اگست 21, 2026

لالچی  – Greedy

وہ شخص کسی اور کو نہیں، اپنے ہی عکس کو لالچی کہہ رہا تھا۔

لالچی  – Greedy

صفدر علی حیدری 

شہر کا وہ تعلیمی ادارہ اپنی بہترین شہرت کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، مگر اس کا پرنسپل، شاکر صاحب، ایک عجیب مزاج کا آدمی تھا۔

وہ اساتذہ کی عزت کرنے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ تنخواہ پوری دینا تو جیسے اس کے اصولوں کے خلاف تھا۔ کبھی معمولی شکایت پر کٹوتی، کبھی ایک دن کی چھٹی پر کٹوتی، کبھی کسی معمولی بہانے سے چند ہزار روپے کاٹ لیتا۔ اگر کہیں سے کوئی نیا استاد دو چار ہزار روپے کم تنخواہ پر مل جاتا تو برسوں سے خدمات انجام دینے والے سینئر استاد کو ذرا سی بات پر بے عزت کرکے فارغ کر دیتا۔

لالچی  – Greedy

ایک دن اس کا پرانا دوست اس سے ملنے آیا۔ شاکر صاحب غیر معمولی طور پر پریشان دکھائی دے رہے تھے۔

دوست نے پوچھا، "خیریت ہے؟ آج بڑے اُداس لگ رہے ہو۔”

شاکر صاحب نے ٹھنڈی سانس بھری۔

"ہمارا سب سے بہترین استاد آج استعفا دے کر چلا گیا۔ اسی کی محنت سے ہر سال ادارے کا بہترین رزلٹ آتا تھا۔”

دوست نے کہا، "اس نے جانے کی کوئی وجہ تو بتائی ہوگی؟”

شاکر صاحب نے ہونٹ سکیڑتے ہوئے جواب دیا،

"اور کیا وجہ ہوگی؟ کہیں دو چار ہزار روپے زیادہ مل گئے ہوں گے۔ لالچی کہیں کا! یہ ٹیچر ہوتے ہی ایسے ہیں۔ جتنی عزت کرو، اتنا ہی سر پر چڑھتے ہیں۔”

دوست خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔

اسے معلوم تھا کہ دو چار ہزار روپے کے لیے بہترین اساتذہ کھونے والا شخص کسی اور کو نہیں، اپنے ہی عکس کو لالچی کہہ رہا تھا۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com