Tag: قرآن

  • چھوٹے قدم، گہری تاثیر: اٹالین ننھی عائشہ کی قرآنی محبت

    چھوٹے قدم، گہری تاثیر: اٹالین ننھی عائشہ کی قرآنی محبت

    چھوٹے قدم، گہری تاثیر: اٹالین ننھی عائشہ کی قرآنی محبت

    سات سالہ عائشہ تہمیـد اقدس، ایک پاکستانی نژاد اٹالین بچی، نے اردو ترجمے کے ساتھ قرآن مجید مکمل کر لیا ہے۔ یہ سعادت اس وقت اور بھی حیران کن ہے کہ عائشہ کی پہلی زبان اٹالین ہے۔ اسے اردو پڑھنا، لکھنا اور روانی سے بولنا نہیں آتا تھا، مگر اس نے یورپ میں رہتے ہوئے اس عظیم سفر کو مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

    مجھے یاد ہے شروع میں جب عائشہ رک رک کر اور اٹک اٹک کر پڑھتی تھی۔ اسے اردو کے الفاظ کے معنی سمجھنے میں اور الفاظ درست طریقے سے بولنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ ایک دن ہم نے قرآن کی آیت میں "تجری من تحتہٰا الانہار” پڑھا۔ عائشہ کو "بہتی نہریں” کا مفہوم سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ مجھے بھی یہ سوچنا پڑا کہ اب اسے "بہنے” کا مطلب کس طرح سمجھاؤں۔ پھر میں نے گلاس میں پانی بھرا اور آہستہ آہستہ بہایا، تاکہ وہ دیکھ سکے کہ بہتا ہوا پانی کیا ہوتا ہے۔ اس طرح کی چھوٹی سی کوشش سے اسے یہ لفظ سمجھ آ گیا۔

    اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی مشکلات آئیں، مگر اللہ کے کرم سے وہ وقت بھی آیا جب یہی بچی ایک دن میں ایک ایک سپارہ روانی کے ساتھ سنا دیتی تھی۔ یہ سب کچھ صرف سچی لگن، محنت اور قرآن سے محبت کی وجہ سے ممکن ہوا۔ میں نے اس ننھی بچی کے اندر جتنی قرآن سے محبت دیکھی ہے، وہ آج کے دور میں بہت کم بچوں میں نظر آتی ہے۔

    چھوٹے قدم، گہری تاثیر: اٹالین ننھی عائشہ کی قرآنی محبت
    عائشہ تہمیـد اقدس

    عائشہ نے تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال کے عرصے میں یہ مبارک سفر مکمل کیا۔ ابتدا میں مشکلات ضرور آئیں، مگر اپنے عزم، حوصلے اور والدین کے بھرپور تعاون سے اس نے ان مشکلات پر قابو پایا اور منزل تک پہنچ گئی۔

    عائشہ کی یہ کامیابی دنیا بھر کے بچوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ قرآن سے جڑنا سب سے بابرکت عمل ہے۔ اگر ایک ننھی بچی یورپ کے ماحول میں رہتے ہوئے اور اردو نہ جاننے کے باوجود یہ کارنامہ انجام دے سکتی ہے، تو باقی بچے بھی قرآن سے وابستہ ہو کر اپنی زندگیوں کو روشنی اور سکون سے بھر سکتے ہیں۔

    یہ پیغام تمام ماؤں کے لیے بھی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن کے قریب کریں، تاکہ وہ نہ صرف اپنے رب کے ساتھ تعلق مضبوط کریں بلکہ دین کے پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کا ذریعہ بنیں۔

    بطور اُستاد، میں اپنی اس شاگرد پر فخر محسوس کرتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ عائشہ کو علمِ دین میں مزید ترقی عطا فرمائے، اسے دین و دنیا میں کامیاب کرے، اور اس کے خواب کو حقیقت بنائے کہ وہ ایک دن باعمل مسلمان کی حیثیت سے معاشرے کی خدمت کرے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ننھی بچی سے بہترین دین کا کام لے۔ عائشہ جیسے محنتی، ہونہار اور ذکی بچے ہر استاد کے لیے باعثِ فخر ہوتے ہیں۔ مجھے اپنی اس شاگرد سے بےحد محبت اور انسیت ہے، اور میں دعا گو ہوں کہ اللہ اس کو دنیا و آخرت میں سرخرو فرمائے
    آمین

    Title Image background by Charles from Pixabay

  • وقت کی لچک اور العصر کی قسم

    وقت کی لچک اور العصر کی قسم

    وقت کی لچک اور العصر کی قسم

    Dubai Naama

    دورانیہ زندگی کے بارے سورت بقرہ کی آیت نمبر 36 اور سورت یاسین کی آیت نمبر 44 میں ذکر آیا ہے۔ ان دونوں جگہوں پر حیات انسانی کے تعین وقت پر بات کی گئی ہے کہ وہ کتنے مختصر ترین وقت کے لیئے دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت انسان دنیا میں ایک انتہائی قلیل ترین وقت کے لیئے آتا ہے۔ اگر انسان اس کم ترین وقت کو بھی ضائع کر دے یا غیرتعمیری، فضول اور غیرمنافع بخش کاموں میں صرف کر لے، تو انسان سے زیادہ بدترین اور بدنصیب دوسری کوئی مخلوق نہیں ہو سکتی ہے۔

    بنی نوع انسان کی زندگی کا وقت کتنا مختصر ترین ہے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم بچے کی پیدائش کے بارے میں تو جانتے ہیں کہ وہ 9 ماہ کے بعد پیدا ہو جاتا ہے مگر دنیا کے کسی بھی انسان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ، وہ بچہ دنیا میں کتنی مدت تک زندہ رہ سکتا ہے۔ قبل از وقت یہ راز کوئی انسان نہیں جانتا کہ اس نے کب اور کیسے مرنا ہے؟ البتہ کچھ امراض ایسی ہیں مثلا کینسر وغیرہ کہ ڈاکٹرز بتا دیتے ہیں کہ کوئی مریض کتنے عرصہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کے باوجود اب کینسر کا علاج بھی ہو جاتا ہے اور کوئی انسان اس سے مرتا بھی ہے تو اس کی بقیہ زندگی کی عین نینو سیکنڈز میں درست پیش گوئی کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ کسی انسان کو نہیں معلوم کہ وہ کتنے وقت کی مہلت لے کر دنیا میں آیا ہے۔ زندگی کے انتہائی قلیل ہونے کی تقسیم سالوں دنوں، مہینوں، گھنٹوں اور سیکنڈز میں نہیں کی جا سکتی ہے۔ اس کا پتہ صرف اس وقت چلتا ہے جب بنی نوع انسان اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے کہ فلاں شخص اس تاریخ کو پیدا ہوا اور اس تاریخ کو اس کی وفات ہوئی۔

    سورت بقرہ کی آیت نمبر چھتیس میں زندگی کے بارے جو آخری عربی لفظ استعمال ہوا ہے وہ "حِینٍ” ہے جس کا مفہوم ناقابل تقسیم کے بارے میں ہے یعنی جس کا بین مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی اتنی مختصر ہے کہ اسے وقت کے کسی بھی پیمانے سے تقسیم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک سال 11 مہینوں، مہینہ 28, 29، 30 یا 31 دنوں، ہفتہ 7 دنوں، ایک دن 24 گھنٹوں، ایک گھنٹہ 60 منٹوں اور ایک منٹ مزید 60 سیکنڈز پر تقسیم ہو جاتا ہے۔ لیکن قرآن کے مطابق "حِینٍ” وقت کا اتنا مختصر ترین دورانیہ ہے کہ جسے سائنسی زبان میں "مائیکرو” یا "نینو” سیکنڈز (یعنی تقریبا ایک سیکنڈ کے دس ہزارویں حصے مائیکرو اور ایک لاکھویں حصے نینو سیکنڈز) میں بھی تقسیم نہیں کیا جا سکتا ہے اور اسی نینو سیکنڈز کے آخری حصہ کو "حِینٍ‏ ” کہا جا سکتا ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ اگر انسانی زندگی کا دورانیہ اور وقت اتنا مختصر ترین ہے کہ اسے وقت پر ہی تقسیم نہیں کیا سکتا، تو وہ سالوں، مہینوں اور گھنٹوں پر مبنی اتنی لمبی زندگی کیوں اور کیسے گزارتا ہے؟ اس بات کی وضاحت قرآن پاک کی سورت العصر میں کی گئی ہے جس کی پہلی ہی آیت میں رب کائنات وقت کی قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ، "وقت عصر (یعنی ڈھلتے ہوئے وقت) کی قسم کہ بے شک انسان گھاٹے میں ہے۔”

    سائنسی لحاظ سے دیکھا جائے تو وقت ایک مغالطہ یا مطابقاتی پیمانہ ہے جس کو البرٹ آئنسٹائن جیسے بڑے سائنس دان نے بھی تسلیم کیا تھا بلکہ ان کی مشہور زمانہ "ریلیٹوٹی تھیوری” وقت ہی کے بارے میں ہے جس میں انہوں نے ٹرین میں سفر کرتے مسافروں اور زمین پر کھڑے افراد کی مثالیں دی تھیں اور "ٹائم ڈیلیشن” کی تھیوری بھی پیش کی تھی کہ جس کے مطابق ایک تیز ترین رفتار راکٹ میں سفر کرنے والا جوان پائلٹ اگر چند گھنٹے یا چند سال سفر کر کے زمین پر دوبارہ اترتا ہے تو اس دوران زمین پر موجود لوگ صدیوں تک کا وقت گزار کر بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں، جبکہ راکٹ کا مسافر ابھی بھی جوں کا توں جوان ہوتا ہے۔

    وَقت یا سَاعَت جسے انگریزی زبان میں ٹائم کہتے ہیں پیمائشی نظام کا ایک جزء ہے جس سے دو واقعات کا درمیانی وقفہ معلوم کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی نظام اکائیات میں وقت کی اِکائی ثانیہ یعنی "سیکنڈ” ہے، جبکہ گھنٹہ، دِن، ہفتہ، مہینہ اور سال اِس کی بڑی اِکائیاں ہیں۔ وقت کو انسانی ایجاد گھڑی اور کیلنڈر سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ قواعدی لحاظ سے گھڑی وقت کی اکائی کے چھوٹے سے حصہ کو ظاہر کرنے کا ایک آلہ ہے۔ یہ وقت کا وہ پہلو ہے جو آپ کی کلائی کی باندھی گھڑی، دیوار پر لگا کلینڈر بتا رہا ہے، جس کو "لائنیئر ٹائم” کہا جاتا ہے۔ تاہم وقت کوئی حتمی حقیقت یا اٹل سچائی نہیں ہے کیونکہ "وقت” ہم انسانوں کی طے کردہ مقدار ہے، اور اس کی اہمیت فقط اس لیئے ہے کہ اسے ہم زندگی کے دورانیہ کے لیئے ایک بڑی اصطلاح کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

    طبیعی نظریات کے مطابق وقت کی تعریف زمان و مکاں کے لحاظ سے یوں کی جاتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وقت دراصل غیر فضائی (نان سپیٹیکل) اور زمانی (ٹیمپورل) واقعات کا ایک تسلسل ہے جو ناقابل واپسی یعنی اریورسبل ہے جو ماضی سے حال اور پھر مستقبل کی جانب رواں دواں رہتا ہے یعنی جس کو روکا نہیں جا سکتا ہے۔

    آئن سٹائن نے نظریہ وقت یعنی اپنے تصور زماں کو اپنی تھیوری "ٹائم ڈائیلیشن” (وقت کی لچک) میں پیش کیا۔ ٹائم ڈائیلیشن اس وقت شروع ہوتی ہے جب کوئی آبجیکٹ سپیس یعنی خلا میں روشنی کے قریب ترین رفتار سے سفر کرتا ہے۔ تب اُس آبجیکٹ کا وقت آہستہ گزرتا ہے اور اسی دوران زمین پر موجود اشیاء کا وقت جلدی سے گزر رہا ہوتا ہے۔ مثلاً فرض کریں ایک باپ ہے جس کی عمر بائیس سال ہے اور ایک بیٹا ہے جس کی عمر ایک سال ہے۔ اب اگر باپ کو ہم خلا کے سفر پر روانہ کر دیں یا زمین پر ہی کسی طرح اس کی حرکت کی رفتار بڑھا دینے کا بندوبست کر لیں اور وہ روشنی کی رفتارکے قریب قریب سفر کرے تو ایک سال بعد جب وہ واپس آئے گا تو اس کی عمر بائیس سال سے تیئس سال ہو چکی ہو گی جبکہ اس کے بیٹے کی عمر ہو سکتا ہے اسّی سال ہو چکی ہو۔ اس کا دوسرا مطلب ہے کہ زیادہ رفتار پر واقعی ٹائم ڈائلیشن وقوع پزیر ہوتا ہے، اس حقیقت کو متعدد تجربوں سے ثابت کیا جا چکا ہے جن میں خلائی شٹل میں جانے والے خلابازوں کی عُمروں سے لے کر ہیڈران کولائیڈرز میں مادے کے چھوٹے زرّات کی رفتاروں اور ٹائم تک کے بے شمار تجربات ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ فی الواقع اُونچے درجے کی رفتاروں پر وقت آہستہ گزرنے لگتا ہے۔

    اس کے برعکس وقت کے بارے میں کلاسیکی نظریات کی روشنی میں پوری کائنات کا بحیثیت مجموعی کوئی یوم آغاز اور کوئی یوم فنا نہیں ہے کیونکہ کائنات مجموعی طور پر ایک ٹھوس چیز نہیں ہے، جیسا کہ کوئی میز یا کرسی وغیرہ ہوتی ہے، اور نہ ہی یہ ایک بند نظام ہے جیسا کہ ٹھوس اشیاء کا آغاز و انجام ہوتا ہے اور ان کا اپنا وقت اور اپنا زمان مکان ہوتا ہے۔ کیونکہ وقت محض ایک عنصری جزو ہے جو چیزوں کی حرکت اور ان کے درمیان فاصلے سے پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کائنات کے تمام اجسام (یعنی ستاروں اور چیزوں وغیرہ) کی حرکت رک جائے تو وقت خود بخود تھم جائے گا، یعنی وقت کے تینوں زمانے ماضی، حال اور مستقبل بھی چیزوں کی حرکت کے ختم ہونے پر خود بخود ختم ہو جائیں۔ مثلا ایک مادے کے چھوٹے زرات نیوٹران وغیرہ کی زندگی سترہ منٹ ہے۔ لیکن مختلف میسان اور ہائپران عموماً ایک سیکنڈ کا دس کروڑواں حصہ ہی زندہ رہتے ہیں۔ ان کے "نظام زندگی” یا "زمانی ترتیب زندگی” کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا سارا عمل اتنے مختصر وقفے میں ہوتا ہے کہ ہم اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لھذا ہم سب انسانوں کی زندگی کتنی مختصر ہے یا کتنی طویل ہے، ہم میں سے کوئی بھی انسان نہیں جانتا ہے۔

    وقت کی لچک اور العصر کی قسم

    تاہم کائنات کی ہر چیز کا اپنا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے، جس کا آغاز اور انجام دونوں ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کا وقت اس کی اپنی زندگی کے پیمانے سے ہوتا ہے۔ نظام شمسی کا اپنا وقت ہوتا ہے اور سب اوقات محدود اور متعین ہوتے ہیں۔چنانچہ کائنات ہو، چیزیں ہوں یا انسان ہوں ان کا وجود ایک وقت متعین کے اندر ہی قائم ہوتا ہے۔ ہم انسانوں میں سے کوئی ایک بھی وقت کے اس دائرے سے باہر یا اس سے ماورا نہیں ہے۔ ایسا سوچنا خام خیالی ہے کہ ہم متعین اوقات سے کوئی آزادنہ وجود رکھتے ہیں۔ یہ خام خیالی اور محض ایک ذہنی تجرید ہے کہ، "غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی۔”

    مابعد الطبیعیات مفکرین ہمیشہ وقت کو ایک مربوط دریا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں وقت ایک بہتا ہوا دھارا ہے۔ اردو ادب میں اس کے لیئے "لمحہ سیال” کی ترکیب بڑے ذوق و شوق سے پیش کی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں لمحہ سیال ازلی ہے جسے سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ دن، مہینہ اور سال میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں "ازلی وقت” تقسیم سے ماورا ہے۔ ان کے خیال میں وقت نظام شمسی کی، زمین کی محوری اور مداری حرکتوں سے ناقابل تقسیم اکائی ہے جو "قائم بالذات” ہے۔ مابعد الطبیعیاتی مفکرین یقین رکھتے ہیں کہ وقت مادی سلسلہ ہائے عمل کے اندر یا ان کے حوالے سے وجود نہیں رکھتا ہے۔ بلکہ ہر قسم کے مادی اعمال سے باہر آزادنہ وجود رکھتا ہے۔ یہ وقت کا "مطلق تصور” ہے، جو دنیا اور کائنات کی زندگی کے اعتبار سے سراسر غلط ہے۔ اگر ایسا کوئی ہمہ گیر وقت کا دریا مادی سلسلہ ہائے عمل سے باہر کوئی وجود رکھتا ہے تو وہ یقیناً مادے سے ماورا ہے اور پھر یہ ماننا پڑے گا کہ اس قسم کا وقت خدا کا ہی دوسرا نام ہے۔

    زمان یعنی وقت کو اگر دریا ہی کہنا ہے تو پھر اس کی سچی تصویر اس طرح ہو گی کہ یہ دریا یعنی بہتا ہوا لمحہ ہزاروں لاکھوں اوقات سے نکل کر لاکھوں کروڑوں وادیوں، میدانوں سے بہتا ہوا ہی گذرے گا۔ یوں کائنات کا "دریائے وقت” انہی سارے مادی تعینات کے اندر بہہ سکتا ہے، ان سے باہر نہیں۔ تمام مطلق چیزیں اضافی چیزوں کے اندر وجود رکھ سکتی ہیں، ان سے ماورا نہیں۔ یعنی وقت کی لامتناہیت، متعین وقت کے اندر وجود رکھتی ہے۔ اس طرح لاتعداد متعین اوقات کا "مجموعہ” یا "کل” مطلق وقت ہے۔ وقت کی لامتناہیت اور متناہیت کی یہی واحد جدلیات ہے۔

    وقت کی جدلیات سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت صرف انہی کے لیئے تھمتا ہے جو اس کا اپنے اعمال کے ذریعے بہتر استعمال کرتے ہیں، کیونکہ وہ وقت کو اپنی مرضی سے چلاتے ہیں یا اس پر اپنے اثرات چھوڑ کر تھما لیتے ہیں۔

    کوئی واحد کائناتی وقت جو مادی علائق سے آزاد ہو اپنا وجود نہیں رکھتا ہے، سوائے ذہن انسانی میں بطور تجرید کے، جیسے درخت، میز کرسی جیسی چیزیں ہیں۔ کیا اس کائنات کا کوئی آغاز و انجام بھی ہے، دوسرے الفاظ میں کیا وقت کا کوئی آغاز و انجام ہے؟ جدلیاتی سائنسدانوں کا جواب یہ ہے کہ وقت کا آغاز بھی ہے اور آغاز نہیں بھی ہے۔ اس طرح انجام بھی ہے اور انجام نہیں بھی ہے، جو کہ ایک مہمل، مبہم اور ناقابل فہم سا تصور ہے۔

    چونکہ ہم انسان ہیں اور کائنات میں ایک ٹھوس حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کا آغاز بھی ہے اور ایک انجام بھی ہے، جیسا کہ نظام شمسی کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی ہے۔ اس قسم کا وقت جس کا تجربہ ہم دن، مہینے اور سال کی شکل میں کرتے ہیں۔ وقت ایک مطلق حقیقت ہو یا یہ محض ایک تجریدی اور کلاسیکل شے ہو، ان دونوں صورتوں میں انسان کے لیئے وقت سائنسی اصطلاح میں بھی نینو سیکنڈز کی حد تک انتہائی مختصر ترین شے ہے جسے قرآن پاک لفظ "حِینٍ” میں ظاہر کرتا ہے۔ "پھر شیطان نے ان کو وہاں سے ڈگمگایا پھر انہیں اس عزت و راحت سے نکالا کہ جس میں تھے، اور ہم نے کہا تم سب اترو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لئے زمین میں ٹھکانا ہے اور سامان ایک وقت معین (حِینٍ‏) تک” یعنی نظام شمسی اور کائنات کے پیمانے کے اعتبار سے بھی ہماری زندگی کا "وقت معین” یعنی لفظ "حِینٍ‏” جتنا مختصر ترین یا نہ ہونے کے برابر وقت ہے، تو اس مختصر ترین زندگی کو جھوٹ، فریب اور دھوکہ دہی میں ضائع کر دینے سے ہمارا کتنا بڑا نقصان ہے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

    زندگی کا جتنا بھی معین وقت ہمیں ملتا ہے اس میں ہم الٹا اسے ضائع کریں یا برائیاں کرنے میں گزار دیں تو یہ کتنا بڑا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہو گا؟ قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے اسی لیئے عصر کے وقت کی قسم کھائی ہے کہ انسان گھاٹے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور صالح و نیک اعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کوئی فکر ہے اور نہ ہی وہ نقصان یا گھاٹے میں ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو حق پر قائم رہتے ہیں، صبر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہتے ہیں۔ جزاک اللہ خیرا۔ یا رب العالمین ہم سب پر سلامتی قائم رکھ۔ آمین!

    Title Image by Willgard Krause from Pixabay

  • تربیت والدین

    تربیت والدین

    تربیت والدین


    تحریرمحمد ذیشان بٹ 


    یقین جانیں، آج کل کے ماں باپ کو دیکھ کر دل کرتا ہے کہ بچوں کی نہیں، والدین کی تربیت کے لیے کسی تربیتی کیمپ کا بندوبست کیا جائے۔ بندہ بچپن سے سنتا آیا ہے کہ بچے قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن آج محسوس ہوتا ہے کہ ماں باپ اگر حال کا بگاڑ بن جائیں تو مستقبل کا سنوارنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
    کل شام جب ہمارے محترم استاد جناب ابو حفص طاہر کلیم صاحب (خطیب مرکز اہل حدیث سرکلر روڈ) کا درس تھا تو ہم بھی اپنی خراب طبیعت اور بوجھل دل کے ساتھ، آدھے ایمان، چوتھائی نیت اور مکمل موبائل لے کر ابرہیم مسجد جا پہنچے۔ درس کا عنوان تھا "تربیت اولاد”، لیکن استاد محترم نے جیسے ہی فرمایا: "اصل ضرورت تربیت والدین کی ہے!” تو دل نے کہا، سبحان اللہ! آخر کسی نے تو سچ بولا۔
    آپ دیکھیے ناں، ابا جی بچوں کے سامنے یوٹیوب پر "پٹھان بمقابلہ خالصہ” دیکھ رہے ہیں اور امی جان گھر کے کام چھوڑ کر ترکی ڈرامہ کی قسط نمبر 311 دیکھ رہی ہیں، اور پھر شکوہ کرتے ہیں کہ بچہ قرآن کیوں نہیں پڑھتا؟ ارے حضور! جس گھر میں سبق ہورر فلموں اور قسط وار محبتوں سے ملے گا، وہاں سمیّہ رضی اللہ عنہا اور عمار بن یاسر کہاں سے نکلیں گے؟
    ذرا سمیّہ بنت خُبّاط رضی اللہ عنہا کو یاد کریں، جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں حق کو قبول کیا اور مشرکینِ مکہ کی بدترین اذیتوں کا سامنا کیا۔ ابو جہل نے جب اُن سے کہا کہ اپنے رب سے منکر ہو جاؤ تو انہوں نے انکار کیا۔ پھر ان کے جسم کو بانسوں سے باندھ کر نیزے سے شہید کر دیا گیا۔ وہ اسلام کی پہلی شہیدہ بنیں۔ لیکن دیکھیے، ایسی ماں نے کیسی اولاد چھوڑی؟ عمار بن یاسر، جنہوں نے کفر کے انتہائی دباؤ میں ایک بار زبان سے کلمۂ کفر کہہ دیا، لیکن دل ایمان سے بھرا رہا، اور اللہ نے قرآن میں ان کی سچائی کی گواہی دی:
    "إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ”
    (سوائے اس کے جس پر زبردستی کی گئی اور اس کا دل ایمان پر قائم تھا)
    عمار جیسے نوجوان اس تربیت سے نکلتے ہیں جو مائیں سمیّہ رضی اللہ عنہا جیسی ہوں، اور آج ہماری مائیں بچوں کو صبر سکھانے کے بجائے صابن کی خوشبو اور شیمپو کی چمک میں الجھا رہی ہیں۔
    اب آئیے ایک اور عظیم ماں کا واقعہ سنیں: ام سُلیم رضی اللہ عنہا۔ ان کا چھوٹا سا شیر خوار بچہ تھا، ابھی بولنا سیکھ رہا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کے بچے کی زبان سے پہلا لفظ "اللّٰہ” نکلے۔ وہ ہر وقت اس کے کان میں "اللّٰہ” کا ورد کرتیں، دہراتیں، اور اس کے ننھے سے ذہن میں اللہ کی عظمت بٹھاتیں۔ دیکھیے! وہ ماں جس کے دل میں دنیا کی چکا چوند نہیں، بلکہ بچے کی زبان پر اللہ کا نام لانے کا جذبہ ہو، وہی ماں سچا سرمایہ چھوڑتی ہے۔
    لیکن آج ہماری مائیں چاہتی ہیں کہ بچہ پہلا لفظ "ماما” کہے، اور ماما کہنے کے بعد فوراً "یوٹیوب” اور "کارٹون” بولنا سیکھ جائے۔ افسوس! ہم کہاں سے کہاں آ گئے۔

    تربیت والدین


    اور اب تو ماں باپ کے نام رکھنے کے ذوق بھی بدل گئے ہیں۔ بچے کا نام کیا رکھیں؟ ارطغرل؟ حلیمہ؟ یا پھر "مایا علی کی بہن کے شوہر کا دوست”؟ بچہ اسکول جائے یا فلم کے آڈیشن میں، کچھ پتا نہیں چلتا۔ استاد محترم نے کیا خوب فرمایا: "نام بھی ایمان کی علامت ہوتے ہیں۔”
    اصل مسئلہ یہ ہے کہ والدین خود علم حاصل نہیں کرتے، صحابہ کرام کی سیرت نہیں پڑھتے، اور تربیت کا ٹینڈر مدرسے کو دے دیتے ہیں۔ جیسے کوئی مرغی انڈہ دے کر خود فیس بک پر مصروف ہو جائے اور انڈے سے مرغی نکلنے کا خواب دیکھے۔
    استاد محترم نے بڑی کڑوی مگر سچی بات کی: "آپ خود اللہ کے ساتھ مخلص نہیں تو اولاد کیسے آپ سے مخلص ہو گی؟” ارے بھئی! جب ابا جی کا رشتہ اللہ سے بس اس وقت جڑتا ہے جب موبائل میں نیٹ نہیں چل رہا ہو، اور امی جان صرف رمضان میں نعت سننے والی ایپس کھولتی ہوں، تو پھر بچے بھی بقرعید کو صرف قربانی کی چھٹی سمجھیں گے، عبادت کا موقع نہیں۔
    والدین کی سوشل میڈیا ہسٹری اگر خود پڑھ لیں تو کئی کو خود ہی بچوں سے معافی مانگنی پڑ جائے۔ آج کل ماں باپ کو تربیت سے زیادہ “ٹیگ” کی فکر ہے۔ بچہ کہتا ہے: امی، دعا کریں۔ جواب آتا ہے: "بیٹا دعا بعد میں، پہلے یہ پوسٹ شیئر کر دو، #MyCuteSon لکھنا نہ بھولنا۔”
    ہماری دادی اماں کہا کرتی تھیں: “بیٹا! وہی بچہ آگے نکلتا ہے جس کی ماں پیچھے نہیں ہٹتی۔” اور آج کل مائیں صرف AC کی ریموٹ پیچھے رکھتی ہیں، بچے کا ٹیبلٹ اور ٹک ٹاک آگے!
    ہم سن سن کے سن ہو چکے ہیں، جیسے لاؤڈ اسپیکر کے پاس بیٹھا ہوا بچہ اذان سنتے سنتے بہرا ہو جائے۔ تربیت پر اتنی باتیں ہوئیں، کہ اب تو والدین بھی تربیت کو "پرانا موضوع” سمجھنے لگے ہیں، جیسے کسی درسی کتاب کا بورنگ باب۔ استاد محترم نے جو فرمایا، وہ سن کر دل میں بجلی کوندی، لیکن عمل کی نوبت آئی تو بیٹری ختم ہو گئی۔
    اور سب سے اہم بات: "ادھار وہی دے سکتا ہے جو خود صاحبِ مال ہو۔” والدین اگر اخلاق، دین، اور ایمان کے مالک نہیں تو بچوں کو کیا تربیت دیں گے؟ خالی ہاتھ سے صدقہ تو نہیں ہو سکتا، تربیت کیسے ہوگی؟
    اولاد کو اللہ والا بنانا ہے تو پہلے خود اللہ سے جڑیں۔ صحابہ کرام کی زندگیاں پڑھیں۔ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔ صرف اسکول فیس دینا کافی نہیں، اپنی نیت، عمل، اور عادتیں بھی دینا ہوں گی۔
    آخر میں اپنے ان والدین سے بھی گزارش ہے جنہیں یہ پڑھ کر غصہ آ رہا ہے کہ خدارا، کچھ لمحے سیرتِ صحابہ پڑھنے میں لگائیں، خود سیکھیں، تاکہ بچوں کو سکھا سکیں۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے والدین کو وقت کی پابندی، سچائی، علم دوستی اور نرمی میں دیکھیں گے، تو وہ کبھی خراب نہ ہوں گے۔ لیکن اگر بچہ ہر وقت والدین کو آپس میں جھگڑتے، گالیاں دیتے، یا دنیا کے پیچھے بھاگتے دیکھے گا، تو پھر اس کا دل مسجد نہیں، میوزک کلب کی طرف مائل ہو گا۔
    یہ چند سطور اگر کسی والد کے دل میں چبھی ہوں، تو سمجھ لیں کہ استاد محترم کا درس کامیاب رہا… باقی تربیت کا سبق ابھی باقی ہے، والدین تیار رہیں!

    ۔

  • سوات کے مدرسے میں طالبعلم کا  بہیمانہ قتل

    سوات کے مدرسے میں طالبعلم کا  بہیمانہ قتل

    سوات کے مدرسے میں طالبعلم کا  بہیمانہ قتل

    ڈاکٹر  رحمت عزیز خان چترالی

    برصغیر پاک و ہند میں دینی مدارس کا نظام اسلامی تعلیمات کے فروغ، قرآن و سنت کی اشاعت اور مذہبی تشخص کی بقا کے لیے ہمیشہ سے ایک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء، جامعہ اشرفیہ، جامعہ بنوریہ، جامعہ حقانیہ جیسے ادارے اس نظام کی علمی روایت کے نمائندہ ستون ہیں جنہوں نے ہزاروں علما، مفسرین، محدثین اور مبلغین پیدا کیے۔

    قیام پاکستان کے بعد مدارس کا دائرہ وسیع تر ہوا  اور دینی علوم کے فروغ کے ساتھ ساتھ کچھ مدارس نے فلاحی، سماجی، اور رفاہی شعبوں میں بھی کام کیا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ مدرسہ نظام میں نگران، تربیتی اور احتسابی پہلو کمزور ہوتے چلے گئے، جس کے نتیجے میں کچھ غیر رجسٹرڈ یا غیر منظم مدارس میں نہ صرف تعلیمی معیار متاثر ہوا بلکہ اخلاقی و قانونی انحرافات بھی جنم لینے لگے۔

    سوات کے علاقے خوازہ خیل میں 14 سالہ حافظ قرآن طالبعلم کی استاد کے ہاتھوں لرزہ خیز ہلاکت نے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک جرم ہی  نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی خاموشی، قانونی بے عملی اور دینی اداروں میں تربیتی انحطاط کی المناک علامت بھی ہے۔

    مدارس میں جسمانی تشدد کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ، چائلڈ پروٹیکشن قوانین اور اقوام متحدہ کے چائلڈ رائٹس کنونشن کے تحت بچوں پر تشدد جرم ہے۔ تاہم  ان قوانین کا اطلاق صرف اس وقت ہوتا ہے جب کوئی جان چلی جائے یا میڈیا پر شور مچایا جائے۔ اکثر والدین خوف یا عزت کے نام پر خاموش رہتے ہیں، جس سے اساتذہ کی درندگی کو شہہ ملتی ہے۔

    مدرسے کے مہتمم کی یقین دہانی کے باوجود استاد کی درندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض مدارس میں اساتذہ کی بھرتی کا معیار محض "علم قرآن” تک محدود ہے، جبکہ اخلاق، تربیت، نفسیات اور جدید تدریسی اصولوں سے لاعلمی ایک المیہ ہے۔

    پاکستان میں لاکھوں والدین دینی وابستگی، غربت یا ثقافتی دباؤ کے باعث اپنے بچوں کو مدارس میں داخل کرتے ہیں۔ یہ اعتماد جب تشدد، جنسی استحصال یا ذہنی اذیت میں بدل جائے تو نہ صرف والدین، بلکہ پوری قوم کا ایمان متزلزل ہوتا ہے۔

    یہ سانحہ کسی فرد یا مدرسے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتا ہے جس میں احتساب، تربیت، معیار اور نگرانی کا فقدان ہے۔ مدارس کو اسلامی تعلیمات کا منبع سمجھا جاتا ہے، مگر جب ان ہی اداروں سے ظلم، تشدد  اور استحصال کی خبریں آئیں تو نہ صرف دین کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ دینی طبقات کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    تمام مدارس کی رجسٹریشن لازمی قرار دی جائے، وزارت تعلیم یا وفاق المدارس کے تحت تمام دینی مدارس کی رجسٹریشن کے بغیر کوئی ادارہ قائم نہ ہو۔ غیر رجسٹرڈ مدارس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    سوات کے مدرسے میں طالبعلم کا  بہیمانہ قتل

    اساتذہ کی اہلیت کے لئے معیار مقرر ہو، صرف قرآنی علوم کی سند کافی نہیں۔ اساتذہ کے لیے چائلڈ سائیکالوجی، اخلاقیات، تدریسی تربیت اور جسمانی سزا کے مضمرات پر باقاعدہ کورس لازمی قرار دیا جائے۔

    وفاقی اور صوبائی سطح پر "مدرسہ ریفارم ایکٹ” کی منظوری دی جائے جس میں بچوں پر تشدد کی واضح سزا، فوری گرفتاری، اور مدارس کی نگرانی کے لئے آزاد کمیشن کا قیام شامل ہو۔

    اسلامی نظریاتی کونسل یا ادارہ تعلیمات اسلامی کے زیر انتظام مدرسوں کے مہتممیں اور ناظمین کے لیے اخلاقی تربیت، ادارہ جاتی نظم اور بچوں کے حقوق پر لازمی کورسز کرائے جائیں۔

    مدارس کے مالی، تعلیمی اور تربیتی معاملات کا سالانہ آڈٹ ہو۔ ناظمین کی تبدیلی کے عمل کو بھی باقاعدہ بنایا جائے۔

    ہر مدرسے میں شکایات باکس اور آن لائن پلیٹ فارم قائم کیا جائے تاکہ بچے یا والدین بآسانی بدسلوکی کی اطلاع دے سکیں۔ ان شکایات پر فوری کارروائی ہو۔

    میڈیا کو چاہیے کہ وہ صرف سانحے کے وقت نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر مدرسوں میں ہونے والی مثبت و منفی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کرے۔ سول سوسائٹی کو مدرسہ اصلاحات پر عوامی رائے ہموار کرنی چاہیے۔

    یہ واقعہ پاکستان کے تعلیمی، قانونی، مذہبی اور اخلاقی نظام کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ اسلام وہ دین ہے جو رحمۃ للعالمین کے پیروکاروں کو بچوں کے ساتھ محبت، شفقت اور تعلیم کا درس دیتا ہے، نہ کہ ظلم، تشدد اور سفاکی کا۔ دینی مدارس کا وقار اور افادیت اس وقت قائم رہ سکتی ہے جب وہ قرآن کی تعلیم کے ساتھ رحمت، رواداری اور انصاف کے اصولوں کو بھی اپنائیں۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ ہم شعوری طور پر مدرسہ نظام میں اصلاحات لائیں تاکہ نہ کوئی بچہ درندگی کا نشانہ بنے، نہ کوئی والد پچھتاوے میں تڑپے  اور نہ ہی دین  اور دینی  ادارے بدنام ہوں۔

    "جو علّم نہ دے، وہ علم زہر ہے،

    جو شفقت نہ دے، وہ درس گاہ قید خانہ ہے۔”

  • سالانہ 26واں تقسیم اسناد و محفل ختم قرآن مجید

    سالانہ 26واں تقسیم اسناد و محفل ختم قرآن مجید

    سالانہ 26واں تقسیم اسناد و محفل ختم قرآن مجید

    اٹک(سٹی رپورٹر )مرکز اسلام جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ کا سالانہ 26واں تقسیم اسناد و محفل ختم قرآن مجید استاذ العلماء مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی بانی و مہتمم جامعہ ھذا کی زیر صدارت اختتام پذیر ہو گیا ۔ جامعہ کے ناظم اعلیٰ انجینئر مفتی محمد طیب میلادی گولڈمیڈلسٹ نے سالانہ تعلیمی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ جامعہ کی ذیلی شاخیں بولیانوال مفتی محمد اللہ دتہ صدیقی، ملاں منصور میں صاحبزادہ اسرار احمد ہاشمی، پنڈی گھیب میں مولانا قاری داؤد احمد رضوی، آزاد کشمیر مظفرآباد ٹمبی سمیت بارہ سو کے لگ بھگ طلباء کرام قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں اس پر فتن دور میں انکی مالی امداد کر کے صدقہ جاریہ میں شامل ہوں ۔تقریب میں مفتی ابن مفتی علامہ عبدالرشید چشتی تبسم نقیبی نے مختصر اور جامع الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتنوں کے دور میں آخر الزمان نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور انکے اھل بیت ؑ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے وابستہ رہ کر بچا جا سکتا ہے۔کاروان حقانیہ کے چیئرمین صاحبزادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی نے ترنم میں قرآن اور صاحب قرآن کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمات مصطفیؐ میں ہی عمل کرنے میں فلاح ہے۔

    سالانہ 26واں تقسیم اسناد و محفل ختم قرآن مجید

    علامہ ڈاکٹر محمد یاسر اعوان نے جامعہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔تقریب میں حافظ لال محمد فاروقی۔ مہمان خصوصی سیاسی سماجی نوجوان رہنما سردار رحمت علی خان ۔حافظ محمد شیر افضل۔ڈاکٹر نذیر احمد راولپنڈی، واے ایس او کے چیئرمین فیصل نیاز ۔ماسٹر جاوید اقبال ماڑی، ماسٹر عتیق احمد، حاجی محمد صبغت اللہ بابر۔صوفی فیصل محمود نقشبندی خلیفہ مجاز سالک آباد شریف، ملک اورنگزیب سروالہ کے پوتے ملک احمد حسن، حاجی محمد تنویر، ٹھیکیدار شمیم خان، نور محمد ضیاء میروی ضلعی آفیسر جی پی او ریٹائرڈ، حاجی گلزار احمد، حاجی محمد رفیق وجملہ معززین علاقہ علماء کرام سادات کرام ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

    استاذ العلماء مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی

    حافظ محمد رمضان عرف جانی اعوان اور ملک رجب علی حقانی اعوان چیئرمین نوجوان الفلاح نے شرکاء مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور میڈیا کو بتایا کہ مرکزاسلام جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ میں عیدالفطر کی نماز 8 بجے استاذ العلماء مفتی ابوطیب رفاقت علی حقانی کی اقتداء میں ادا کی جائے گی۔

  • رمضان المبارک میں درود شریف کثرت سے پڑھیں

    رمضان المبارک میں درود شریف کثرت سے پڑھیں

    رمضان المبارک میں درود شریف کثرت سے پڑھیں

    اٹک(ہشام خان اعوان سے/نیوزایڈیٹر)رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں درود شریف پڑھنے کی کثرت کرنی چاہیے کیونکہ رمضان کے مہینہ میں ہر نیکی کا ثواب 70گنا bڑھا دیا جاتا ہے، جو شخص روزانہ313مرتبہ درود شریف پڑھتا ہے اس کا شمار کثرت سے درود شریف پڑھنے والوں میں کیا جاتا ہے جبکہ جو شخص ایک ہزار مرتبہ روزانہ درود شریف پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ دردو شریف کے صدقے اس شخص کی تمام پریشانیاں اور مشکلات دور کر فرما دیتے ہیں،ہمارے پیارے نبی آخرالزمان حضرت محمد ؐ کی حدیث مبارکہ ہے کہ ”جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھاتو اللہ تعالیٰ اس پر10رحمتیں بھیجتے ہیں اور اسکے نامہ اعمال میں 10نیکیاں لکھتے ہیں“،ان خیالات کا اظہار حضرت علامہ مولانا حافظ نعیم اسلم عطاری نے واک گروپ اور جناح پارک اٹک کی انتظامیہ کے زیر اہتمام فائیر بریگیڈ بلدیہ اٹک کے دفتر نزد بالمقابل ضلع کونسل سٹیڈیم اٹک میں 17رمضان المبارک 1446ھ بمطابق 18مارچ2025ء بروز منگل کو ام المومنین اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یوم وصال اور حضور نبی اکرم ؐ کے پہلے غزوہ بدر کے دن کے موقع پر محفل درود پاک کے بہت بڑے اجتماع میں درود پاک کے فضائل بیان کرتے ہوئے کیا ہے، سب سے بابرکت اور مقدس اسلامی ماہ رمضان المبارک کے موقع پر درود پاک کی بابرکت محفل میں 2 کروڑ مرتبہ درود پاک پڑھا گیا،جبکہ 12 مرتبہ قرآن پاک کی تکمیل کو مکمل کیا گیاہے،جن تمام ختم کا ایصال ثواب ام المومنین اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور تمام غزوات کے شہداء صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم خصوصاََ غزوہ بدر کے شہداء کی ارواح کے علاوہ تمام دنیا کے مومنین مسلمانوں اور حاضرین مجلس کے رفقاء کو خصوصی طور پر ہدیہ کیا گیا ہے

    رمضان المبارک میں درود شریف کثرت سے پڑھیں

    درود پاک کی بابرکت محفل کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا، جس کی سعادت ڈویژنل فاریسٹ آفس اٹک کی مسجد کے امام و خطیب محکمہ جنگلات حضرت علامہ مولانا حافظ قاری محمد سلیم نے حاصل کی ہے اور حضور نبی کریم ؐ کی بارگاہ میں خصوصی نعت شریف معروف نعت خواں محمدحسنین شاہ اورغفران محمود نے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، اس موقع پر تقریب میں ورکس سپروائیزر بلدیہ اٹک ملک آصف علی،اسسٹنٹ ورکس سپروائیزرملک رضوان اختر، اسسٹنٹ واٹر ورکس برانچ بلدیہ اٹک محمد سرفراز خان، جنرل پوسٹ آفس کے ریٹائرڈ ملازم محمد سجاد خان، صدر پنجاب پریس کلب رجسٹرڈ اسلام آباد اٹک ملک کامران اختر، چیئرمین آل پاکستان پرنٹ اینڈ الیکٹرانک اینڈ سوشل میڈیاضلع اٹک موسٹ سینئر صحافی ہشام خان اعوان، ہیڈ کلرک ایف پی او اٹک سید وصی حیدر شاہ،محمد شہزاد،محمد جمیل خان، ملک ناصر، نقاش علی خان، ڈرائیور کامران خان، طارق محمود، نوید احمد، محمد رفیع خان، طاہر جمیل کے علاوہ محکمہ جنگلات،محکمہ وائلڈ لائف،ضلع کونسل اٹک،ڈسٹرکٹ سپورٹس آفس،ریسکیو1122،محکمہ پنجاب پولیس،مونسپل کمیٹی اٹک کے ملازمین،اٹک شہر سمیت گردونواح کی اہم مذہبی ودینی شخصیات اور علاقہ بھر کے معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ہے، رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں ختم قرآن پاک اور درود پاک کی بابرکت محفل کی اختتامی دعائیہ تقریب حضرت علامہ مولانا حافظ نعیم اسلم عطاری نے قرآن پاک کے آخری چاروں قل شریف کی تکمیل کر کے ملک پاکستان کی سلامتی، استحکام کے علاوہ فلسطین،لبنان اور مقبوضہ کشمیر کی مظلوم مسلمانوں کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئی ہیں، محفل درود پاک کے اختتام پرتمام روزہ داروں کو بہترین افطاری کروانے کے بعد افطار ڈنر کے خصوصی لنگر سے شرکائے محفل کی تواضع کی گئی ہے۔

  • نزول رحمت کے دن

    نزول رحمت کے دن

    نزول رحمت کے دن

    سدرہ منور  

    شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَٰتٍ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْقَانِ ۚ       رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسان کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی اور حق و باطل کفر کرنے کی واضح دلیل ہیں (سورہ البقرہ ایت 185 ) رمضان کی رحمتوں اور برکتوں والے مہینے کا آغاز ہو چکا۰ یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا اور اللہ سبحانہ و تعالی نے اس میں موجود آخری عشرے کی راتوں میں سے ایک رات  کو ہزار راتوں سے افضل قرار دیتے ہوئے فرمایا ۔ خَیرٌ مِن اَلفِ شَہر  ؕ  لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے (القدر3) یہ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں  شب و روز اللہ سبحانہ و تعالی کی رحمت مسلسل نزول جاری رہتا ہے ۔رات کو ایمان والے قیام اللیل کی صورت میں اللہ سبحانہ و تعالی کے سامنے جب سجدہ ریز ہوتے ہیں تو اللہ سبحانہ و تعالی کی رحمتوں کو سمیٹتے ہیں اور دن میں جب خالص اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھتے ہیں تو اللہ مومنین کو اس کا بہترین اجر عطا کرتے ہیں ۔رمضان کی شب و روز عام مہینوں سے مختلف ہیں یہ قرآن کا مہینہ ہے یہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے اس میں اجر و ثواب اللہ سبحانہ و تعالی عام دنوں سے دگنا کر دیتے ہیں ۔رمضان المبارک میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہو جاتا ہے اس کی ہر رات جہنم سے آزادی کا پروانہ لے کر آتی ہے۔ جو شخص رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم رہ جائے ا رسول ﷺ نے فرمایا کہ ایسا شخص ایک کثیر  خیر سے محروم  ہو گیا ۔اورجو شخص  رمضان کی برکتوں کے حصول کی کوشش نہ کرے اس کے  نبی ﷺ نے بد دعا فرمائی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے( بخاری 38 )۔ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے جس میں ایمان کے پھول تازہ ہوتے ہیں ۔ایسے لوگ جو باقی مہینوں میں قرآن اور نماز سے دور ہوتے ہیں وہ بھی اس موسم بہار کی خوشبو سے مہک اٹھتے ہیں ۔یہ مہینہ رحمت مغفرت اور جہنم کی آزادی سے کا  پیغام لے کر آتا ہے ۔۔جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں سرکش شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔یہ مسلمانوں کی تربیت کے دن ہے۔روزہ اہل ایمان میں صبر شکر اور نظم و ضبط پیدا کرتا ہے۔انسان کو اپنی خواہشات نفس پر قابو پانا سکھاتا ہے۔یہ نفس کی تربیت کے دن ہیں ۔

    روزے دار اپنے رب کی رضا کی خاطر بھوک پیاس کی شدت برداشت کرتا ہے۔ اور پھر اللہ سبحانہ و تعالی بھی اپنے رب ہونے کا احساس دلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔روزہ میرے لیے ہے میں ہی اس کا اجر دوں گا (بخاری 75 38 ) بے شک جہانوں کا بادشاہ اپنی شان کے مطابق اس عمل کا اجر دے گا ۔روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے روزہ کہے گا اے میرے رب میں نے اسے دن میں کھانے پینے اور شہوت کے کام سے روکے رکھا تھا لہذا اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما قرآن کہے گا اے رب میں نے اسے رات میں سونے سے روکے رکھا تھا لہذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ان دونوں کی سفارش قبول فرما لیں گے (مسند احمد 176) 

    رمضان کا آغاز ہوتے ہی سلف صالحین اپنے تمام کام ترک کر دیتے اور ہمہ وقت اللہ سبحانہ و تعالی کی یاد اور قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے۔امام ملک امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ اپنی علمی سرگرمیاں ترک کر دیتے اور اور مصحف کھول کر اسے دیکھ کر تلاوت کرنے کی طرف متوجہ ہو جاتے ۔رمضان ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا اور اللہ سبحانہ و تعالی نے اس بابرکت مہینے کا انتخاب  نزول قرآن کے لیے فرمایا ۔نہ صرف قرآن مجید بلکہ تمام الہامی کتابیں جو قرآن مجید سے پہلے نازل ہوئی وہ سب اسی بابرکت مہینے میں نازل ہوئی ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ابراہیمی صحیفہ رمضان کی پہلی رات کو تورات رمضان کی چھٹی رات کو انجیل رمضان کی 13 تاریخ کو اور قرآن مجید رمضان کی 24 تاریخ کو نازل ہوا (مسند احمد 8431)  کتنا بد نصیب ہے وہ شخص جو اس بابرکت مہینے کی رحمتوں سے اور برکتوں سے فائدہ حاصل نہ کر سکے ۔اس مہینے میں کثرت کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری سنت پر عمل کرتے ہوئے اس مہینے میں دورہ قرآن کا اہتمام کرنا چاہیے ۔قرآن سے جڑ جائیں کتاب الہی کو مضبوطی سے تھام لیں تاکہ ہدایت اور خیر و برکت ہماری نسلوں میں سرایت کر جائے ۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم خیر کو سمیٹنے کی کوشش کریں گے۔قرآن کے لیے وقت لگانا ایک بہت بڑی سعادت کی بات ہے۔ اہل القرآن عزت اور شرف والے لوگ ہیں اللہ سبحانہ و تعالی نے انہیں اپنے کنبے کے افراد قرار دیا۔ 

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ قرآن ایک رسی ہے جس کا ایک کنارہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا کنارہ تمہارے ہاتھ میں اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو کیونکہ اس کے بعد تم ہرگز نہ گمراہ ہو سکتے ہو اور نہ ہلاک (سلسلہ احادیث صحیحہ713) 

    یہ دن رب کی یاد میں مشغول رہنے کے ہیں ۔یادیں انسانی زندگی کا بہت اہم اور پیارا حصہ ہے۔انسان ہمیشہ ماضی کی یادوں میں غرق رہتا ہے۔کیا ہی  اچھا ہو اگر ہم اپنی یادوں کا محور اپنے معبود برحق کو بنا لے۔یہ ایسی یاد ہے جس میں صرف اطمینان اور کامیابی ہے۔اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔کیسے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اللہ سبحانہ و تعالی کی یاد میں مشغول رہتے ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالی پھر ان کو یاد فرماتے ہیں۔  اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو اپنی یاد میں مشغول رہنے اور اس بابرکت مہینے کی رحمتوں کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے     آمین

