پرنسپل اکبر بخاری سے مکالمہ

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، ملتان

پرنسپل اکبر بخاری، شجاع آباد (ملتان)

انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر ، پنجاب پاکستان

سوال : آپ کا خاندانی پس منظر اور بچپن کے بارے میں معلومات دیں۔۔۔۔۔؟
جواب : قبیلء سادات سے ہے ۔ حضرت بدیع الدین احمد زندہ شاہ مدار رحمۃ اللّٰہ ۔
میری پیدائش 15/01/1968 شجاع آباد میں ہوئی ۔
میرے والد محترم کا نام سید امام شاہ بخاری رحمۃ اللّٰہ ولی کامل ہے
سوال : آج کل آپ ملازمت کہاں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔؟
جواب : ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری ۔ مظفر گڑھ ۔
سوال : آپ نے اشعار کہنے کا آغاز کب کیا۔۔۔۔۔؟
جواب : جماعت ششم ہی سے کہانی نویسی ، شاعری ، کالم نگاری شروع کی ۔اول اول پھول اور کلیاں روزنامہ نوائے وقت ، ملتان بچوں کی دنیا اور روزنامہ “امروز” وغیرہ میں لکھتا رہا ہوں ۔
سوال : آپ کی کتابوں کے نام کیا ہیں۔۔۔۔۔؟
جواب :
1 یادگار ستم (شعری مجموعہ کلام) سن اشاعت 2005ء
2 آپ صلی اللّٰہ و علیہ و آلہ وسلم (نعتیہ مجموعہ کلام ) سن اشاعت2006ء
3 تمھیں اکبر بخاری چاہتا ہے (شعری مجموعہ کلام)سن اشاعت 2014ء
4 ترا اکبر بخاری ہوگیا ہے( شعری مجموعہ کلام)سن اشاعت 2018ء
5 یہی اک بات کہتا ہوں (شعری مجموعہ کلام)سن اشاعت 2020ء
6 ۔ماں محبت ہے (شعری مجموعہ کلام) سن اشاعت 2022ء
7 پاکستان میں اسلامی معاشعرہ کے خدو خال (مضامین) سن اشاعت 2022ء
سوال : آپ کا زیادہ تر رجحان نظم کی طرف ہے یا نثر کی طرف۔۔۔۔۔؟
جواب : نظم و نثر دونوں پر
سوال : آپ کی شاعری میں زیادہ تر تصوف پایا جاتا ہے۔ اس پر کچھ کہنا پسند کریں گے۔۔۔۔۔؟
جواب : تصوف اللّٰہ پاک ، رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت اظہار علیہ السلام کی تعلیمات و کردار کا خلاصہ ہے ۔ جس کا بنیادی عنصر مخلوق خدا سے بے لوث محبت ہے ۔
سوال : شاعری انقلاب برپا کرتی ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے۔۔۔۔۔؟
جواب : انقلاب فرد سے معاشرہ تک کا ایسا سفر ہے کہ جس میں دونوں روحانی ، اخلاقی ، کرداری اور نظریاتی لحاظ سے یک جان دو قالب ہونے کی منزل کو پالیتے ہیں ۔
سوال :آپ شاعری سے کیا کام لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔؟
جواب : تخلیق با مقصد ہونی چاہئے ۔
سوال :آپ موجودہ تخلیق ہونے والے شعر کے بارے کیا کہنا چاہیں گے ۔؟
جواب : آج کا جدید شاعر الفاظ کے سحر میں مبتلا ہے ۔ مقصد کے بغیر شاعری ہے مقصد اور الفاظ کی جگالی ہے ۔ نئے رجحان ہائے خیال کی دریافت ہی اصل شاعری ہے ۔
سوال : آج کل نثری نظم اور غزل بھی آ چکی ہے۔ اس پر اظہارِ خیال فرمائیں۔۔۔۔۔؟
جواب : خیال جتنا نیا اور جاندار ہے ۔ نظم و نثر اتنا ہی جاندار ہے ۔
سوال : کیا ادب بڑے نام اپنے ادبی بڑے پن کا حق ادا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔؟
جواب : کوئی ادیب بڑا نہیں سب برابر ہیں ۔
سوال : سئیں شاکر شجاع آبادی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ۔؟
جواب : سئیں شاکر شجاع آبادی کے لئے اتنا کہوں گا پاکستان کا اثاثہ ہیں
سوال : آپ کے نزدیک سوشل میڈیا کا معیار کیسا ہے۔۔۔۔۔؟
جواب : سوشل میڈیا نے قاری اور سامعین سے ادیب و شاعر ملا دیا ہے ۔
سوال : شاہ صاحب ! قارئین کے لئے ایک غزل عنایت کریں ۔؟
جواب : ذکی صاحب ! ضرور

akbar bukhari


غزل
۔۔۔۔۔
اس کی یادوں کے بہانے چلا آ!
اے مرے وقت سہانے چلا آ!

پھر تجھے ڈھونڈنے نکلا ہے جہاں
پھر محبت کے زمانے چلا آ

امن اس جنگ زدہ بستی میں
نوع انساں کو بچانے چلا آ

ہے پریشان و بیاباں کب سے
دل کی نگری کو بسانے چلا آ

عشق مجھ پر تو مہربانی کر
جاں کو اک روگ لگانے چلا آ

آخری سانس ہے آنے کو مری
رسم دنیا ہی نبھانے چلا آ

تیری آنکھوں میں چھپوں گا اکبر
رنج و غم سارے بھلانے چلا آ

سوال : نو وارد شعراء کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے۔۔۔۔۔؟
جواب : پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

بھکر، پنجاب، پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

میڈیکل پریکٹس قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا

منگل جون 28 , 2022
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے میڈیکل پریکٹس قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا میڈیکل کا سٹور کا کام ڈاکٹری نسخہ پر میڈیسن فروخت کرنا ھے
میڈیکل پریکٹس قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا