جیسا میرا دیس ہے افسر

صوبہ پنجاب کو پاکستان کے دل کی اہمیت دی  جاتی ہے۔ صوبہ پنجاب کا آخری شہر اٹک ہے۔ اٹک اپنے خوبصورت نظاروں اور پر فضا مقامات کی وجہ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔اس کے علاوہ اسکے سرسبز و شاداب پہار اور دریاے سندھ کی دل کو لبھاتی لہریں آنے والوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔جب اٹک کی سیر و سیاحت کا ذکر ہوتا ہے تو اسکی تاریخی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ فضل داد کاکڑ نے 2006 میں 200 تاریخی مقامات کا جائزہ لیا جن میں سے 3 اہم مقامات اٹک شہر میں واقع ہیں بشمول بہرام کی بارہ دری، بیگم کے سراۓ، اور اٹک کا مقبرہ شامل ہیں۔ ان 200 مقامات کی تجدید کے لیے 200 ملین کی رقم مختص کی گیٔ تھی۔ اب اگر ہم ان مقامات کی تاریخی اہمیت کے حوالے سے انکا جائزہ لیں تو ہمیں انکی وقعت  کا اندازہ ہوگا۔

بہرام کی بارہ دری مشہور سڑک N-5 کے قریب واقعہ ہے۔ بہرام خان نے 1681 میں اس عمارت کی بنیاد رکھی جب وہ  بادشاہ اکبر کے جرنل کے عہدے پر فائز تھا۔ بارہ دری میں دو چھوٹے کمرے ہیں۔ جب کہ دالان میں  دو مناسب طرز کے کمرے ہیں جنکا رقبہ 8/ 8 فٹ ہے۔دالان میں ایک کنواں بھی ہے جس سے مقامی لوگ آج بھی استفادہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں دالان میں ایک عبادت گاہ بھی موجود ہے۔

ایک اور تاریخی مقام بیگم کے سرائے ہے جو بہرام کی بارہ دری سے کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ اس عمارت کو بہرام کی بیگم کے لیے بنایا گیا تھا جو بعد میں بادشاہ اکبر کی چوتھی بیوی بھی بنی تھی۔

بہرام کی بارہ دری
بہرام کی بارہ دری

ان دونوں مقامات سے کچھ فاصلے پر مقبرہ اٹک ہے جسکو چاروں طرف سے باڑ لگا کر محفوظ کیا گیا ہے۔  مقبرے میں ایک قبر ہے اور اس کے صحن میں بھی کچھ قبریں ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مقبرہ کسی ناچنے والی کا ہے مگر اسکی کوئی صداقت موجود نہیں۔

مقبرہ اٹک

اس کے بعد ایک انتہائی خوبصورت اور قابل دید مقام اٹک خورد بھی ہے۔اٹک خورد ریلوے اسٹیشن کی تعمیر 1880 میں ہوئی۔اس کے اطراف میں واقعہ تاریخی پل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس پل کو عوام کے لیے 24 مئی 1883 کو کھولا گیا۔ یہ پنجاب کو خیبر پختونخواہ سے ملاتا ہے۔

اٹک خورد ریلوے استیشن
اٹک خورد ریلوے استیشن
اٹک کا پل
اٹک کا پل

اب بڑھتے ہیں تاریخی اور سیاسی اعتبار سے اہم ترین قلعہ اٹک کی جانب جسے بادشاہ اکبر نے 1583 میں تعمیر کیا۔ اسکا مقصد علاقہ کو افغان حملے سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس قلعہ کی اہمیت اور تفصیلات کا ذکر آئندہ آنے والے نشر پارہ میں کیا جاۓ گا۔

طوبیٰ حسن

Next Post

کیا ماں بولی پنجابی کے نفاذ کے لیے چیخنا پڑے گا؟

ہفتہ فروری 27 , 2021
یوں تو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر ملک بھر میں مادری زبانوں کے حوالے سے ہر سال تقریبات اور ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں ۔
Shahzad Hussain Bhatti