Tag: قرآن

  • اسلامی تعلیمات اور جدید دور کے تقاضے

    اسلامی تعلیمات اور جدید دور کے تقاضے

    اسلامی تعلیمات اور جدید دور کے تقاضے

    Dubai Naama

    اسلام واقعی ایک آفاقی نظام عمل ہے تو اس کے عقائد اور تعلیمات کو ہر عہد کے تقاضوں اور ضروریات پر پورا اترنا چاہئیے۔ اسلام کے مطابق کامیاب زندگی گزارنے کے لیئے قرآن پاک دین اسلام اور اہل ایمان کا پہلا الہامی زریعہ ہے جس کی آیات مبارکہ اس مجوزہ معیار پر مکمل طور پر پورا اترتی ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات کا دوسرا بڑا منبع احادیث نبوی ﷺ ہیں جو کئی ہزار کی تعداد میں ہو سکتی ہیں لیکن احادیث کی کل تعداد کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ان میں محدثین کے مختلف اقوال بھی شامل ہیں۔ محدثین کی اصطلاح میں صرف آپ ﷺ کے ارشادات کو حدیث نہیں کہا جاتا، بلکہ آپ ﷺ کے افعال، اخلاق، احوال اور آپ کی موجودگی میں لوگوں کے کئے ہوئے وہ کام جن پر آپ نے گرفت نہیں فرمائی، اور اس کے ساتھ صحابہ کے اقوال، ان کے مفتیوں کے فتاویٰ، زمانۂ خلافت میں ان کی عدالتوں کے فیصلے، بلکہ تابعین کے فتاویٰ اور جج ہونے کی حیثیت میں ان کے فیصلے، اور قرآنی آیات پر تشریحی نوٹس بھی احادیث میں شمار کئے گئے ہیں۔

    اس کے باوجود کہ احادیث کی کل تعداد متعین نہیں ہے تاہم، احادیث کی مشہور کتب میں صحیح بخاری (بشمول تکرار) 9086 اور صحیح مسلم میں 7275 احادیث شامل ہیں۔ غیر مکرر احادیث کی تعداد بخاری میں 2,600 اور مسلم میں تقریباً 4,000 ہے۔ جبکہ قرآن مجید میں کل سورتوں اور آیات کی تعداد مخصوص ہے جس میں 114 سورتیں ہیں جن میں 86 مکی اور 28 مدنی سورتیں سرفہرست ہیں جبکہ  قرآن مجید میں کل آیات کی مشہور تعداد 6666 ہے، جبکہ محققین اور ماہرینِ قرآنیات کے مطابق صحیح تعداد 6236 ہے۔ یہ اختلاف آیات کو الگ الگ یا ملا کر گننے کی وجہ سے ہے، تاہم قرآنی متن اور پیغام میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ چونکہ قرآن فرقان آخری نبی محمد الرسول اللہ ﷺ پر اترا اور نبی مکرم ﷺ کے بعد نبوت کے دروازے بند ہو گئے ہیں تو اب یہ اسلامی علمائے عظام، مفسرین، فقہاء، محدثین و مفکرین اور خاص طور پر مجددین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ ﷻ اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی تشریح و تعبیر ہر عہد کے جدید سے جدید ترین علوم اور پیمانوں کی زبان اور معیار کے مطابق پیش کریں تاکہ جہاں اسلام کو آسانی سے سمجھا جا سکے وہاں اسے روزمرہ زندگی پر لاگو کرنا بھی آسان ہو جائے۔

    الہامی پیغام اور تعلیمات و عقائد غیرمتبدل اور ہر عہد کا علم اور حالات متبدل ہوتے ہیں جن کے درمیان توازن قائم نہ کیا جائے یا اس کے تقاضوں کا لحاظ نہ رکھا جائے تو مذہبی علوم اور عقائد کے قدیم (آوٹ ڈیٹڈ) ہو جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ آج کی ترقی یافتہ دنیا اسلام اور مسلمانوں پر "دقیانوسی” اور "جہلا” وغیرہ کے الزامات لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیئے محدثین اور مجددین اسلامی تعلیمات اور عقائد کا احیاء کرتے ہیں تاکہ "اسلامی ضابطہ حیات” جدید ذہن کی سمجھ میں آ سکے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے یعنی اسلامی تعلیمات اور عقائد کے نئے مفاہیم اور مطالب کو عام نہ کیا جائے تو اسلام کا مکمل ادراک اور اسے ہر عہد میں عملی زندگی کا حصہ بنانا ناممکن نہیں تو تقریبا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا بنیادی حل علماء اسلام، مسلم فقہاء، مفسرین، شارع اور مترجمین پیش کر سکتے ہیں جن کے ذہن کی رسائی جدید علوم مثلا کوانٹم سائنس، نفسیات اور مائنڈ سائنسز پر بھی ہو۔ جہاں ان سائنسی علماء کا مشاہدہ تیز ہو وہاں وہ مستقبل کے جدید علوم پر بھی نظر رکھ سکیں کہ انسان ان کے ذریعے کس بلندی تک ترقی کا سفر طے کر سکتا ہے اور اس میں دین اسلام کیا کردار ادا کر سکتا ہے مثال کے طور پر پاکستان کے قومی شاعر، مفکر اور فلسفی ڈاکٹر علامہ اقبال کا واقعہ معراج کے بارے یہ شعر ملاحظہ کریں، جس میں وہ فرماتے ہیں،
    "سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
    کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں ” 

    واقعہ معراج کی ایک تشریح وہ ہے جو علمائے دین اللہ تعالی ﷻ سے نبی کریم ﷺ کی ملاقات اور دیدار کے حوالے سے کرتے ہیں اور دوسری وہ ہے جو علامہ اقبال کی نظر میں آسمان کی بلندیوں تک سائنسی علوم کی ترقی کے ذریعے ہے جس کی زد میں سات آسمان (گردوں) آتے ہیں۔ اس مد میں حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ علیہ کی تعلیمات میں جدید اسلامی فکر کے نمایاں پہلو ملتے ہیں جبکہ مولانا مودودیؒ نے بھی اس میدان میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ دور جدید سائنسی عروج کا عہد ہے اور نت نئی ایجادات نے قدیم انسانی تہذیب کے نمایاں عناصر کے بخیئے ادھیڑ دیئے ہیں۔

    مولانا مودودیؒ اسلامی فکر کو ترویج دینے کے قائل تھے۔ انہوں نے اسلامی فکر کے مسلسل ارتقاء میں رہنے کا جو نظریہ دیا وہ قابل تعریف ہے اور یہی مسلمانوں میں علمی تعطل کا واحد حل بھی ہے۔   امام مودودیؒ فرماتے ہیں کہ، "مدینہ سے مماثلت پیدا کرنے کا مفہوم کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم ظاہری اشکال میں مماثلت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دنیا اس وقت تمدن کے جس مرتبے پر قائم ہے اس سے رجعت کر کے اس تمدنی مرتبے پر واپس جانے کے خواہش مند ہیں جو عرب میں ساڑھے تیرہ سو برس پہلے تھا۔ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اصحابؓ کا یہ مفہوم سرے سے غلط ہے اور اکثر دین دار لوگ غلطی سے اس کا یہی مفہوم لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سلف صالح کی پیروی اس کا نام ہے کہ جیسا لباس وہ پہنتے تھے ویسا ہی ہم پہنیں جس قسم کے کھانے وہ کھاتے تھے اسی قسم کے کھانے ہم بھی کھائیں جیسا طرز معاشرت ان کے گھروں میں تھا بعینہٖ وہی طرز معاشرت ہمارے گھروں میں بھی ہو۔ تمدن و حضارت کی جو حالت ان کے عہد میں تھی اس کو ہم بلکل متحجر صورت میں قیامت تک باقی رکھنے کی کوشش کریں اور ہمارے اس ماحول سے باہر کی دنیا میں جو تغیرات واقع ہو رہے ہیں ان سب سے آنکھیں بند کر کے ہم اپنے دماغ اور اپنی زندگی کے اردگرد ایک حصار کھینچ لیں جس کی سرحد میں وقت کی حرکت اور زمانے کے تغیر کو داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔” 

    اسلامی تعلیمات اور جدید دور کے تقاضے

    دراصل وقت کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کا یہ جدید نقشہ پیش کرنا ان مجددین کا کام ہے جو اسلام کی تشریح ان جدید علوم کی روشنی میں کر سکیں جو درحقیقت ہر عہد کے جدید علوم کے معیار پر عین پورا اترتی ہیں۔ مولانا مودودیؒ اس مد میں فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اتباع کا یہ تصور جو دور انحطاط کی کئی صدیوں سے دین دار مسلمانوں کے دماغوں پر مسلط رہا ہے درحقیقت روح اسلام کے بالکل منافی ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔

    میرے رائے میں بھی اسلام کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ ہم جیتے جاگتے آثار قدیمہ بن کر رہیں اور اپنی زندگی کو قدیم تمدن کا ایک تاریخی ڈرامہ بنائے رکھیں۔ اسلامی فکر ہمیں رہبانیت اور قدامت پرستی نہیں سکھاتی ہے۔ اسلامی ضابطہ اور جدید تعلیمات کا مقصد دنیا میں ایک ایسی قوم پیدا کرنا نہیں ہے جو تغیر و ارتقا کی راہ میں رکاوٹ بن جائے، بلکہ اسلام کا مطلب و مقصود اس کے بالکل برعکس ہے اور اسلام مسلمانوں کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جو تغیر و ارتقا کو غلط راستوں سے پھیر کر صحیح راستے پر چلانے کی کوشش کرے یعنی جدید علوم کا حصول ممکن بنا کر خود بھی ترقی کرے اور دوسری اقوام کو بھی کروائے۔

    دین اسلام میں "امامت” کا مفہوم دوسروں کے لیئے خیر کا باعث بننا ہے۔ ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم یہ ہے کہ، "تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیئے منافع بخش ہو۔” اسلام کا اجتماعی درس بھی یہی ہے کہ جو امت کو قالب نہیں دیتا بلکہ روح دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ زمان و مکان کے تغیرات سے زندگی کے جتنے بھی مختلف قالب قیامت تک پیدا ہوں ان سب میں امت مسلمہ یہی روح بھرتی چلی جائے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے دنیا میں امت نبوی ﷺ کا مشن یہ ہے کہ مسلمان "امت خیر” بنے رہیں، جنہیں اس لیئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ ارتقاء کے راستے پر چلیں اور اس سلسلے میں وہ دوسروں کی بھی امامت اور رہنمائی کرتے چلے جائیں۔

  • جنریشن زی کا مسئلہ موبائل نہیں، ہمارے رویے ہیں

    جنریشن زی کا مسئلہ موبائل نہیں، ہمارے رویے ہیں


    تحریر: محمد ذیشان بٹ
    اللہ تعالیٰ کی سنت کبھی نہیں بدلی۔ اس کا اصول ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے: بڑا انعام، بڑے امتحان کے بعد۔ اگر اس اصول کو سمجھنا ہو تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کافی ہے۔ بچپن میں گھر چھوڑنا پڑا، جوانی میں آگ میں ڈالے گئے، بڑھاپے میں اولاد ملی تو حکم ہوا کہ بیوی اور بچے کو ویرانے میں چھوڑ آؤ، پھر بیٹا جوان ہوا تو خواب میں ذبح کرنے کا حکم آ گیا۔ امتحان پر امتحان، آزمائش پر آزمائش۔ مگر ابراہیمؑ ہر مرحلے پر سرخرو نکلے۔ آخرکار اللہ نے فرمایا: “اے ابراہیم! تم نے وفا کر دی” اور ایسا انعام دیا کہ انہیں خلیل اللہ کہا گیا، اور دنیا کی ہر بڑی قوم نے کہا: ابراہیم ہمارے ہیں۔

    یہی اصول ہمیں تربیتِ اولاد میں بھی نظر آتا ہے۔ اولاد اللہ کی عظیم ترین نعمت تو ضرور ہے۔ مگر کھٹن امتحان بھی ہے کیونکہ اسی امتحان میں کامیابی یا ناکامی ہماری دنیاوی اور اخروی زندگی کو طے کرتی ہے ۔ پھر بھی اس نعمت کی قدر وہی جانتا ہے جس کے پاس یہ نعمت نہیں۔ جس گھر میں برسوں تک بچوں کی ہنسی نہ گونجے، وہاں دل کے کمرے خالی رہ جاتے ہیں۔ مگر انسانی فطرت یہ ہے کہ جو چیز اپنے پاس ہو، اس کی قدر کم ہو جاتی ہے۔ گاڑی ہو تو شکر نہیں، موبائل ہو تو صبر نہیں، اور اولاد ہو تو بس شکوے ہی شکوے۔ کوئی کہتا ہے بیٹیاں ہو گئیں، کوئی کہتا ہے بیٹے ہی بیٹے ہیں، کوئی کہتا ہے جیسی اولاد چاہیے تھی ویسی نہیں ملی۔ حالانکہ یہ سب رب کے فیصلے ہیں، اور رب اپنے فیصلوں میں ہم سے بہتر جانتا ہے۔

    اصل مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد فرشتہ بن جائے، جبکہ ہم خود انسان بھی بننے کو تیار نہیں۔ ہم بچوں کی تربیت کے لیکچر تو بہت دیتے ہیں، مگر اپنی اصلاح کی باری آئے تو موبائل سائلنٹ پر ڈال دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج “تربیتِ اولاد” صرف انہی لوگوں کے لیے اہم موضوع بن گئی ہے جو واقعی چاہتے ہیں کہ ان کے بعد ان کے بچے معاشرے کے لیے بوجھ نہیں، فائدہ ہوں۔

    کبھی ہم کہتے تھے: میرا بیٹا ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، وکیل بنے۔ آج حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ والدین بس یہ دعا کرتے ہیں: “یا اللہ! میرے بعد یہ بچہ میرے لیے فتنہ نہ بنے، عذاب نہ بنے، بلکہ صدقۂ جاریہ بن جائے۔”
    پاکستانی معاشرے میں آج کی جنریشن زی کو دیکھ لیجیے۔ موبائل ہاتھ میں، کانوں میں ایئر بڈز، آنکھوں میں بے چینی، دل میں سوال، اور دماغ میں الجھن۔ کوئی الحاد کا شکار ہے، کوئی ڈپریشن میں، کوئی شادی سے ڈر رہا ہے، کوئی صرف پیسے کو مقصدِ حیات سمجھ بیٹھا ہے۔ ہم چیخ چیخ کر کہتے ہیں: “یہ نئی نسل خراب ہو گئی ہے”، مگر آئینہ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔

    جنریشن زی کا مسئلہ موبائل نہیں، ہمارے رویے ہیں

    مسلمان کے لیے تربیتِ اولاد کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ کیونکہ غیر مسلموں کی طرح ہمیں منصوبہ بندی کرنے اور عمل درآمد کر کے نتائج کے مثبت آنے کی توقع کرنے کی ضرورت نہیں
    اللّٰہ پاک کا احسان عظیم ہے کہ ہمیں اپنے آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی امت بنایا ہے ہمارے پاس مکمل مکمل رہنمائی عملی نمونے کے ساتھ موجود ہے ہمیں یعنی والدین کو اپنے نبی کی غلامی کو عملی طور پر قبول کرنا ہے ، پیدائش سے لے کر وفات تک، خوشی سے لے کر غم تک، گھر سے لے کر بازار تک — ہر مرحلے پر رہنمائی موجود ہے۔

    نبی کریم ﷺ کی زندگی دیکھ لیجیے۔ بطور والد آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا رویہ کیسا تھا؟ حضرت فاطمہؓ آتیں تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے، اپنی جگہ بٹھاتے۔ یہ صرف محبت نہیں، تربیت تھی—عزت دینا سکھانے کی تربیت۔ بطور شوہر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے، تاکہ امت کو یہ سبق ملے کہ مردانگی غرور میں نہیں، خدمت میں ہے۔ بطور مہمان آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سادگی اختیار کرتے، بطور میزبان خندہ پیشانی دکھاتے۔ یہ سب رویے زبان سے نہیں، عمل سے سکھائے گئے۔

    اصحابِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ بھی یہی تھا۔ وہ حدیثیں رٹتے نہیں تھے، جو بات سمجھ آ گئی اس پر عمل کر لیتے تھے۔ انہیں یہ یاد نہیں تھا کہ “صبح جلدی اٹھنے کی فضیلت کیا ہے”، بس وہ اٹھ جاتے تھے، فجر پڑھتے تھے، قرآن سے جڑ جاتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے گھروں میں تربیت خود بخود ہو جاتی تھی۔

    آج ہم چاہتے ہیں کہ بچہ فجر کی پہلی رکعت میں مسجد پہنچے، جبکہ ہم خود ڈیڑھ دو بجے تک موبائل پر ریلس دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: “بیٹا جھوٹ نہیں بولنا”، اور خود فون پر کہتے ہیں: “کہہ دو گھر پر نہیں ہوں”۔ ہم کہتے ہیں: “بیٹا گالی نہیں دینی”، اور ٹریفک میں کھڑے ہو کر پوری لغت استعمال کر لیتے ہیں۔ پھر حیران ہوتے ہیں کہ بچہ بگڑ کیوں گیا؟

    ایک والد گرامی قدر اکثر کہا کرتے ہیں:
    “تربیتِ اولاد ایسے ہے جیسے چہرے پر مٹی ہو اور ہم آئینہ صاف کرتے رہیں۔”
    بچوں کی اصل تربیت تقریروں سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔

    کھانے پینے کی مثال لے لیجیے۔ بچہ یہ نہیں جانتا کہ برگر بہتر ہے یا دال۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ ابو اور امی کس پر منہ بناتے ہیں۔ ماں سبزی پر ناک چڑھائے گی تو بچہ بھی سبزی دشمن بن جائے گا۔ باپ ہر وقت باہر کے کھانے کا ذکر کرے گا تو بچہ گھر کے کھانے کو سزا سمجھے گا۔

    حل کیا ہے؟
    حل ایک ہی ہے: خود کو نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کے حوالے کرنا۔ اگر ہمارا اٹھنا، بیٹھنا، بولنا، کھانا، سونا، غصہ کرنا، خوش ہونا—سب نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ کے مطابق ہو جائے، تو بچوں کی تربیت خود بخود ہو جائے گی۔ پھر ہمیں الگ سے “اخلاقیات کی کلاس” لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد ہمارے مرنے کے بعد ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بنے، تو ہمیں دیگیں پکا کر اعلان کرنے کے بجائے اپنی زندگی کو اعلان بنانا ہوگا۔ عمل وہ زبان ہے جو بچوں کو سب سے زیادہ سمجھ آتی ہے۔

    آخر میں بس یہی کہنا ہے:
    اگر ہم خود مفید انسان بن گئے، تو ہماری اولاد کو مفید بننے کے لیے کسی موٹیویشنل اسپیکر کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ، اصحاب کا کردار، اور سلف صالحین کی سادگی—یہی وہ نسخہ ہے جو آج کے پاکستان، آج کی نوجوان نسل، اور آج کے پریشان والدین کے لیے واحد حل ہے۔ ہمیشہ کی طرح تجربہ شرط ہے تھوڑا نہیں مکمل غور کیجے

  • 25 واں گھنٹہ

    25 واں گھنٹہ


    تحریر: محمد ذیشان بٹ
    کیا واقعی دن پچیس گھنٹے کا ہو گیا ہے؟ نہیں، دن تو آج بھی وہی پرانا، وفادار اور مظلوم چوبیس گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ سورج اسی وقت نکلتا ہے، اسی وقت ڈوبتا ہے، گھڑی کی سوئیاں بھی وہی چکر لگاتی ہیں، مگر مسئلہ دن میں نہیں، مسئلہ ہم ہماری سوچ میں ہے۔ سیانے ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ اگر ترقی کرنی ہے تو چوبیس گھنٹوں میں سے پچیسواں گھنٹہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ یہ پچیسواں گھنٹہ گھڑی میں نہیں ملتا، یہ نیت، نظم و ضبط اور ترجیحات سے پیدا ہوتا ہے۔
    ہم میں سے اکثر لوگ وقت کے معاملے میں بڑے سادہ ہیں۔ اذان ہوئی تو کہا: “ابھی وقت ہے”، آلارم بجا تو بٹن دبا کر فرمایا: “پانچ منٹ اور”، دفتر کا کام آیا تو کہا: “ذرا چائے پی لوں”، کتاب سامنے رکھی تو خیال آیا: “کل پڑھ لیں گے”۔ یہی پانچ پانچ منٹ، جب جمع ہوتے ہیں، تو کم از کم ایک گھنٹہ بن جاتے ہیں، اور یہی وہ گھنٹہ ہوتا ہے جو ہمیں آگے لے جا سکتا تھا، مگر ہم نے اسے لحاف کے نیچے، سوشل میڈیا کی اسکرولنگ میں یا “بس ابھی کرتا ہوں” کی نذر کر دیا۔
    بانی پاکستان کی زندگی اس پچیسویں گھنٹے کی عملی تفسیر ہے۔ وہ شدید علالت کے باوجود وقت کے پابند تھے۔ بیماری کے عالم میں بھی فائلیں وقت پر منگواتے، ملاقاتیں مختصر مگر بامقصد رکھتے۔ ان کے نزدیک وقت قوم کی امانت تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ “میں ایک منٹ بھی ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ میرے پاس ایک قوم کا مقدمہ ہے۔” یہی احساسِ ذمہ داری تھا جو انہیں عام لوگوں سے عظیم رہنما بناتا ہے۔

    25 واں گھنٹہ


    سر سید احمد خانؒ کو دیکھیے۔ 1857ء کے بعد جب پورا برصغیر مایوسی کی دلدل میں دھنس چکا تھا، سر سید نے رونا نہیں رویا، وقت کو کوسا نہیں، بلکہ قلم اٹھایا، تعلیمی تحریک شروع کی، علی گڑھ کی بنیاد رکھی۔ وہ چاہتے تو کہہ سکتے تھے: “اب کیا ہو سکتا ہے؟” مگر انہوں نے پچیسواں گھنٹہ نکالا، وہ گھنٹہ جو دوسروں نے ماتم میں ضائع کیا، اور قوم کو علم کی روشنی دی۔
    مفکر پاکستان کی زندگی بھی وقت کی قدر کا ایک روشن باب ہے۔ شاعرِ مشرق صرف اشعار کے خالق نہیں تھے، وہ وقت کے قدردان تھے۔ ان کی راتیں مطالعے، غور وفکر اور دعا میں گزرتی تھیں۔ وہ خودی کا درس اسی قوم کو دے رہے تھے جو وقت کی بے قدری میں مبتلا تھی۔ اقبالؒ نے کہا تھا:
    “ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں”
    یہ “آگے” تب ہی ملتا ہے جب آدمی اپنے آج کو سنوار لے۔
    قرآن مجید ہماری رہنمائی یوں کرتا ہے
    زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے
    مگر فوراً استثنا بھی بیان کر دیا: ایمان، عمل صالح، حق کی تلقین اور صبر۔ گویا وقت سب کے پاس برابر ہے، خسارے اور فائدے کا فیصلہ اس کے استعمال سے ہوتا ہے۔
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی تو وقت کے حسنِ استعمال کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ ایک صحابیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی کام کرتے تو پورے انہماک سے کرتے، حتیٰ کہ ایسا لگتا جیسے اس کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں۔ نہ فضول بات، نہ بے مقصد نشست۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
    “دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی قدر اکثر لوگ نہیں کرتے: صحت اور فراغت۔”
    ہم صحت کو بیماری میں یاد کرتے ہیں اور فراغت کو گزر جانے کے بعد۔
    حضرت عمرؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ راتوں کو گشت کرتے تاکہ رعایا کے حالات جان سکیں۔ کوئی ان سے پوچھتا کہ یہ کیوں؟ تو جواب ہوتا: “اگر دن حکمرانی کے لیے ہے تو رات حساب کے لیے ہے۔” یہ تھا پچیسواں گھنٹہ، جو اقتدار میں بھی جواب دہی سکھاتا ہے۔
    میرے روحانی استاد اشفاق احمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ “ہم وقت کو مارتے مارتے خود مر جاتے ہیں۔” وہ کہتے تھے کہ انسان چھوٹے چھوٹے لمحوں کو حقیر سمجھ کر ضائع کرتا ہے، پھر ایک دن پوری زندگی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ واصف علی واصفؒ کا بھی یہی فلسفہ تھا۔ وہ فرماتے تھے: “جو وقت کو پہچان لیتا ہے، وقت اس کے قدم چومتا ہے۔” مگر ہم ہیں کہ وقت کو صرف گھڑی کی سوئی سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ کردار کا پیمانہ ہے۔
    قاسم علی شاہ اپنے لیکچرز میں اکثر کہتے ہیں کہ کامیابی کوئی جادو نہیں، یہ نظم و ضبط کا نام ہے۔ وہ نوجوانوں کو یہی سمجھاتے ہیں کہ ایک گھنٹہ خود پر لگاؤ، کتاب، ہنر، صحت یا سوچ پر، یہی تمہارا پچیسواں گھنٹہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم تین گھنٹے موبائل پر لگا دیں تو تھکن نہیں ہوتی، مگر تیس منٹ مطالعہ کو قیامت سمجھتے ہیں۔
    ہم وہ قوم ہیں جو کہتے ہیں: “بس یہ ویڈیو دیکھ لوں”، “بس یہ میچ ختم ہو جائے”، “بس یہ قسط نکل جائے”، اور زندگی نکل جاتی ہے۔ ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں: “یار وقت ہی نہیں ملتا”، حالانکہ وقت ہمیں ڈھونڈتا ہے اور ہم اس سے چھپتے پھرتے ہیں۔
    دنیا کے بڑے کھلاڑی ہوں، اداکار ہوں یا کاروباری شخصیات، سب کے پاس چوبیس ہی گھنٹے تھے، مگر انہوں نے پچیسواں گھنٹہ پیدا کیا۔ کسی نے نیند کم کی، کسی نے فضول محفل چھوڑی، کسی نے “کل” کو “آج” میں بدلا۔ فرق صرف اتنا ہے۔
    آخر میں بس اتنا سمجھ لیں کہ پچیسواں گھنٹہ کوئی اضافی وقت نہیں، یہ اضافی شعور ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے آپ سے کہتا ہے: “اب نہیں تو کبھی نہیں۔” جو یہ لمحہ پا گیا، وہی آگے بڑھ گیا، باقی سب گھڑی دیکھتے رہ گئے۔ ہمیشہ کی طرح یہ ہی کہو گا کہ تجربہ شرط ہے

    Title Image by Kerstin Herrmann from Pixabay

  • نمز کی سالانہ تقریب اور سماجی خدمات کا اعتراف

    نمز کی سالانہ تقریب اور سماجی خدمات کا اعتراف

    22 نومبر 2025 کو برادر عزیز چودھری امجد ایوب، سربراہ نیشنل اکیڈمی آف ماڈرن سائنسز (نمز)، کی جانب سے پیغام موصول ہوا کہ ادارے کی رواں برس ہونے والی سالانہ تقریب جو دسمبر کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جا رہی ہے میں ایک نئے اور بامعنی باب کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس باب کے تحت نمز کے طلبہ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے اُن افراد کو بھی اعزازات سے نوازا جائے گا جنھوں نے مختلف شعبۂ ہائے زندگی میں نمایاں اور قابلِ تقلید خدمات انجام دی ہیں۔ اسی ضمن میں چودھری امجد ایوب صاحب نے ادب کے شعبے کے لیے کسی موزوں شخصیت کے انتخاب پر مشورہ طلب کیا۔
    ابتدائی طور پر ادب کے لیے چند نام زیرِ غور آئے جن میں مخلص وجدانی، زاہد کلیم مرحوم اور میرپور کے غازی علم الدین مرحوم شامل تھے۔ تاہم امجد ایوب کی خواہش تھی کہ نمز کے پہلے ادبی ایوارڈ کے لیے ایسا نام منتخب کیا جائے جو نہ صرف ادارے کے وقار میں اضافہ کرے بلکہ تقریب میں موجود شرکا بھی دل کھول کر داد دیں۔ ان کی سنجیدگی، وژن اور لگن کو دیکھتے ہوئے بالمشافہ ملاقات کا وعدہ طے پایا۔
    اتفاقاً 24 نومبر کو اسسٹنٹ پروفیسر اردو کے لیے پبلک سروس کمیشن کا تحریری امتحان مظفرآباد میں منعقد ہوا۔ اس امتحان میں پلندری سے برادر آصف اسحاق بھی شریک تھے۔ امتحان کے بعد وقت میسر آیا تو نمز اپر چھتر کا رخ کیا گیا جہاں چودھری امجد ایوب نے نہایت محبت اور احترام کے ساتھ استقبال کیا۔ گفتگو کے دوران میں مختلف تعلیمی و سماجی امور زیرِ بحث آئے اور جلد ہی ایوارڈز کے موضوع پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اس موقعے پر انھوں نے بتایا کہ اس سال ادب کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو بھی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
    اس برس کے ایوارڈز میں شامل شخصیات محض کامیابی ہی نہیں بلکہ محنت، قربانی اور تخلیقی صلاحیتوں کی روشن مثال تھیں۔ ضلع باغ کی چھےسالہ لاریب گل نے محض چار ماہ اور اکیس دن میں قرآن مجید حفظ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ وادیٔ نیلم کی کم ِسن یشفٰی نور نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک گہری کھائی سے بکری کے بچے کی جان بچائی۔ فنِ مصوری کے میدان میں قرۃالعین عباسی نے اپنی فنی مہارت کا لوہا منوایا۔ دعا آصف اعوان جو پیدائشی طور پر معذور ہیں نے غیر معمولی تعلیمی محنت کے نتیجے میں میٹرک 2024ء میں 1200 میں سے 1146 نمبر حاصل کیے۔ وادیٔ نیلم کے نوجوان عاقب رفیق نے CSS میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے علاقے کا نام روشن کیا۔ عوامی خدمت کے شعبے میں محترم شوکت نواز میر کی خدمات کو سراہا گیا جب کہ ادب کے میدان میں ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کے علمی و ادبی کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

    نمز کی سالانہ تقریب اور سماجی خدمات کا اعتراف


    نمز کی سالانہ تقریب مظفرآباد کے ٹیولپ مارکی ہال میں21 دسمبر کو نہایت وقار اور شان دار انداز میں انعقاد پذیر ہوئی۔ راقم برادر عزیز سالک محبوب اعوان کے ہم راہ جب ہال میں پہنچا تو دروازے پر محترم امجد ایوب نے استقبال کیا ۔ تقریب کا باضابطہ آغاز ہو چکا تھا۔ ہمیں ادارے کے ایک معزز استاذ نے عزت کے ساتھ پہلی نشست میں جا بٹھایا۔ہال طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی بڑی تعداد سے بھرا ہوا تھا۔ تقریب کے آغاز میں نمز کے لیکچرر اردو محمد طارق صیاد نے سپاس نامہ پیش کیا جس میں ادارے کی جدوجہد، شب و روز کی محنت، طلبہ کی کامیابیوں اور نمز کی تعلیمی و سماجی خدمات کا جامع احاطہ کیا گیا۔ ان کے مدلل اور پُراثر کلمات نے حاضرین کو ادارے کے مشن اور وژن سے بہ خوبی آگاہ کیا۔ بعد ازاں نظامت کے فرائض چودھری میر حسن اور دیگر اساتذہ اور طلبہ نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
    تقریب کے ابتدائی حصے میں طلبہ نے ٹیبلو، موسیقی، مزاح اور دیگر پروگرامز کے ذریعے سے اپنی تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ بانسری کی دھن میں سامعین نے دل کھول کر نوجوان علی وجدان کو داد دی۔ علی وجدان مظفرآباد کے خوب صورت شاعر ارشد احمد مغل کے نورِ نظر ہیں ۔اگلے مرحلے پر ایوارڈز کے لیے نام زَد شخصیات کو مدعو کیا گیا تاکہ وہ مکمل تقریب میں شریک رہیں اور ان کی خدمات کو برسرِ محفل سراہا جا سکے۔
    نمز کا پہلا 2025ء عظمتِ قرآن ایوارڈ چھے سالہ لاریب گل کو دیا گیاجس نے محض چار ماہ اور اکیس دن میں قرآن مجید حفظ کیا والد ماجد کی رفاقت میں اس ننھی حافظہ نے جب اپنا ایوارڈ وصول کیا تو مہمانوں نے اشک بار آنکھوں سے اس کی حوصلہ افزائی کی۔ بہادری کا ایوارڈ دس سالہ یشفٰی نور بنت محمد سخی کے نام رہا۔جس نے گزشتہ برس نیلم کی ایک گہری کھائی سے بکری کے بچے کی جان بچائی تھی۔ یاد رہے کہ اس ننھی دلیر نے ایسی جگہ سے اس بے زبان جانور کی جان بچائی جہاں سے زندہ بچنا بھی کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ اوپر سنگلاخ چٹانیں اور نیچے نیلم کا خونی دریا ذرا سی لغزش زندگی کا چراغ گل کر سکتی تھی ۔ باوجود اس کے یشفٰی نے انسانیت کی عمدہ مثال قائم کی اور میمنے کی جان بچانے میں کامیاب ٹھہری۔فنِ مصوری کا ایوارڈ قرۃالعین عباسی کو دیا گیا۔ قرۃ العین رنگوں سے کھیلنے کا فن خوب جانتی ہے اس کی مہارت پر شرکا نے تالیاں بجا کر حوصلہ افزائی کی ۔جب کہ تعلیمی امتیاز کا ایوارڈ دعا آصف اعوان نے وصول کیا۔ دعا مظفرآباد کے نام وٓر ماہرِ تعلیم محمد آصف اعوان صاحب کی لختِ جگر ہے۔الکاسب حبیب اللہ ایوارڈ نوجوان عاقب رفیق کو دیا گیا تاہم ان کی غیر موجودگی میں یہ اعزاز ان کے بھائی محمد بشارت نے وصول کیا۔ عوامی خدمت کا ایوارڈ شوکت نواز میر کے حصے میں آیا ۔جب کہ ادب کے شعبے کا ایوارڈ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کو دیا گیا۔ شفیق انجم صاحب بھمبر کی دھرتی کے وہ سپوت ہیں جن کا ادبی قد کاٹھ آزاد کشمیر کی تاریخ میں نمایاں ہے۔ استاذ محترم کی عدم موجودگی میں ان کا ایوارڈ احقر نے ان کا شاگرد ہونے کی حیثیت سے وصول کیا۔
    تقریب کے بعد مہمانِ خصوصی میاں عبد الوحید وزیر حکومت نے خطاب کیا۔ انھوں نے نمز کے اس منفرد اقدام کو سراہا کہ ادارے نے صرف اپنے طلبہ ہی نہیں بلکہ معاشرے کے اُن افراد کو بھی اعزازات سے نوازا جو خاموشی سے قوم کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں سے ایسی شخصیات کی تلاش اور ان تک رسائی ایک مشکل مرحلہ تھا جسے نمز نے احسن انداز میں طے کیا۔
    اختتام پر جناب چودھری امجد ایوب نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور اعلان کیا کہ نمز آئندہ سال کالج کے قیام کا آغاز کرے گا جس میں وقت کے ساتھ مزید وسعت پیدا کی جائے گی۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرنے والے ہر فرد کو آئندہ بھی سراہا جاتا رہے گا۔ اختتامی دعا حافظ جناب محمد ارشاد نے کروائی جس کے بعد شرکا کے لیے ظہرانے کا شان دار اہتمام کیا گیا۔
    تقریب تقریباً چار بجے اپنے اختتام کو پہنچی تاہم اس کے اثرات اور یادیں شرکا کے دلوں میں دیر تک زندہ رہیں۔ نمز کا نظم و ضبط، خلوص اور معاشرتی خدمت کا جذبہ ایک بار پھر سب کے سامنے نمایاں ہو گیا۔

  • پیرزادہ اقبال احمد فاروقی: علم و اشاعت کی ایک روشن روایت

    پیرزادہ اقبال احمد فاروقی: علم و اشاعت کی ایک روشن روایت

    (۲۰ دسمبر یوم وفات پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    پیرزادہ اقبال احمد فاروقی 1346ھ مطابق 4جنوری 1928ء کو ضلع گجرات (پاکستان) سے چودہ میل دور ایک چھوٹے سے گاؤں ”شہاب دیوال“ میں مولانا انور پیر فاروقی کے گھر پیدا ہوئے۔ پیرزادہ اقبال احمد فاروقی کا نام آتے ہی لاہور کی وہ علمی فضا ذہن میں آ جاتی ہے جس میں کتاب کی خوشبو، قلم کی حرمت اور مسلکِ اہل سنت کی فکری وقار ایک ساتھ سانس لیتے تھے۔ وہ محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ ایک روایت تھے، ایسی روایت جو علم، اشاعت، تنظیم اور استقامت سے بنی۔

    برصغیر میں رضویات کی اشاعت ایک سنجیدہ اور صبر آزما کام رہا ہے۔ یہ کام نعروں سے نہیں، برسوں کی محنت، مطالعے اور مزاج شناسی سے آگے بڑھتا ہے۔ پیرزادہ اقبال احمد فاروقی نے اسی خاموش محنت کو اپنا شعار بنایا۔ ناشرِ رضویات، مدیر ماہنامہ “جہانِ رضا” اور مجلسِ رضا کے روحِ رواں کی حیثیت سے ان کی شناخت وقت کے ساتھ ایک ادارہ بن گئی۔

    ان کی ولادت ضلع گجرات کے نواحی گاؤں شہاب دیوال میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر میں دینی روایت گھرانوں کے ذریعے منتقل ہوتی تھی۔ فاروقی خاندان ایک ایسا ہی علمی و روحانی خانوادہ تھا جہاں علم وراثت میں ملتا تھا اور عمل اس کی تفسیر بنتا تھا۔ والد، دادا، پردادا اور دیگر بزرگ سب علم و تصوف کے چراغ تھے۔ سری نگر کے مضافات سے ہجرت کر کے آنے والا یہ خاندان اپنے ساتھ صرف سامان نہیں بلکہ صدیوں کی تہذیبی روشنی بھی لایا تھا۔

    ابتدائی تعلیم گھر کے ماحول ہی میں ہوئی۔ قرآن، تجوید اور قرأت والد اور تایا سے حاصل کی۔ فارسی ادب سے شغف بچپن ہی میں پیدا ہو گیا اور گلستان، کریما اور پندنامہ جیسے متون کے معانی پنجابی میں یاد کرنا اس دور کے تعلیمی ذوق کی خوب صورت مثال ہے۔ لاہور کا سفر 1937ء میں ہوا اور یوں ایک طالب علم علم کے اس شہر سے جڑ گیا جو بعد میں اس کی شناخت کا حصہ بن گیا۔

    مولانا محمد نبی بخش حلوائی، دارالعلوم حزب الاحناف، مدرسہ تعلیم الاسلام بہاولنگر اور پھر پنجاب یونیورسٹی تک کا سفر محض اسناد حاصل کرنے کا سفر نہیں تھا بلکہ فکری تشکیل کا زمانہ تھا۔ منشی فاضل، مولوی فاضل، میٹرک، انٹر، گریجویشن، ایم اے، ایل ایل بی، سب مراحل ترتیب سے طے ہوئے۔ اسی دوران خطاطی جیسے لطیف فن سے شغف بھی رہا جو ان کے ذوق کی ہمہ گیری کو ظاہر کرتا ہے۔

    پیرزادہ اقبال احمد فاروقی: علم و اشاعت کی ایک روشن روایت

    سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت نے ان کی شخصیت کو وہ باطنی توازن دیا جو بعد میں ان کی تحریر، تقریر اور تنظیمی مزاج میں نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اختلاف میں بھی شائستہ اور دعوت میں بھی سنجیدہ رہے۔

    1962ء میں مکتبہ نبویہ لاہور کا قیام ان کی زندگی کا اہم موڑ تھا۔ اشاعتِ دین کو انہوں نے تجارت نہیں بنایا بلکہ خدمت سمجھا۔ نادر کتب کے تراجم، مشکل متون کی ترتیبِ نو اور اہل سنت کے علمی ذخیرے کو عام فہم انداز میں پیش کرنا ان کا امتیاز تھا۔ “معارج النبوت”، “الدر الثمین”، “روضۃ القیومیہ” اور دیگر کتب محض شائع نہیں ہوئیں بلکہ ایک فکری خلا کو پُر کرتی گئیں۔

    ماہنامہ”جہانِ رضا” ان کی زندگی کا مستقل حوالہ ہے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ اس رسالے کی اشاعت نے رضوی فکر کو سرحدوں سے آزاد کر دیا۔ پاکستان سے نکل کر ہندوستان، یورپ، امریکا اور عرب دنیا تک اس کے قارئین پھیل گئے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کے افکار پر چالیس ہزار سے زائد مقالات کی اشاعت کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک منظم اور مسلسل فکری منصوبہ تھا۔

    لاہور کی گنج بخش روڈ کو بازارِ علم بنانے میں بھی ان کا کردار پس منظر میں رہ کر سامنے آتا ہے۔ مکتبہ اسلامیہ، مکتبہ حامدیہ اور ضیائے حرم جیسے ادارے اسی فکری فضا کی پیداوار تھے۔ یہ وہ لاہور تھا جہاں طالب علم کتاب کی تلاش میں گلیوں میں گھومتے تھے اور علما مکالمے سے علم کو آگے بڑھاتے تھے۔

    مرکزی مجلس رضا کا قیام 1967ء میں ایک اور سنگ میل تھا۔ جلسے، سیمینار، کتب، پمفلٹس اور نغماتِ رضا کے ذریعے جو فکری بیداری پیدا ہوئی، وہ آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ کام شور سے نہیں بلکہ حکمت، منصوبہ بندی اور مسلسل محنت سے ہوا۔

    سرکاری ملازمت کے باوجود ان کا علمی رشتہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ 1988ء میں گریڈ 19 سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ پوری طرح علم و اشاعت کے لیے وقف رہے۔ ان کا حلقہ احباب پاک و ہند کے علما، مشائخ اور محققین پر مشتمل تھا، خاص طور پر رضویات پر کام کرنے والوں سے ان کی وابستگی مثالی تھی۔

    16 صفر 1435ھ، 20 دسمبر 2013ء کو ان کا وصال ہوا۔ میانی صاحب کے قبرستان میں تدفین ہوئی اور یوں ایک عہد اختتام کو پہنچا، مگر ان کی کتب، رسائل اور شاگردوں کی صورت میں یہ عہد آج بھی زندہ ہے۔

    ساٹھ سے زائد تصانیف و تراجم، "فکر فاروقی”، "تذکرہ علمائے اہل سنت لاہور”،”نسیم بطحا”، "باتوں سے خوشبو آئے” اور دیگر کتب اس بات کی گواہ ہیں کہ پیرزادہ اقبال احمد فاروقی نے زندگی کو صرف جیا نہیں بلکہ لکھا، سنوارا اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ وہ واقعی سفیرِ رضا تھے۔ خاموش طبع ، مستقل مزاج اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ ایسے لوگ تاریخ کے ہنگاموں میں کم بولتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد انہی کی آواز سب سے واضح سنائی دیتی ہے۔

  • بلوغت اور ذہنی پختگی

    بلوغت اور ذہنی پختگی

    بلوغت اور ذہنی پختگی

    Dubai Naama

    اپنی روحانی اور شخصی کمزوریوں پر قابو پانے کے بعد ہی انسان کی روح میں ارتقاء پیدا ہونے کا آغاز ہوتا ہے جس کی اگلی منازل اس کا نافع علم طے کرواتا ہے۔

    نافع علم بتدریج وہ آگہی ہے جس کے زریعے انسان اپنے اور دوسروں کے لیئے منافع بخش ثابت ہوتا ہے اور زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے کام آتا ہے۔ چونکہ انسان کی روح خالق کائنات کا پرتو ہے اور کائنات کی ایک ہی وحدت کا جزو ہے، اس لیئے خود انسان کی روح بھی اسی صورت میں ترقی کرے گی اور اس میں ارتقاء پیدا ہو گا جب انسان کائنات اور انسانیت کی تعمیر میں حصہ لے گا ورنہ وہ فساد کا باعث بنے گا اور اس کی روح بھی ترقی کرنے کی بجائے تنزلی کا شکار ہو جائے گی۔

    بنیادی طور پر بنی نوع انسان دیگر انواع کے مقابلے میں اپنی جسمانی ساخت، زبان اور عقل کے باعث "احسن تقویم” اور "اشرف المخلوقات” کا درجہ رکھتا ہے کہ جب تک وہ اپنی تخلیق کی ان اضافی عطاعتوں اور خوبیوں کے باعث اپنے مقام اور مرتبہ کا لحاظ رکھتا ہے، تزکیہ نفس برقرار و قائم رکھتا ہے اور اپنے قول و عمل سے خود کو اپنے اور معاشرے کے لیئے بہتر انسان کے طور پر پیش کرتا ہے تو خدا کی نظر میں وہ افضل اور پسندیدہ مخلوق ٹھہرتا ہے، بصورت دیگر قرآن پاک ہی کی زبان میں وہ "اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ” کی مذلت میں گر جاتا ہے اور کائنات کی بدترین مخلوق ثابت ہونے لگتا ہے۔

