار بار زرخیز کرتے رہتے ہیں اس کے علاؤہ زمین نیچے ہونے کی وجہ سے ہر سال سیلابی پانی سے بھی سیراب ہوتی ہے۔ اس طرح ان زمینوں کی نسبت جن پر سیلابی پانی نہیں پہنچتا یہ زمینیں زیادہ تر نمی کو اپنے اندر سہارتی ہیں۔

    جب کے دوسری زمین خشک ہو جاتی ہیں لہذا وہ دیہات جن کی زمینیں "لس” ہیں بہت محفوظ ہیں اور قحط سالی کے دنوں میں بھی کم متاثر ہوتے ہیں جب کہ عام سالوں میں زمین کی پیداوار "میرا” سے کافی ہوتی ہے (Mr Tailor کی رپورٹ کے مطابق پیراگراف 4) کے مطابق آخری بندوبست کے دوران "لس” چھچھ کے آبی دیہات میں ریکارڈ کی گئی اور اس وقت کی درجہ بندی اب تک موجود ہے۔

    باقی ہر جگہ "لس” کا مطلب ایسی زمینیں ہیں جن کے گرد بند باندھے جاتے ہیں۔ عموماً یہ گہری ندیوں کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔

    جہاں ندیوں کا پانی اوپر چڑھتا ہے اور اونچائی والی زمینوں سے رسنے والے پانی یعنی نمی کی وجہ سے بھی زیادہ دیر تک نمی کو سہار سکتی ہیں۔ زیادہ بارشوں کے دوران کافی ساری دریائی مٹی ان زمینوں کے اوپر ا جاتی ہیں جو انھیں مزید زرخیز بناتی ہیں۔

    البتہ پانی کو روکنے کے لیئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔

    جب ایسا کٹاؤ ہو جائے تو زمین بے کار ہو جاتی ہے کہ پانی زمین کی زرخیز مٹی کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے اور اس میں نمی بھی نہیں رہتی۔ جب تک بند موجود رہتے ہیں تو یہ زمین ایک اچھے "میرا” سے بھی بہتر ہوتی ہے۔

    لیکن چھچھ کے مرکز کی "لس” کے برابر نہیں ہو سکتی۔

    بند باندھنے سے اور ہمیشہ ان کی مرمت کرتے رہنے سے جو اخراجات اور محنت ہوتی ہے اس کی وجہ سے عام طور پر اس زمین کا تخمینہ (مالیہ) ایک اچھی "میرا” زمین کے نرخ پر کیا جاتا ہے۔ خصوصیات کے لحاظ سے میرا کی کئی اقسام ہیں۔ ایسے جہاں یہ ریتلا اور نرم ہے وہاں صرف ربیع کی فصل اگائی جاتی ہے جہاں یہ اونچی سطح پر ہو تو مٹی زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔یہ کچی زمین خریف کی فصلوں کے لیئے چھوڑ دی جاتی ہے تاہم بعض اوقات یہ ربیع کے لیئے بھی استعمال ہو جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ کسان اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ ربیع کی فصل زیادہ قیمتی اور منافع بخش ہوتی ہے۔

    بارانی زمینوں میں زراعت کے دو ہی طریقے استعمال ہوتے ہیں ایک "دو فصلی/دو سالہ” طریقہ ہے جس میں عموماً ربیع کی فصلیں گندم اور چنا کے بعد خریف کی فصل باجرہ اور جوار بوئی جاتی ہے یہ زمینیں اس طرح دو فصلوں کے لیئے چھوڑ دی جاتی ہیں اور اچھے طریقے سے باقائدگی کے ساتھ ہل چلایا جاتا ہے۔

    دوسرا نظام جو کہ زیادہ عام ہے وہ یہ ہے کہ ربیع اور خریف کے لیئے الگ الگ زمینیں چھوڑی جاتی ہیں، ہلکی زمین ربیع کے لیئے چھوڑی جاتی ہے اور سخت مضبوط خریف کے لیئے چھوڑی جاتی ہے۔

    ربیع کے لیئے چھوڑی جانے والی زمین پر ایک

    ربیع کے لیئے چھوڑی جانے والی زمین پر ایک یا زیادہ سالوں گندم بوئی جاتی ہے اور اس کے بعد چنا کاشت کیا جاتا ہے۔

    تارا میرا اکثر خریف کی فصل کے بعد بو دیا جاتا ہے جب خریف کی فصل ناکام ہو تو وہ زمین جو خریف کی فصل کے لیئے چھوڑی جاتی ہے اس پر باجرہ بویا جاتا ہے۔

    ہلکی ربیع والی زمین پر عموماً گندم کے لیئے دو دفعہ ہل چلایا جاتا ہے اور چنے کی فصل کے لیئے ایک ہی دفعہ ہل چلاتے ہیں۔

    مضبوط اور پکی زمینیں زیادہ توجہ چاہتی ہیں۔

    اوسطاً 100 ایکڑ میرا زمین پر 61 ایکڑ پر فصل تیار ہوتی ہے اور بیجے ہوئے رقبہ پر خرابی کی اوسط 25 فی صد ہے۔

    100 ایکڑ مزروعہ راکڑ زمین پر سالانہ اوسطاً 52 ایکڑ پر فصل تیار ہوتی ہے اور بیجے ہوئے رقبہ پر خرابی کی اوسط 32 فی صد ہے۔

    ایسی زمینوں پر صرف بارشوں والے سال ہی بیجائی ہوتی ہے اور اس زمین کی فصلوں سے عموماً تارا میرا یا بعض اوقات پھلی دار اجناس کے ساتھ کبھی کبھار گندم بھی بوئی جاتی ہے۔

    جاری ہے۔۔۔

  • اٹک نلہ

    اٹک نلہ

    مرزا گاؤں سے مشرق "ہزارہ کی حدود تک بھیڈیاں گاؤں کے نزدیک ہرو کے داہنے کنارے والی زمینیں سوائے چند ایک مزروعہ کھیتوں کے جو ندی کے نزدیک ہیں گہری ندیوں اور نالوں کا ایک لا متناعی سلسلہ اٹک نلہ کا علاقہ ہے”.

    اونچی زمین میں پانی میں لڑھکنے والے پتھر یا مٹی کے بنے سخت کنکر بکھرے پڑے ہیں۔

    کہیں کہیں کوئی چوٹی بھی بلند ہو جاتی ہے۔زراعت کہیں کہیں ہے کیونکہ مٹی برابر نہیں ہے اور کم خاصیت کی حامل ہے۔

    پہاڑیوں سے تھوڑی دور تک پتھریلی ہے اور پھر مٹی بھی نرم سے سخت کی صورت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کوا گر کے پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ کچھ بڑی زمینیں ہیں۔

    کوا گر کھیری مار کا درمیانی علاقہ کم زرخیز ہے۔

    یہ بلند علاقہ اور مٹی کے لحاظ کے کمزور ندی نالوں سے بھرا پڑا ہے۔ چٹانیں اکثر نظر آ جاتی ہیں جو کہ زمین کے نزدیک ہی ہیں۔

    کٹاریاں سے مغرب تحصیل کی حدود تک اور شمال کی طرف جرنیلی سڑک تک کے دیہات کو ہرو کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔

    یہ علاقہ بہترین بارانی علاقوں میں شامل ہے خاصیت میں ایسی چکنی مٹی کا علاقہ ہے جس پر آسانی سے کام ہو سکتا ہے۔

    اچھی بارشوں کے سلسلے میں یہاں اچھی فصلیں ہوتی ہیں۔

    iattock
    ااٹک کا جغرافیہ- تصویر :سردار ساجد محمود خان

    ہرو کے ساتھ ساتھ بارشی پانی والی زمین جہاں ہرو جنوب کی طرف رخ کرتا ہے بہت بیکار زمینیں ہیں، مشکل سے ہی کوئی ہموار زمین ملتی ہے۔اچھی زمینیں وہی ہیں جو ندی اور نالوں کے کناروں پر ہیں۔زمین کی خاصیت کی وجہ سے جو بھی تبدیلیاں ہیں سب کا انحصار بارش ہر ہے۔

