رویل یاٹنگ مڈل ایسٹ کی غیرمعمولی کامیابی کا راز
سنہ 2008ء میں ایک برٹش پاکستانی کو میں نے دبئی میں "یاٹس ٹریڈنگ” کی ایک کمپنی بنانے میں مدد کی تھی۔ ان سے میرا تعارف ایک مشترکہ دوست کے ذریعے ہوا تھا۔ ہم شروع دن سے ہی اچھے دوست بن گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ روپے پیسے کو بڑی احتیاط سے خرچ کرتے تھے۔ وہ ہر ماہ کا بجٹ بناتے تھے، جس سے وہ ذرا برابر بھی آگے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔
وہ انگلینڈ بلیک برن کے ہیں جو مانچسٹر سے 34 کلومیٹر دور لنکاشائر کاؤنٹی میں ایک انڈسٹریل ٹاؤن ہے۔ انہوں نے برطانیہ سے لاء کی ڈگری لی مگر کوئی جاب کرنے یا وکیل بننے کی بجائے انہوں نے بلیک برن میں ریسٹورنٹ کھول لیا۔ یہ ٹاؤن کا 50 سیٹوں والا سب سے بڑا ریسٹورنٹ تھا اور بہت اچھا بزنس کر رہا تھا۔ ان کا نام سجاد احمد حسین ہے، جو برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے، یعنی وہ "برٹش بارن” ہیں۔ انہیں "لگژری بوٹس” کا بہت شوق تھا، اور پھر انہیں دبئی بھی بہت پسند تھا۔
ایک رات کیا ہوا کہ انہوں نے برطانوی ٹیلی ویژن پر فوجیوں کو ملک کے دور دراز علاقوں میں مشکل ایکسرسائز کرتے ہوئے دیکھا۔ ان کے دل میں خیال آیا کہ یہ گھر سے دور ہیں اور اتنا مشکل کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوچا: "کیوں نہ میں بھی کوئی مشکل کام کروں”۔ اگلے چند ہفتوں میں انہوں نے ریسٹورنٹ ٹھیکے پر دیا اور فرانس میں ان سمندری کشتیوں کی ایک کمپنی کے پاس یاٹس کا کورس کرنے چلے گئے، جس کے بعد انہوں نے دبئی میں آ کر "رویل یاٹنگ مڈل ایسٹ” (Royal Yachting Middle East) ” کے نام سے اپنی کمپنی کھول لی۔
میں آج کل "بزنس کنسلٹینسی” کا کام کرتا ہوں۔ اس پیشے کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ اگر منافع میں جائے بغیر نیا بزنس مین پیسے کا حساب کتاب نہ رکھے تو اسکی ناکامی کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ وہ پیسے کو کس طرح سنبھال سنبھال کر خرچ کرتے تھے۔ آغاز میں وہ بلیک برن ہی کے ایک جاب پیشہ دوست کے فلیٹ پر رہے اور ستر درہم کرائے پر کار لے کر استعمال کرتے رہے۔ ماشاءاللہ، آج وہ ارب پتی ہیں، اور روزانہ وہ جتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں ہم اتنا ایک ماہ میں بھی نہیں کما سکتے۔
کاروباری سلطنت کھڑی کرنے میں "پیسے کا بہاو” ہی کامیابی کی جڑ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سجاد صاحب کی غیرمعمولی کامیابیوں کا سارا کریڈٹ ان کے "پیسہ استعمال کرنے کی ذہانت” کو جاتا ہے۔ آغاز میں انہوں نے مجھے ایک بار کہا تھا: "پیسہ کمانا ایک شیر کا کام ہے اور اسے سنبھالنا دو شیروں کا کام ہے”۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے چھ ماہ تک ان کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی تھی۔ اس دوران انہیں "بجٹ” کی کمی محسوس ہوتی تو جہاں ان کے اندر اعتماد کی کمی آنی تھی، وہاں وہ "دلبرداشتہ” بھی ہو سکتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ ساری ترقی پیسے کے "حسن استعمال” کے بل بوتے پر کی ہے۔
روپیہ پیسہ ریاضی کا نہیں بلکہ "کاروباری رویئے” کا کھیل ہے، اور ہم میں سے اکثر لوگ کاروبار میں ناکام اس لیئے ہوتے ہیں کیونکہ ہم پیسوں کو جذبات سے جوڑ دیتے ہیں یا "کاروبار کے لیئے وقف” پیسے کو غیرکاروباری ہیڈز میں لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم عموما کاروبار میں امیر اس لیئے نہیں بنتے کہ ہم میں پیسے کے استعمال کیلیئے "ذہانت” کی کمی ہوتی ہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہم "فوری امیر بننے” کے لالچ میں پڑ کر اپنے اصل اثاثے یعنی ‘پیسے’، ‘وقت’ اور ‘صبر’ کو بھی گنوا دیتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر سجاد احمد صاحب کی طرح کسی ڈیل کے "چھ ماہ” بعد ہونے کا انتظار نہیں کرتے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ دولت کا مطلب مہنگی رہائش، گاڑی یا دکھاوا نہیں، بلکہ دولت کا اصل مطلب وہ "آزادی” ہے جو آپ کو اپنے وقت پر اختیار کرنی چایئے۔ دولت جمع کرنے کا سب سے پوشیدہ اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی کاروباری زندگی میں "کافی” کا تصور سمجھ لیں، جو شخص اپنے کاروبار کی ضرورتوں کو قابو میں رکھ کر ایک سادہ لیکن نظم و ضبط والا منصوبہ بنا سکتا ہے، وہ دراصل دنیا کے کسی بھی بزنس مین یا سرمایہ کار سے زیادہ طاقتور ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی جیب میں کتنا پیسہ ہے یہ اہم نہیں، بلکہ یہ اہم ہے کہ آپ اپنے پیسوں کو کس سلیقہ سے استعمال کر رہے ہیں۔
اس وقت "رویل یاٹنگ مڈل ایسٹ” کے کلائنٹس میں شارجہ، ابوظہبی، قطر اور عمان کے حکمرانوں سمیت پاک آرمی، انڈیا کا انمبانی خاندان، دنیا کے نامور فٹ بالرز، رشین بزنس ٹائیکونز، پاکستان کے سیاست دان اور کراچی کے بزنس مین وغیرہ شامل ہیں۔ سجاد احمد حسین صاحب کی کمپنی کے پاس آسٹن ڈوا اور گیلیئن ریچ کے علاوہ دوسری کچھ کمپنیوں کی ڈیلرشپ بھی ہے، جن کی کشتیاں صرف ان کی کمپنی ہی کو بیچنے کی اجازت ہے۔ کاروبار میں "معاشی برتاو” اور "لین دین” انتہائی اہم ہے۔
چشم بد دور، سجاد احمد حسین صاحب نے کاروباری ایمپائر کھڑی کر لی۔ اب جا کر مجھے ان کے "دو شیروں والی بات” کی سمجھ آئی ہے۔ جس دن آپ نے بھی یہ سمجھ لیا کہ پیسے کو کاروبار میں کس "سلیقے” اور "ہنرمندی” سے استعمال کرنا ہے، اسی دن سے آپ کی "بڑی کاروباری کامیابی” کا حقیقی سفر شروع ہو جائے گا۔ کامیاب بزنس مین بننا ہے تو پیسے کا "حسن استعمال” سیکھیں، کیونکہ پیسے کو مینیج اور کنٹرول کرنا ہی کاروبار میں کامیابی کی ضمانت ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |