کیا عزت و ذلت؛ ہدایت و گمراہی اللہ کی مرضی سے ہیں ؟

کیا عزت اور ذلت؛ ہدایت و گمراہی اللہ کی مرضی سے ہیں

یہ ایک ایسا سوال ہے جو عموماً لوگوں کے ذہنوں میں اُبھرتا ہے، میرا ذہن بھی اکثر اُلجھ جاتا ہے میرا یہ کامل ایمان ہے کہ اللہ رَبُّ العِزَّت قادرِ مُطلِق ہے، یقیناً وہ کُن، فَیَکُون کا مالک ہے مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک واحد اللہ ہدایت کا سرچشمہ بھی ہو اور ضلالت و گمراہی کا مبداء بھی؟ اور پھر یہ بھی کہ انسان کو گمراہی پر عذاب بھی دے؟ جبکہ وہ عادل بھی ہو

اس تحقیق و تحریر کی وجہ سورۃ آل عمران کی 26 ویں آیۃ کے یہ الفاظ بنے

               وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَأءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَأءُ ط 

یعنی عزت اور ذلت تو بس اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عزت دے دے اور جسے چاہے ذلت دے دے  اور سُورۃ ابراہیم کی آیت 4 میں یُوں گویا ہے کہ

             فَيُضِلُّ اللهُ مَنْ يَشَأءُ وَ يَھْدِیْ مَنْ يَّشَأءُ ط

وہ اللہ جسے چاہتا ہے گُمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

جو بھی انسان ظُلم و جبر اور طاقت کے بَل بوتے پر جب دولت و اقتدار حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ یہی استدلال پیش کرتا ہے جیسا کہ شام کے دربار میں اولادِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظلم کی انتہا کے بعد یزید لعین نے یہی آیات پڑھیں اکثر چور، ڈاکو لُٹیرے یہی حوالہ پیش کرتے ہیں، وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَأءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَأءُ یعنی عزت اور ذلت تو اللہ خُود بانٹتا ہے لہٰذا ہمیں بھی عزت اللہ نے ہی عطا کی ہے ؛

تو پھرمعزز قاری ! کیا یہ سوال نہیں بنتا ؟ یقیناً آپ بھی ایسے ہی سوچتے ہوں گے، اور پھر قُرآن خُود ہمیں غور و فکر کی دعوت بھی دیتا ہے، اور مندرجہ بالا طاغُوتی قوتوں سے یہ کہتا سنائی دیتا کہ

وَ مِنَ الْنَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللہِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ لَا ھُدًی وَّ لَا کِتَابٍ مُّنَيْرٍ *

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ نہ ان کے پاس علم ہے نہ ہدایت ہے اور نہ روشن کتاب ہے، تو پھر آئیے قُرآن یعنی کتابِ روشن ہی سے اپنے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں !

ہم قُرآن حکیم کی حکمتوں پر جب غور و فکر کرنا شروع کرتے ہیں تو ہم پر یہ واضح ہوتا چلا جاتا ہے کہ قُرآن کی ایک آیت کی تشریح و تفسیر دوسری آیت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو سورۃ نحل کی ٨٩ ویں آیت میں قُرآن کو واضح بیان کرنے والا تبیان فرماتا ہے

                     وَ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَاناً لِّكُلِّ شَیءٍ 

قُرآن جو تمام حقائق کو واضح کرنے والا ہے ہم نے آپ پر نازل کر دیا

سب سے پہلی وضاحت سورۃ یونس کی آیت 108 سے لیتے ہیں

قُلْ يٰاَيُّھَاالنَّاسُ قَدْ جَأءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ج وَمَنِ اھْتَدیٰ فَاِنَّمَا يَھْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ ج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا  يُضِلُّ عَلَيْھَا ج وَمَأ اِنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ *

اے میرے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کہہ دیجیئے کہ تمہارے رب کی طرف سے حق کی دعوت تمہاری طرف آ چکی ہے پس جو بھی اس ہدایت کو قبول کرے گا وہ اس کے اپنے نفع میں ہے، اور جو اس سے روگردانی کرے گا اس کا اپنا نقصان ہے، اور مَیں (محمد ص) ہرگز تَم پر مسلط نہیں ہوں ، یہاں قُرآن ہمیں وسیع اور عمومی ہدایت و گمراہی کی خبر دیتا ہے، اور یہ ہدایت و گمراہی انسان کے اپنے اختیار میں دے کر اسے آزاد کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا

وَھَدَینَاہُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاکِراً وَّ اِمَّا کَفُوراً  ؛ ہماری طرف سے سیدھی راہ کی طرف انسان کو ہدایت کر دی گئی ہے اب اس کی مرضی ہے کہ عمل کر کے شکر گزار بندہ بنے یا انکار کر کے کُفرانِ نعمت کرے،

معزز قاری ! یہاں ایک بات تو بالکل واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاؑء اور قُرآن کے ذریعے سے اچھائی اور برائی، نیکی اور بدی کی مکمل ہدایت کا بنیادی فریضہ ادا کر دیا ہے، اور تمام انسانوں کو بالعموم مخاطب کرتے ہوئے فرما دیا ہے کہ تمہارا نفع و نقصان یہ ہے ، اب یَھدِی مَنْ یَشَآءُ یعنی وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، کا مطلب سورۃ محمد کی ١٧ ویں آیت میں یُوں واضح ہوتا ہے کہ

وَالَّذِینَ اھْتَدَوا ذَادَھُم ھُدًی  ، اور جنہوں نے اس عمومی ہدایت کو قبول کر لیا وہ (اللہ) اُن کی ہدایت (توفیق) میں اضافہ کر دیتا ہے اور سورۃ مؤمن کی آیت 34 میں ارشاد فرمایا کہ

كَذَالِكَ يُضِلُّ اللهُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابٌ *

حد سے گزر جانے والے اور شک کرنے والے کو اللہ گمراہی کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اور اسی سورۃ کی 74 ویں آیۃ میں فرمایا کہ یُضِلُّ اللهُ الکَافِرین ، اور اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ رہنے دیتا ہے، اور اسی طرح سورۃ ابراہیم کی آیت 27 میں ارشاد فرمایا

يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فَی الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِی الاٰخِرَةِ ج وَ

يُضَلُّ اللهُ الظّٰلِمِيْنَ وَ يَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَأءُ *

جو لوگ سچے قول (کلمہءِ توحید) پر ایمان لا چکے اُن کو اللہ دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھے گا اور ظالموں (سرکشوں) کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور اللہ جیسے چاہتا ہے ویسے کرتا ہے، یہاں پر یُثَبِّتُ اللہُ کے الفاظ اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ ہدایت کے راستے پر رکاوٹیں ، مُصیبتیں ، اور پریشانیاں ضرور آئیں گی، شیطان بھی اپنا وعدہ شُدہ کردار ضرور ادا کرے گا اور اللہ تعالیٰ ہدایت کے متمنی کو ثابت قدمی ضرور عطا فرمائے گا

اب یہاں یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ اللہ کن لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور کن لوگوں کو ہدایت کرتا ہے، کن لوگوں کو عزت عطا کرتا ہے اور کن لوگوں کو ذلت و گُمرَہی میں چھوڑ دیتا ہے، جو لوگ عمومی ہدایت کی طرف آتے ہیں اُن مخصوص لوگوں کی مزید راہنمائی و ہدایت فرماتا ہے، یعنی وسائلِ سعادت میں اضافہ کیے جاتا ہے، اور جو لوگ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشاتِ نفسانی کے تابع ہو جاتے ہیں اور یہی تو ظالم، مُسرف ، اور کافر ہیں تو اُن کو چھوڑ دیتا ہے تو پس یُوں اُن کی ضلالت و گمراہی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، گویا کہ اُن کے اپنے اعمال کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ عزت و ذلت اور ہدایت و گمراہی تقسیم فرماتا ہے ،

اب یہاں پر ضمناً یہ سوال بھی اُبھرتا ہے کہ عزت اور ذلت کا حقیقی معیار کیا ہے، اور نعمات و ہدایتِ حقیقی قُرآن کی رُو سے کیا ہیں اس کا جواب پھر کسی موقع پر بیان کروں گا،

فی الوقت موجودہ بحث کو سمیٹتے ہوئے عرض کروں گا کہ مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہو گیا کہ اَولاً تو قُرآن کی کوئی آیت متشابہ ہو، یعنی ہمارے ذہنوں میں سوال پیدا کرے تو قُرآن مجید کی دیگر آیات سے راہنمائی لے کر نتیجہ اخذ کیا جائے اللہ تعالیٰ کی کتاب خُود ہی راہنمائی فرمائے گی اور ثانیاً جو بھی ہدایتِ عمومی پر کاملاً عمل پیرا ہو کر عزت کا خواہشمند ہو گا اُسے عزت ملے گی اور جو بھی اللہ کی ہدایت سے روگردانی کرے گا ذلت و ضلالت و گمراہی اُس کا مقدر ٹھہرے گی، اللہ تعالیٰ ہماری راہنمائی فرمائے اور قُرآن حکیم کے مطابق سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے؛ آمین ثم آمین

ازقلم :مُونِس رضا

2 دسمبر 2020ء

در بارہ مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

یہ بھی دیکھیں

قُرآن

قُرآن آئینِ زندگی ہے؛ منشورِ حیات ہے(قسط اوّل)

قُرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نبیِ مکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی آخری آسمانی کتاب ہے، قُرآن ایک دائمی معجزہ ہے سرکارِ رسالت مآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کا ، کیونکہ اسلام دائمی و جاودانی دین ہے تو قُرآن کو بھی قیامت تک کے لیے ہر دور اور زمانے میں سند اور دلیل کا حامل ہونا چاہیے،