سفید گلاب کا نوحہ
فاضل پور کے قرب و جوار میں ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا جسے لوگ گڑھی سلطان شاہ کے نام سے پکارتے تھے۔ مٹی کے گھر، کچی گلیاں، کھیتوں کی سرسبز چادر اور شام کے وقت افق پر بکھرتا سنہری رنگ۔یہ سب اس بستی کی پہچان تھے۔ کبھی ہرے بھرے کھیت آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتے تو کبھی غروبِ آفتاب کا منظر امیدوں کو ساتھ لے کر ڈوب جاتا۔
اسی گاؤں میں ایک بچی نے آنکھ کھولی۔نام رکھا گیا عدیمہ حرم۔
لیکن اس کی پیدائش خوشی کی نوید نہ بن سکی۔
گھر کے صحن میں ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا تھا۔ دادی کی آنکھوں میں مایوسی، چچیوں کے لبوں پر نیم دبی سرگوشیاں اور ماں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی۔ باپ نے اگرچہ “الحمدللہ” کہا مگر اس لفظ کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا خواب تھااسے اس بار “سالار” کی امید تھی۔
عدیمہ نے ہوش سنبھالا تو خود کو خاموشیوں کے حصار میں پایا۔
وہ بچپن ہی سے پانچ وقت کی نماز کی پابند، قرآن سے مانوس اور تہجد گزار لڑکی تھی۔ مگر اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک ان جانا کرب تیرتا رہتا۔ وہ گاؤں کی رونقوں سے بے نیاز خود کو کمرے کی چار دیواری میں مقید رکھتی۔ جیسے اس کے دل کے اندر کوئی طوفان تھا جو کسی مخلص سہارے کی تلاش میں بے قرار تھا۔
لوگوں کے سنگین الفاظ، طنزیہ جملے اور تیز نظریں۔یہ سب اس کے وجود پر خراشیں ڈال جاتے۔
وہ ہر رات سجدے میں گرتی اور رب سے دعا کرتی:
“یا اللہ! مجھے ایک ایسا ہاتھ عطا کر دے جو میرے دل کے زخموں پر مرہم رکھ دے۔”
سات برس بیت گئے۔
سات برس کی خاموش عبادت، آنسوؤں کی لڑی اور صبر کا سفر۔
یوں پھر ایک رات اس کی تہجد کی دعا رنگ لے آئی۔
صبح جب اس نے دروازا کھولا تو سامنے ایک پرکشش شخصیت سفید لباس میں ملبوس کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں سات ٹہنیوں سے بنا سفید گلابوں کا گل دستہ تھا۔ اس کی آنکھوں میں خلوص کی چمک اور لبوں پر اعتماد کی مسکراہٹ تھی۔
ہوا میں خنکی گھل گئی۔
آسمان بادلوں کی لپیٹ میں تھا۔
پھولوں کی بھینی بھینی خوش بو جیسے عدیمہ کے نصیب کا اعلان کر رہی تھی۔
عدیمہ کے دل نے گواہی دی:
“یہی وہ منزل ہے جس کے لیے میں نے سات سال صبر کیا ہے۔”
وہ آگے بڑھی۔
کانپتے ہاتھوں سے سفید گلاب کو چھوا۔ اس کی انگلیوں نے نرمی کو محسوس کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ یہ خواب نہیں تھا۔
اس نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔
اندھیروں سے روشنی کی طرف بڑھتی ہوئی عدیمہ کو یوں لگا جیسے زندگی نے اسے مضبوط ڈور سے باندھ دیا ہو۔
مگر تقدیر کے اوراق ابھی مکمل نہ تھے۔
چند دنوں بعد جب اس پرکشش شخص کو یہ حقیقت معلوم ہوئی کہ عدیمہ ایک طلاق یافتہ لڑکی ہے تو اس کے چہرے کی روشنی مدھم پڑ گئی۔
وہی ہاتھ جو سفید گلاب پیش کر رہا تھا اب سرد ہو چکا تھا۔
“مجھے افسوس ہے… مجھے معلوم نہیں تھا…”
اس کی آواز میں ہم دردی کم اور معاشرتی خوف زیادہ تھا۔
چند لمحوں میں سفید گلاب جیسے سیاہ ہو گیا۔
محبت کا رنگ ماند پڑ گیا۔
عدیمہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر اندھیرا اتر آیا۔
وہی کمرا، وہی تنہائی، وہی خاموشی۔
اس رات اس نے سجدے میں سر رکھا تو آنسو بے اختیار بِہ نکلے۔
مگر اس بار اس کے لبوں پر شکوہ نہ تھا۔
“یا اللہ! اگر یہ بھی امتحان تھا تو میں راضی ہوں۔
مگر مجھے اتنی طاقت دے کہ میں اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے نہیں تیری نظر سے دیکھ سکوں۔”
کھڑکی سے آتی ہوا نے اس کے آنسو سکھا دیے۔
دور کہیں فجر کی اذان بلند ہوئی۔
عدیمہ نے آنکھیں پونچھیں اور آہستہ سے مسکرا دی۔
کیوں کہ اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ سفید گلاب کا مان کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔
اس کے اپنے صبر میں ہے۔
اور شاید
کبھی کبھی
اللہ سفید گلاب کو سیاہ ہونے دیتا ہے
تاکہ بندہ اپنے اندر چھپی روشنی کو پہچان سکے۔
Title Image by Tina from Pixabay

جام پور
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |