جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔برائے جماعت سوم کے سو صفحات ہیں اس کو منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز لاہور نے ایک ہزار کی تعداد میں چھاپا اس کی قیمت چار آنے ہے ۔ اس نایاب کتاب کی پی ڈی ایف کے لئے ھم ڈاکٹر ناشاد صاحب ( علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ) کے شکر گزار ہیں ۔ اس کتاب کی تلخیص پیش خدمت ہے ۔
200 گاؤں ملا کر اٹک تحصیل بنائی گئی ھے اس کا تحصیلدار کیمبلپور میں رہتا ہے۔فتح جنگ تحصیل میں 209 گاؤں اور پنڈی گھیب تحصیل میں 148 گاؤں ہیں۔ 102 گاؤں ملا کر تلہ گنگ تحصیل بنی ہے۔ تحصیلدار کے ماتحت کئی ذیلدار ہوتے ہیں جن کی انعام خوار مدد کرتے ہیں ذیلدار کے ماتحت ہر گاوں میں نمبردار ہوتے ہیں۔ ضلع کا رقبہ چار ہزار مربع میل ہے اس میں 659 گاؤں آباد ہیں اور پانچ لاکھ آدمی بستے ہیں۔
اٹک ضلع میں بہت سے پہاڑ ہیں۔کالا چٹا پہاڑ ،گندگر، کھیڑی مار،کوا گاڑ،کھیری مورت ، ڈونگی ( یہاں 2024 میں تھانہ چونترہ علاقے میں جاوا ڈیم ہے )اور کوہستان نمک۔
کالا چٹا پہاڑ 45 میل لمبا ہے یہ دریائے سندھ سے مارگلہ تک شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے ۔دریائے سندھ کے پاس اس کی۔ چوڑائی 12 میل ہے اس کی بلند ترین چوٹی رانی کوٹ ساڑھے تین ہزار فٹ بلند ہے یہ سوجنڈا باٹا کے قریب ہے۔اس پہاڑ کے دو سلسلے ہیں۔شمالی پہاڑ دریائے سندھ سے مارگلہ تک پھیلا ہوا ہے اس کے پتھروں کی رنگت لائم سٹون کی وجہ سے سفید ہے اس نسبت سے اس کا نام چٹا پہاڑ ہے۔ جنوبی پہاڑ دریائے سندھ سے گگن تک ہے اس کے پتھر سینڈ سٹون ہیں جو بادو باراں سے سیاہ پڑ گئے ہیں اس لئے اس کو کالا پہاڑ بولتے ہیں ۔
گندگر پہاڑ چھچھ کے مشرق میں ضلع ہزارہ کا پہاڑ ہے ۔گندگر اور کالا چٹا پہاڑ کے درمیان شرقاً غرباً دو پہاڑ اور ہیں۔بڑا پہاڑ 8 میل لمبا اور 2 میل چوڑا ہے اس کا نام کھیڑی مار ہے اس کا سخت پتھر کھیڑی چپل کو بھی کاٹ دیتا ہے ۔کھیڑی مار اور گندگر کے درمیان حسن ابدال اور برہان کے زرخیز علاقے ہیں ۔دوسرا پہاڑ کواگاڑ ہے ۔( گاڑ چھوٹی پہاڑی کو کہتے ہیں ۔حسن ابدال کے پاس چھوئی گاڑ نام کا گاؤں ہے )۔اٹک قلعہ کے پاس اٹک کی پہاڑیاں ہیں جن سے سلیٹ پتھر نکلتا ہے ۔
کالا چٹا پہاڑ کے جنوب میں مکھڈ کی پہاڑیاں شرقاً غرباً ہیں نرڑہ علاقہ ان کے قریب ہے ( چھب سے جنڈ تک ان پہاڑیوں میں چار ریلوے ٹنل ہیں )۔فتح جنگ کے جنوب میں 24 میل لمبا کھیری مورت پہاڑ ہے ۔
کوہستان نمک تلہ گنگ کے جنوب میں ھے یہ ضلع اٹک سے باہر ہے اس کا سرد مقام سکیسر ہے اٹک ،میانوالی اور شاہ پور تینوں ضلعوں کے صاحبان ڈپٹی کمشنر بہادر گرمی کے موسم میں یہاں رہتے ہیں
سندھ ، ہرو،سواں ، سیل ، نندنہ اور گھبیر یہاں کے دریا اور نالے ہیں۔
دریائے سندھ شملل سے آتا ہے اور ہزارہ ضلع سے ہوتا ہوا غازی کے مقام پر ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے چھچھ اور یوسف زئی کے علاقوں کو چیرتا ہوا جنوب کی طرف بہتا ہے ۔یہاں اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔بیچ میں بہت سے ٹاپو ہیں۔ اٹک قلعہ کے پاس اس کا اس کا پاٹ تنگ ہوگیا ہے کیونکہ دو طرفہ سلیٹ کے پتھر کا پہاڑ ہے ۔ اٹک سے نیچے اس کا پانی شفاف نیلگوں ہے اس لیے نیلاب کہلاتا ہے ۔اس سے نیچے ہاٹ اور بھی تنگ ہو جاتا ہے ۔سوجنڈہ کے قریب اس کی چوڑائی صرف ساٹھ فٹ رہ گئی ہے یہ نام گھوڑا ترپ کہلاتا ہے مکھڈ میں اس دریا پر کشتیوں کا بڑا پتن ہے ۔
1841 میں ایک بڑا سیلاب آیا تھا جس میں یاسین اور سرکہ کے درمیان سارے گاؤں ڈوب گئے تھے ۔اٹک قلعہ سے تین میل نیچے لوہے کا پل ہے اوپر سے ریل جاتی ہے بیچ سے لاریاں گزرتی ہیں پل پون میل لمبا ہے ۔ خوشحال گڑھ کے قریب ایک اور پل بنایا گیا ھے ۔
ھرو دریا خانپور سے گندگر کے پہاڑوں کی طرف بہتا ہے یہ دریا اٹک قلعہ سے بارہ میل نیچے گھڑیالہ کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے ۔حسن ابدال کے پاس زراعت کے لئے اس سے نالیاں نکالی گئی ہیں ان کو کٹھہ بولتے ہیں ۔اسی سبب اس علاقے کو پنج کٹھہ کہتے ہیں اس میں سترہ گاؤں آباد ہیں ۔اکثر مقامات پر اس کے پانی سے پن چکیاں چلتی ہیں۔
دریائے سواں مری سے نکلتا ہے اور چونترہ تحصیل فتح جنگ کے پاس ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے ۔یہ مکھڈ سے دس میل نیچے دریائے سندھ میں جا ملتا ہے ۔
اکثر برسات میں نہایت چڑھاؤ پر ہوتا ہے سرکاری ڈاک بھی کئی روز تک رک جاتی ہے اور مسافر بھی عبور نہیں کرسکتے ۔ان دنوں ڈسٹرکٹ بورڈ کی طرف سے مسافروں کو رسد بہم پہنچانے کے لیے ایک دکان متصل بنگلہ ڈھوک پٹھان کھولی جاتی ہے
کھرسا میں سواں ہمیشہ پایاب ہوتا ہے اس کے قریب بعض مقامات پر اتنی ریت ( Quicksand) ہوتی ہے کہ اس میں ہاتھی بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔1850 میں حضور لاٹ صاحب جس وقت کالا باغ جا رہے تھے ان کا ایک ہاتھی اس ریت میں دھنس کر غائب ہوگیا۔ سواں کے کنارے چونترہ ,ادھوال , چکری ،ڈھڈھمبر،گنڈاکس،ڈھوک پٹھان،جبی ( شاہ دلاور) اور تراپ مشہور گاؤں ہیں۔
پنڈی گھیب والی سیل ۔یہ نالہ کھیری مورت سے نکل کر مغرب کو بہتا ہوا پنڈی گھیب کے پاس سے گزرتا ہے اور سواں میں جا گرتا ہے ۔ پنڈی گھیب کے پاس اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔اس نالے کے پہلے حصے کا نام ٹوتھل ہے ۔پنڈی گھیب کے پاس اس کا نام سیل Seel ہو گیا ہے ۔اس کے کنارے اخلاص ،پنڈی گھیب اور دندی کے قصبے ہیں ۔
فتح جنگ والی سیل کا پنڈی گھیب والی سیل سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ دونوں مختلف نالے ہیں۔یہ نالہ کھیری مورت سے جنوب کی طرف بہتا ہے اور سواں میں ( چکری کے پاس) جا ملتا ہے ۔
نندنہ نالہ کھیری مورت سے شمال کی طرف سے نکل کر کالا چٹا پہاڑ کو چیرتا ہوا اکھوڑی پہنچ جاتا ہے ۔یہ کنجور کے قریب دریا ھرو سے جا ملتا ہے ۔
نالہ چیل بیس میل لمبا ہے یہ ھٹی ( ھٹیاں) کی دلدل ( اب خشک ہو گئی ) سے نکل کر شمس آباد سے گزرتا ہوامانسر کے قریب سندھ میں جا ملتا ہے ۔ھٹی کے مقام پر چھ سو ایکڑ رقبہ پر جھیل تھی اس کو ڈپٹی کمشنر گاربٹ صاحب نے خشک کرا کر آباد کر دیا ہے ۔
صوبہ پنجاب کو پاکستان کے دل کی اہمیت دی جاتی ہے۔ صوبہ پنجاب کا آخری شہر اٹک ہے۔ اٹک اپنے خوبصورت نظاروں اور پر فضا مقامات کی وجہ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔اس کے علاوہ اسکے سرسبز و شاداب پہار اور دریاے سندھ کی دل کو لبھاتی لہریں آنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔جب اٹک کی سیر و سیاحت کا ذکر ہوتا ہے تو اسکی تاریخی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ فضل داد کاکڑ نے 2006 میں 200 تاریخی مقامات کا جائزہ لیا جن میں سے 3 اہم مقامات اٹک شہر میں واقع ہیں بشمول بہرام کی بارہ دری، بیگم کے سراۓ، اور اٹک کا مقبرہ شامل ہیں۔ ان 200 مقامات کی تجدید کے لیے 200 ملین کی رقم مختص کی گیٔ تھی۔ اب اگر ہم ان مقامات کی تاریخی اہمیت کے حوالے سے انکا جائزہ لیں تو ہمیں انکی وقعت کا اندازہ ہوگا۔
بہرام کی بارہ دری مشہور سڑک N-5 کے قریب واقعہ ہے۔ بہرام خان نے 1681 میں اس عمارت کی بنیاد رکھی جب وہ بادشاہ اکبر کے جرنل کے عہدے پر فائز تھا۔ بارہ دری میں دو چھوٹے کمرے ہیں۔ جب کہ دالان میں دو مناسب طرز کے کمرے ہیں جنکا رقبہ 8/ 8 فٹ ہے۔دالان میں ایک کنواں بھی ہے جس سے مقامی لوگ آج بھی استفادہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں دالان میں ایک عبادت گاہ بھی موجود ہے۔
ایک اور تاریخی مقام بیگم کے سرائے ہے جو بہرام کی بارہ دری سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ اس عمارت کو بہرام کی بیگم کے لیے بنایا گیا تھا جو بعد میں بادشاہ اکبر کی چوتھی بیوی بھی بنی تھی۔
بہرام کی بارہ دری
ان دونوں مقامات سے کچھ فاصلے پر مقبرہ اٹک ہے جسکو چاروں طرف سے باڑ لگا کر محفوظ کیا گیا ہے۔ مقبرے میں ایک قبر ہے اور اس کے صحن میں بھی کچھ قبریں ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مقبرہ کسی ناچنے والی کا ہے مگر اسکی کوئی صداقت موجود نہیں۔
مقبرہ اٹک
اس کے بعد ایک انتہائی خوبصورت اور قابل دید مقام اٹک خورد بھی ہے۔اٹک خورد ریلوے اسٹیشن کی تعمیر 1880 میں ہوئی۔اس کے اطراف میں واقعہ تاریخی پل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس پل کو عوام کے لیے 24 مئی 1883 کو کھولا گیا۔ یہ پنجاب کو خیبر پختونخواہ سے ملاتا ہے۔
اٹک خورد ریلوے استیشن
اٹک کا پل
اب بڑھتے ہیں تاریخی اور سیاسی اعتبار سے اہم ترین قلعہ اٹک کی جانب جسے بادشاہ اکبر نے 1583 میں تعمیر کیا۔ اسکا مقصد علاقہ کو افغان حملے سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس قلعہ کی اہمیت اور تفصیلات کا ذکر آئندہ آنے والے نشر پارہ میں کیا جاۓ گا۔
شاہ افغانستان محمودشاہ درانی کے وزیر فتح خان اور پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے درمیان 1812ء میں قلعہ رہتاس ضلع جہلم میں معاہد ہوا ۔ جس کے ذریعے رنجیت سنگھ نے کشمیر کی مہم سرکرنے کے لئے دیوان محکم چند کی سرکردگی میں بارہ ہزار سپاہی بطور امداد اور راجوری وپیر پنجال سے گزرتے وقت افغان فوج کو تمام سہولتیں پہنچانے کا وعدہ کیا۔ اس کے عوض اسے کشمیر کے مال غنیمت سے نولاکھ روپے اور ملتان پر حملہ کرنے کے لئے ایک فوجی دستہ وزیر فتح خان نے دینے کا وعدہ کیا۔فروری 1812ء میں وزیر فتح خان نے کشمیر پر حملہ کیا ۔معاہدہ مذکور کی وجہ سے دیوان محکم چند کے زیر کمان بارہ ہزار کی فوج ہمراہ تھی ۔ایک زبردست جنگ کے بعد گورنرکشمیر عطا محمد خان کو شکست ہوئی ۔عطامحمدخان اور معزول شاہ کابل شاہ شجاع گرفتار کر لئے گئے ۔ دیوان محکم چند نے ان دونوں کو اپنے قبضے میں کر لیا۔ انگریزمورخ مرے لکھتا ہے کہ کشمیر پر چڑھائی سے پہلے ہی رنجیت سنگھ اٹک کے حاکم سردار جہاں داد خان سے ساز باز کر رہا تھا۔ رہتا س میں وزیر فتح خان سے ملاقات کے بعد لاہور روانگی سے پیشتر رنجیت سنگھ نے اپنی فوج کا ایک دستہ دریائے سندھ کے آس پاس دیا سنگھ کی زیر کمان متعین کر دیا تھا۔
وزیر فتح خان کی کامیابی اور اپنے بھائی عطا محمد خان کی گرفتاری کی خبر سن کر سردار جہاں داد خان نے رنجیت سنگھ کو پیغام بھیجا کہ قلعہ اٹک کا سودا کرنے اور قبضہ کرنے کے لئے اپنے نمائندے بھیجے۔ رنجیت سنگھ نے فوری طورپر فقیر عزیز الدین کو قلعہ اٹک کا سودا کرنے اور قبضہ کرنے کے لئے بھیجا اور دیگر اشخاص بھی اس علاقے پر تسلط مضبوط کرنے کے لئے اس کے ساتھ تھے۔ اس نے کشمیر کی مہم کے لیڈر دیوان محکم چند کو حکم بھیجا کہ اٹک کی کارروائی کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی وہ لاہور پہنچ جائیںاور شاہ شجاع کو ہمراہ لائیں ان(سکھوں ) کے چلے جانے کے بعد اٹک کی کارروائی کا حال(وزیر فتح خان )کو معلوم ہواتو وہ بہت بگڑا اور غاصبانہ کارروائی پر بہت واویلا کیا۔اس بناء پر اس نے اپنے آپ کو ان شرائط پر پورا کرنے سے آزاد سمجھا جن کی رو سے اس نے سکھوں سے امداد لی تھی اور یہی سبب تھا کہ کشمیر میں حاصل کئے گئے مال غنیمت میںسے بھی سکھوں کو کوئی حصہ دیے بغیر چلتا کیا۔
سوال یہ ہے کہ فتح خان کو اٹک پر قبضہ کا حال کشمیر سے محکم چند کی روانگی سے پہلے معلوم ہوا یا بعد میں ’’دوست محمد کی سوانح عمری ‘‘میں موہن لال لکھتا کہ سکھ سپاہی محکم چند نے وزیر فتح خان کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ وہ غلام محمد خان کو اس کے ساتھ جانے کی اجازت دے اور غلام محمد خان ہی نے اپنے تیسرے بھائی جہاں داد خان والی ِ اٹک کو اپنا قلعہ سکھ حکومت کے ہاتھ بیچ ڈالنے پر زور دیا۔ رنجیت سنگھ نے قلعہ اٹک کے حاکم جہاں داد خان سے سازباز کر کے ایک لاکھ روپیہ کی معمولی قربانی کی بدولت قلعہ اٹک حاصل کر لیا۔ اس سلسلہ میں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ رنجیت سنگھ کی فوجوں نے ۳۵۱۰من غلہ 439من گولہ بارود 70 بندوقیں اور کنڈے 4390من کوہستانی نمک اٹک کے قلعہ میں پایا اس طرح گویا سکھوں نے اہم جنگی مقام کو بہت ہی سستے داموں حاصل کر لیا ۔ یہ سب مارچ 1813ء میں ہواتھا۔
منشی دیوی داس ،مت سنگھ ،بھرانیہ اور حکیم عزیز الدین نے اس ساز باز میں سکھوں کی طرف سے حصہ لیا۔ جاں دادخان حاکم اٹک کی طرف سے عبدالرحیم خان قلعہ دار اٹک نے سکھوں کی فوج کو قلعہ میں داخل ہونے دیا ۔وزیر فتح خان کو جب قلعہ اٹک پر سکھوں کے قبضے کا حال معلوم ہوا تو اس نے قلعہ واپسی کا مطالبہ کیا ۔ رنجیت سنگھ نے کہا کہ جب تک کشمیر کے مال غنیمت سے حصہ نہیں ملے گا قلعہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ وزیر فتح خان کا موقف یہ تھا کہ سکھوں نے فتح کشمیر کے موقع پر بزدلی کا مظاہر کیا ہے ۔ لہٰذا وہ حصہ کے حق دار نہیں ہیں۔ انہی دنوں فتح خان کے وکیل گودڑ مل اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے درمیان قلعہ اٹک کی واپسی کے لئے ملاقات بھی ہوئی مگر مہارا جہ نے انکار کردیا۔ وکیل گودڑ مل کے جانے کے بعد دوسرے مہینے رنجیت سنگھ کو خبر ملی کہ فتح خان نے ایک بڑے لشکر اور توپخانہ کے ساتھ قلعہ اٹک کا محاصرہ کر لیا ہے ۔ غلہ رسد کی کمی ہے۔ سکھ فوج قلعے میں محصو رہوگئی ہے ۔ اور نہایت تنگی کی حالت میں ہے ۔اگر مہاراجہ نے خبر نہ لی تو تمام فوج فاقوں سے مر جائے گی ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے فوری طور پر شہزادہ کھڑک سنگھ اور بھیارام سنگھ کی سرکردگی میں فوج روانہ کی جس نے سرائے کالا سے آگے حسن ابدال کی سرائے شاہجہانی میں قیام کیا یہاںسکھ فوج پرفتح خان کی فوجوں نے حملہ کر دیا جس میں سکھ فوج کو شکست ہوئی ۔
اب دیوان محکم چند رنجیت سنگھ کے حکم پر خود کمک لے کر روانہ ہوا۔ اس کی رہنمائی میں سکھ فوج سرائے کالا سے حسن ابدال کی طرف بڑھی ۔فتح خان کی فوج نے حضر ومیں ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ دیوان محکم چند نے سرائے شاہجہانی حسن ابدال اور سرائے برھان میں فوج کا کیمپ لگایا۔ 11جوائی 1813ء میں قلعہ اٹک کی محصور فو ج کو سامان رسد اور غلہ مہیا کرنے کے لئے جب دیوان محکم چند سکھ سپاہیوںکے ساتھ آگے بڑھ رہاتھا تو موضع سیدن ہٹیاں مڈبھیر ہوگئی ۔فتح خان کے بھائی دوست محمد خان کی فوج نے اچانک سکھوںپر حملہ کر دیا۔ سکھوں کی طرف سے توپوں او ربندوقوں کے فائر کئے گئے۔ کافی کشت وخون ہوا۔سکھوں کے قدم اکھڑے ہی تھے کہ افغانوں نے لوٹ مارشروع کر دی جس سے فتح شکست میں بدل گئی۔ سکھ فوج افغانوں کا تعاقب کرتے ہوئے حضرو تک پہنچ گئی اور افغانوں کے ڈیروں کو لوٹ لیا۔ افغان فوج فاقہ کشی اور گرمی کی وجہ سے بھاگ گئی ۔ان میں سے اکثر سپاہی دریائے سندھ پارکرتے ہوئے ڈوب کر مر گئے ۔28جون 1813ء کو سکھوں نے ایک شاندار فیصلہ کن فتح حاصل کر لی ۔ جن افغان فوجوں نے قلعہ اٹک کا محاصرہ کیا ہوا تھا جب ان کو فتح خان کی شکست کا حال معلوم ہوا تو محاصرہ اٹھا کر چلی گئی اور دیوان محکم چند قلعہ اٹک میں آسانی سے داخل ہوگیا۔
چھچھ کے میدان میں اس لڑائی کی اہمیت نظرانداز نہیںکی جاسکتی ۔ ہیوجل لکھتا ہے ’’مسلمانوں کی طاقت ہندوستان میں گھٹ رہی تھی۔ اٹک کی معمولی لڑائی کے بعد آخری مسلمان فوجی دستوں کو سندھ پار بھگا دیا گیا۔ نریند ر کرشن سہنا ہیوجل کے جواب میں لکھتا ہے اس کی یہ رائے بالکل گمراہ کن ہے ۔کسی لڑائی کی اہمیت اس میں لڑنے والے سپاہیوں کی تعداد پر منحصر نہیں ہوتی ۔ اگر فتح خان جیت جاتا تو اس کانتیجہ کیا ہوتا۔ جھنگ اور سندھ ساگر دوآبہ کے مسلمانوں سرداریقیناایک بار پھر کابل کی اطاعت کر لیتے اور قدرتی طورپر رنجیت سنگھ کی شکست پنجاب پر اس کے اقتدار کو کاری ضرب لگاتی۔چھچھ کے میدان میں اگر فتح خان کامیاب ہوجاتا تو یقینا ہندوستان میں اس کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ۔ کشمیر جیسے خوش حال ملک کی آمدنی تالپور کے امیروں کا خراج پشاور اوراٹک پر متحدہ قبضہ ،افغانستان کی طاقت اور سکھوں پر اس کی شاندار جیت اس کی اتنی ہمت بڑھاتی کہ احمد شاہ کی چھوٹی وراثت کو مکمل طورپر دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ۔ چھچھ کی لڑائی میں افغانوںکی فتح سکھ قوم کی تاریخ میں اتنی ہی اہم ہوتی جتنی کہ شمال میں پانی پت کی تیسری لڑائی مرہٹوں کی تاریخ میں سمجھی جاتی ہے۔
اس وقت پنجاب میں رنجیت سنگھ کی طاقت بہت زیادہ مضبوط نہ تھی ۔یہ شکست اس کے لئے تباہ کن ہی ثابت ہوتی ۔ سی ایم لطیف ہسٹری آف پنجاب میں لکھتا ہے لاہور میں رنجیت سنگھ نے اس فتح کی خوشی میں جشن عظیم الشان کیا۔ لاہور امر تسر اور وٹالہ میں بڑی دھوم دھام سے روشنی ہوئی ۔ اور دو ماہ تک لاہور میں اس فتح کا جو افغانوں پر سکھوں نے حاصل کی تھی ۔ خوشیاں منائی جاتی رہیں ۔ کنہیالال تاریخ پنجاب میںلکھتا ہے ۔ اس فتح کے حصول کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کمال اعزاز ورتبہ بڑھ گیا اور کسی سرکش کو طاقت گردن اٹھانے کی نہ رہی۔
ماخذات:
(1) رنجیت سنگھ مصنف ،نریندرکرشن سہنا
(2) تاریخ پنجاب، کنہیالال ہندی
(3) تاریخ پنجاب مرتبہ، کلب علی خان فائق
(4) تاریخ ہزارہ ،ڈاکٹر شیر بہادر پنی
(5) تاریخ وادی چھچھ، سکندر خان
(6) تاریخ حسن ابدال منظور الحق صدیقی
(7) تاریخ پنجاب سید محمد لطیف
(8) عمدۃ التواریخ لالہ سوہسن لال
(9) ٹیکسلاطلوع اسلا م کے بعد راجہ نور محمد نظامی (قلمی )
ہمارے پردادا السیّد جعفر شاہ المعروف امام چاکر شاہ بخاری کا مزار ، مغل شھنشاہ اکبر اعظم کے تعمیر کردہ اٹک قلعہ کے سامنے جنوبی پہاڑی پر واقع ہے ۔ قلعہ کے آس پاس آنے جانے اور اس سڑک پر سے گزرنے کی ہر ایک کو اجازت نہیں کیونکہ قلعہ میں افواج پاکستان کی ایک مخصوص رجمنٹ مقیم ہے لیکن متصل گاوں ملاحی ٹولہ کے شھری اور ہمارے خانوادہ کے افراد اور امام چاکر شاہ بخاری کے معتقدین کو ضروری شناخت کرانے کے بعد مرقد پر حاضری کی اجازت دیدی جاتی ہے ۔ راستہ پیدل اور دشوار گزار ہے مگر دریائے سندھ کا کنارہ اور اٹک کی پہاڑیوں کا قدرتی حسن راستے کی تھکن زائل کردیتا ہے ۔ کئی سال پہلے میں پاکستان آیا ہوا تھا لھذا دادا کے سلام کے لئے چلا گیا لیکن جاتے ہوے اپنا شناختی کارڈ گھر بھول گیا ، نقطہ تفتیش پر پریشانی کا سامنا ہوا میرے ساتھ میرے چچازاد اور ماموں زاد بھائی بھی تھے جنہیں جانے کا اذن مل گیا سوائے میرے کیونکہ میری اور قسمت کی آنکھ مچولی کا کھیل ایک عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے تو ہونی انہونی ہوجاتی ہے اور انہونی کا کیا رونا خیر بات چیت کرتے ہوئے تفتیشی افسر جو کہ خلاف توقع بہت خوش مزاج واقع ہوئے ، انہوں نے ضمانت کے طور پر کارڈ رکھ لئیے اور چائے کی پیشکش کی جو کہ ذہنی تھکاوٹ کی بناء پر میں نے فورا قبول کر لی اور وہ ہمیں چوکی کیساتھ ملحقہ کمرے میں لے گئے جہاں ہم نے فوجی کینٹین کی بنی کڑک چائے پی اور باتوں باتوں میں پتا چلا کہ ہمارے میزبان پختون ہیں اور کیونکہ میرے والد محترم کی مادری زبان بھی پشتو ہے ، یہ جان کر وہ بہت خوش ہوئے میں نے مسقط کال کر کے ان کی بات بھی کروائی اور بتایا یہ گیا کہ آپ دادا کی مرقد سے ہو آ ئیں اور مجھ سے ملاقات کئیے بغیر نا جائیں کیونکہ اپنے کارڈ بھی واپس لینے تھے خیر ہم زیارت سے واپس لوٹے تو میزبان ہمارے منتظر تھے اور ہمیں بتایا کہ آپ کیلئیے خصوصی طور پر اجازت نامہ لیا ہے آپ کو اٹک قلعہ کی اندرونی اور بیرونی منازل کی سیر کروائی جائے گی اور رات کا کھانا آپ ہماری بیرک میں ہمارے ساتھ تناول فرمائیں گے اب تو عنایتوں کی مجھ پر جیسے برسات ہو گئی ہو اب ہو نا ہو والد محترم کی ان کی ہم زبان سے بات جو کروائی تھی اس کا اثر تھا خیر میں نے پہلی مرتبہ اٹک قلعہ کو اتنے قریب سے دیکھا اور اس کی خوبصورتی کو محسوس کیا ۔
قلعہ کے کئی دروازے ہیں اور صدر دروازے پر جلی حروف میں تلوار اور آسمانی بجلی کے نشان بنے ہوئے تھے جس کے وسط میں یلدرم لکھا ہوا تھا پوچھنے پر پتا چلا کہ اس وقت ایس ایس جی کمانڈوز کا جو دستہ وہاں مقیم تھا ان کی رجمنٹ کا نام یلدرم ہے جو کہ ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں آسمانی بجلی۔ چلتے چلتے مختلف ابواب اور ادوار کے قصے سنائے گئے جو کہ بہت ہی دلچسپ تاریخی واقعات پر مبنی تھے جیسے کہ اس قلعے کی تعمیر 1581 سے لیکر 1583 صرف 2 سال کے عرصے میں مکمل کی گئی ، موجودہ ادوار میں کئی سیاسی راھنماء یہاں مقید ہوئے ۔
یلدرم
برطانیہ کے مشہور ماہر آثار قدیمہ مورٹیمر وییلر کی کتاب جس کا عنوان ” پاکستان کی 5000 سالہ تاریخ ” جو کہ 1950 میں شایع ہوئی تھی اس میں انہوں نے قلعہ میں استعمال کئیے گئے مختلف قیمتی نوادرات ، پتھروں اور اس قلعہ کی تعمیر سے متعلق دیگر معلومات کا مختصر لیکن جامع اور متفق علیہ تجزیہ لکھا ہے ( یہ کتاب میرے پاس پی ڈی ایف میں موجود ہے آپ قارئین میں سے جو اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں مجھ سے رابطہ کر کے حاصل کر سکتے ہیں ) پچھلے سال پڑوسی ملک میں بننے والی فلم ‘ پانی پت ‘ دیکھی تو فلم کی شروعات میں ہی اٹک قلعے کا ذکر آیا جو کہ اس دور میں بھی ایک اہم جگہ اور اسٹراٹیجیک اہمیت کا حامل تھا اور آج بھی ہے ۔ آج بھی مراٹھا سے تعلق رکھنے والے جب کسی کو باتوں میں مثال دیتے ہیں کہ ہم یہ ناممکن کام کر کے دکھائیں گے تو کہتے ہیں ‘ اٹاکے پار جھنڈے’ یعنی اٹک کے پار جھنڈے لگائینگے۔ 1758 میں مراٹھا نے مختصر مدت کیلئیے اٹک قلعے لاہور اور پشاور پر حکومت بنالی تھی جبکہ احمد شاہ ابدالی نے انہیں پانی پت کے معرکہ میں شکست دے کر واپس حاصل کیا اور اس کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اور پھر انگریزوں کے زیر استعمال بھی رہا ۔ یہ قلعہ سطح سمندر سے 2’758 بلند ہے۔ جو ایک خطرناک علاقے اور دو چٹانوں کمالیہ اور جلالیہ کے درمیان واقع ہے ان چٹانوں کا نام کمال الدین اور جلال الدین کے نام پر رکھا گیا جو روشنیہ فرقہ کے بانی کے دو بیٹے تھے جنہیں دریا میں سزا کے طور پر پھینکا گیا کیونکہ وہ اپنے باپ کے نظریات کا پرچار اکبر کے دور میں کرتے تھے۔
اب میں آپ کو واپس قلعہ میں لے چلتا ہوں کیونکہ ہمارے میزبان دسترخوان سجائے ہمارا انتظار کر رہے ہیں اور یقین کریں کھانے میں کوئی تکلف نہیں برتا گیا بلکہ سادہ خوراک جو وہ تناول کرتے ہیں وہی ہمیں بھی پیش کی گئی جس میں چنے کی دال ، دہی اور تنور کی بڑی بڑی روٹیاں لیکن اس دال کا اپنا ہی لطف تھا اس کے بعد قہوہ کا دور چلا اور یوں ہماری دعوت یلدرم کا اختتام ہوا ۔
قارئین کرام کی بے حد ممنون ہوں جنہوں نے پہلے مضمون پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تاریخ سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج قلعہ اٹک کے متعلق چند قیمتی معلومات آپ کے حوالے کرتی چلوں۔ جیسا کے اٹک قلعہ کی کچھ تاریخ پہلے مضمون میں بیان کی جا چُکی ہے جسے پڑھ کر یقیناٌ قلعہ کے بارے میں مزید جاننے کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے۔ آج کی یہ تحریراسی تشنگی کو مٹانے کی معموم سی ایک کوشش ہے۔ قلعہ کی تعمیر میں دو سال اور دو ماہ کا وقت لگا ۔لاہوری دروازے پر قلعہ کی بنیاد رکھنے کی افتتاحی تختی لگی ہوئی ہے لیکن اسے دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جگہ پہلے کوئی اور تھی۔
اٹک قلعہ میں تعمیر فن کا ایک بہترین نمونہ دیواروں کی تعمیر ہے۔ دیواریں تقریباً ایک میل سے زیادہ گولائی میں ہیں۔
ان کے اندر ساتھ ساتھ ایک راہداری تعمیر کی گئی ہے جس کے نیچے لاتعداد گارڈ رومز ہیں ۔ اسی طرح کے گاارڈ رومز میناروں کے نیچے بھی موجود ہیں۔ دہلی گیٹ کے پاس ایک بڑا گاڑڈ روم موجود ہے جو قیام پاکستان سے پہلے تک کوارٹر گارڈ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔
مغل حمام میں داخلے کا راستہ دہلی گیٹ کے نزدیک ہے جس سے متصل کمرے تعمیر کئے گئے ہیں۔
ان کمروں کی دیواروں میں ایسی جگہ دیکھی جا سکتی ہے جہاں گرم پانی تیار ہوتا تھا۔
اسلحہ خانہ 1857 میں بنایا گیا تھا جو کہ پرانے لاہوری دروازے کی جگہ پر تھا۔
دہلی دروازے کے اندر سے گزرتے ہوئے قلعہ کے نیچے والے حصے میں داخل ہوا جا سکتا ہے،
پھر یہاں سے نئے لاہوری دروازے کو سڑک نکلتی ہے۔
سڑک کی دوسری شاخ جرنیلی سڑک (جی ٹی روڈ) کا حصہ تھی۔
یہ ملاحی ٹولہ دروازے کی طرف جاتی ہے۔
ملاحی ٹولہ اور خیرآباد کے درمیان دریا کا جو حصہ ہے اس کو عبور کرنا مشکل ہے کیونکہ یہاں دریائے کابل اور سندھ کے ملاپ سے بھنور پیدا ہوتا ہے، اس ملاپ سے نیچے داہنے کنارے پر دو چٹانیں کمالیہ اور جلالیہ کے نام سے موجود ہیں جو دریا کے اندر تک گئی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے یہ راستہ مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔
کمالیہ بلکل قلعہ کے پانی والے دروازے کے مخالف ہے اور جلالیہ چند سو گز پر نیچے کی طرف ہے۔
1883 میں اٹک خُرد کے پُل کی تعمیرسے پہلے دریائے سندھ کو پار کرنے کے لیئے سرائے تا خیرآباد کشتیوں کا ایک پل تھا اس پل کے ستون ابھی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سرائے ایک محفوظ مقبرے کی قسم ہے جو مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد میں تعمیر کی گئی تھی۔
اٹک قلعہ کے گردو نواح میں خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک مقام باغ نیلاب ہے جہاں جہاں دریائے ہرو سندھ میں شامل ہوتا ہے۔ پانی کے پھیلاؤ اور کالا چٹا کی سر سبز پہاڑیاں جن کی بلندی 3800 فٹ ہے، اس علاقے کی خوبصورتی میں خاطر خواہ اضافہ کرتی ہیں۔
اکبر بادشاہ کے فرزند ارجمند شہنشاہ جہانگیر نے اپنے دور حکومت میں تین بار قلعہ اٹک میں وردو کیا، پہلی مرتبہ 1016 ہجری میں کابل جاتے ہوئے جس کا زکر تزک جہانگیری میں کچھ یوں ہے "17 محرم کو میں نے دریائے نیلاب کے کنارے قیام کیا”.
دوسری بار کابل سے واپسی پر اور تیسری مرتبہ 1626 میں کابل جاتے ہوئے قیام کیا۔ سب سے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کر اثر کرنے والی جگہوں میں بلند قلعہ، پرانی سرائے اور وہ جگہ جہاں پہاڑ اور دریائے سندھ ملتے ہیں غروب و طلوع آفتاب خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی "اٹک قلعہ” کے متعلق دلچسپ معلومات پر یہ مضمون تمام ہوا۔ اس کےبعد ہمارا اگلا موضوع تحصیل اٹک کو تحصیل فتح جنگ سے ملانے والے انتہائی خوبصورت مقام "کالا چٹا” پہاڑ پر ہوگا انشاءاللہ۔ آپ تمام احباب کی حوصلہ افزائی کے پیش نظر ضلع اٹک کی تاریخی اور سیاحتی مقامات کی سیر جاری رہے گی۔
(1)اٹک قلعہ اور ضلع اٹک ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔اکثرمحققین نے جب بھی ’’اٹک‘‘کی تاریخ اور وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کی ہے تو ان کی پہلی نظر قلعۂ اٹک پر ہی پڑی ۔جس وقت یہ علاقہ ضلع راولپنڈی کا حصہ تھا تو اس تحصیل کا نام’’اٹک ‘‘ہی تھا اور موجودہ ’’اٹک خرد‘‘تحصیل ہیڈ کوارٹر تھا اور ـ “ضلع کیمبل پور”بننےسے پہلے تک موجودہ “اٹک خرد”ہی ضلع اٹک تھا۔اس دعویٰ کے شواہد Gazetteer of Attock 1930میں بھی ملتے ہیں۔سی۔سی۔گاربیٹ (ڈپٹی کمشنر)لکھتے ہیں کہ:”ضلعی صدر مقام کواٹک سے تبدیل کر کے کیمبل پور میں لایا گیا ہے اور اس طرح اٹک قصبہ[حال:اٹک خرد] کی حیثیت کم ہو گئی ہے”۔کیپٹن عبداللہ،مترجم،Gazetteer of Attock1930، از سی ۔ سی ۔ گاربیٹ ، الفیصل ،اردو بازار ،لاہور،مارچ 2014،ص73ضلع کمیبل پور کی تاریخ وجۂ تسمیہ تو بالکل واضح اور صاف شفاف ہے ۔سی۔سی ۔گاربیٹ لکھتے ہیں کہ:ـ “ــــــاس ضلع اٹک کا پرانا نام کیمبل پور تھا؛اس وقت اس ضلع کی چار تحصیلیں(اٹک،فتح جنگ، تلہ گنگ، پنڈی گھیب)تھیں۔1904ء میں اسے ضلع کا درجہ دیا گیا۔شروع شروع میں [یعنی کیمبل پور سے بھی پہلے]اسے “ضلع اٹک “ہی کا نام دیا گیا۔ بہ قول سی۔سی گاربیٹ : “راولپنڈی اور جہلم کی چار غیر معروف تحصیلوں کو انتظامیہ[انتظامی ]اُمور کی بہتری کے لیے یک جا کر کے ایک الگ ضلع بنایا گیا اور اس کا نام” اٹک” رکھا گیا “۔کیپٹن عبداللہ،مترجم،Gazetteer of Attock1930، از سی ۔ سی ۔ گاربیٹ ، الفیصل ،اردو بازار ،لاہور،مارچ 2014،ص7لیکن المیہ یہ ہے کہ اس علاقے کو اٹک کیوں کہتے ہیں؛’’اٹک‘‘سے پہلے اس علاقےکا کیا نام تھا؛اس کے بارے میں کئی مفروضے ہیں۔ذیل میں ان تما م آرا،اندازوں اور مفروضوں کو درج کیا جاتا ہے جواٹک کی وجۂ تسمیہ کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں،آخر میں اس سے کوئی نتیجہ برآمد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔’’اٹک‘‘کی وجۂ تسمیہ جاننے کے لیے ہماری نظر سب سے پہلے 1930میں اِس علاقے کے ڈپٹی کمشنر سی۔سی۔گاربیٹ کی تصنیف Gazetteer of Attock 1930پر پڑتی ہے۔اس میں لکھا ہے کہ’’ضلع اٹک کانام شہنشاۂ اکبر کے زمانے میں دریائے سندھ کے کنارے بننے والے قلعے کی وجہ سے مشہور ہوا جو کہ دریا کے پتن پر شہنشاہ اکبر نے بنوایا تھا اور جس کا نام اُس نے ہندوستان کے انتہائی جنوب میں ’’کٹک بنارس‘‘سے متمیز کرنے کے لیے اٹک رکھا۔سی۔سی گاربیٹ:ڈپٹی کمشنر اٹک،Gazetteer of Attock 1930، مترجم : کیپٹن (ر) عبداللہ خان،الفیصل ،اردو بازار لاہور،مارچ 2014،ص15سکندر خان، عبدالحلیم افغانی کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں
کہ:” عبدالحلیم افغانی کی تحقیق کے مطابق ۔۔۔حضرت مہلب ؓ انصاری صحابیِ رسول تھے۔اُن کے والد ابو صفرہؓ اور دادا عبیدالعتک ؓ تھے۔اس صحابیؓ ابن صحابیؓ ابنِ صحابیؓ نے فتح وادیِ چھچھ کے بعد اس کے مغرب میں اپنے نام کا ایک قلعہ تعمیر کیا تھا جس کا نام العتک رکھا جو بعد میں اتک اور پھر اٹک پکارا جانے لگا۔اس اعتبار سے دریائے سندھ کے مشرق میں یہ وادی پہلا باب الاسلام ہے‘‘۔سکندر خان،دامنِ اباسین،طبع سوم،ملی کتب خانہ ،ویسا،ضلع اٹک،2004،ص58پروفیسر اشرف حسینی کے خیال میں:”اٹک دراوڑی زبان کا لفظ ہے اورانگریزی اردو اور کئی دیگر زبانوں میں اسی نام سے لکھا پڑھا جاتا ہے ۔۔۔اٹک کے مقام پر دریائے سندھ جسے لاطینی اور انگریزی میں انڈس(Indus)کہا جاتا ہے ،رُک رک کر چلتا ہے ،اس وجہ سے اس مقام کا نام اٹک پڑ گیا ہے۔۔۔جہاں تک اس علاقے کے تاریخی پس منظر کا تعلق ہے اور کالا چٹا پہاڑ سے حاصل کیے گئے فوسلزFossilsسے اندازہ کیا جاتا ہے کہ یہاں کی تہذیب 40لاکھ سال پرانی ہےاور۔۔۔یہ علاقہ لاکھوں سال قبل افریقہ کا ایک قلعہ تھا۔مرورِ ایام ،زلزلوں اور دیگر حادثاتِ فطرت سے اس علاقہ اور افریقہ کے ساحل کے درمیان سمندر حائل ہو گیا اور دونوں علاقے ایک دوسرے سے منقطع ہو گئے”۔پروفیسر اشرف حسینی،اٹک کی قدیم وجدید تاریخ،مجلہ اٹک فیسٹیول،ضلع کونسل اٹک، 1992،ص34شاکر القادری نے “اٹکـ”نام کی وجہ بتاتے ہوئے پر زور انداز میںلکھا ہے کہ ” میرے نزدیک اس قلعہ کا نام اٹک بنارس رکھنے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مغلوں کی اصل زبان فارسی تھی اور ترکی میں ’’اتک‘‘(ETEK)کا لفظ دامنِ کوہ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور قرینِ قیاس بھی یہی ہے کہ اکبرِ اعظم نے دامنِ کوہ میں واقع ہونے کی وجہ سےاس کا نام ’’اٹک‘‘ رکھا ہو۔۔۔ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اکبرِ اعظم سے پہلے اس علاقہ کا نام کیا تھا۔کیا یہ علاقہ اکبری عہد سے پہلے بھی اٹک کے نام سے مشہور تھا[؟]کم از کم میرے سامنے کوئی ایسا ثبوت نہیں آیاجس[کی بنا پر]یہ کہا جاسکےکہ اکبرِ اعظم سے پہلے بھی اس علاقہ کو اٹک کہا جاتا تھا۔ایسے کسی ثبوت کی عدم موجودگی میں یہی تصور کیا جائے گا کہ اٹک نام اکبرِ اعظم کا ہی رکھا ہوا ہے‘‘۔شاکر القادری،قلعۂ اٹک بنارس،مجلہ اٹک فیسٹول،ضلع کونسل اٹک،1992,،ص41 شاکر القادری اپنے ایک اور مضمون میں اپنی اس رائے کو یوں دہراتے ہیں کہ:’’ضلع اٹک کا نام ’’اٹک‘‘کیوں پڑا؟اس بارے میں بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں۔ایک روایت کے مطابق یہ نام لفظ ’’خٹک‘‘کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔جنرل کننگھم کے خیال میں یہ نام ’’ٹکا‘‘نامی قبیلہ سے وابستہ[ہے]۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر دریائے سندھ (جسے لاطینی اور انگریزی میں انڈس(INDUS)
کہا جاتا ہے )،رُک رُک کر چلتا ہے ،اس وجہ سے اس مقام کا نام اٹک پڑ گیا ہے۔ایک روایت کے مطابق ’’اٹک‘‘کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب(دریائے سندھ)کو پار کرنا منع ہے ۔لفظ ’’اٹک‘‘کے معنی بھی یہی ہیں۔ایک روایت یوں بیان کی جاتی ہے کہ عہدِ شیر شاہ سوری میں کلکتہ سے پشاور تک طویل شاہراہ تعمیر ہو رہی تھی اور اٹک کے مقام پر پل کی تعمیر زیرِ غور تھی۔دریائے سندھ کی طوفانی موجیں ہر انسانی کوشش کو ناکام بنا رہی تھیں۔کسی نے شیر شاہ شوری کو خبر دی کہ ایک ولیِ کامل تمھاری مشکل حل کر سکتا ہے اس کا اشارہ حضرت سلطان مہدی کی طرف تھا،جب شیر شاہ کے کارندے مجذوب کے بتائے ہوئے پتا پر’’جھونگہ سلوئی‘‘پہنچے اور حضرت سلطان مہدی سے تمام ماجرا کہ سنایا۔آپ تشریف لے گئے اور جہاں پل بنانا مقصود تھا اس جگہ کھڑے ہو کر دریائے سندھ کی سرعت سے بہتی ہوئی موجوں کو بہ فضلِ تعالیٰ حکماََ کہااٹک!یعنی رُک جائو اور وہ رُک گئیں۔شیر شاہ سوری نے پل تعمیر کر لیا۔مگر حضرت سلطان مہدی کی کرامت کی یاد میں اس کا نام اٹک پڑ گیا[ آغا عبدالغفور جنوری 1998کے ماہ نامہ اٹک نامہ کے صفحہ نمبر 16پر اس روایت کا رد اس طرح کرتے ہیں کہ:’’اس حکایت میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اٹک گھاٹ شیر شاہ سوری کے عہد میں بنا ہی نہیں تھا اور نہ ہی اس زمانہ میں اٹک شاہراہ پر واقع تھا۔شیر شاہ سوری کے عہد میں اٹک سڑک نیلاب سے سنار گائوں تک بنائی گئی تھی۔دریائے سندھ کے مغرب میں کسی مقام پر سوری کی عمل داری نہ تھی اور انگریزی عہد سے قبل دریائے سندھ پر کسی بھی جگہ پر پختہ پل موجود نہ تھا‘‘۔]۔اس سلسلہ میں ایک اور روایت بھی بڑے شدومد کے ساتھ بیان کی جاتی ہےکہ مشہور صحابی حضرت مہلب بن ابی صفرہ العتکی الازدی نے 50ہجری وادیِ چھچھ کو فتح کرنے کے بعد اپنے نام سے ایک قلعہ تعمیر کروایا تھاجو مرورِ زمانہ سے بدلتے بدلتے پہلے’’اتک‘‘ اور بعد میں’’اٹک‘‘بن گیا۔بعض محققین کے نزدیک’’اٹک‘‘دراوڑی زبان کا لفظ ہے اور انگریزی ،اردو اور کئی دیگر زبانوں میں اسی طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔اس نام کی کئی اور توجیہات بھی پیش کی جا سکتی ہیں،تاریخی قدامت کے اعتبار سے اسے عربی کے لفظ ’’عتیق‘‘یعنی قدیم سے ماخوذ بھی قرار دیا جا سکتا ہے ،اور اس علاقے کا ہر دور میں بیرونی حملہ آوروں کی گزرگاہ اور زد میں ہونے کی بنا پر اسے انگریزی زبان کے لفظ’’اٹیک‘‘(Attack)یعنی حملہ کی تبدیل شدہ صورت بھی کہا جا سکتا ہے
۔یہ تو تھیں وہ تمام روایات اور توجیہات جو’’اٹک‘‘نام کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ’’اٹک‘‘کا نام پنجاب اور سرحد کے سنگھم پراکبری دور میں تعمیر کیے گئے قلعہ ’’اٹک‘‘بنارس کی تعمیر سے پہلے اس علاقہ کو ’’اٹک‘‘کے نام سے پکارے جانے کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔مغل بادشاہ اکبرِ اعظم کے سوتیلے بھائی مرزا حکیم نے جو کابل کا گورنر تھا،جب علمِ بغاوت بلند کیا تو اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے خود اکبرِ اعظم کو کابل جانا پڑا۔جب اکبرِ اعظم اٹک پہنچا تو دریا میں شدید طغیانی کے باعث ۔۔۔پچاس دن قیام کرنا پڑا۔یہاں اکبرِ اعظم کو احساس ہوا کہ لاہور اور کابل کے درمیان یہ دامنِ کوہ کس قدر اہمیت کا حامل مقام ہے۔۔۔یہی وجہ تھی کہ اکبرِ اعظم نے یہاں قلعہ بنانے کا حکم دیا۔۔۔قلعہ کا سنگِ بنیاد خوداپنے ہاتھوں سے رکھا اور اس کا نام اپنی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’کٹک بنارس‘‘کے نام پر رکھا’’کٹک بنارس‘‘بھارتی صوبہ اڑیسہ کا دارالحکومت ہے۔’’اٹک‘‘ترکی زبان کا لفظ ’’اتک‘‘(ETEK)کی صورت مبدل ہے۔ترکی زبان میں اس لفظ’’اتک‘‘کے معنی ہیں ’’دامنِ کوہ‘‘۔’’اتک‘‘روسی ترکمانستان کے ایک ضلع کا نام بھی ہےجو خراسان کے سرحدی کوہستان(کوپت داغ)کی شمالی اترائی پرجورز(GAURS)اور دشک (DUSHAK)کے درمیان آباد ہے۔ایرانی اس کو الف مفتوحہ کے ساتھ ’’اتک‘‘پڑھتےہیں۔ہمارے خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ مغلوں کی اصل زبان ترکی تھی اور جس مقام پر قلعہ تعمیر کرایا گیا وہ بھی دامنِ کوہ ہے۔اسی لیے اکبرِ اعظم نے اسے ’’اٹک بنارس‘‘کا نام دیا۔ترکی زبان کے اس لفظ ’’اتک‘‘،مقامی قوم ’’خٹک‘‘اور اکبر کی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’ کٹک‘‘ تینوں کا ہم وزن و ہم قافیہ ہونا اکبر کی مزید پسندیدگی کا باعث بنا ہو گا اور اس کے ساتھ بنارس کا لاحقہ لگا کر ’’اتک بنارس‘‘نام رکھ دیا گیاہوگا۔یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہےکہ اکبر نے یہ نام صرف’’کٹک بنارس‘‘کا ہم وزن ہونے کی وجہ سے نہیں رکھا بلکہ اس لفظ[کی]مقامی توجیہات اور کثیر الجہت معانی بھی اس کے پیشِ نظر تھے‘‘۔سیدشاکر القادری،ضلع اٹک:تاریخ کےا ٓئینے میں ،مجلہ سنگم،گورنمنٹ کالج حضرو، 2012،ص30ایک روایت یہ بھی ہے کہ:’’چونکہ یہ قلعہ مغربی حملوں کے واسطے ایک اٹکاؤ بنایا گیا تھا اس واسطے اس کا نام اٹک رکھا گیا۔ ‘‘
تاریخ مخزن پنجاب از مفتی غلام سرور قریشی لاہوری مترجمہ ڈاکٹرعبدالرحمن، 1996ء، دوست ایسوسی ایٹس، لاہور، صفحہ322محمد نواز اعوان نے محمد قاسم فرشتہ اور دیگرمحققین کی آرا کو یوں آمیخت کیا کہ شتر گربہ کی صورت اختیار کر گئی۔ ملاحظہ کیجیے:’’قدیمی کتاب تواریخ میں ’’اٹک‘‘نام نظر سے نہیں گزرا۔محمد قاسم اپنی تصنیفــ’’تاریخ فرشتہ‘‘میںرقم طراز ہیں کہ اکبرِ اعظم 14۔صفر989ھ میں جب کا بل سے واپس ہواتو دریائے سندھ کو عبور کرنے کے بعد اس علاقے کے انتظام کے لیےچونے اور پتھر کا ایک حصار تعمیر کروایا۔اس قلعہ کو ’’اٹک‘‘کو اٹک کے نام سے موسوم کیا۔وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب کو عبور کرنا منع ہے۔لفظ اٹک کے یہی معنی ہیں۔مقامی زبان میں اٹک سے مراد رُکنا،ٹھہرنا ہے۔یہ لفظ مذکر ہے۔معنی رکاوٹ، جھجک، اٹکائو ، مقا م کے ہیں۔اٹک کر رہ جانا یعنی رکاوٹ سے آگے نہ بڑھنا،ٹھہر جانا،ٹکنا کے معنی ٹانکا لگانا،سیا جا جب کہ ٹکنا کے معنی کاٹنا کے ہیں۔اسی مقام پر دریائے سندھ اور دریائے کابل کا اتصال بھی ہوتا ہے۔دونوں گلے مل کر آہ و زاری بھی کرتے ہیںاور گلہ شکوہ بھی۔گویا جب دونوں یک جان ہوتے ہیںتو قلعہ کے ساتھ مغربی جانب بڑے تحمل کے ساتھ،ٹھہر ٹھہر کر،رک رک کریہ دریا چلتا ہے۔ہو سکتا ہے اس وجہ سے اٹک نام دیا گیا ہو۔ایک دیگر روایت کے مطابق دریائے سندھ جس کو دریائے نیلاب بھی کہا جاتا ہے،کے کنارے قوم خٹک آباد تھی بلکہ فی الوقت بھی ہے اور ’’اٹک‘‘خٹک کا بگاڑ ہو۔ترکی زبان میں دامن کوہ کو اٹک کہا جاتا ہےجب کہ مغلوں کی بنیادی زبان ترکی ہی تھی ۔ہو سکتا ہے کہ یہ قلعہ دامنِ کوہ میں ہونے کی وجہ سے اسے اٹک کا نام دیا گیا ہو۔۔۔ڈاکٹر سیف الرحمٰن۔۔۔ لکھتے ہیں کہ درہ مارگلہ اور دریائے سندھ کے درمیانی علاقہ پر ــ’’ٹک‘‘نامی قبیلہ کا حکمران زمانۂ قدیم میں گزرا ہے۔ایک دیگر تاریخ نویس کا کہنا ہے کہ دریائے جہلم اور سندھ کے درمیان ’’ٹکا‘‘نامی قبیلہ کے افراد جگہ جگہ آباد ہیں۔۔۔ہو سکتا ہے کہ ’’ٹک‘‘کو وزن میں رکھنے کے لیے اکبرِ اعظم کے مشیروں نے الف کے اضافہ کا مشورہ دے کے ’’اٹک‘‘نام تجویز کیا ہو۔۔۔علم جفر کی رو سے ابجد کے کل اٹھائیس حروف ہیں۔علم ہندسہ کی رو سےہر حرف کی قیمت مقرر ہے۔حکم دینے والا’’ اکبر‘‘ ہے۔تعمیر ہونے والی شے’’ قلعہ ‘‘ہے اور رکھا نام ’’ اتک ‘‘ ہے۔حروف ابجد کے تحت چار حروف پر مشتمل ’’اکبر‘‘ہے۔ا،ک،ب،ر[:]ان حروف کی قیمت باالترتیب1 ، 220، 200، ہے۔بلحاظ مراتب جمع کرنے سے مجموعہ 200+2+20+1، =، 421ہے ۔ 7=1+4+2، مجموعہ جمع = 7 آ گیا ۔ ہندسہ ’’7‘ ‘ کا حرفِ ابجد ’’ز‘‘ہے جو جدول عنصری کے لحاظ سے آبی ہے۔قلعہ کے حروف ق،ل،ع،ہ ہیںجن کی قیمت باالترتیب 100،30،+ 70،+،5، =،1+6آ گیا ہے۔ مجموعہ 7ہے۔ابجد کی رو سے حرف’’ز‘‘ہے اور عنصر ہے آبی ،اور نام ہے قلعہ کا ’’اتک‘‘ =حروف ہوئے ا،ت،ک ۔ قیمت ٹھہری:1،+،400،+،20،=،421ہے بلحاظِ مراتب جمع4+,2+,1،= 7 ہوا۔اور ابجد کی رو سےحرف ہوا’’ز‘‘،جب کہ عنصر ہےا ٓبی ۔ایک بات ثابت ہوئی کہ اکبر ،قلعہ،اتک،تینوں کا مجموعہ عدد7ہےاور عنصری لحاظ سے آبی ہے۔قلعہ کی دیواریں تو دریا میں سے اُٹھائی گئی تھیں اور قلعہ کا کچھ حصہ پانی میں ہے۔
میرے نقطہ نگاہ سےاکبر کو قلعہ کا نام کسی عالم یا منجم نے تجویز کر کے دیا ہو گا اور بعد’’ت‘‘کو ’’ٹ‘‘سے بدل دیا گیا۔مزید برآں اس خطہ میں چھوٹے پیمانے پر قمار بازی کی قسم کو’’ٹکا ماری‘‘بھی کہتے ہیں۔خیال کچھ یوں ہے کہ یہ عطیہ اس ’’ٹکا‘‘اس قبیلہ کا ہی دیا ہوا معلوم ہوتاہے جو زمانۂ قدیم میں گزرا‘‘۔محمدنواز اعوان،تاریخ سر زمینِ اٹک،انعام دار ہائوس،بولیانوال،س،ن،ص،78پروفیسرمحمد عثمان صدیقی اورپروفیسر شوکت محمود شوکت کی مشترکہ کتاب ’’ فانوس ‘‘ فروری 2018کو منظر عام پر آئی۔اس میں ’’اٹک ‘‘کی وجۂ تسمیہ یوں بیان کی گئی ہے:’’اٹک کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو روایات قابلِ ذکر ہیں۔ایک روایت یہ ہے کہ حضرت مہلب انصاری صحابیِ رسول ﷺاٹک خورد[خرد]کے قریب ہجرت کر کے آئے تھے۔ان کے قبیلے کا نام العتک تھا۔قبیلے کی نسبت سے اس علاقے کو اولاََ العتک کہا گیا جو ہندی کے زیرِ اثر اٹک ہو گیا۔دوسری روایت یہ ہے کہ اکبر بادشاہ کے زمانے میں کابل کا علاقہ دریائے سندھ تک پھیلا ہوا تھا۔۔۔کابل کا صوبہ دار اکبر کا سوتیلا بھائی مرزا محمد حکیم تھا۔اکبر کی مذہبی رواداری جب حد سے بڑھی۔تو مرزا حکیم نے 1552 میں علمِ بغاوت بلند کیا،اکبر اس کی سرکوبی کے لیے بہ نفسِ نفیس لشکر کے ساتھ کابل تک گیا ،مگر وہ بھاگ نکلا۔۔۔واپسی پر ۔۔۔دریا کے کنارے قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تاکہ آئندہ مغرب کی طرف سے حملہ آوروں کو پنجاب میں داخل ہونے سے روکا جائے۔۔۔اس کا نام قلعہ اٹک بنارس رکھا گیا۔۔۔قلعے کی نام کی وجہ سے اس علاقے کو اٹک کہا جانے لگا‘‘۔محمد عثمان صدیقی وغیرہ،فانوس،جمالیات پبلی کیشنز ،اٹک،فروری 2018،ص19سید صابر حسین شاہ بخاری رقم طراز ہیں کہ’’:کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اٹک دواڑی[دراوڑی]زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی دلدلی زمین کے ہیں۔چونکہ دریائے سندھ کی زمین دلدلی ہے اسی وجہ سے اس کا نام ’’اٹک‘‘رکھا گیا۔بعض کے نزدیک چونکہ دریا ئے سندھ رُک رک کر چلتا ہے اس لیے اس کا نام اٹک پڑ گیا۔ماہرِ آثاریات جنرل گنگھم[کننگھم ] کا خیال ہے کہ یہ نام ٹکا قبیلے کے نام پر رکھا گیا جو دریائے سندھ اور اس کے گردونواح میں آباد تھا۔بعض کے نزدیک مغلوں کی اصل زبان ترکی تھی اور ترکی زبان میں اتک کا لفظ دامنِ کوہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔کچھ کے نزدیک شمالی مغربی دروں کے راستوں سے آنے والے حملہ آوروں کو دریائے سندھ کے کنارے رُکنا یا اٹکنا پڑتا تھا ۔بعض دفعہ یہ اٹکنا کئی کئی مہینوں تک ہوتا تھا۔اس رکاوٹ کے باعث دریا کا نام اٹک مشہور ہوا اور جب اکبر بادشاہ نے یہاں قلعہ تعمیر کرایا تھا تو علاقہ کی مناسبت سے یہ قلعۂ اٹک کہلایا۔قاضی عبدالحلیم اثر افغانی کے مطابق اٹک کی وجہ تسمیہ مشہور صحابی حضرت مہلب بن ابی العتکی ازدی نے 680ھ میں وادی چھچھ کوفتح کرنے پر اپنے نام سے ایک قلعہ’’العتک‘‘تعمیر کیا جو بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ العتک سے ’’اٹک‘‘ہو گیا۔سید صابر حسین شاہ بخاری قادری (تقدیم)،تذکرہ علمائے اہلسنت ،ضلع اٹک،مرتب:مولانا حافظ محمد اسلم رضوی ،اسلامک میڈیا سنٹر،لاہور،مارچ 2019،ص26سید قاسم محمودنے بھی انھیں مفروضوں اور اندازوں سے استفادہ کیا،
لکھتے ہیں:’’یہ شہر اتنا ہی قدیم ہے جتناکہ سندھ میں موئن جودڑو،پنجاب میں ہڑپہ ۔۔۔600 قبل مسیح میںاس جگہ پر یونانی قابض تھے۔موجودہ نام اٹک پہلی مرتبہ شہنشاہ اکبر کے زمانے میں سننے میں آیا۔1580میں اکبر کے بھائی مرزا حکیم ،گورنر کابل نے پنجاب پر حملہ کر دیا۔اکبر اپنے بھائی کو کابل کی سمت واپس دھکیل کر اسی راستے سے دہلی روانہ ہوا۔دریا کے کنارے ایک پرانی سی بستی اکبر کو دفاعی لحاظ سے بہت اچھی لگی۔اُس نےیہاں ایک پختہ قلعہ تعمیر کرایا جس کا نام قلعہ اٹک پڑ گیا‘‘سید قاسم محمود،انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا،الفیصل،اردو بازار،لاہور،س۔ن،ص160محمد نذیر رانجھا نے بھی ’’تذکرہ علمائے چھچھ‘‘اگست 2007کے ایڈیشن میں صفحہ 33پرقاضی عبدالحلیم اثر افغانی کے حوالے سےصحابی حضرت مہلب انصاری کی روایت نقل کی ہے۔(2)آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا(جون 2019 تک)نے بھی تقریباََ انھیں روایات کو تھوڑا بہت اضافے کے ساتھ ساتھ دہرایا ہے،البتہ انھوں نے اٹک کی وجۂ تسمیہ کے حوالے سے معروف روایات کا حوالہ بھی درج کر دیا،جس کی وجہ سے کسی روایت کےماخذ تک پہنچنا آسان ہو گیا:آزاد دائرۃ المعارف ، ویکیپیڈیا کے مطابق:’’اٹک کانام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر اکبری دور میں تعمیر کیے گئے قلعہ اٹک بنارس کی وجہ سے پڑا، جس کا ثبوت یہ ہے کہ قلعہ’’اٹک بنارس‘‘ کی تعمیر سے پہلے اس علاقہ کو ’’اٹک‘‘ کے نام سے پکارے جانے کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔قلعہ ’’اٹک بنارس‘‘ جی ٹی روڈ پر دریائے سندھ کے کنارے موجودہ اٹک خورد[خرد] کے مقام پر واقع ہے۔ اس قلعے کو 1581ء میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے اپنے سوتیلے بھائی مرزا حکیم(گورنر کابل) کو شکست دینے کے بعدواپس ہندوستان آتے ہوئے بنوایا تھا۔مختلف روایات:’’اٹک‘‘ نام کے بارے میں بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں :اٹک لفظ ’’خٹک‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے؟ایک روایت کے مطابق یہ نام لفظ ’’خٹک‘‘ کی بگڑی ہوئی صورت ہے، کیونکہ ان دنوں دریائے سندھ کے کنارے اس نام کا قبیلہ آباد تھا۔یہ نام ’’ٹکا‘‘ نامی قبیلہ سے وابستہ ہے۔جنرل کننگھم کے خیال میں یہ نام ’’ٹکا‘‘ نامی قبیلہ سے وابستہ ہے، جو زمانہ قدیم میں درہ مارگلہ اور دریائے سندھ کے درمیانی علاقوں میں آباد تھا۔دریائے سندھ کا اس مقام پر رک رک کر چلنا‘‘[اقتباسات از: اٹک خورد اورقلعہ اٹک سیاحوں کی نظر میں)آغا عبد الغفور، ماہنامہ اٹک نامہ اٹک، جلد3[L: 58]شمارہ10[L: 58])]یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر دریائے سندھ (جسے لاطینی اور انگریزی میں انڈسINDUS) کہا جاتا ہے) رُک رُک کر چلتا ہے اس لیے اس کا نام ’’ اٹک ‘‘ پڑ گیا۔
محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے کہ’’اٹک کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق نیلاب (دریائے سندھ) کو پار کرنا منع ہے۔ لفظ ’’اٹک‘‘ کے یہی معنی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نیلاب کے پار جانے پر اس لیے پابندی تھی کہ اٹک کے مغرب میں مسلمان آباد تھے، جن کو وہ ملیچھ(نجس) سمجھتے تھے، لیکن میرے خیال میں کٹڑ برہمن اس علاقہ کو زمانہ قدیم ہی سے ناپاک تصور کرتے تھے، کیونکہ یہ علاقہ 530ق م میں ایرانیوں کے زیر نگیں تھا۔ اس کے بعد سکندر اعظم اپنی یونانی فوج کے ساتھ اس خطہ پر حملہ آور ہوا۔ باختری یونانی بھی یہاں حکمران رہے۔ اس کے بعد ساکا قبائل حملہ آور ہوئے یہ لوگ ویدک آریاؤں کے برعکس لہسن اور پیاز استعمال کرتے تھے۔ بھیڑ، بکری،سور، گائے، اونٹ اور گدھے کا گوشت کھاتے تھے۔ برہمنوں کی قیادت زندگی کے کسی شعبہ میں تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ساکا عورتیں بیک وقت کئی کئی مردوں سے شادی کرتی تھیں۔ مرد اور عورت یکجا ناؤ نوش کی محفلوں میں شریک ہوتے اور جنسی صحبتوں سے لطف اندوز ہوتے۔ ان میں ذات پات کی بھی قید نہ تھی۔ غالباً انہی وجوہات کی بنا پر برہمنوں نے سندھ پار جانے پر پابندی لگا دی تھی، حالانکہ بعد میں ان میں سے بہت سی خرابیوں کو ہندوستان کے باسیوں نے اپنا لیا تھا، چنانچہ تنتارک مذہب کی بنیاد ہی گوشت خوری، شراب نوشی اور مخلوط جنسی محفلوں پر مبنی ہے۔ بہرحال ہندوؤں کی مذہبی کتب میں تحریر ہے کہ اگر کوئی شخص مجبوراً اٹک پار جائے تو واپسی پر اپنا زنّار(جینو) تبدیل کر لے اور وہ تمام عمل دہرائے جو ازسرنو ہندو مت میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہیں۔ اس حکم یا عقیدے کی تصدیق انیسویں صدی کے دو یورپین سیاح ہیوگل(Hu gel) اور برنس(Burnes) بھی کرتے ہیں لیکن ان پابندیوں کے باوجودہندو کابل و سمرقند و بخارا میں موجود تھے۔ ‘‘احمد غزالی نے وجہ تسمیہ کی کہانی بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:عہد شیر شاہ سوری میں کلکتہ سے پشاور تک طویل شاہراہ تعمیرہو رہی تھی اور اٹک کے مقام پر پل کی تعمیر زیرغور تھی۔ دریائے سندھ کی طوفانی موجیں ہر انسانی کوشش کو ناکام بنا رہی تھیں۔ کسی مجذوب نے شیرشاہ سوری کو خبر دی کہ ایک ولی کامل (درجہ جس کا سلطانی ہے) خدا کے فضل و کرم سے تمہاری مشکل حل کر سکتا ہے۔ اس کی پہچان کے متعلق چند نشانیاں بتائیں۔ مجذوب کا اشارہ حضرت سلطان مہدیؒ کی طرف تھا۔ جب شیرشاہ کے کارندے مجذوب کے بتائے ہوئے پتہ پر’’جھونگہ سلوئی‘‘ پہنچے تو حضرت سلطان مہدی اور ان کے آس پاس وہ تمام نشانیاں موجود پائیں جن کے متعلق انہیں بتایا گیا تھا۔ حضرت سلطان مہدی تشریف لے گئے اور جہاں پل بنانا مقصود تھا اس جگہ کھڑے ہوکر دریائے
سندھ کی سرعت سے بہتی ہوئی موجوں کو بفضل تعالیٰ حکماً کہا ’’اٹک‘‘ یعنی رک جاؤ اور وہ رک گئیں۔ شیرشاہ سوری نے پل تعمیر کر لیا، مگر حضرت سلطان مہدیؒ کی اس کرامت کی یاد میں اس جگہ کا مستقل نام ’’اٹک‘‘ پڑ گیا۔ ‘‘مہلب بن صفرہ العتکی کے قلعہ العتک کی روایت:اس سلسلہ میں ایک اور روایت بھی بڑے شدومد کے ساتھ بیان کی جاتی ہے کہ مشہور صحابی حضرت مہلب بن ابی صفرہ العتکی الازدیؓ نے 50 ہجری نے وادی چھچھ کو فتح کرنے کے بعد اپنے نام سے ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا، جو مرورزمانہ سے بدلتے بدلتے پہلے ’’اتک‘‘ اور بعد میں ’’ اٹک بن گیا۔ [دامن اباسین، مولفہ سکندر خان،1993ء صفحہ:134]’’معاویہ ابن ابوسفیان کے دور (44ہجری،666 عیسوی) میں زیاد ابن ابیہ کو بصرہ سیستان اور خراسان کا والی مقرر کیا گیا۔ اسی سال عبد الرحمن ابن شمر نے ابن زیاد کے حکم سے کابل کو فتح کر کے وہاں کے لوگوں کو مطیع کیا۔ فتح کابل سے کچھ عرصہ بعد مہلّب ابن صفرہ جو عرب کے امرائے کبار میں سے تھا ’’مرو‘‘ کے راستے سے کابل آیا اور ہندوستان میں داخل ہو کرکفار سے جہاد کیا‘‘۔ ٹیکسلا کا تہذیبی سفر نامہ مولفہ : آغا عبد الغفور، صفحہ: 110’’مہلب بن ابی صفرہ نے معاویہ کے دور یعنی 44 ہجری میں ہندوستان کی سرحد پر جنگ کی اور بنا اور الاہواز تک پہنچ گیا۔ یہ دونوں مقامات ملتان اور کابل کے درمیان واقع ہیں۔ یہاں اس کا آمنا سامنا دشمن کی فوجوں سے ہوا، یہ وہی بنا ہے جس کے متعلق ازدی کہتا ہے کہ تم نے دیکھا نہیں کہ الازد کے قبیلہ نے اپنے آپ کو المہلب کی بہترین فوجیں ثابت کیا، اس رات جبکہ بنا میں ان پر شدید حملہ ہوا۔ ‘‘۔ بلاذری :فتوح البلدان باب فتوح السندھکرنل عبد الرشید کے بیان کے مطابق ’’بنا‘‘ سے بنوں اور ’’الاہواز‘‘ سے لاہور خودر ضلع صوابی مراد ہے، اگر اس بیان کو درست مان لیا جائے تو چونکہ مہلب بن ابی صفرہ الاہواز (موجودہ لاہور خورد ضلع صوابی) کا گورنر رہا ہے اس لیے یہ بات بعید از قیاس بھی نہیں کہ یہاں مہلب بن ابی صفرہ نے ’’العتک‘‘ نامی کوئی قلعہ تعمیر کیا ہو۔میر سید بخاری اپنی کتاب’’ لاہور تاریخ کے آئینے میں ‘‘ تحریر کرتے ہیں :’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے پیشتر کہ اکبر نے اٹک کے مقام پر اپنا موجودہ قلعہ تعمیر کیا ہو یہاں پہلے ہی ایک قلعہ موجود تھا۔ یہ قلعہ مہلب بن ابی صفرہ بن العتکی نے سندھ جاتے ہوئے بنوایاتھا‘‘۔ میر سید بخاری، لاہور تاریخ کے آئینے میں، صفحہ: 47 حقیقت حال:یہ تو تھیں وہ تمام روایات جو’’اٹک‘‘ نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’ اٹک‘‘ کا نام کتب تاریخ میں اس قلعے کی تعمیر کے بعد ہی معروف ہوا، جسے 1581ء میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے اپنے سوتیلے بھائی مرزا حکیم (گورنر کابل) کو شکست دینے کے بعد واپس ہندوستان آتے ہوئے بنوایا تھا۔
اس سے پہلے اس علاقہ کو اٹک کے نام سے پکارے جانے کی کوئی واضح شہادت تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتی۔’’کابل سے واپس ہوتے وقت جب دریائے نیلاب پر لشکر پہنچا تو اکبر نے وہاں ایک قلعہ کی بنیاد رکھی اور اس کا نام ’’اٹک‘‘ رکھا۔ یہ قلعہ991ھ میں بن کر تیار ہوا۔ اس وقت اکبر بادشاہ کا قیام لاہور میں تھا۔ وہیں سے بادشاہ نے اٹک کا قلعدار راجہ بھگوان داس کو بنا کر بھیجا۔ ‘‘(منتخب اللباب از نظام الملک خافی خان، مترجم: محمود احمد فاروقی، نفیس اکیڈیمی کراچی، جلد اول صفحہ210)مغل بادشاہ اکبر اعظم کے سوتیلے بھائی مرزا حکیم (جو کابل کا گورنر تھا) نے جب علم بغاوت بلند کیا تو اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے خود اکبر اعظم کو کابل جانا پڑا۔ لاہور سے کابل جاتے ہوئے جب اکبر اعظم اٹک پہنچا تو دریا میں شدید طغیانی کے باعث یہاں کشتیوں کا پل تعمیر کرنا ناممکن تھا۔ موسم بھی انتہائی گرم تھا اور جون جولائی کے مہینے میں پوری گھاٹی بھٹی کی طرح تپ رہی تھی۔ مجبوراً اکبر اعظم کو شدید گرمی کے اس موسم میں یہاں پچاس دن قیام کرنا پڑا۔ یہاں اکبر اعظم کو احساس ہوا کہ لاہور و کابل کے در میان یہ دامن کوہ کس قدر اہمیت کا حامل مقام ہے اور اگر کسی وجہ سے بادشاہ کو اس مقام پر رکنا پڑے تو یہاں قیام و طعام کا خاطر خواہ بندوبست موجود ہو۔ نیز چہار اطراف میں دشمن قبائل کی سکونت کی وجہ سے دفاعی اعتبار سے بھی اس مقام کی ایک خاص اہمیت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب اکبر اعظم اپنے سوتیلے بھائی حکیم مرزا کو شکست دینے کے بعد کابل سے واپس آ رہا تھا تو اس نے یہاں قلعہ بنانے کا حکم دیا جوخواجہ شمس الدین خوافی کی نگرانی میں دوسال (1581ء-1583ء) کے عرصہ میں تعمیر ہوا۔ اکبر اعظم نے اس قلعہ کا سنگ بنیاد خود اپنے ہاتھوں سے رکھا اور اس کا نام اپنی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’کٹک بنارس‘‘ کے نام پر رکھا۔بعض محققین کے نزدیک ’’اٹک‘‘ دراوڑی زبان کا لفظ ہے اور انگریزی، اردو اور کئی دیگر زبانوں میں اسی طرح لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ یوں تو اس نام کی کئی اور توجیہات بھی پیش کی جا سکتی ہیں، تاریخی قدامت کے اعتبار سے اسے عربی کے لفظ ’’عتیق‘‘ یعنی قدیم سے ماخوذ بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور اس علاقے کا ہر دور میں بیرونی حملہ آوروں کی گزرگاہ اور زد میں ہونے کی بنا پر اسے انگریزی زبان کے لفظ ’’اٹیک‘‘(Attack) یعنی حملہ کی تبدیل شدہ صورت بھی کہا جا سکتا ہے۔’’اٹک‘‘ ترکی زبان کے لفظ ’’اتک‘‘ (ETEK) کی صورت مبدل ہے۔ ترکی زبان میں اس لفظ ’’اتک‘‘ کے معنی ’’دامن کوہ‘‘ کے ہیں۔ اتک روسی ترکمانستان کے ایک ضلع کا نام بھی ہے، جو خراسان کے سرحدی کوہستان(کوپت داغ) کی شمالی اترائی پرجورز (GAURS) اور دشک(DUSHAK) کے درمیان آباد ہے۔ ایرانی اس کو الف مفتوحہ کے ساتھ ’’اَتک‘‘ پڑھتے ہیں۔
دائرہ معارف اسلامیہاس خیال کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ مغلوں کی اصل زبان ترکی تھی اور جس مقام پر قلعہ تعمیر کرایا گیا وہ بھی دامن کوہ ہے۔ اسی لیے اکبر اعظم نے اسے ’’ اٹک بنارس‘‘ کا نام دیا۔ ترکی زبان کے اس لفظ ’’اتک‘‘ مقامی قوم’’ خٹک‘‘ اور اکبر کی سلطنت کے مشرقی کنارے پر واقع قلعہ’’ کٹک‘‘ تینوں کا ہم وزن و ہم قافیہ ہونا اکبر کی مزید پسندیدگی کا باعث بنا ہوگا اور اس کے ساتھ بنارس کا لاحقہ لگا کر ’’اتک بنارس‘‘ نام رکھ دیا گیا ہوگا۔ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اکبر نے یہ نام صرف ’’ کٹک بنارس ‘‘ کا ہم وزن ہونے کی وجہ سے نہیں رکھا بلکہ اس لفظ کے معنی بھی اس کے پیش نظر تھے)ٓزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا،جون 2019تک)(3)اگر ہم مندرجہ بالا محققین اور وکی پیڈیاکی تحقیق کا بہ غور جائزہ لیں تو ان میں میں مندرجہ ذیل نقائص پائے جاتے ہیں:۔(1)۔حضرت مہلب ؓ انصاری صحابیِ کا حوالہ اس لیے کم زور ہے کہ اصحابِ رسول کی نہ اس طرح تربیت کی گئی تھی اور نہ اصحابِ رسول اس طرح کے کام کرتے تھے ۔قلعہ کا ناک نقشہ اور استعمال ہونے والے مواد کی ساخت کو بھی اُس قدیم عہد سے کو ئی مماثلت نہیں بلکہ یہ قلعہ مغل حکم رانوں کےمخصوص طرزِ تعمیر کا عکاس ہے ۔اس کے علاوہ اگر اٹک دراوڑی زبان کا لفظ ہے یاترکی زبان کا لفظ ’’اتک‘‘(ETEK)کی صورت مبدل ہے تواس سے بھی حضرت مہلب انصاری والی روایت کم زور ہو جاتی ہے۔ (2)۔ احمد غزالی اورشاکر القادری روایت کرتے ہیں کہ دریائے سندھ کی طغیانی نے شیر شاہ سوری اور اکبر کا کئی دن راستہ روکے رکھا ؛دوسری طرف پروفیسر اشرف الحسینی لکھتے ہیں کہ پانی رُک رک کر چلتا ہے۔دونوں روایات میں بعد المشرقین ہے؛اس لیے دونوں روایات مشکوک ہوئیں۔اس کے علاوہ آغا عبدالغفور جنوری 1998کے ماہ نامہ اٹک نامہ کے صفحہ نمبر 16پر اس روایت کا رد اس طرح کرتے ہیں کہ:’’اس حکایت میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اٹک گھاٹ شیر شاہ سوری کے عہد میں بنا ہی نہیں تھا اور نہ ہی اس زمانہ میں اٹک شاہراہ پر واقع تھا۔شیر شاہ سوری کے عہد میں اٹک سڑک نیلاب سے سنار گائوں تک بنائی گئی تھی۔دریائے سندھ کے مغرب میں کسی مقام پر سوری کی عمل داری نہ تھی اور انگریزی عہد سے قبل دریائے سندھ پر کسی بھی جگہ پر پختہ پل موجود نہ تھا‘‘۔آغا عبد الغفور کی دلیل اتنی توانا ہے کہ اس کا فوری استرداد ناممکن ہے۔شیر شاہ سوری اور خوارزم شاہ کی لڑائیوں کے تاریخی واقعات بھی اس بات کے شاہد ہیں کہ اس علاقے میںآمدروفت کے لیے نیلاب کا گھاٹ استعمال کیا جاتا تھا۔(3)شاکر القادری نےانگریزی لفظ Attackسے ’’اٹک ‘‘اخذ کیا؛یہ بھی بہت کمزور دلیل ہے ،خاص طور پر اُس وقت جب تحقیق کی سمت اکبر کے عہد تک درست ہے ۔ انگریزوں کی حکومت تو بہت بعد کی بات ہے۔ہمیں ’’اٹک‘‘ کی تلاش میں اکبر کے عہد سے آگے جانا ہو گا
۔(4)۔محمد نواز اعوان کی تحقیق کے مطابق’’ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب کو عبور کرنا منع ہے۔لفظ اٹک کے یہی معنی ہیں۔مقامی زبان میں اٹک سے مراد رُکنا،ٹھہرنا ہے۔یہ لفظ مذکر ہے۔معنی رکاوٹ، جھجک، اٹکائو ، مقا م کے ہیں۔اٹک کر رہ جانا یعنی رکاوٹ سے آگے نہ بڑھنا،ٹھہر جانا،ٹکنا کے معنی ٹانکا لگانا،سیا جانا جب کہ ٹکنا کے معنی کاٹنا کے ہیں‘‘۔محمد نواز اعوان کی تحقیق الجھی ہوئی ہے۔انھوں نے صرف اندازے لگائے ہیں اوراندازے بھی ایسے کہ وہ آپ فیصلہ نہیں کر پارہے کہ کس دعویٰ کو حتمی قرار دیں۔ان کے متضاد دلائل اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اپنی تحقیق سے وہ خود بھی مطمئن نہیں۔اس لیے اُن کی تحقیق پر ایمان لانا مشکل ہو جاتا ہے۔’’اٹک‘‘کی وجۂ تسمیہ کے بارے میںمندرجہ بالا بیان کردہ تمام روایات(بہ شمول آزاد دائرۃ المعارف وکیپیڈیا) میں سے سب سے زیادہ قابلِ اعتبار اور متاثر کن محمد قاسم فرشتہ کی روایت ہے۔روایت بیان کرنے سے پیشتر بتاتا چلوں کہ محمد قاسم فرشتہ کون ہے۔:فرشتہ کا پورا نام ملا محمد قاسم ہندو شاہ ہےاور تخلص فرشتہ۔۔۔اس کے باپ کا نام مولانا غلام علی ہندو شاہ تھا۔۔۔فرشتہ کا آبائی وطن استر آباد ہے جہاں وہ 1552 ٔ میں پیدا ہوا۔بچپن ہی میں وہ احمد آباد آ گیا۔جہاں اس نے شاہی خاندان کے افراد کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔۔۔ابراہیم عادل شاہ ثانی۔۔۔نے فرشتہ کو ہندوستان میں اسلامی عہد حکومت کی تاریخ لکھنے کا حکم دیا‘‘۔عبدالحی خواجہ ایم۔اے،دیباچہ:تاریخِ فرشتہ،جلد اول،شیخ غلام علی سنز، لاہور ، س ۔ ن ،ص36فرشتہ کا انتقال1623 میں ہوا۔محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے کہ:ــ’’اکبر نےمنزل سرخاب میں اس فتح[فتحِ کابل]کی خوش خبری سنی۔۔۔اسی مہینے کی 14۔تاریخ کو اکبر کابل سے واپس ہوا۔دریائے سندھ عبور کیا اور اس علاقے کے انتظام کے لیے چونے اور پتھر اور پتھر کا ایک حصار تعمیر کروایا۔اس قلعے کو اٹک کے نام سے موسوم کیا ۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب کو عبور کرنا منع ہے۔لفظ اٹک کے معنی یہی ہیں‘‘۔محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ، س ۔ ن ،ص721راقم کا خیال یہ ہے کہ محمد قاسم فرشتہ کی روایت بھی اس حد تک درست ہے کہ قلعہ اٹک اکبر کے حکم سے تعمیر ہوا۔(4)’’اٹک‘‘کی وجۂ تسمیہ کے بارے مندرجہ بالا تما م دلائل اور آرامحض مفروضے ہیں ۔ بعض دلائل تو ایک دوسرے کے متضا دہیں ۔فرض کر لینا کوئی منفی عمل نہیں بلکہ اسی کی بنیاد پر ہی تحقیق آگے بڑھتی ہے لیکن مفروضہ قائم کرنے والےکے پاس دلائل ایسے زور دار ہوں جو قاری اور محقق کو ایک لمحے کے لیےسوچنے پر مجبور کر دیں۔میری معلومات کے مطابق اصل لفظ’’اٹکا ،یا ’’اتکا‘‘ہے ؛جو بعد میں ’’اٹک ‘‘کہلایا۔بلکہ مقامی لوگ تو اب بھی’’اٹکاں‘‘ہی کہتے ہیں۔اسی علاقے کا ایک قدیم شاعر” عمر اٹکاں والا”تھا؛ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے اپنی کتاب میں اس کے متعلق لکھا ہے:”اصلی ناں محمد عمر سی،پر عمر اٹکاں والا دے ناں نال مشہور سن”۔ارشد محمود ناشاد،ضلع اٹک دے پنجابی شاعر،پنجابی ادبی سنگت،اٹک،1995،ص
49 پروفیسر غلام ربانی جو مقامی بولی”کیمبل پوری بولی “کے شاعر ہیں، کی ایک نظم کے چند اشعار بھی دیکھ لیجیے،جس میں “اٹکاں”کا نام استعمال ہوا ہے:”اٹکاں نا راہ پُچھنا راہیاسُن اٹکاں نی وڈی نشانیغلام ربانی فروغ،وسنا رہوے گراں،پنجابی ادبی سنگت،اٹک،دسمبر 2004،ص28’’اٹکا ،یا ’’اتکا‘‘کون تھا؟اس کے بارے میں محمد حسین آزاد لکھتے ہیں:’’امیر تیمور نے ہندوستان کو زورِ شمشیرسے فتح کیا ۔۔۔ بابراُس کا پوتا چوتھی پشت میں ہوتا تھا۔۔۔اس نے قصرِسلطنت کی بنیا کھودی اور کچھ اینٹیں بھی رکھیںمگر شیر شاہ کے اقبال نے اسے دم نہ لینے دیا۔۔۔دن ایسے نحوست کے تھے کہ ایک جگہ قرار نہ ملتا تھا ۔ابھی پنجاب میں ہے۔ابھی سندھ میں ہے۔ابھی بیکانیرجیسلمیر کے ریگستانوں میں سرگرداں چلا جاتاہے۔پانی ڈھونڈتا ہے تومنزلوں تک میسر نہیں۔۔۔یہ سب مصیبتیں ہیں۔۔۔اکبر ماں کے پیٹ میں باپ کے رنج و راحت کا شریک تھا۔۔۔اکبر ابھی حمل میں تھااور میر شمس الدین محمدکی بی بی بھی حاملہ تھیں۔بیگم[اکبر کی ماں]نے ان سےوعدہ کیا تھا کہ میرے ہاں بچہ ہو گا تو تمھارا دودھ اُسے دوں گی۔۔۔جب اُن کے ہاں بچہ ہوا تو انھوں نے دودھ پلایااور زیادہ تر انھیں کا دودھ پیا۔سبب ہے کہ اکبر انھیں جیجی کہا کرتا تھا۔۔۔ایک دفعہ اکبر نے کئی دن دودھ نہ پیا تھا۔لوگوں نے کہا جیجی نے جادو کر دیا ہے۔۔۔ایک دن اکیلی اکبر کو گود میں لیے بیٹھی تھی اور غم سے افسر تھی۔بچہ چپکا اس کا منہ دیکھ رہا تھا۔یکا یک بولا کہ جیجی غم نہ کھائو،دودھ تمھارا ہی پیوں گا اور خبردار اس بات کا ذکر کسی سے نہ کرنا‘‘۔محمد حسین آزاد،دربار اکبری(حصہ اول)قومی کونسل برائے فروغ اردو،1999 ،ص34اسی بی بی کا خاوند میر شمس الدین محمد اٹکا ہے جو ہمایوں کا وفادار اور جاں نثار ساتھی ہے۔اس نے اکبر کے باپ کا اس وقت ساتھ دیا جب اوروں کو تو چھوڑیے، بھائی بھی اس کی جان کے دشمن تھے ۔اسی شمس الدین اٹکا کو1561میںاکبر نے خان اعظم [وزیر اعظم]کا عہدہ عطا کیا۔’’ادھم خان اتکہ کو خان اعظم کے اس اقتدار پر بہت رشک [حسد]آیا۔اس نے۔۔۔خان اعظم کو بھی بادشاہ کی نگاہوں سے گرانے کی کوشش کی۔۔۔ لیکن اسے کامیابی حاصل نہ ہوئی۔آخر کار اس نے ایک روز اسے[خان اعظم کو] قتل کر دیا‘‘۔محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ،س ۔ ن ،ص698 ایس ۔ایم بُرکے نے اس واقعے کو یوں درج کیا:’’16۔مئی 1562کو آدم خان اور اس کے ساتھی سازشیوں نے محل کے اس ہال پر دھاوا بول دیا جس ہال میں اٹکا خان ،منیم خان،شہاب الدین اور دیگر عمائدین سلطنت کاروبار سلطنت چلانے میں مصروف تھے۔آدم خان کا اشارہ پاتے ہی اس کے دو ساتھیوں نے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ اٹکا خان پر حملہ کر دیا۔اٹکا خان۔۔۔جاں بحق ہو گیا۔۔۔
اکبرجو حرم کے اندر محوِ آرام تھا۔۔۔جائے وقوعہ پر جا پہنچا۔۔۔غصے سے اس کی حالت غیر ہو گئی۔۔۔اس نے اس قوت کے ساتھ آدم خان کے منہ پر گھونسا رسید کیا کہ آدم بے ہوش ہو کر نیچے گر گیا۔اس کے بعد اس نے آدم کو چھت سے نیچے پھینکوا دیا‘‘۔ایس۔ایم بُرکے،اکبر نامہ،مترجم:مسعود مفتی،علم و عرفان پبلشرز،لاہور،2006،ص76’’ ادھم خان کو شاہی عنایات کا بڑا بھروسا تھا اس کا خیال تھا کہ بادشاہ اس سے کچھ بازپرس نہ کرے گا‘‘محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ،س ۔ ن ،ص698 لیکن وہ اکبر جس نے بیرم خان کی کئی نافرمانیاں اور قتل نظر انداز کر دیے ، شمس الدین اٹکا کا قتل برداشت نہ کر سکا۔اس کے رد عمل کو فرشتہ نے اس طرح بیان کیا ہے۔’’خان اعظم کے قتل کی وجہ سے چاروں طرف شور وغل برپا ہو گیا۔۔۔اس شور کی وجہ سے بادشاہ کی آنکھ کھل گئی اور اس نے اس کا سبب دریافت کیا ۔بادشاہ کو تمام حالات سے آگاہ کیا گیا۔وہ اسی وقت لباس شب خوابی ہی میں کوٹھے پر آیا۔یہاں سے اسے شمس الدین کی لاش نظر آئی۔اس لاش کو دیکھ کر اکبر غصے کی وجہ سے تھر تھر کانپنے لگا۔۔۔اس نے غصے کے عالم میں ادھم خان کے گال پر ایک گھونسا مارا۔ادہم بے ہوش ہو کر فرش پر گر پڑا۔اس کے بعد اکبر نے حکم دیا کہ ادھم خان کو اسی دیوان خانے کےکوٹھے سے جو زمین سے بارہ گز بلند تھا،نیچے گرا دیا جائے۔۔۔اس بلندی سےگرنے کے باوجودادھم خان زندہ رہا،لہذااسے اُٹھا کر کوٹھے پر لائے اور دوبارہ زمین پر پھینکا۔اس مرتبہ ادھم خان مر گیا‘‘۔محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ،س ۔ ن ،ص698اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکبر کو شمس الدین اٹکا کتنا عزیز تھا۔بعید نہیں کہ’’ اٹک قلعہ‘‘ اسی اٹکا خان کی یادگار ہو۔(5)ہمارے موضوع کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ’’ اٹک قلعہ‘‘ سے پہلے اٹک کا کیا نام تھا اس حوالے سے راقم کا خیال یہ ہے یہ کہ’’ اٹک ‘‘سے پہلے یہ سارا علاقہ’’ نیلاب ‘‘کے نام سے مشہور تھا۔اس کے کئی دلائل ہیں:(1)۔ محمد فرشتہ نے اٹک قلعہ کے حوالے سے جو بیان دیا ہے کہ:’’اسی مہینے کی 14۔تاریخ کو اکبر کابل سے واپس ہوا۔دریائے سندھ عبور کیا اور اس علاقے کے انتظام کے لیے چونے اور پتھر اور پتھر کا ایک حصار تعمیر کروایا۔اس قلعے کو اٹک کے نام سے موسوم کیا ۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق نیلاب کو عبور کرنا منع ہے۔لفظ اٹک کے معنی یہی ہیں‘‘(1)۔(2)۔تاریخ فرشتہ ہی میں ایک اور جگہ لکھا ہے کہ:’’مسلمانوں کی فوج نے اپنے بادشاہ[سبکتگین] کے حکم کے مطابق جنگ شروع کی ۔ہندوئوں کی فوج سامنے کی طرف بھاگ نکلی،مسلمانوں نے نیلاب تک اُن کا پیچھا کیا۔۔۔اور لمغان و پشاور کے ملک دریائے نیلاب کے کنارے تک مسلمانوں کے ہاتھ میں آ گئے‘‘(2)۔(3)۔’’چنگیز خان اپنی افواج کو نیم دائرے کی شکل دے کر تیزی سے پیش قدمی کرتا آ رہا تھا۔۔۔آخرکارایک رات چنگیزی افواج نے ایک ایسے مقام پر سلطان جلال الدین کی فوج کو جا لیاجہاں مسلمانوں کے ایک طرف دریائے سندھ موجیں مار رہا تھا اور دوسری سمت دشوار گزار چٹیل پہاڑ سر اُٹھائے کھڑے تھے۔یہ مقام دریائے سندھ کا ساحل ’’نیلاب‘‘ تھا‘‘(3)۔(4)۔ظہیر الدین بابر تزک بابری میں ان الفاظ میںنیلاب کا ذکرکرتا ہے:’’ہندوستان کی طرف کے چار راستے ہیں۔ایک راستہ لمغانات سے ہے۔۔۔دوسرا راستہ بنگش کا ہے۔تیسرا راستہ نغز کا ہے۔چوتھا راستہ فرمل سے ہے۔۔۔جو لوگ نیلاب کے گھاٹ سے اترتے ہیںوہ لمغانات کے راستے سے آتے ہیں۔۔۔اس دفعہ جو میں نے آکر سلطان ابراہیم کو شکست دی اور ہندوستان فتح کیا تو نیلاب کے گھاٹ کشتی کے ذریعے اُترا ہوں۔یہاں کے علاوہ کسی مقام پردریائے سندھ سے بغیر کشتی کےپار نہیں ہو سکتے‘‘(4)۔مندرجہ بالاتذکروں اور روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ ’’اٹک‘‘کا پرانا نام ’’نیلاب‘‘ تھا ؛اور یہ نام اُس زمانے میں اتنامعروف تھا کہ محمد فرشتہ اتنی دور بیٹھ کر اِس نام سے آگاہ تھا ؛جس علاقے کا پشاور اور لمعان کے ساتھ نام لیا جا رہا ہے ،جو علاقہ ظہیر الدین بابر کی خود نوشت ’’تزک بابری‘‘میں مذکور ہے؛جس علاقے کا نام چنگیز خان، جلال الدین خوارزم،سبکتگین اور شیر شاہ سوری کے ساتھ جُڑا ہے، وہ ایک چھوٹے سےگائوں کا نام نہیں تھا بلکہ وہ اسی ضلع کیمبل پور(حال:اٹک)کا ہی قدیم نام تھا اورعلامہ ابوالفضل کے مطابق اُس وقت نیلاب کی پیمائش 8787بیگھہ تھی(5) ۔ہمارے محققین کی ابھی تک ضلع اٹک کے قدیم نام کی حیثیت سےاگر نیلاب پر نظر نہیں پڑی تو اس کی وجہ موجودہ نیلاب کی موجودہ پس ماندہ صورت ہے،لیکن اُس وقت کا نیلاب آج کے نیلاب کی طرح پس ماندہ نہیں ہو گا کیونکہ جو علاقہ حکمرانوں کی گزر گاہ ہو،جہاں سے سرکاری وفود اور حملہ آور گزرتے ہوں ،وہ نہ صرف یہ کہ غیرمعروف اور پس ماندہ علاقہ نہیں ہوتابلکہ اسی علاقے کو ہی آس پاس کے علاقوں سے فوقیت حاصل ہوتی ہے۔وہاں کاروباری سرگرمیاں دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں؛اور اسی وجہ سے اسے مرکزی حیثیت حاصل ہو جاتی ہےاور یوں اس کی دور دور تک شہرت ہوتی ہے۔بلا شبہ نیلاب کی اُس وقت کی صورتِ حال بالکل ایسی ہی ہو گی۔بعد ازآں اکبر کے عہد میںاٹک کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی جس کی وجہ سےآہستہ آہستہ نیلاب پس منظر میں چلا گیا ۔بالکل اس طرح،جس طرح انگریزوں نے کیمبل پور کو اپنا مرکز قرار دیا تو اٹک خرد کا معروف گھاٹ بھی غیر معروف ہوتا چلا گیااور کیمبل پور کا نام مشہور ہوتا چلا گیا۔(6)ایک مغالطہ “کیمبل پور “کے بارے میں بھی پیدا ہو گیا ہے۔ڈاکٹر پروفیسرمرزا حامد بیگ لکھتے ہیں:”سر کولن کیمبل کے نام پر مشہور ہونے والی بستی کیمبل پور(حال:اٹک)کو 1904میں شہر (City)کا درجہ دیا گیا۔سرکولن کیمبل مشہور ٹائون پلینر بھی تھے”۔ڈاکٹرمرزا حامد بیگ،ابتدائیہ:مشعل،گولڈن جوبلی نمبر،98۔1997،گورنمنٹ کالج، اٹک ، ص 17لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔اس شہر کا نام ٹائون پلینرکیمبل کے نام پر نہیں رکھا گیا بلکہ اسے برصغیر کے پہلے کمانڈر انچیف “کیمپ بل “کے نام پر بسایا گیا۔”The city,s foundations were laid in 1903 and it was named Campbellpur after Sir Colin Campbell…The district was created in April 1904 https://www.prideofpakistan.comSir Colin Campbellکے متعلق مزید تفصیلات ہمیں “انسائیکلو برٹانیکا”میں اس طرح لکھی ہوئی ملتی ہیں۔Colin Campbell,Baron Clyde, also called (1849-58)Sir Colin campbell,(born Oct.20,1792, Glasgow, Scot, died Aug.14,1863, Chatham Kent, Eng), British soldier who was commander in chief of the British forces in india during the Indian Mutiny of 1857.https://www.britannica.com<Colin…
(1)محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم :عبدالحی خواجہ ایم۔اےشیخ غلام علی سنز، لاہور ، س ، ن ،ص721(2)محمد قاسم فرشتہ،تاریخِ فرشتہ،جلد اول،مترجم:عبدالحی خواجہ،شیخ غلام علی اینڈ سنز،لاہور،س ن،ص90(3)۔مولانا محمد اسماعیل ریحان،شیرِ خوارزم سلطان جلال الدین خوارزم شاہ اور تاتاری یلغار ،منھل التراث اسلامی،جنوری،2010،ص255(4)محمد ظہیر الدین بابر،تزکِ بابری،مترجم:مرزا نصیر الدین حیدر،الفیصل،اردو بازار لاہور،جنوری 2006، ص 174(5)علامہ ابو الفضل،آئینِ اکبری جلد اول،مترجم:مولوی محمد فداعلی صاحب طالب ،دارالطبع جامعہ عثمانیہ،حیدر آباد دکن،1937،صفحہ 1036