    اس علاقے کے مغرب میں اچھی زمین ہونے کے باوجود ایک سال وہاں فصل نہیں ہوئی دوسرے سال فصل اتنی تھی کہ سنبھالنی مشکل ہو گئی۔

    فتح جنگ نلہ

    فتح جنگ نلہ چونے کے پتھر کی ان چٹانوں کی خاصیت کا حامل ہے جو زمین کے نیچے موجود ہے۔

    یہ زمین جو چونے کے پتھر سے بنی ہے اس زمین سے جو کالا چٹا کے جنوب میں ہے بدرجہا بہتر ہے۔

    یہ علاقہ ہر جگہ ندی نالوں سے بھرا پڑا ہے۔مغرب کے طرف کنکریلی ٹیکریاں ابھرتی نظر آتی ہیں۔

    بے شمار ندیوں کی بدولت اس علاقے میں آبپاشی اچھی ہوتی ہے اگرچہ یہ ندی نالے کم بارش کے موسم میں خشک رہتے ہیں پھر بھی ان میں گہرے جوہڑ تالاب اِدھر اْدھر مل جاتے ہیں۔

    اپنے کناروں کے اوپر والی زمین کے لیئے بہت کار آمد ہیں جب کے نالوں کے اندر جگہ جگہ کنوئیں بھی موجود ہیں۔

    اس علاقے کا مرکز باہتر کے ارد گرد ہے۔یہ ضلع کا زرخیز ترقی والا علاقہ ہے جو کالا چٹا سے جنوب کی طرف واقع ہے۔

    مشرق کی طرف یہ راولپنڈی کے کھروڑا سرکل کی طرح خشک ہوتا ہوا ختم ہو جاتا ہے جو کہ عام سی بات ہے۔

    گھیپ کا علاقہ۔

    کھیری مورت اور کالا چٹا کے درمیانی علاقہ کو گھیپ کا علاقہ کہتے ہیں۔

    راولپنڈی کے کھروڑا کی طرح اس کی زمین خشک اور پتھریلی ہے جس کا مشرقی حصہ ریتلا  مگر زرخیز ہے۔

    جب کہ مغرب کی طرف سخت اور خشک ہو جاتی ہے۔ عام طور پر زمین بہت اچھی ہے اور صرف معمولی بارش میں بھی زیادہ فصل دیتی ہے لیکن خشک سالی اور تیز گرم دھوپ کو برداشت نہیں کر سکتی۔

    گھیپ میں پانی کی کمی ہے چند ایک دیہات میں تو پینے کا پانی بھی میسر نہیں۔

    جندال کا علاقہ۔

    جندال کے دیہات باقی ضلع کے دیہات سے بہت مختلف ہیں۔

    چٹانیں کہیں کہیں نظر آتی ہیں علاقہ کا زیادہ حصہ ایک گھومتی ہوئی ریت کا میدان ہے۔کنوئوں اور چشموں سے بہت کم آبپاشی ہوتی ہے لیکن زیادہ تر چنے کی کاشت کا وسیع علاقہ ہے۔

    خریف کی فصل کی اہمیت کم ہے گندم اگائی جاتی ہے لیکن اہم پیداوار چنا ہے۔

    ضلع کا بقیہ علاقہ۔

    جہاں تک زمین کا تعلق ہے تو باقی ماندہ کی تمام زمین ایک ہی قسم کی ہے ہلکی چکنی مٹی ہے جس میں زمین کے اندر کی ریتلی چٹانوں کی خاصیت پائی جاتی ہے۔

    جو تمام علاقے میں کہیں کہیں ابھری ہوئی نظر آ جاتی ہے۔گہری جگہوں پر زمین بھی گہری ہے۔

    علاقہ کی سطح پر بے شمار ندیاں اور نالے بہتے ہیں۔بڑی ندی کے اکثر بہت چوڑے اور ریتلے پارٹ ہوتے ہیں جو چپٹی یا تنگ پٹیوں میں پھیلے ہوتے ہیں ان کی مٹی زیادہ زرخیز ہوتی ہے ان پٹیوں پر کنوئیں کھودے جاتے ہیں۔

    ندیوں کے پاٹوں سے زمین خشک اور کٹی پھٹی ڈھلانوں کی شکل میں ابھرتی ہے جس کی مٹی ہلکی ہلکی چکنی ہوتی ہے۔

    اکثر جگہوں پر پانی کا بہاؤ انھیں بہا لے جاتا ہے اور نیچے سے چٹان نکل آتی ہے۔بناوٹ میں مکھڈ کا علاقہ باقی علاقوں سے مختلف ہے۔علاقہ جنگلی اور پہاڑی ہے زمین ریتلی ہے زراعت کے لیئے بہت گہری جگہوں پر موجود ہے۔

    صرف پتھریلی چٹانوں کی ٹیکریوں پر یا ان گہری وادیوں میں جہاں بند باندھ کر دریائی مٹی روک کر زمین بنائی گئی ہو وہاں زراعت ہوتی ہے۔

    زمین کی اقسام.

    (آبپاشی والی زمینیں)

    چاہی-

    تمام وہ زمینیں جن کی آبیاری کنوئوں سے کیجاتی ہے۔

    آبی-

    وہ زمینیں جن کی آبیاری کنوئوں یا نہروں کے علاؤہ کی جاتی ہو۔

    نہری-

    نہروں سے آبپاشی والی زمینیں ان تحصیلوں میں کوئی نہیں۔

    سیلابی-

    وہ زمینیں جن پر ندی نالوں کا پانی چڑھتا ہے یا وہ جن میں پانی کی زیادتی کی وجہ سے ہمیشہ نمی رہتی ہے۔

    لپاڑہ-

    وہ زمین جو دیہات کے ارد گرد ہوتی ہے گاؤں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے اور قدرتی کھاد ڈالنے کی وجہ سے زرخیز ہوتی ہیں اور ایسی زمینیں دوہری فصلیں حاصل کرنے کے لیئے استعمال ہوتی ہیں۔

    لس-

    ایسی گہری زمینیں جو زمینوں سے پانی حاصل کرتی ہیں یا وہ زمینیں جن کے کنارے اونچے کیئے گئے ہوں تا کہ وہ بہنے والے پانی کو محفوظ کر سکیں، ایسی زمینیں اکثر اچھی صفات کی حامل ہوتی ہیں۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔

  • زراعت و آب رسانی

    زراعت و آب رسانی

    زمین کو ضلع کے تمام رقبے کی 1927 میں اس طرح درجہ بندی کی گئی،

    1-مزروعہ 978, 1049 ایکڑ۔

    2-قابل زراعت بنجر 947, 1625 ایکڑ۔

    3-سرکاری جنگلات 958, 0٫201 ایکڑ۔

    4-دوسرے ناقابلِ زراعت علاقے 1, 361, 517 ایکڑ۔

    آخری علاقہ زیادہ تر ندی نالوں، دریا اور پہاڑوں پر مشتمل ہے۔

    زمین کی مٹی:

    عام طور پر ضلع کی تمام زمینوں کی اہمیت ان چٹانوں کی خاصیت کی حامل ہے جو اس زمین کے نیچے تہہ در تہہ موجود ہیں۔

    اٹک کے زمیندار جناب سردار ساجد محمود خان آف پنڈ فضل خان

    اس طرح یا تو چونے کے پتھر کی چٹانوں یا ریتلے پتھروں والی چٹانوں کی مٹی کہلاتی ہے لیکن اس اصول میں بھی کئی قسم کی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں لہذا ایک یا دو علاقوں کی زمینوں کا ذکر کرنا ضروری ہے۔چھچھ کا وہ حصہ جو چیل ندی کے شمال میں ہے وہ ضلع کے تمام دوسرے علاقوں سے مختلف ہے۔دریائے سندھ کی نزدیکی زمینیں اچھی خاصیت کی حامل نہیں، یہ بے حد ریتلی اور پتھریلی ہیں لیکن اس علاقے کا باقی ماندہ علاقہ چھچھ کا دل کہلاتا ہے۔یہ بہت زرخیز علاقہ ہے اس کی چکنی مٹی دریائی ہے جو دریائے سندھ اور مقامی پہاڑوں سے بہہ کر آتی ہے۔یہاں پانی سطحِ زمین کے نزدیک ہے۔ کنویں زیادہ ہیں عام کھیتی باڑی کے علاؤہ کنوؤں کی زمین پر بھی کھیتی باڑی اچھی ہے۔ کنوؤں کی زمینوں پر گنا, تمباکو، مکئی اور بارانی زمینوں میں گندم کی فصل ہمیشہ اچھی ہوتی ہے۔

    ایک عام ضرب المثل مشہور ہے "چھچھ آباد تے ملک غیر آباد” جس کا مطلب ہے کہ چھچھ اس وقت بھی اچھی پیداوار دیتا ہے جب کم بارشوں کی وجہ سے باقی ملک میں اچھی فصل نہ ہو کیونکہ مٹی میں قدرتی نمی موجود ہے اور سخت بارشوں میں بھی اس کی پیداوار پر زیادہ خراب اثر نہیں پڑتا اگرچہ غلہ کی مقدار کچھ گھٹ جاتی ہے۔

    آبپاشی کا منظر

    چیل کی زمین چیل ندی کے اطراف میں واقعہ ہے جو خاکوانی سے شمس آباد تک پھیلی ہوئی ہے۔ان زمینوں میں پانی کی زیادتی درج ذیل وجہ سے ہے:

    چھچھ کا میدان اس سطح زمین سے تقریباً تین سو فٹ نیچے ہے (جس پر وہ ندی جو لارنس پور سے اٹک کی پہاڑیوں کی سمت بہہ رہی ہے) کا پانی سطحِ زمین کے بہت قریب ہے اور نیچے ہر وقت موجود ہے جس کی وجہ دریائے سندھ والا پانی ہے۔وہ بارش جو اونچے "میرا” پر ہوتی ہے اس کا پانی بھی زمین میں جذب ہو کر اس نچلے میدان کی طرف آ جاتا ہے اور ان دو پانیوں کے ملاپ سے اس میدان میں پانی اُوپر کی طرف اور "میرا” کی نچلی سطح تک آ جاتا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ پانی پھر "میرا” کی بنیادوں سے کیوں نہیں رستا،

    اول تو یہ وجہ ہے کی پانی "میرا” کی نچلی سطح سے چیل کی زمین کی طرف رخ کر لیتا ہے جس کے ایک طرف کامرہ پہاڑی ہے اور دوسری طرف گند گڑھ کی پہاڑی شاخ ہے اور دوئم یہ کہ شمس آباد سے پانی سطحِ زمین سے دور ہے اور یہاں چیل گہرائی میں چلتی ہے لہذا وہ زمینیں جو چیل ندی اور "میرا” کے درمیان ہیں دائیں کنارے کی نسبت زیادہ نمدار ہیں۔

    زمین پانی کے باوجود بھی بہت اچھی ہے ایسی چکنی مٹی ہے جو سوائے چند جگہوں کے سخت مٹی سے نہیں ملتی۔سردیوں میں پانی سطحِ زمین کے برابر ہو گیا اور چیل ندی تک محدود ہو گیا تو حکومت بھی مدد کو پہنچی اور ایک مکمل نکاسی آب کا منصوبہ تیار کیا گیا جو حضرو، موسیٰ اور کولتھی سے شروع ہو کر شمس آباد تک بنایا گیا۔

    1925 میں حریف کی فصل بلکل ناکام ہو گئی تھی لیکن ایک سال بعد یعنی 1926 میں نکاسیِ آب کے منصوبے کی وجہ سے مکئی اور چری کی بے شمار فصل ہوئی۔1904 میں "ہٹی جھیل” تقریباً 1607 ایکڑ پر پھیلی ہوئی تھی۔1924 میں یہ بڑھ کر 1767 ایکڑ ہو گئی تھی۔

    سروالہ کی ناہموار زمین.

    چیل کہ کنارے سے زمین ایک اونچے ٹیلے کی شکل اختیار کر لیتی ہے، یہ علاقہ چیل اور ہرو کے درمیان بہنے والے پانی کا نظام گند گڑھ پہاڑوں کے دامن سے قبلہ بانڈی کے جنوب مشرق تک مالا گاؤں سے رومیا گاؤں اور پھر اٹک کی پہاڑیوں کے دامن تک پھیلا ہوا ہے۔

    مغربی کنارہ ایک پتھریلی چٹان بناتی ہے جو گند گڑھ پہاڑوں سے نیچے کی طرف آئی ہوئی فٹ کی بلندی تک پہنچی ہے اور تحصیل کی حدود تک ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد چٹانی بناوٹ کا علاقہ ختم ہو جاتا ہے اور مٹی کی کٹی پھٹی چوٹیاں بن جاتی ہیں پھر ان کی جگہ ریتلی مٹی ڈھیریاں لے لیتی ہیں۔

    اس وادی کی شمالی ڈھلان چیل کے کنارے تک زیادہ تر کمزور مٹی کی ہے اور آہستہ آہستہ نیچے کی سمت میں پھیل جاتی ہے۔ادھر ادھر کہیں کہیں چکنی مٹی کی زمین بھی نظر آتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ ڈھلان ختم ہو جاتی ہے یہ سطح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے جس میں ندیاں اور نالے بن جاتے ہیں جن کے کنارے اونچے اور مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔

    قبلہ بانڈی سے پرے اس ڈھلان کی خاصیت بلکل مختلف ہے۔میدانی علاقے کے نزدیک زمین سخت چکنی مٹی کی ہے لیکن جونہی گند گڑھ کی شاخ نظر آتی ہے تو زمین پتھریلی ہو جاتی ہے اور پھر پہاڑی شروع ہو جاتی ہے۔

    گندم کی کٹائی

    پانی کے نالے کٹے پھٹے اور اونچے کھڑے کناروں والے بے ترتیبی سے بہتے ہیں ان کی تہوں میں موٹی ریت اور گند گڑھ کے چٹانی پتھر ہوتے ہیں "میرا” ہرو اور چیل کے نالوں کے درمیان نزدیکی علاقہ اور سندھ سے چند میل مرزا گاؤں سے اوپر ایک گول مول ریتلی زمین پھیلی ہوئی ہے جو مقامی زبان میں "میرا” کہلاتی ہے۔ دریائے سندھ کے نزدیک کچھ علاقہ پہاڑی اور ندی نالوں والا ہے۔

    لیکن باقی ہر جگہ زمین قدرے ہموار ہے۔اس کے پانی کے نالے کم گہرائی کے نالے ہیں۔خشک سالی میں یہ علاقہ زیادہ تر نقصان اٹھاتا ہے اور کئی فصلوں کی اس میں بیجائی نہیں ہو سکتی۔اچھی بارشوں کے سال میں ساری زمین کو ہل کے نیچے لانا مشکل نہیں ہوتا، یہاں کم قیمت فصلیں بوئی جاتی ہیں اور اکثر ناکام ہوتی ہیں۔

    ہرو کے نزدیک مٹی کی ریتلی خاصیت کم ہو جاتی ہے اور کچھ پتھریلی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہ علاقہ اکثر ٹوٹا پھوٹا ہے کیونکہ یہاں بہنے والے نالے اچانک گہرے ہو جاتے ہیں اور ان میں ملنے والی چھوٹی ندیاں بھی ناقابلِ گزر ہو جاتی ہیں سوائے چند ایک مقامات کے۔ ہرو کے جنوب میں زمین بہتر ہوتی جاتی ہے اور زمین آہستہ آہستہ نرم مٹی سے چکنی مٹی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اس کے اوپر برسنے والے پانی کے بند باندھ کر زیادہ استعمال میں لایا جاتا ہے۔

    جاری ہے …..

    تصاویر کے لئے ہم سردار ساجد محمود خان آف پند فضل خان کے شکر گزار ہیں