Tag: اٹک کا جغرافیہ

  • ضلع اٹک کی بارانی زمین اور کاشتکاری

    ضلع اٹک کی بارانی زمین اور کاشتکاری

    آبی

    اٹک کی وہ زمین جو دریائے ہرو میں سلطان پور سے نیچے کٹ لگا کر اور وہ زمین جو چشموں اور دوسرے ندی نالوں میں کٹاؤ ڈال کر سیراب کی جاتی ہے آبی کہلاتی ہے۔

    سب سے زیادہ مفید زمین وہ ہے جو واہ اور حسن ابدال کے چشموں سے سیراب ہوتی ہے، یہ بہت زیادہ اچھی ہے۔باقی کہیں کہیں ٹکڑوں میں بھی ایسی زمینیں ملتی ہیں لیکن زیادہ تر دیہات میں ایک ہی قسم کی زمین ہے۔

    پنڈی گھیب میں آبی سے مراد ہر جگہ چاہی زمین کو ہی شامل کیا جاتا ہے اور اس طرح علاقہ جندال میں بھی یہ بات اہم ہے اور وہاں بھی 200 ایکڑ سے کم ہے۔

    نہری۔

    آبی اور نہری میں فرق آبپاشی کی قسم پر ہوتا ہے جو کہ ہرو دریا سے کی جاتی ہے۔

    سلطان پور سے اوپر جہاں ندیاں زمین کے اوپر پھیل کر بہتی ہیں پنج کٹھ کے علاقے میں پانی کی فراہمی سال بھر نہیں رہتی۔

    iattock

    ہرو اپنے بہاؤ کے اس علاقے میں سال کے زیادہ حصہ میں خشک رہتی ہے۔

    اور آب پاشی ایک سیلابی نہر سے مختلف نہیں ہوتی۔

    ہر بارش کے ساتھ تازہ پانی دریا میں آتا ہے اور اسے روک کر زمین کو سیراب کیا جاتا ہے۔باقی آبپاشی سارا سال ہوتی رہتی ہے، وہ چشموں سے ہو یا ندی نالوں سے جو چشموں کے پانی کے بہاؤ سے وجود میں آتے ہیں یا پھر سلطان پور گاؤں سے نیچے جہاں ہرو سال بھر بہتی ہے۔

    تاہم یہاں دریا کے کنارے پر ہی تھوڑا علاقہ سیراب ہوتا ہے اور پانی بھی حقیقتاً ہرو کا پانی نہیں ہوتا بلکہ یہ ان چشموں سے آتا ہے جو ہرو کے دامن میں تھوڑی اونچائی سے آ کر ہرو میں شامل ہوتا ہے۔

    لہزا نہری کی اصطلاح صرف اس زمین پر پنج کٹھ میں یا ایک اور دو دیہات جو سلطان پور سے نیچے آتے ہیں میں شامل ہوتی ہے باقی ہر قسم کی آبپاشی ابی کہلاتی ہے۔

    حسن ابدال اور واہ کے دیہات میں آبی زمینوں سے بعض اوقات دو کے بجائے تین فصلیں لی جاتی ہیں۔

    کئی ایک دیہات کی اعلیٰ نہری زمینوں سے جب کے اچھی کھاد ڈالی جاتی ہے۔

    اور جو آبپاشی کے راستوں نزدیک ہوں سے ششماہیوں میں چھ فصلیں بھی لی جا سکتی ہیں۔

    ایسی زمین "دو فصلی نہری کہلاتی ہے”.

    1907 میں کل رقبہ 1٫702 ایکڑ تھا جو 1925 میں بڑھ کر 1٫788 ایکڑ ہو گیا۔

    سلطان پور کی نہری زمینیں مختلف زرخیزی کی اہمیت کی حامل ہیں۔

    نہری زمینیں صرف اٹک تحصیل میں ہیں جو تحصیل کے اندر نلہ سرکل کے شمال مشرقی کونے میں ہیں، سارا پانی تقریباً ہرو سے حاصل ہوتا ہے۔

    نہروں کے سرے زیادہ تر ہزارہ کی ہری پور تحصیل میں ہیں اور اٹک کے مالکان کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ خانپور کے گکھڑ خاندان سے پانی کی فراہمی کی خاطر اچھے تعلقات استوار رکھیں۔سیلابی زمینیں اٹک اور فتح جنگ تحصیلوں میں اہم ہیں۔(پنڈی گھیب میں 400 ایکڑ سے کم ہیں)۔

    فتح جنگ اور پنڈی گھیب میں گندم بڑی فصل ہے پورے ضلع میں مزروعہ رقبہ کا 74٪ رقبہ قابل کاشت ہے۔اٹک کی لپاڑہ زمین کو جب بھی وسائل اجازت دیں تو چاہی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، ان پر زراعت ہمیشہ احتیاط سے کی جاتی ہے، اچھی کھاد ڈالی جاتی ہے اور زیادہ تر دوہری فصل نہیں لی جاتی۔پنڈی گھیب میں مٹی بہت حساس قسم کی ہے۔

