صحابی رسولؐ کے مزار پر

( عمان کے تاریخی اور مذھبی مقامات ، تاریخ اور محل وقوع پر ایک طائرانہ نظر )

تحریر :
سیدزادہ سخاوت بخاری

سلطنت عمان جسے پاکستان میں اس کے دارالحکومت ، مسقط ، کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے اور جہاں میں گزشتہ 45 برس سے مقیم ہوں ، جزیرہ نماء عرب ، خلیج فارس یا عریبین گلف کے ، بحیرہ عرب کی سمت ، آخری سرے پر واقع ایک مستطیل نماء ملک ہے ۔ اگر آپ خلیجی ملکوں کے نقشے پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوگا کہ جیسے بحیرہ احمر ( Red Sea) اور بحیرہ عرب ( Arabian Sea ) کے درمیان زمین کی ایک چادر بچھائی گئی ہے جس کے نچلے سرے پر عمان اور یمن ایک جھالر کے طور پر دکھائی دیتے ہیں ۔ اس ملک کی زمینی سرحدیں ، یمن ، سعودی عرب اور عرب امارات ( دوبئی ابوظھبی ) سے اور بحری ، عرب امارات ، یمن ، ایران اور پاکستان سے ملتی ہیں ۔ رقبے کے لحاظ سے اس خطے میں ، سعودی عرب کے بعد یہ دوسرا بڑا ، عرب اسلامی ملک ہے ۔
اس کی تاریخ قبل مسیح تک پھیلی ہوئی ہے ۔ بس اتنا جان لیں کہ اس علاقے کی عرب ریاستوں میں یمن اور عمان ہی ایسے ملک ہیں کہ جو ھزارھا سال سے اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کے علاوہ خلیجی ریاستوں کے جتنے نام آپ سنتے آرہے ہیں وہ چھوٹے چھوٹے راجواڑے تو تھے مگر ان دو ملکوں کی طرح اپنی تاریخی شناخت نہیں رکھتے ۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ عمان اگرچہ ایک طرف سے بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع ہے لیکن اس کی پاکستان کی طرف واقع سمندری حدود کو خلیج عمان ( Gulf of Oman ) کہتے ہیں جو بحیرہ عرب میں پاکستان کی سمندری حدود ختم ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ سلطنت عمان ، پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی شھر گوادر کے عین سامنے فقط 600 ناٹیکل میل کی دوری پر واقع ، ہمارا قریب ترین پڑوسی ہے ۔

سلطنت عمان کی جغرافیائی حیثیت و اہمیت کا اگر زکر کیاجائے تو بے جاء نہ ہوگا ، کیونکہ ، یہ ملک ایک طرف ، عرب دنیاء کا حصہ ہے تو دوسری طرف سے عجمی دنیاء یعنی ایران اور پاکستان سے بھی مشترک سمندر رکھتا ہے ۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz )
(جہاں سے عرب شیخوں اور ایران کے تیل بردار جہاذ گزر کر یورپ ، جاپان ، چین اور دیگر ممالک کو جاتے ہیں ، اس اہم شاھراہ پر ایران اور عمان کا کنٹرول ہے ۔ ایرانی شھر بندر عباس اور عمان کے صوبہ مسندم کے درمیان یہ پانی فقط 21 میل چوڑا ہے جہاں سے دنیاء کی ضرورت کا تقریبا 20% خام تیل گزار کر لیجایا جاتا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ سمندری راستہ دنیاء بھر میں اہم حیثیت ، حساسیت اور پہچان کا مالک ہے ۔

عمان کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیا جائے تو آپ کو علم ہوگا کہ چھوٹی سی یہ عرب قوم شروع سے محنت ، جفاکشی اور بہادری کا استعارہ رہی ہے ۔ پیٹرول اور دیگر معدنیات کی دولت تو بہت بعد میں ان کے ھاتھ آئی جبکہ بے آب و گیاہ ، خشک و بنجر تپتے صحراوں اور سنگلاخ پہاڑوں سے نکل کر انتہائی بے سروسامانی کے دور میں ان سورماوں نے ایسٹ افریقہ کے کئی علاقوں پر اپنا قبضہ جمایا اور صدیوں تک وہاں حکمران رہے ۔ یہی نہیں بلکہ پاکستان کے ساحل مکران پر واقع وادی گوادر کا علاقہ 1958 تک ان کی سلطنت کا حصہ تھا ۔

اگرچہ سن پچاس کی دھائی میں یہاں پیٹرول دریافت ہوچکا تھا لیکن 1970 تک اس دولت سے کوئی قابل ذکر فائدہ نہ اٹھایا جاسکا تا آنکہ جدید عمان کے بانی سلطان قابوس بن سعید رحمة اللہ نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنے 50 سالہ سنہری دور میں صحراوں کو لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ، عمانی معاشرے کو زیور تعلیم و ھنر سے آراستہ کرکے دنیاء کی عظیم قوم بنادیا ۔ جہاں اسکول تھے نہ ھسپتال ، پکی سڑکیں تھیں نہ زندگی کی دیگر آسائیشیں ، آج اس کا شمار دنیاء کی جدید ترین ریاستوں میں ہوتا ہے ۔ اپنی مٹی اور قوم سے عشق رکھنے والے اس سلطان نے ، نہ صرف تعمیرات اور جدید آسائیشوں کی فراھمی سے اس ملک کی ھیئت بدل دی بلکہ ایک ایسا مثالی معاشرہ بھی قائم کردیا جہاں قانون کی حکمرانی ہے ۔ ہم پاکستانی ہمیشہ سے قانون کی حکمرانی ، قانون سب کے لئے ، دو نہیں ایک پاکستان کے نعرے سنتے آرہے ہیں لیکن اگر اس کی عملی تعبیر دیکھنا ہو تو ایک مرتبہ سلطنت عمان کی زیارت ضرور کریں ۔ ہم نے تاریخ میں عادل اور رعایا پرور بادشاھوں کے قصے بہت پڑھے لیکن میں یہ بات دعوے سے کہ سکتا ہوں کہ مرحوم سلطان قابوس رحمة اللہ کا ثانی ملنا محال ہے ۔ یہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے دیکھے گئے ہیں ۔
جرائم انسانی فطرت کا خاصہ ہے لیکن اگر دنیاء کے دیگر معاشروں سے موازنہ کیا جائے تو یہاں جرائم کی شرح آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ انصاف صرف ہوتا نہیں بلکہ چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے ۔

جنوری 2020 میں اس عظیم سلطان کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ان ہی کے چچا زاد بھائی ، آکسفورڈ کے گریجویٹ جلالة السلطان ھیثم بن طارق آل سعید تخت نشین ہوئے اور اعلان کیا کہ مرحوم سلطان کی پالیسیوں کا تسلسل قائم رکھا جائیگا ۔ یاد رہے سلطان قابوس مرحوم کی دانشمندانہ اور میانہ رو پالیسیوں کی بدولت اس سلطنت کو اقوام عالم میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ عالم عرب کے اندرونی تناذعات ہوں یا علاقائی جھگڑے ، عمان نے ہمیشہ ثالث کا کردار ادا کیا ۔

خشک صحراوں ، پہاڑوں ، میدانوں ، قدرتی چشموں ، کھجور کے باغات ، حسین و جمیل اور صاف و شفاف ساحلوں پر مشتمل ، اس ملک کے کونے کونے اور ذرے ذرے میں تاریخ کے خزانے دفن ہیں ۔ یمن کی سرحد کے قریب عمان کا دوسرا بڑا شھر صلالہ ، جسے انبیاء کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے ، مقدس زیارات اور تاریخی مقامات کا خزینہ ہے ۔ بحیرہ عرب کے ساحل پر واقع اس شھر کی آب و ہواء باقی ملک سے مختلف ہونے کی بناء پر یہاں عرب کے معروف درخت کھجور کی بجائے ناریل کے باغات ہیں ۔ لبان ، پپیتا اور کیلا وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے ۔ ایک مرتبہ باغات کی سیر کرتے ہوئے مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہاں پان کا پتہ بھی اگایا جارہا ہے ۔
ناریل ، پپیتے ، کیلے اور پان کے پتے اگانے والے اسی شھر کے وسط میں حضرت عیسی علیہ السلام کے نانا اور سیدہ مریم سلام اللہ کے والد جناب عمران علیہ کا مزار واقع ہے ۔ یہ قبر غیر معمولی طور پر 30 میٹر طویل ہے جہاں زائرین اور معتقدین کا میلہ لگا رھتا ہے ۔ شھر کے گرد پہاڑ کی چوٹی پر اللہ کے نبی حضرت ایوب علیہ السلام محو استراحت ہیں اور قریب ہی نشیب میں وہ چشمہ ہے جہاں آپ بیماری کی حالت میں غسل کیا کرتے تھے ۔

اسی شھر کے ایک محلے میں وہ غار ہے جہاں حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹی کو ذبح کیا گیا تھا ۔ وھاں موجود ایک بڑی چٹان پر معجزاتی طور پر اونٹنی کے قدموں کے نشان اور خون کے دھبے اب بھی موجود ہیں ۔ صلالہ شھر ہی میں تاریخ کے معروف جادوگر سامری کے محل کے کھنڈرات بھی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔ شھر سے دور پہاڑوں کے اندرحضرت ھود علیہ السلام کا مزار واقع ہے ۔ اسی شھر کے نواع میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصے اور تخت بلقیس سے منسوب ، یمن کی رانی ، ملکہ بلقیس کے محل کے کھنڈرات ہیں ۔ میں نے وھاں ایک حمام ( Bathroom ) اور اس میں نصب پتھر سے تراشیدہ وہ خوبصورت ٹب بھی دیکھا، جسے ، روائت کے مطابق ملکہ بلقیس اپنے غسل کے لئے استعمال کرتی تھی ۔

ملکہ بلقیس کے محل کی طرف جاتے ہوئے راستے میں پہاڑ کے ساتھ ایک ایسا میدان ہے جہاں مقناطیسی قوت پائی جاتی ہے اسے ( Gravity Point) بھی کہتے ہیں ۔ اس میدان کا کمال یہ ہے کہ آپ اپنی گاڑی ( Motor Car ) کا انجن بند کرکے گاڑی کو نیوٹرل کردیں تو گاڑی خود بخود چلنے لگتی ہے اور اس کی رفتار بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ کچھ لوگ اسے پہاڑ کے اندر مقناطیسی قوت کے اظھار سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہاں جنات کا ڈیرہ ہے اور وہ گاڑی کو دھکا لگاکر چلا دیتے ہیں ۔

صلالہ کی داستان طویل ہوگئی ، آئیے واپس مسقط چلتے ہیں ۔ مسقط شھر کے نواع میں بوشر گاوں سے متصل پہاڑ کے اوپر ایک روائت کے مطابق فاتح خیبر مولا علی علیہ کی قدم گاہ ہے ۔ بہت اونچا پہاڑ ہے اور راستہ بھی دشوار مگر عقیدت مند چوٹی تک جاکر سلام کرنا اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں ۔ کئی برس پیشتر مجھے بھی اس قدم گاہ تک جانے کا شرف حاصل ہوا ۔ پہاڑ کے دامن میں چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے ابلتا ہوا پانی نکلتا ہے ۔ مرد و خواتین کے لئے بلدیہ نے الگ الگ غسل خانے تعمیر کرادئیے ہیں اور معجزاتی طور پر جلدی امراض (Skin Dieses) میں مبتلاء افراد اس پانی سے غسل کرکے شفاء یاب ہوتے ہیں ۔

قارئین کرام

کبھی کبھی بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے ۔ لکھنا تو صحابی رسول ص کے مزار کے بارے میں چاھتا تھا لیکن کہانی طول پکڑ گئی ۔ چلیں اس بہانے آپ نے سلطنت عمان کی سیر کرلی ۔ اب آتے ہیں موضوع کی طرف ۔ عرض ہے کہ عمان ان خوش نصیب ملکوں میں شامل ہے کہ جہاں کے لوگوں نے حضور نبی کریم ص کی زندگی میں اور براہ راست ان کی ذات سے اسلام کی روشنی حاصل کی ۔ ہوا کچھ یوں کہ مسقط شھر سے تقریبا ایک گھنٹے کی ڈرائیو پہ نزوی (Nizwa ) روڈ پر واقع گاوں سمائیل ( Smail )کے ایک بت پرست شخص نے جب سنا کہ مکہ میں ایک سچا نبی آیا ہے ، اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر مکہ چل دیا ۔
تاریخ میں اس واقعے سے کئی باتیں منسوب ہیں مثلا ، ان کی والدہ بیمار تھی اور وہ جس بت کی پوجا کرتے تھے اس سے استدعاء کی کہ میری والدہ کو شفاء دیدے لیکن ان کی والدہ فوت گئی اور نہوں نے اس بت کو توڑ دیا ۔ یہ کہ اسی بت نے انہیں بتایا کہ مکہ میں ایک سچا نبی آیا ہے وھاں جاکر اس کی بیعت کرو وغیرہ وغیرہ ۔ قصہ مختصر ، یہ شخص مکہ پہنچا اور حضور ص سے ملاقات کی ۔ ان کے ھاتھ پر بیعت کرکے مسلمان ہوگیا ۔ یہی نہیں بلکہ

اس بندہ خدا نے حضور علیہ السلام سے درخواست کی کہ میرے ملک عمان کے لئے خصوصی دعاء فرمائیں تاکہ وھاں امن اور خوشحالی ہو چنانچہ اللہ کے نبی نے اس نو مسلم کی خواھش پر ، سلطنت عمان کے لئے خصوصی دعاء فرمائی اور مجھے یقین ہے کہ اسی دعاء کے نتیجے میں آج عمان ایک خوشحال اور پرامن ملک بن کر دنیاء کے سامنے موجود ہے ۔

مازن بن غضوبہ نام کا یہ بت پرست شخص جب حضور ص کے ھاتھ پر براہ راست بیعت کرکے مکہ سے لوٹا تو صحابی رسول کہلایا ۔ مسلمان تو ہم سب ہیں ۔ ہم سے پہلے والے بھی مسلمان ہی تھے لیکن کیا کہنے اس شخصیت کے ، جسے محمد عربی ص کے ھاتھ پر ھاتھ رکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی ۔

آج سے کم و بیش 25 برس قبل مجھے میرا ایک دوست ان صحابی کی آرام گاہ پر لے کر گیا اور جب سے ابتک مجھے بیسیوں مرتبہ وھاں جانے کا شرف حاصل ہوچکا ہے ۔

سمائیل جو کبھی کھجور کے باغات میں روپوش ایک چھوٹا سا گاوں تھا اب ایک جدید شھر بن چکا ہے اور ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی نظر آتی ہے ۔ اس کی پرانی اور تاریخی آبادی میں پہاڑ کے ساتھ کھجور کے باغ میں صحابی رسول ص بابا ماذن محو خواب ہیں ۔ شروع میں جب ہم گئے تو قبر کچی تھی مگر اب پاکستانی عقیدت مندوں نے اسے پختہ کرکے ارد گرد چار دیواری کھڑی کردی ہے ۔

جس باغ میں مزار واقع ہے یہ ان ہی کی ملکیت تھا اور ابتک ان ہی کے نام ہے ۔ مزار کے سامنے والی آبادی میں ان کی تعمیر کردہ عمان کی پہلی مسجد یے جہاں باقائدہ جمعہ کی نماذ ادا کی جاتی ہے ۔ مسجد کے قریب ہی بابا جی کے آبائی گھر کی باقیات ہیں جنھیں محفوظ بنا دیا گیا ہے ۔ یاد رہے یہ جگہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ وادی ہے اور پہاڑوں سے نکل کر آنیوالا چشموں کا پانی پورے گاوں کے باغات کو سیراب کرتا ہے ۔ مذھبی حوالے سے ھٹ کر بھی یہ چھوٹی سی وادی ، کھجور کے باغات اور بہتا ہوا پانی ایک بہترین پکنک پوائینٹ ہے ۔ عمان میں مقیم افراد اپنے اھل خانہ اور دوستوں کے ہمراہ ویک انڈ پر وھاں کی سیر کے لئے جاتے ہیں ۔ جمعرات اور جمعہ کے دن مزار پر زائرین اور عقیدت مندوں کی بھیڑ دیکھنے کو ملتی ہے ۔ عمان میں رھنے والوں کے لئے بہترین موقع ہے کہ وہ سمائل جاکر صحابی رسول ص کے مزار پر حاضری کے ساتھ ساتھ قدرتی مناظر سے بھی لطف اندوز ہوں ۔

در بارہ سیّد زادہ سخاوت بخاری

یہ بھی دیکھیں

رضا نوشت

سفر کوفہ

یہ امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے ایام تھے اور جب ہم نجف اشرف پہنچے تو دنیا بھر کے کروڑوں زائرین نجف و کربلا دونوں شہروں کے بیچ محو سفر تھے