    بلوغت اور ذہنی پختگی

    دراصل انسان کی روح اس کا وہ مرکزہ ہے جس سے اس کے مادی جسم اور شخصیت کے خدوخال ابھرتے ہیں۔ اپنی ذات سے آگاہی باقاعدہ علم ہے جس کے بارے علامہ اقبال نے خودی کا تصور پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا، "خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے، خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔” اپنی خودی سے آگاہ ایک عظیم المرتبت انسان کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی پھلدار درخت کا بیج ہو کہ جس کو زمین میں بونے سے وہی درخت پیدا ہو جس کا وہ بیج ہو، جو سایہ بھی دیتا ہو اور پھل بھی دیتا ہو۔ یہ احسن تقویم انسان کی مختصر تفہیم ہے جو دوسرے انسانوں اور چیزوں کو فائدہ پہنچانے والے علم سے پختہ ہوتی ہے اور آگے سے آگے کی منازل طے کرواتی ہے مگر چونکہ روح جسم میں قید ہوتی ہے تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کی روح دائرہ جسم سے باہر نہ نکل سکے تو وہ جسمانی ضروریات ہی کی غلام ہو کر رہ جاتیہے اور پھر اس حد تک بھی گر جاتی ہے کہ انسان میں منفی عادات پیدا ہو جاتی ہیں جس کا شکار ہو کر انسان اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ کا نمونہ پیش کرنے لگتا ہے۔

    انسان اپنی ہوش سنبھالنے کے بعد شعوری طور پر اس وقت بلوغت میں قدم رکھتا ہے جب وہ خود کو اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ ذہنی بلوغت اسی کا نام ہے کہ آپ کو معلوم ہونا شروع ہو جائے کہ آپ کے لیئے دنیا اور آخرت کے حوالے سے کونسے اعمال فائدہ مند ہیں اور کون سے نقصان دہ ہیں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ اپنی سوچ و خیالات اور اعمال پر نظر رکھتے ہیں۔ یعنی بلوغت صرف عمر اور جسمانی اعضاء کی بڑھوتری کا نام نہیں ہے بلکہ اصل بلوغت ایسی ذہنی پختگی کا عمل ہے جب آپ منفی یا غیر تعمیری خیالات اور کیفیات کے ہاتھوں استعمال نہ ہونے کا فن سیکھ جاتے ہیں۔

    آپ نے یہ محاورہ اکثر سنا ہو گا کہ انسان بوڑھا ہو کر دوبارہ بچہ بن جاتا ہے یا فلاں آدمی تو پڑھا لکھا بے وقوف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں انسان کی خود آگہی کی طاقت کم ہو جاتی ہے یعنی وہ یہ جاننے سے محروم ہو جاتا ہے کہ وہ کیا سوچ رہا ہے یا کیا اعمال انجام دے رہا ہے۔ ایسی صورت میں ایک بوڑھے آدمی کی یادداشت کم ہو جاتی ہے اور پڑھے لکھے کی کامن سینس گھٹ جاتی ہے۔

  • شجاع اختر اعوان نے آبائی گھر دینی مدرسہ کے لیے وقف کر دیا

    شجاع اختر اعوان نے آبائی گھر دینی مدرسہ کے لیے وقف کر دیا

    اٹک (حافظ عبدالحمید خان)سینئر صحافی، کالم نگار اور ادیب شجاع اختر اعوان کا ایثار والدین کے ایصال ثواب کے لئے آبائی گاوں بولیانوال میں اپنا ذاتی گھر دینی مدرسہ کے لئے وقف کردیا اس حوالے سے خطیب مرکزی جامع مسجد بولیانوال حافظ احسان الحق قریشی بن قاضی شیر محمد قریشی مرحوم کی موجودگی میں گھر کی چابیاں ان کے حوالے کردیں جامع مسجد حنفیہ کی کمیٹی کے اراکین حبیب الرحمن، ماسٹر ملک آفتاب احمد، ملک شعیب و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے شجاع اختر اعوان نے کہا کہ یہ گھر میں اپنے والد بزرگوار سابق کونسلر بہرام خان مرحوم اور والدہ محترمہ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے وقف کررہا ہوں تاکہ یہاں پر گاوں کے بچوں کو قرآن کی تعلیم سے روشناس کرایا جاسکے شجاع اختر اعوان علاقہ کی سماجی شخصیت نمبردار ملک منصب خان مرحوم کے نواسے اور سینئر ٹیچر ریٹائرڈملک افضال احمد خان کے بھانجے ہیں انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ میں نے اپنا آبائی گھر دینی مدرسہ کے لئے وقف کردیا ہے تاکہ میرے والدین کو اس کا اجر اور ثواب ملتا رہے

    شجاع اختر اعوان نے آبائی گھر دینی مدرسہ کے لیے وقف کر دیا


    بچے تو مسجد میں بھی دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں اگر اس گھر کو بچیوں کا دینی مدرسہ بنادیا جائے اور یہاں پر بچیوں کو قرآن مجید کے ساتھ دینی تعلیم دی جائے تاکہ بچیاں بھی بنیادی تعلیم حاصل کر کے آنے والی نسلوں کو دینی تعلیم کے ذریعے دین اسلام کی راہ دکھا سکیں اور مردوں کے ساتھ خواتین بھی بہتر طریقے سے قرآن وسنت کی تعلیم حاصل کر کے معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرسکیں اہل علاقہ حافظ عبدالحمید خان، ماسٹر ملک افتخار احمد خان , ملک افضال احمد خان ، ملک رفعت حیات، سیف اللہ ملک، ملک ذیشان اشفاق ودیگر نے شجاع اختر اعوان کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے ان کے کردار کو سراہا ہے اور انہیں مبارک باد دی ہے

  • دبئی قونصلیٹ امارات

    دبئی قونصلیٹ امارات

    دبئی قونصلیٹ امارات

    Dubai Naama

دبئی قونصلیٹ امارات

    ڈاکٹر عطاء الرحمن کا دستخط شدہ ایک "ڈیتھ سرٹیفکیٹ” میرے سامنے ہے۔ ڈاکٹر موصوف، آفس آف پلگرمز افیئرز پاکستان، مکہ مکرمہ میں میڈیکل آفیسر (حج) ہیں۔ یہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ دبئی کی رہائشی ایک پاکستانی برٹش خاتون کا ہے جو امسال حج کے دوران مکہ مکرمہ میں 3جون کو فوت ہوئیں۔ یہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ 8جون کو جاری کیا گیا۔ لیکن لواحقین کو یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ دبئی، برطانیہ یا پاکستان میں اسے استعمال کرنے کے لیئے اس سرٹیفکیٹ کو پہلے پاکستان قونصلیٹ جدہ اور پھر فارن آفس (جسے مختصرا "موفا” کہتے ہیں) سے اٹیسٹ کروانا بھی ضروری ہے۔ اول ایسے کسی ڈاکومنٹ کی موفا تصدیق ہی ایک تھکا دینے والی جدوجہد ہے۔ دوم جب اس کاغذ کو متحدہ عرب امارات، دبئی (یا کسی دیگر ملک وغیرہ) میں استعمال کرنا ہو تو دبئی قونصلیٹ سے کونٹر اٹیسٹیشن کروانا پڑتی ہے، جس کے بعد دبئی سے بھی دوبارہ موفا اٹیسٹیشن ہوتی ہے، اور دبئی قونصلیٹ کسی ایسے ڈاکومنٹ کی اس وقت تک تصدیق کرنے نہیں کرتا ہے جب تک اسے واپس سعودی عرب لے جا کر پاکستان قونصلیٹ جدہ اور موفا سے تصدیق نہ کروایا جائے۔

    اس پیچیدہ عمل پر طرفہ لطیفہ یہ ہے کہ دبئی قونصلیٹ میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے کہ سعودی عرب جانے کے لیئے ویزہ، ریٹرن ٹکٹ اور ہوٹل وغیرہ پر خرچ سے بچنے کے لیئے دبئی قونصلیٹ ہی میں، پلگرمز افیئرز پاکستان، مکہ مکرمہ (یا مدینہ) کے ایسے ڈاکومنٹ کو تصدیق کر دیا جائے، یعنی آپ عدم معلومات کی وجہ سے ایسا ڈاکومنٹ لے کر دبئی آ گئے ہیں تو آپ کو سعوی عرب کا کم و بیش دو ہفتوں کا دوبارہ چکر لگانا پڑے گا جس پر آپ کا کل ملا کر مبلغ 20 ہزار درہم تک خرچہ اٹھے گا، جو کہ پاکستانی روپے میں تقریبا 16 لاکھ بنتا ہے۔

    اس ڈاکومنٹ کی دبئی قونصلیٹ سے تصدیق کے لیئے مجھ سے مرحومہ کے خاوند نے رابطہ کیا تو یہ تلخ اور مشکل معلومات میرے علم میں آئیں۔ میں چار پانچ دفعہ پاکستانی سفارت خانہ ابوظہبی گیا ہوں جہاں میری ملاقات پاکستانی سفیر سید فیصل نیاز ترمذی صاحب سے ہوئی، اور پاکستان قونصلیٹ بھی بہت دفعہ چکر لگا ہے۔ ان دونوں جگہوں پر درجنوں پاکستانیوں کو تپتی دھوپ پر کھڑے دیکھا، اور ان کو سنا بھی، جس وجہ سے مجھے وہاں فائلیں اور کاغذات اٹھائے سائلین کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کا علم ہے۔ خاص طور پر دبئی قونصلیٹ کے باہر جو پاکستانی نیشنلز پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رینیو کروانے آتے ہیں انہیں بہت زیادہ مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ابوظہبی سفارت خانہ اور دبئی قونصلیٹ میں ایک تو انفارمیشن ڈیسک اور "آوٹ سائڈ” انتظار گاہیں نہیں ہیں، دوسرا وہاں آنے والوں کو یہاں پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رینیو کروانے کے لیئے، پہلے آن لائن اپونٹمنٹ بک کروانی پڑتی ہے جو بعض دفعہ ایک ہفتہ سے لے کر ایک ماہ تک ملتی ہے۔ دوبئی کونسلیست کے باہر کچھ ایجنٹ بھی یہ کام کرتے ہیں اور اس کے سامنے ایک ٹائپنگ سنٹر بھی اپونٹمنٹ لے کر دیتا ہے۔ لیکن ان کی فیس تین سو پچاس درہم تک ہے اور ارجنٹ اپونٹمنٹ لو تو فیس دگنی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ پھر ان کو منہ مانگے پیسے دو تو اسی دن کی بکنگ بھی ہو جاتی ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ وہ یہ اپونٹمنٹ لینے کے لیئےقونصلیٹ میں کیا "ذریعہ” استعمال کرتے ہیں یا اس میں کون اہل کار ملوث ہیں۔ اگر اپونٹمنٹ اپنے طور پر لی جائے اور زیادہ وقت لگے تو اس دوران بعض سائلین کے ویزے ختم ہو جاتے ہیں اور ان کا جرمانہ شروع ہو جاتا ہے، پاسپورٹ کی ارجنٹ فیس پر دس دن اور نارمل فیس پر رینیوول کے لیئے ایک ماہ لگتا ہے۔ شناختی کارڈ کی رینیول کے لیئے بھی تقریبا اتنا ہی وقت لگتا یے۔ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ دونوں اسلام آباد سے پرنٹ ہو کر آتے ہیں۔ حالانکہ ایک سو درہم یا مناسب فیس بڑھا کر پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رینیول اور پرنٹنگ کا احتمام ابوظہبی اور دبئی میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ مقامی پرنٹنگ سے ایک تو حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو گا دوسرا سائلین کو بھی بروقت ڈلیوری ہو گی۔ اسی طرح ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لیئے بھی دبئی اور ابوظہبی میں سعودی عرب کے سفارت خانوں سے آن لائن تصدیق کا احتمام کیا جا سکتا ہے جس سے وقت اور اخراجات میں بھی کمی آئے گی اور حکومت کی انکم میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ حج اور عمرے کے دوران ہر سال سینکڑوں حاجی مکہ اور مدینہ میں وفات پاتے ہیں جن کی اموات کے کاغذات کی تیاری اور تصدیق ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس معاملے میں ‘ڈیتھ سرٹیفکیٹ’ جائیداد کی ٹرانسفرز وغیرہ کے حوالے سے بہت اہم ڈاکومنٹ ہے جس کا مقامی انتظام کرنے سے جعل سازی، رشوت اور بہت سی دیگر پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بعض دفعہ ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ زندوں کو "مردہ” اور مردوں کو "زندہ” ثابت کر دیا جاتا ہے۔ خاص طور سفارش اور رشوت کی بیماری عام ہونے کی وجہ سے اس سے بچنا بذات خود ایک مشکل کام ہے، چہ جائیکہ بہت سے "اینجٹس” دے دلا کر ناممکن کام کو بھی ممکن بنا دیتے ہیں۔

    میں پاکستان کی بیوروکریسی، اس کے "فائل سسٹم ” اور "ایز پر پروسیجرز” کے بارے میں کافی جانتا ہوں۔ لطف کی بات ہے کہ میں نے اس ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لیئے جو بھاگ دوڑ کی ہے اس سے بہت سارے دیگر حیران کن حقائق بھی میرے سامنے آئے، جن میں متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ میں "پاکستان سنٹر” کی تعمیر اور اس کا "ناجائز استعمال” بھی شامل ہے۔ یہ معاملہ بھی کافی پیچیدہ، بلکہ گھناونا ہے کیونکہ لگتا ہے کہ اس میں گزشتہ سفارت کار کرپشن میں ملوث تھے۔ اس حوالے سے دبئی قونصلیٹ کے سی جی محمد حسین سے بھی میری دو دفعہ بات ہوئی ہے۔ وہ کافی ذمہ دار سفارت کار ہیں اور اس معاملے پر انہوں نے ایک تین رکنی کمیٹی بھی بنائی ہے۔تاہم اس موضوع پر کچھ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، جس پر کسی اگلی نشست میں بات ہو گی۔

    حج کی فرضیت اور اہمیت قرآن و حدیث میں بڑی واشگاف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ قرآن مقدس میں اللہ پاک نے حکم دیا یے: ’’جو استطاعت رکھے اس پر اس گھر کا حج فرض ہے اور جو کوئی انکار (کفر) کرے تو اللہ عالم والوں سے بے پرواہ ہے‘‘ ( آل عمران:۹۷)۔ اسی طرح ایک حدیث شریف کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ، ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ توحید و رسالت، نماز کا قیام، زکوٰۃ کی ادائیگی، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘

    یوں حج کرنا اسلام کے بنیادی فرائض میں شامل ہے مگر اس کے لیئے جہاں اسطاعت رکھنا لازم ہے وہاں مکمل طور پر صحتمند اور سفر کے قابل ہونا بھی ضروری ہے۔ بہت سے مسلمان مکہ اور مدینہ میں دفن ہونے کی خواہش کرتے ہیں مگر وہاں مرنے کی تمنا کرنا برحق نہیں ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • عرب ممالک کی دفاعی ترجیحات

    عرب ممالک کی دفاعی ترجیحات

    عرب ممالک کی دفاعی ترجیحات

    عرب ممالک کی دفاعی ترجیحات

    ممکن ہے کہ اپنے ملکی دفاع کے حوالے سے قطر پر 10 اکتوبر کا اسرائیلی حملہ خلیجی برادر مسلم ممالک کی آنکھیں کھول دے۔ ملکی دفاع کا معاملہ خالصتا خودانحصاری کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر دفاع کے انتظامات اور انہیں آپریٹ کرنے کا اختیار اور کنٹرول آپ کے یا آپ کے سچے خیرخواہوں کے ہاتھ میں نہ ہو تو یہ دفاعی نظام خواہ جتنا بھی مہنگا اور جدید ترین ہو وہ آپ کی ملکی سلامتی اور خودمختاری کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا ہے۔

    قطری حکومت نے اپنے فضائی دفاع کے لیے 19 ارب ڈالرز کی لاگت سے دنیا کے جدید ترین چار سسٹم خریدے، جس میں امریکی پیٹریاٹ پیک3، ناروے کا ناسامز 2, برطانیہ کا ریپائر اور فرانس و جرمنی کے رولینڈ میزائلز شامل تھے۔ یہ سارا دفاعی نظام قطر نے برادر دوست ملک پاکستان، چین یا روس سے خریدنے کی بجائے مغربی ممالک سے خریدنے کو ترجیح دی۔ جب اسرائیل نے حملہ کیا تو دنیا کے اس قیمتی ترین دفاعی نظام کے یہ سارے خطرناک میزائل قطر کے دارالحکومت دوحہ کے "العدید ائیربیس” پر موجود تھے، مگر یہ سارے کا سارا دفاعی نظام اسرائیلی حملے کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ اسرائیلی حملے کو انٹرسییپٹ نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اسرائیلی حملہ آور جہاز اس نظام سے زیادہ جدید اور طاقتور تھے، بلکہ اس کی وجہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ اس کا سارا کنٹرول محب وطن قطریوں کی بجائے اسرائیل نواز امریکی فوجیوں کے پاس تھا جنہوں نے اس نظام کو متحرک کرنے کی بجائے غیرفعال کر دیا۔

    اسرائیل کے چینل14 نے رپورٹ کیا کہ دوحہ قطر میں حماس کی قیادت پر حملے کے لیے منگل کو 10اسرائیلی طیاروں نے اُڑان بھری۔ ان کا ہدف 18سو کلومیٹر دور تھا۔ ایک برطانوی ہوائی آئل ٹینکر نے دوحہ سے ہی ٹیک آف کیا اور اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کر کے واپس قطر اتر گیا۔ ستم ظریفی دیکھئے اور قطر کی بے بسی ملاحظہ کریں کہ قطر پر حملے کے لیے برطانوی آئل ٹینکر قطر سے اڑا اور واپس قطر میں ہی لینڈ کر گیا۔ جبکہ اسرائیل کے دس F-35 لڑاکا طیارے جس فضائی حدود سے پرواز کرتے ہوئے قطر میں دوحہ پر حملہ آور ہوئے تھے حملے کے بعد وہ اسی فضائی راستے سے ہوتے ہوئے اسرائیل میں اتر گئے، اور واپسی کے سفر میں امریکی آئل ٹینکر طیاروں نے اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کیا۔

    اسرائیلی حملے میں امریکہ اور برطانیہ سے قطر کی دیرینہ دوستی کی ایفائے عہد و وفا کی یہ تازہ ترین مثال ہے۔ لیکن اسے قطر کی سادہ دلی سمجھیں یا کوئی دوسری مجبوری قرار دیں، قطری حکام نے پلٹ کر اسرائیل پر حملہ کرنے کی بجائے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے اور اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ قطر کی اس حکمت عملی کا جو بھی نتیجہ نکلے گا اس کا دارومدار مشرق وسطی میں قیام امن سے بلکل نہیں ہو گا۔ بلکہ اس واقعہ سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو گئی ہے کہ قطر کی طرح دیگر خلیجی ممالک کا وہ دفاعی نظام بھی اسرائیل کے خلاف بے کار ثابت ہو گا جس کا دارومدار امریکی ہتھیاروں پر ہو گا۔

    قطر کے علاوہ تقریبا تمام بڑے عرب ممالک کے دفاع کا نظام امریکی اسلحہ سے لیس ہے۔ لیکن ان مبینہ ممالک کے ایئر ڈیفیس کی تلخ حقیقت بھی یہ ہے کہ اس کو آپریٹ کرنے کا اختیار اور کنٹرول خود عرب ممالک کے پاس نہیں ہے۔ جیسا کہ قطر کا دنیا کا جدید ترین دفاعی نظام اسرائیلی حملہ آور جہازوں کے سامنے ڈھیر ہوا ہے، اب دیگر عرب ممالک کو بھی خطرہ لاحق ہے کہ اگر کل کلاں اسرائیل (ایران یا یمن) ان پر حملہ کرتا ہے تو ان کا دفاعی نظام بھی اسی طرح کا "مخالفانہ ردعمل” دے گا۔

    دوحہ پر اسرائیلی حملے نے خلیجی ممالک کے امریکہ پر اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔ اگر سعودی عرب نے امریکہ سے دفاعی معاہدے کی کوششیں روک دیں، تو دیگر ممالک مثلا متحدہ عرب امارات، اومان، کویت اور بحرین وغیرہ بھی اس کی پیروی کریں گے۔

    مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ دوحہ پر حالیہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اشیر باد سے ہوا۔ حملے کے فورا بعد اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیئے دوبارہ حملے کی دھمکی دی جس کی تائید میں امریکی صدر نے بھی حماس کو ختم کرنے کی بات کی۔ یہ وہی ٹرمپ ہیں جنہوں نے چند ماہ قبل ہی قطری حکمرانوں سے ایک قیمتی جہاز کے تحفے سمیت 1.2 ٹریلین ڈالر قطر کے دفاع کی مد میں وصول کیے تھے اور بظاہر دوستی کے وعدے کیے تھے۔ لیکن جب عملی وقت آیا تو نہ اربوں ڈالر کا دیا گیا اسلحہ قطر کے کام آیا، اور نہ ہی اربوں کا سرمایہ امریکی حمایت خرید سکا۔

    تاریخی حقائق کی بنیاد پر تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اگر قطر جیسی دولت مند ریاست، جو امریکہ کو مہنگے ترین تحائف اور کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری دے چکی ہے، پھر بھی اس کا اعتماد حاصل نہیں کر سکی تو اس کی وجہ محض مفاد نہیں، بلکہ اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کسی وقتی مصلحت یا لین دین پر قائم نہیں، بلکہ ایک گہرے "عقیدے” اور "نظریئے” کے رشتے پر استوار ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم مسلمان ابھی تک یہ بنیادی حقیقت سمجھنے میں ناکام ہیں۔ حالانکہ اس کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہودی و نصاری تمھارے دوست نہیں ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے عرب ممالک کے زیادہ قریب ہے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی بحسن خوبی نبھا سکتا ہے۔ ممکن ہے اس دفعہ قطر پر اسرائیلی حملہ ان کی آنکھیں کھول دے۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ایک کمپلیکس پر حملہ ’درست‘ تھا۔ اس رہائشی سکیم میں حماس کی مذاکراتی ٹیم موجود تھی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق حماس کی قیادت پر حملہ دو روز قبل یروشلم میں 6 افراد کے قتل اور 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔ قطر میں حماس کی قیادت پر اسرائیلی حملے نے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس نے نہ صرف غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو تباہ کیا ہے بلکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے کسی نئے اتحاد کے امکانات بھی مانند پڑ گئے ہیں۔

    قطر کے العدید ائیربیس کا مکمل کنٹرول امریکی فوجیوں کے پاس ہے۔ سوال یہ ہے کہ قطر نے یہ فوجی اڈا ایران کے خطرے کے باعث امریکہ کے حوالے کیا تھا ناکہ اس کا مقصد اسے اسرائیل کے خلاف بے اثر کرنا تھا۔ قطر سمیت دوسری بہت سی خلیجی قوتیں اب تک امریکہ کے ساتھ کھڑی تھیں اور امریکہ پہلے بھی سیہونی اسرائیل کے ساتھ کھڑا تھا اور اس وقت تک کھڑا رہے گا جب تک عرب ممالک اپنی دفاعی ترجیحات بدلنے کے لیئے سنجیدہ نہیں ہوتے ہیں۔

  • ہم فیس دیتے ہیں

    ہم فیس دیتے ہیں

    ہم فیس دیتے ہیں


    تحریر حمد ذیشان بٹ 

    امتحانات کا موسم آتے ہی ہر طرف گہما گہمی شروع ہو جاتی ہے۔ کہیں مٹھائی کے ڈبے کھلتے ہیں تو کہیں صدمے کے آنسو بہتے ہیں۔ لیکن ایک جملہ تقریباً ہر گھر میں سننے کو ملتا ہے: ’’ہم تو فیس دیتے ہیں جی، باقی سکول کا کام ہے‘‘۔ کاش! اگر تعلیم صرف فیس سے ملتی تو آج تک کوئی بچہ فیل نہ ہوتا اور ہر گلی محلے میں کم از کم دس دس پروفیسر کھڑے ہوتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ علم محنت سے آتا ہے، استاد کی صحبت سے آتا ہے اور والدین کی توجہ سے پروان چڑھتا ہے۔

    ہمارے ہاں والدین کا حال یہ ہے کہ بچہ چاہے سارا سال موبائل پر کھیلتا رہے، انسٹاگرام پر ریلس ڈالتا رہے، لیکن جیسے ہی رزلٹ کا دن قریب آتا ہے تو ماں دعائیں مانگتی ہے کہ بیٹا فرسٹ آجائے، اور والد اخبار بند کر کے اعلان کر دیتے ہیں کہ ’’یہ سب سکول کی نااہلی ہے‘‘۔ حالانکہ اگر فیس سے ڈگری ملتی تو ملک ریاض کے بیٹے آج کم از کم پی ایچ ڈی ڈاکٹر ضرور ہوتے اور بادشاہوں کے بچے کبھی فیل نہ ہوتے۔

    قرآن کریم نے علم کی قدر و قیمت یوں بیان کی:
    "قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ” (الزمر: 9)
    یعنی بھلا علم والے اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں؟

    صحابہ کرامؓ نے علم کے لیے سخت مشقتیں اٹھائیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ استاد کے دروازے پر گھنٹوں دھوپ میں کھڑے رہتے تاکہ ایک سبق سیکھ سکیں۔ امام بخاریؒ نے ایک ایک حدیث کے لیے میلوں کا سفر کیا۔ ان کے پاس نہ فیس تھی نہ ایئرکنڈیشنڈ کلاس روم، لیکن ادب، محنت اور مستقل مزاجی تھی۔

    ہم فیس دیتے ہیں

    اس کے مقابلے میں آج کے والدین اگر استاد بچے کو ذرا سا بھی ڈانٹ دے تو فوراً شکایت لے کر پہنچ جاتے ہیں: ’’ہم فیس دیتے ہیں، یہ کیا رویہ ہے؟‘‘ جیسے استاد کوئی گھریلو ملازم ہے۔ اور اگر سکول ’’پی ٹی ایم‘‘ بلائے تو جواب ملتا ہے: ’’جی ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلا‘‘۔ ارے بھائی! سکول نے گیٹ پر ایف آئی اے کھڑی کی ہوئی ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ جن بچوں کے نتائج اچھے ہوتے ہیں انہی کے والدین بار بار سکول آ کر استاد سے ملتے ہیں، اور جن بچوں کو اصل ضرورت ہوتی ہے ان کے ابو دکان پر بیٹھے ہوتے ہیں اور امی انسٹاگرام پر فلٹر لگا رہی ہوتی ہیں۔

    تعلیم دراصل ایک مثلث ہے: استاد، والدین اور بچہ۔ تینوں مل کر نتیجہ پیدا کرتے ہیں۔ مگر آج والدین اس مثلث کا ٹوٹا ہوا کونا بن چکے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ استاد اکیلا محنت کرے، اور بچے کی کامیابی ان کے خوابوں کے مطابق خود بخود سامنے آ جائے۔ یہ وہی خواب ہیں جو رزلٹ کے دن آنکھوں سے بہہ نکلتے ہیں۔

    لہٰذا والدین کرام! یہ حقیقت سمجھ لیں کہ فیس دینا کافی نہیں۔ فیس تو صرف دروازہ کھولتی ہے، اندر داخل کروانا استاد کا کام ہے، اور بچے کے ساتھ چلتے رہنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ استاد کے ساتھ رابطہ رکھیں، اس کی عزت کریں اور بچے پر مسلسل نظر رکھیں۔ ورنہ اگلے رزلٹ کے دن آپ کے بیٹے کی مارک شیٹ دیکھ کر یہی لگے گا کہ شاید وہ سکول نہیں جاتا تھا بلکہ آپ صرف فیس کسی جم کی ممبرشپ کے طور پر بھر رہے تھے

    Title Image by cuteluke from Pixabay