پاکستانی ماھی گیروں کا سنہری کارنامہ

تحریر و تحقیق: مقبول احمد شیخ، مسقط، سلطنت عمان
سلطنتِ عمان، پاکستان کا دوست ملک ھے اور ھماری دو لاکھ سے زیادہ افرادی قوت سلطنت عمان کے مختلف شھروں میں روزگار کے سلسلے میں قیام پذیر ھے۔ سلطنت عمان کے زیادہ تر لوگ بھت نرم طبیعت، شیریں زبان اور ھمدرد ھیں یہاں سمندر کے قریب علاقوں میں بسنے والوں کا ذریعہ معاش زیادہ تر ماھی گیری ھے۔ گذشتہ ھفتے عمان کے ایک علاقے أشخره جو کہ عمان کے صوبہ الشرقیہ میں واقع ھے کے دو ماھی گیر علی بن سالم الجعفری اور سالم بن سعید الجعفری حسب معمول اپنی انجن والی کشتی میں ماھی گیری کی غرض سے سمندر میں روانہ ھوئے جب ان کی کشتی بیچ سمندر میں پہنچی تو کشتی کا انجن خراب ہوگیا اور ان کی کشتی لہروں کے ساتھ بہنے لگی وہ ساحل سے اس قدر دور نکل گئے تھے کہ موبائل فون کا نیٹ ورک بھی دستیاب نہیں تھا اب رات ھو چکی تھی اور کشتی کسی نامعلوم سمت میں بہتی جا رھی تھی ساری رات گذر گئی صبح دوپہر میں بدلی پھر شام پھر رات ہوگئی اس اثناء میں کوئی دوسرا جہاز یا کشتی ان کو سمندر میں ان کے قریب نظر نہیں آئی اسی طرح دن گزرتے گئے کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو نے کو آگئیں مایوسیوں نے ڈیرے ڈال دیئے ایک ھفتہ گذر گیا ادھر ان کے گھر والوں نے پولیس کو مطلع کیا پولیس کی کشتیوں نے عمان کی سمندری حدود چھان مارا لیکن گم شدہ کشتی کا کوئی سراغ نہ مل سکا علی اور سالم کے گھر والے ان کی واپسی کی امید چھوڑ بیٹھے ان کو علی اور سالم کی موت کا یقین ھونے لوگ ان کے گھر والوں سے افسوس کرنے لگے 9 دن گذر گئے عجیب بات یہ ھے کہ مسقط سے کراچی کی سمندری حدود تقریباً 469 ناٹیکل میل ھے اور 9 دن اور راتوں میں کسی جہاز کی اس کشتی پر نظر نہیں پڑی دسویں دن کراچی میں واقع عمان کے سفارت خانے سے حکومت عمان کو اطلاع دی گئی کہ علی اور سالم بہ قید حیات اور سلامتی سے مل گئے ھیں تفصیل یوں ھے کہ کراچی کے سمندر میں پاکستانی ماھی گیر مچھلی کا شکار کر رھے تھے کہ انہیں ایک لاوارث کشتی نظر آئی جس میں سے دو اشخاص ھاتھ ہلا کر مدد کے لیے پکار تھے۔

Omani Boys

پاکستانی ماھی گیر مدد کو لپکے اور انہیں باحفاظت اپنے ساتھ کنارے تک لے آئے اور مقامی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی سے رابطہ کیا جنہوں نے اپنے افسران کے ذریعے علی اور سالم کو کراچی میں واقع عمان کے سفارت خانے کے حوالے کر دیا جیسے ھی یہ اطلاع حکومت عمان کو پہنچی وھاں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جشن شروع ہوگیا۔ علی اور سالم کے گھر والوں کی حالت دیدنی تھی اللہ کا شکر ادا کیا اور پاکستانیوں کا ڈنکا بجنے لگا پاکستان ژندہ باد کے نعرے گونجنے لگے اور پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ھوگیا۔
پھر وہ گھڑی بھی آگئی جب علی اور سالم کراچی سے رخصت ہوئے اور مسقط ائیر پورٹ پہنچ گئے جہاں ایک جم غفیر ان کا منتظر تھا اور سارا مسقط ائیرپورٹ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج رھا تھا۔ دوسرے دن علی اور سالم کے گھر والوں نے پاکستانی ماھی گیروں کے لئے جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا یہ اعلان کیا کہ وہ کشتی بمع انجن اور اس کے ساتھ 10 ھزار ڈالر کیش انعام کراچی کے ان ماھی گیروں کو دیا جائے گا جنہوں نے یہ بے مثال کارنامہ انجام دیا ھے۔ ٹوئیٹر ، فیس بک اور سوشل میڈیا پاکستانیوں کے ترانے گا رھے ھیں لیکن افسوس کی بات یہ ھے کی پاکستانی اخباروں، میڈیا یا سندہ حکومت نے اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی اور مکمل خاموشی اختیار کی ھوئی ھے یہ عمل قابل افسوس ھے۔ اس طرح کے مواقع جہاں پاکستان کا نام دیگر اقوام میں بلند ھو رھا ھو بالکل ضائع نہیں کرنے چاہئیں۔

سونیا بخاری

Next Post

محبتوں کے سفیر پاک وطن کے ماہی گیر

جمعرات جون 23 , 2022
دو مقامی ماہی گیر علی الجعفری اور سالم الجعفری اپنی کشتی پر سوار سمندر روزمرہ کے کام سرانجام دے رہے تھے اور وہیں ان کی کشتی کا انجن فیل ہوگیا
محبتوں کے سفیر  پاک وطن کے  ماہی گیر