    Title Image by Buffik from Pixabay

  • اسلامک سائنس اور مذہبی فرقہ جات

    اسلامک سائنس اور مذہبی فرقہ جات

    اسلامک سائنس اور مذہبی فرقہ جات

    Dubai Naama

اسلامک سائنس اور مذہبی فرقہ جات

    عموما مذہب اور سائنس کو ایک مغالطہ کے زیر اثر ایک دوسرے کا متضاد یا مدمقابل قرار دیا جاتا ہے۔ بالخصوص اسلام کو سائنس میں ڈھونڈنے کا الزام اسی ایک سطحی سوچ کا نتیجہ ہے۔ پوری قرآنی آیات اور تعلیمات و احادیث مبارکہ میں کسی ایک جگہ پر بھی سائنس اور ٹیکنالوجی یا دیگر جدید علوم کے برخلاف کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ چہ جائیکہ کہ قرآن کریم کبھی تفصیلا اور کبھی اشاروں کنایوں میں دین اسلام کے عالمگیر علوم اور زندگی کے عملی قواعد و ضوابط کا ایک مکمل اور بھرپور نمونہ پیش کرتا ہے۔

    قرآن کریم کے شائد بہت کم محققین اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ قرآن مقدس میں قیامت تک کی جدید سے جدید تر سائنسی و آفاقی تعلیمات کے بارے میں ارشادات باری آیات کی صورت میں موجود ہیں۔ اگر کسی قاری یا مفسر کی نظر اس طرف نہیں جاتی تو یہ ان کا قصور ہے قرآن مجید کا نہیں ہے۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے جن کو رب کائنات نے غیر متبدل اور اٹل طبیعاتی قوانین کے مطابق قائم رکھا ہوا ہے۔ قرآن بلیغ میں ایک ایک آیت کے لامتناہی مطالب اور مفاہیم ہیں جن کو وقت کے قدیم اور جدید پیمانوں پر جب بھی پرکھا جائے گا وہ ان کے معیار اور مقام پر عین پورا اتریں گے۔ قرآنی آیات کو اسی لیئے "آیات آفاق” بھی کہا جاتا ہے کہ ان سے ہر آنے والے جدید دور میں اس کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق ہمیشہ معانی اور مطالب نکلتے رہیں گے۔ اگر قرآن کی کچھ آیات کا لفظی ترجمہ کیا جاتا ہے، ان کی معنویت سے کچھ ناپسندیدہ چیز برآمد کی جاتی ہے تو اس میں انسانی فہم و فراست کی لغزش ہے ورنہ قرآن اقدس میں کسی بھی جگہ کم بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے یعنی قرآن فرقان کے ہم قارئین اور مبصرین و مبلغین کو کوئی غلطی لگ سکتی ہے مگر قرآن حکیم میں کسی غلطی یا لغزش کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    قرآن پاک میں مثال کے طور پر ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ، "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو،” جس کا ایک مطلب و مفہوم "اللہ کی رسی” سے متعلق ہے اور دوسرا "تفرقہ میں نہ پڑو” کے بارے میں ہے۔ اللہ کی رسی کو طبیعات کے بنائے گئے سائنسی قوانین سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اسے انسانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق سے بھی موسوم کیا جا سکتا ہے جبکہ تفرقے میں نہ پڑو سے مراد یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے بنائے ہوئے انہی سائنسی قوانین میں زندگی اور کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو بھٹک جاو’ گے اور ناکام رہو گے۔

    اللہ کی یہ رسی پوری کائنات کا احاطہ کیئے ہوئے ہے اور اس نے کائنات کی ایک عام سی چیز لکڑی اور پتھر وغیرہ سے لے کر زمین، چاند ستاروں اور کہکشاو’ں کو سائنس کی زبان میں کہا جائے تو "کشش ثقل” کے ذریعے ایک مضبوطی کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یہ کائنات تب تک قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ جب اللہ تعالی اپنی اس "رسی” (Gravity) کو کو کھول دے گا یا ختم کر دے گا تو سارے ستارے اور سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور "قیامت” برپا ہو جائے گی جس کی سائنس اور مذہب دونوں تصدیق کرتے ہیں کہ بلآخر ایک دن یہ کائنات منہدم ہو جائے گی۔

    اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر ہم بنی نوع انسان زندگی، کائنات اور اپنے روزمرہ کے معاملات کو ان مصدقہ سائنسی اور فطری اصولوں اور قاعدوں کے مطابق نہیں چلائیں گے تو ہماری زندگی نہ صرف پرآسائش نہیں ہو گی بلکہ اس سے ہر دم ہمارا سامنا ایک "قیامت صغری” سے رہے گا۔ اس آیت مبارکہ کا ترجمہ اور مفہوم "مذہبی تفرقے” کے حوالے سے کیا جائے تو قرآن پاک میں واضح طور پر تفرقوں یا "فرقہ بندی” سے منع کیا گیا ہے مگر قرآن حمید کی اس آیت کریمہ کے برعکس مسلمانوں کی اکثریت خود کو سنی، شیعہ، وہابی، دیوبندی اور اہل حدیث وغیرہ کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے حالانکہ یہ تمام فرقے قرآن کی اس آیت کو جھٹلاتے ہیں یعنی قرآن حکیم مسلمانوں کو فرقہ بندی سے منع کرتا ہے مگر ہم مسلمانوں کی اکثریت ان پر ایمان رکھتی ہے۔

    قرآن عظیم کی اس آیت مبارکہ کا دین اسلام پر صحیح اطلاق کیا جائے تو اس کی روشنی میں مسلمانوں کے تمام فرقے قرآن کے متضاد اور متوازی "فرقے” یا "مذاہب” ہیں جن کا دین اسلام سے کوئی لینا دینا ہے، نہ اس کی مثال نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگیوں میں ملتی ہے اور نہ ہی صالحین ان پر ایمان رکھتے ہیں۔

    دین اسلام بہت سادہ اور سائنسی قواعد کا ضابطہ حیات ہے جن سے انحراف اسی طرح کی تنزلی سے دوچار کرتا ہے جس طرح سے آج مسلم دنیا زوال سے گزر رہی ہے۔ قرآن مجید میں وہ سائنس علوم بھی ہیں جن پر عمل کر کے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ملکہ بلقیس کا تخت لایا گیا تھا۔ آج دنیا جدید سائنسی علوم "ٹائم ٹریول” (Time Travel) اور "ٹیلی پورٹیشن” (Teleportation) وغیرہ کے زریعے ان قرآنی علوم تک عملی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی طرح "مصنوعی ذہانت” (Artificial Intelligence) کے اشارے بھی قرآن پاک میں جا بجا موجود ہیں کیونکہ قرآن حمید میں مختلف حوالوں سے انسان کو عقل سے کام لینے اور غوروفکر کرنے کا 750 مرتبہ سے زیادہ زکر آیا ہے۔

    یہاں تک کہ آئندہ صدیوں میں آنے والا کوئی بھی نیا، جدید یا سائنسی علم ایسا نہیں ہو گا کہ جس کی ابتداء کے بارے میں قرآن مجید میں ارشادات ربانی اعلانیہ یا مخفیہ صورت میں نہ ملتے ہوں۔ یوں غور سے دیکھا جائے تو قرآن پاک خود ایک "اسلامک سائنس” ہے جو کسی بھی طرح سائنسی علوم کے متوازی یا متضاد ہے اور نہ ہی ان علوم کے حصول سے کسی جگہ منع کرتا ہے۔

    مغرب میں جو سائنسی انقلاب آیا اس کی وجہ "تحریک احیائے علوم” تھی جسے انگریزی زبان میں Renaissance
    کہا جاتا ہے. بنیادی طور پر یہ فرانسیسی لفظ ہے جس کا اردو ترجمہ دوبارہ جنم Rebirth ہے۔ مغربی احیاء کی یہ علمی و اصطلاحی تحریک چودھویں صدی میں پہلی بار مڈل ایجز (Middle Ages) کے خاتمے کے بعد اٹلی سے متعارف ہوئی تھی جس کو عروج سنہ 1490ء سے لے کر 1520ء تک حاصل ہوا۔
    یہ تحریک یورپین جدید سائنسی علوم اور کلاسیکل تہذیب کی تجدید نو سے متعلق ہے۔ مسلم دنیا میں بھی ایک دن اسی طرح علمی اور تہذیبی انقلاب آئے گا جب وہ اپنے اسلامی علوم کا احیاء جدید ترین سائنسی علوم کی روشنی میں کریں گے۔ لیکن مسلمانوں میں اس نوع کا "سائنسی انقلاب” اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک وہ مذہبی تفرقہ جات سے باہر نہیں آتے یا اپنے حاضر درسی علوم کو قرآن مجید کی تعلیمات اور سائنسی علوم میں نہیں ڈھالتے ہیں۔

    ایک حدیث مبارکہ ﷺ کا مفہوم ہے کہ، "علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے،” جس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اسلام دینی و اخروی علوم کے علاوہ دنیاوی اور عصری علوم کو سیکھنے کا بھی برابر درس دیتا ہے جس کو قرآن پاک کی اس آیت سے بھی تقویت ملتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوتا ہے۔

    اگر قرآن پاک مومنین کی اخروی کامیابی کو دنیا میں کامیاب ہونے سے مشروط کرتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مسلمان مومن ہو یا ایک عام غیرمسلم ہو وہ جدید یا سائنسی علوم کو حاصل کیئے بغیر کامیابی حاصل کرے یا ترقی کر سکے؟ لھذا یہ سوال ایک لایعنی سی بات ہے کہ سائنس اور مذہب ایک دوسرے کے متضاد یا متوازی مضامین ہیں۔ یہ تو ایک سادہ سی منطقی بات ہے کہ دنیا کی کوئی بھی قوم یا معاشرہ تب تک ترقی کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ نئے اور جدید علوم پر دسترس حاصل نہیں کرے گا۔

    دنیا کا کوئی دوسرا مذہب یا عقیدہ بھی اس وقت تک عوام الناس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا یے جب تک وہ جدید علوم سے ہم آہنگ نہ ہو یا نہ ان کا پرچار نہ کرتا ہو۔ جبکہ اسلام تخت صبا سے لے کر "واقعہ معراج” تک زمان و مکان (Time and Space) کی ہر قید کو سائنسی اور جدید علوم کے بل بوتے پر عبور کرتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سائنس کو قرآن میں ڈھونڈنے کا کوئی سوال نہیں ہے بلکہ قرآن تو خود روحانی اور سائنسی علوم کے ہر دور کا جدید ترین منبع ہے۔

    Title Image by ekrem from Pixabay

  • لا حاصل محبت

    لا حاصل محبت

    لا حاصل محبت

    وہ کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑے بیٹھی تھی جیسے جیسے وہ میسج پڑھتی جا رہی تھی کرب اور دکھ کی شدید کیفیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اس کو اپنی انکھوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے جس شوہر پر اسے اندھا اعتبار تھا وہ کیسے کسی اور سے اس طرح کی گفتگو کر سکتا ہے۔جیسے جیسے وہ سب پڑھتی جا رہی تھی اس پر تمام حقیقت آشکار ہوتی جا رہی تھی۔ یہ کیسی حقیقت تھی جسے نہ تو قبول کرنے کی ہمت تھی اور نہ جھٹلانے کی کوئی وجہ۔
    "اوہو میرے خدایا! میری ناک کے نیچے کب سے یہ کھیل جاری تھا؟” وہ خود سے سوال کر رہی تھی۔عورت کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ اور ناقابل برداشت چیز محبت میں شراکت برداشت کرنا ہوتا ہے۔ کوئی بھی مرد یا عورت کسی کے نکاح میں رہتے ہوئے باہر اگر کوئی غلط تعلق بناتا ہے تو یہ محبت میں شرک ہے۔ آج زینب نے اپنے محبوب شوہر کو محبت میں شرک کرتے دیکھ لیا تھا۔


    شکوہ نہیں بےوفائی کا مگر تجھ سے امید بے تحاشہ تھی۔
    زینب پر تمام حقیقت آشکار ہو چکی تھی کہ اس کا شوہر کسی اور عورت میں دلچسپی رکھتا ہے۔
    اس کی شادی شدہ زندگی کے گزرے سال اس کے سامنے ایک فلم کی طرح چل رہے تھے۔ کہاں کمی چھوڑی تھی اس نے، گھر بچے شوہر جوائنٹ فیملی میں رہتے ہوئے ساس سسر کی خدمت نندوں اور دیور کی خدمت ان تمام کاموں میں اپنی زندگی اپنی ہر خواہش کو آہستہ آہستہ مارتی گئی تھی وہ اور آج بالآخر خواہشات کے ساتھ ساتھ محبت بھی دم توڑ گئی تھی۔ زینب غم و غصے سے بھری شوہر کی طرف لپکی اس دھوکے کی وجہ جاننا چاہتی تھی۔ تمام حقائق اور ثبوت سامنے دیکھ کر انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ وہ شوہر جو کبھی اعتراف محبت کرتا تھا آج سامنے کھڑا اعتراف جرم کر رہا تھا اور یہ جرم بھی اسی کے سر ڈال کے ہر گناہ اور ہر عیب سے بری ہو گیا۔ یہ کہتے ہوئے کے یہ سب کرنے پر تم نے مجھے مجبور کیا۔
    "مجھے تم میں وہ سب نظر نہیں آتا جو باہر کی عورت میں نظر آتا ہے۔” وہ تو بری ہو گیا مگر اس کو قید کر گیا۔ خوف اضطراب اور بے اعتباری کے زندان میں وہ اکیلی رہ گئی۔ یہ ایک ایسی قید تھی جس میں تنہائی کا ساتھی قید کر کے خود راہ فرار اختیار کر گیا تھا۔ بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ مرد سخت جان ہوتا ہے اور عورت نازک اس کے باوجود وہ مرد کا تھپڑ سہہ جاتی ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ مرد بار بار اس سے بے وفائی کر رہا ہے پھر بھی اسے گلے لگاتی ہے اپنا گھر بچانے کے لیے اور مرد عورت کی اونچی آواز برداشت نہیں کر سکتا۔ اس کی اونچی آواز اصل میں اس کا درد ہوتا ہے وہ کراہ رہی ہوتی ہے اس درد سے اس تکلیف سے جس کو مرد کبھی نہیں سمجھ سکتا۔
    وہ ایک با شعور پڑھی لکھی لڑکی تھی مگر اس وقت بے حد مجبور بے بس کھڑی تھی۔ اس کے سامنے جب بھی کوئی شوہر کی بے وفائی کا ذکر کرتا تو وہ فوراً سے کہتی کہ
    "اگر پتہ چل جائے کہ شوہر بے وفا ہے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے تو کبھی اس شخص کے ساتھ ایک لمحہ بھی نہیں گزارنا چاہیے۔ محبت میں شرک کبھی برداشت نہیں کرانا چاہیے۔” دوسروں کو یہ درس دینے والی آج خود محبت کے مشرک کے پہلو میں بے بس لیٹی سوچ رہی تھی کہ آج سمجھ میں آیا کہ عورت کیسے یہ شرک برداشت کرتی ہے۔ کبھی ماں باپ کی عزت کے لیے، کبھی معاشرے کی تلخ باتوں سے بچنے کے لیے، کبھی دوسروں کے سامنے ذلیل ہونے کے ڈر سے اور کبھی بے گھر ہونے کے خوف سے وہ اس شرک کو برداشت کرتی ہے اور ہر لمحہ خوف اور بے اعتباری میں گزارتی ہے۔ یہ خوف ہر وقت ایک زہریلے سانپ کی طرح ڈستا ہے کہ محبت کے اس مشرک کو اگر کہیں اور کوئی بت نظر آیا تو پھر سے اس کی پوجا شروع نہ کر دے۔ یہ کہانی صرف ایک زینب کی نہیں اس معاشرے کی کئی عورتیں محبت کے مشرک کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے
    اللہ سبحانہ و تعالی قرآن کریم میں فرماتے ہیں

    اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ وَ الۡخَبِیۡثُوۡنَ لِلۡخَبِیۡثٰتِ



لا حاصل محبت


    گندی عورتیں گندے مردوں کیلئے ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کیلئے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کیلئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کیلئے ہیں ۔ وہ ان باتوں سے بَری ہیں جو لوگ کہہ رہے ہیں ۔ ان (پاکیزہ لوگوں ) کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔
    مرد یا عورت کوئی بھی ہو جب وہ حرام تعلق کی طرف جاتا ہے تو شیطان اس کو حرام کو مزین کر کے دکھاتا ہے حرام اور گناہ میں لذت تو ہے مگر سکون نہیں چاہے وہ حرام کی کمائی ہو یا حرام تعلق سکون صرف اسی راستے میں ہے جو اللہ سبحانہ و تعالی نے بتا دیا اللہ کے راستے سے ہٹ کے اس کی حدود کو توڑ کر کبھی کوئی انسان مطمئن نہیں ہو سکتا۔ نکاح میں اللہ سبحانہ و تعالی نے جو برکت محبت پاکیزگی اور ایمان کی تکمیل رکھی کیا وہ حرام میں ممکن ہے۔
    Extra marital affairs
    ۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر بہت کم لوگ بات کرتے ہیں۔ بہت سی عورتیں یہ سب کچھ چپ چاپ برداشت کرتی ہیں۔ کوئی بچوں کی خاطر کوئی گھر بچانے کے لیے اور کوئی طلاق کے دبھے سے بچنے کے لیے۔ مردوں کی اکثریت اپنے اس گناہ کو سراسر عورت کے سر پہ ڈال دیتا ہے کہ مجھے تم سے وہ خوشی تم سے وہ سکون نہیں ملتا جو مجھے باہر کی عورت سے ملتا ہے۔ جب اس کو باہر بنی سنوری میک اپ زدہ ناز ادائیں دکھاتی عورتیں نظر آتی ہیں تو اس کو اپنے گھر میں موجود عورت بے رنگ اوربے وقعت نظر آتی ہے۔ کبھی مرد نے سوچا کہ اس کو گھر میں جو بے رنگ عورت نظر آتی ہے وہ اس کے بچوں اس کے گھر اور سسرال کی ذمہ داریاں نبھاتے نبتھاتے اتنا گھسی کہ اپنا ہر رنگ کھو بیٹھی ہے۔ مرد یہ شکوہ کرتے ہیں تم ویسی نہیں رہی جیسا میں چاہتا ہوں اس لیے میں باہر کی عورت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔کیا آپ نے کبھی بیوی کو اس طرح سے ٹریٹ کیا جیسے باہر کی عورت کو کرتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی یہ کوشش کی کہ جیسی عورت مجھے پسند ہے میں اپنی بیوی کو اس روپ میں ڈھالوں؟ کیا بیوی کے ساتھ اسی پیار محبت کے ساتھ بات کی جو فون پر بات کرتے ہوئے محبت نچھاور ہو رہی ہوتی ہے؟ وہ شعر وہ جملے جو ایک غیر عورت کی تعریف کے لیے کہے جا رہے ہوتے ہیں کیا آپ نے کبھی اپنی شریک حیات کے لیے کہے؟


    ۔کتنے مرد ہیں جو عورت کے جذبات کو سمجھتے ہیں؟ عورت فطری طور پر جذباتی ہے اور یہ جذبات ہی مرد اور عورت کی فطرت میں فرق کرتے ہیں۔ مرد سمجھتے ہیں کہ میں روٹی کپڑا اور اس کی باقی ضروریات زندگی پوری کر رہا ہوں تو اور اسے کیا چاہیے۔ مرد اگر عورت کے جذبات کو سمجھنے والا ہو تو عورت اس کی خاطر ہر چیز پر سمجھوتہ کر لیتی ہے۔ اگر مرد اس کے جذبات کو ہی نہیں سمجھتا اس کو عزت نہیں دیتا اس کے ساتھ مخلص نہیں تو دنیا کی ہر آسائش اس کے سامنے حقیر ہے۔چھوٹی چھوٹی باتیں ازدواجی زندگی میں رنگ بھر دیتی ہیں۔ اچھا کھانے بنانے پر بیوی کی تعریف کر دیں تو وہ خوش ہو جاتی ہے۔ اس کے نئے جوڑے کی تعریف کر دے وہ خوشی سے نہال ہو جاتی ہے۔ گلاب کا ایک پھول محبت سے دے دیں اس کے لیے کوہ نور کے ہیرے سے بڑھ کر ہوگا۔ اکثر دو دو چار چار بچوں کے ماؤں کو یہ جملہ کہتے ہوئے سنا ہو گا مجھے سچی محبت نہیں ملی اس بات پر لطیفے بھی بنتے ہیں اور بھرپور مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔ اتنے بچے پیدا کرنے کے بعد بھی اس کو سچی محبت نہیں ملی۔ محبت صرف بچے پیدا کرنے کا نام نہیں عورت مرد سے توجہ چاہتی ہے سراہے جانے کا خواب دیکھتی ہے چھوٹی چھوٹی باتیں اس سے کرنا چاہتی ہے۔ اس سے سننا چاہتی ہے اس کا وقت چاہتی ہے اس کے ساتھ ایک پاکیزہ تعلق چاہتی ہے جس میں کوئی تیسرا نہ ہو۔ عورت کی دنیا بہت محدود ہوتی ہے اس کی زندگی صرف مرد کے گرد طواف کرتے گزر جاتی ہے مرد کے پاس بہت option ہوتے وقت اور حالات کے مطابق مرد ان options کو استعمال بھی کرتا ہے۔ وہ محبت میں شرک کر جاتا ہے۔ وہ متبادل ڈھونڈ لیتا ہے
    مگر ایک پاکیزہ باکردار اور حیا والی عورت کبھی محبت میں مشرک نہیں ہو سکتی۔ دھوکے باز شخص کے ساتھ منسلک عورت کی محبت ہمیشہ لا حاصل رہتی ہے۔

  • تخیل، تخلیق اور تکمیل

    تخیل، تخلیق اور تکمیل

    تخیل، تخلیق اور تکمیل

    Duabi Naama

تخیل، تخلیق اور تکمیل

    میں ایک عرصے تک اس مغالطے کا شکار رہا ہوں کہ کائنات میں کوئی ایسی جگہ یا ستارہ ضرور موجود ہے کہ جہاں پہنچ کر ہماری سوچ مجسم ہو جاتی ہے یعنی ہم زندگی بھر میں جو کچھ بھی سوچ رہے ہیں، یا اور جو کچھ بھی ہمارے تخیل میں آ رہا ہے وہ کائنات کے کسی مقام پر پہنچ کر ضرور جسم حاصل کر رہا ہے۔ اپنے ذہنی اور روحانی خیالات کو تجسیم کرنا ایک انتہائی دلچسپ عجوبہ ہے اور کسی معجزہ سے کم نہیں ہے مگر مادے کی حقیقی دنیا میں ایسا ہوتا ہوا یا تو الہامی انبیاء کی تاریخ میں نظر آتا ہے اور یا پھر ایسا صرف ہالی وڈ کی سائنس فکشن موویز میں ہوتا ہے۔

    میں ایک عام سا معمولی ذہنی سطح کا آدمی ہوں، زیادہ ذہین و فطین بھی نہیں ہوں کہ کوئی غیرمعمولی تخلیق ہی سرزد کر سکوں اور نہ ہی میرے قبضے میں کوئی ایسی خلائی مخلوق ہے کہ جو یہ "مافوق الفطرت” کارنامہ میرے لیئے انجام دے دے۔ اس کے باوجود کون ایسا باشعور انسان ہے جو اپنے ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں چاہتا ہو گا۔ میں جب ایسی بظاہر ناممکن چیزیں سوچتا تھا تو یہ سوال اکثر میرے ذہن میں آتا تھا کہ ہم جو کچھ سوچتے ہیں اگر وہ ہمارے سامنے یا کسی دوسری جگہ پر مجسم نہیں ہو سکتا ہے تو اس کے خیالات ہمارے دماغ میں آتے ہی کیوں ہیں؟

    یہ سنہ 1993ء کی بات ہے ایک دن ایسا ہوا کہ میری اس سوچ کی بھنک زرمست خان کو ہو گئی۔ وہ سٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجن ڈویژن FATA اسلام سیکرٹریٹ میں 21ویں گریڈ کے جوائنٹ سیکرٹری تھے۔ میں ان دنوں 11ویں سکیل کا اسسٹنٹ (کلرک) تھا۔ اس موضوع پر گفتگو کے لیئے انہوں نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور بتایا کہ کوئی بھی خیال ہمارے دماغ میں اسی وقت آتا ہے جب وہ اس چیز سے ٹکرا کر واپس ہمارے دماغ کے نیورانز کو آ کر چھوتا ہے جس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ ہم اسلام آباد میں بیٹھ کر اگر فرانس پیرس میں ایستادہ ایفل ٹاور یا کائنات کے نوری سالوں کی دوری پر واقع کسی ستارے کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کی اشکال ہمارے دماغ میں تب تک نہیں بن سکتی ہیں جب تک ہماری سوچ کے خیالات ان چیزوں سے ٹکرا کر واپس ہمارے دماغ کو ان کے وجود اور موجودگی کی تصدیق نہیں کرتے ہیں۔

    یہ معاملہ بہت زیادہ پیچیدہ اور تخیلاتی ہونے کے باوجود ٹھوس دلائل کا حامل ہے کہ ہم اس وقت تک کسی چیز کا تصور ہرگز نہیں کر سکتے ہیں کہ جب تک وہ چیز کسی جگہ پر موجود نہ ہو۔

    اگرچہ اس نوع کا علم میری تجسیمی سوچ اور خیالات کے لیئے بہت حوصلہ افزاء تھا مگر وہ دن اور آج کے دن تک میں سائنس پڑھتا رہا ہوں ماسوائے سوائے ٹیلی پیتھی TELEPATHY کے جسے عام طور پر "سوڈو سائنس” کہا جاتا ہے خیالات کے مجسم ہونے کا عمل یا طریقہ کار میں نے کسی جگہ نہیں پڑھا ہے۔

    گزشتہ روز ایک امریکی پاکستانی مکرمی زبیر حسین کی تحریر نظر سے گزری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تخیل (یعنی ہماری سوچ کی پرواز) جارج برنارڈ شاہ کے بقول تخلیق کا آغاز ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ آئن سٹائن سمجھتا تھا کہ ہر وہ چیز جس کا ہم تصور کرتے ہیں قدرت نے پہلے ہی تخلیق کر رکھی ہے. پابلو پکاسو کی رائے میں ہمارے تصور میں آنے والی ہر شئے حقیقی وجود رکھتی ہے.

    خود زبیر حسین کی رائے یہ ہے کہ ہمارا تصور یا تخیل جو چیزیں ہمیں دکھاتا ہے وہ کائنات میں کہیں نہ کہیں وجود رکھتی ہیں. یہ امکان بھی موجود ہے کہ کائنات ہمارے تصور، تخیل، یا نئے خیال کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے سرگرم ہو جاتی ہے. یہی وجہ ہے کہ ڈیڑھ دو سو سال پہلے کے فکشن آج حقیقت بن چکی ہے.

    لیکن اس زعم خویش حقیقت کا انکار کیسے کیا جائے کہ علم کے بغیر تخیل کی پرواز محدود ہوتی ہے، یا یوں کہیں کہ جو چیزیں ہمارے شعور یا لاشعور کے علم میں نہیں ہیں ہم ان کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ایک بہرا گونگا بھی ہوتا ہے اسی طرح ہمارا تخیل علم کے بغیر گونگا اور بہرا ہے۔ ہم نے جن چیزوں کے بارے دیکھا اور سنا نہیں ہے ان کے بارے سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ وہ چپٹی ہیں یا مخروطی ہیں۔

    آپ تخیل کے ان کمالات کے بارے کیا کہیں گے کہ میرا ایک دوست اپنے تخیل میں ہاتھی کو سوئی کے نکے سے گزرتا دیکھ رہا ہے۔ اب کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں ایسا کہیں ہو رہا ہو گا؟ ایک دوسرے صاحب کے مطابق انکے تخیل میں نورا فتحی انکی آرام گاہ میں پرفارم کر رہی ہے، آپ اسے کیا کہیں گے؟

    قرآن کریم میں اللہ پاک نے خود کو سب سے بہترین تخلیق کار کہا ہے۔ انسان خدا کی بہترین اور احسن تقویم مخلوق ہے۔ البتہ ہم یہ ضرور مان لیتے ہیں کہ انسان بھی ایک اچھا تخلیق کار ہے یعنی انسان بھی خدا کے نائب کے طور پر چیزوں کو مجسم یا تخلیق کر سکتا ہے۔

    برناڈشا کا یہ قول قابل غور ہے کہ سوچ، تصور اور تخیل کو عمل اور تخلیق کے پہلے قدم کے طور پر لیا جا سکتا ہے کیونکہ ہمارے تخیل کی پرواز اور رفتار اک حیرت انگیز phenomenon ہے جو پلک جھپکنے سے پہلے انسان کو لامکاں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ وہم ہے، سراب ہے یا دماغی شعبدہ بازی ہے لیکن ایسا ہر انسان محسوس کر کے ذہنی سکون کی خاطر نہ صرف تصوراتی طور پر خوش کن پرفضا مقامات کی سیر کو نکل سکتا ہے بلکہ حیرت انگیز طور پر پل بھر میں اپنے پیاروں کو بھی اپنے سامنے مجسم کر سکتا ہے۔

    اس حوالے سے میں آج بھی انسانی تخیل اور سوچ کو روشنی کی رفتار سے بھی کئی گنا زیادہ کائنات کی تیز ترین رفتار سے تعبیر کرتا ہوں۔ اس سے نہ صرف ذہنی سکون بلکہ جسمانی سکون بھی محسوس ہوتا ہے۔ تخیل کے اندر انمول توانائی ہے۔ کاش اسے دوسروں تک با آسانی منتقل کیا سکے۔ تخیل اور تصور سے ہی نئے جہان تخلیق ہوتے ہیں۔

    لیکن سوال پھر وہی ہے کہ بھرپور تخیل کے لئے علم و آگہی اور نیز تجربے سے گزرنا ایک بہت بڑی دماغی مہم جوئی ہے۔ سائنس اس خیالاتی چیز کو نہیں مانتی ہے۔ بنا جانکاری کے تصور اور تخیلاتی ہیولا کیسے بنے گا جو معلومات کے پرتو میں بننا چایئے۔ البتہ میں مثبت فریب اور ہذیانیت Hallucinations کو اس لیئے پسند کرتا ہوں کہ اس میں کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں اور کچھ چیزیں دکھائی دیتی ہیں، جو حقیقت میں ہوتی نہیں ہیں۔

    چیزوں کو اپنے تخیل سے تخلیق کرنے کا یہ مرحلہ کب اور کیسے مکمل ہو گا، یا اس کے لیئے کونسا نیا علم ایجاد ہو گا، یہ ایسا سوال ہے جو ہم میں سے ہر ایک خواب کے طور پر دیکھتا اور سوچتا ہے۔ بزبان شاعر، "تم سرسری جہاں سے گزرے ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا۔” ملٹی یونیورسز اس مد میں بہت پرامید سائنسی تھیوریز ہیں۔