    سخت گرمی یا دیر سے بارش ہونے پر لپاڑہ کی فصلیں سب سے پہلے بکھر جاتی ہیں۔

    فتح جنگ میں احتیاط سے اس زمیں پر حل چلایا جاتا ہے یہاں یہ زمین بہت قیمتی ہے۔چھچھ میں لس سے مراد وہ زمینیں ہیں جو گندھ گڑ کے پہاڑوں سے آنے والے پانی سے سیراب ہوتی ہیں قیمتی تہہ نشین مادوں جو کہ زمین کو بار بار زرخیز کرتے رہتے ہیں اس کے علاؤہ زمین نیچے ہونے کی وجہ سے ہر سال سیلابی پانی سے بھی سیراب ہوتی ہے۔ اس طرح ان زمینوں کی نسبت جن پر سیلابی پانی نہیں پہنچتا یہ زمینیں زیادہ تر نمی کو اپنے اندر سہارتی ہیں۔

    جب کے دوسری زمین خشک ہو جاتی ہیں لہذا وہ دیہات جن کی زمینیں "لس” ہیں بہت محفوظ ہیں اور قحط سالی کے دنوں میں بھی کم متاثر ہوتے ہیں جب کہ عام سالوں میں زمین کی پیداوار "میرا” سے کافی ہوتی ہے (Mr Tailor کی رپورٹ کے مطابق پیراگراف 4) کے مطابق آخری بندوبست کے دوران "لس” چھچھ کے آبی دیہات میں ریکارڈ کی گئی اور اس وقت کی درجہ بندی اب تک موجود ہے۔

    باقی ہر جگہ "لس” کا مطلب ایسی زمینیں ہیں جن کے گرد بند باندھے جاتے ہیں۔ عموماً یہ گہری ندیوں کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔

    جہاں ندیوں کا پانی اوپر چڑھتا ہے اور اونچائی والی زمینوں سے رسنے والے پانی یعنی نمی کی وجہ سے بھی زیادہ دیر تک نمی کو سہار سکتی ہیں۔ زیادہ بارشوں کے دوران کافی ساری دریائی مٹی ان زمینوں کے اوپر ا جاتی ہیں جو انھیں مزید زرخیز بناتی ہیں۔

    البتہ پانی کو روکنے کے لیئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔

    جب ایسا کٹاؤ ہو جائے تو زمین بے کار ہو جاتی ہے کہ پانی زمین کی زرخیز مٹی کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے اور اس میں نمی بھی نہیں رہتی۔ جب تک بند موجود رہتے ہیں تو یہ زمین ایک اچھے "میرا” سے بھی بہتر ہوتی ہے۔

    لیکن چھچھ کے مرکز کی "لس” کے برابر نہیں ہو سکتی۔

    بند باندھنے سے اور ہمیشہ ان کی مرمت کرتے رہنے سے جو اخراجات اور محنت ہوتی ہے اس کی وجہ سے عام طور پر اس زمین کا تخمینہ (مالیہ) ایک اچھی "میرا” زمین کے نرخ پر کیا جاتا ہے۔ خصوصیات کے لحاظ سے میرا کی کئی اقسام ہیں۔ ایسے جہاں یہ ریتلا اور نرم ہے وہاں صرف ربیع کی فصل اگائی جاتی ہے جہاں یہ اونچی سطح پر ہو تو مٹی زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔یہ کچی زمین خریف کی فصلوں کے لیئے چھوڑ دی جاتی ہے تاہم بعض اوقات یہ ربیع کے لیئے بھی استعمال ہو جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ کسان اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ ربیع کی فصل زیادہ قیمتی اور منافع بخش ہوتی ہے۔

    بارانی زمینوں میں زراعت کے دو ہی طریقے استعمال ہوتے ہیں ایک "دو فصلی/دو سالہ” طریقہ ہے جس میں عموماً ربیع کی فصلیں گندم اور چنا کے بعد خریف کی فصل باجرہ اور جوار بوئی جاتی ہے یہ زمینیں اس طرح دو فصلوں کے لیئے چھوڑ دی جاتی ہیں اور اچھے طریقے سے باقائدگی کے ساتھ ہل چلایا جاتا ہے۔

    دوسرا نظام جو کہ زیادہ عام ہے وہ یہ ہے کہ ربیع اور خریف کے لیئے الگ الگ زمینیں چھوڑی جاتی ہیں، ہلکی زمین ربیع کے لیئے چھوڑی جاتی ہے اور سخت مضبوط خریف کے لیئے چھوڑی جاتی ہے۔

    ربیع کے لیئے چھوڑی جانے والی زمین پر ایک

    ربیع کے لیئے چھوڑی جانے والی زمین پر ایک یا زیادہ سالوں گندم بوئی جاتی ہے اور اس کے بعد چنا کاشت کیا جاتا ہے۔

    تارا میرا اکثر خریف کی فصل کے بعد بو دیا جاتا ہے جب خریف کی فصل ناکام ہو تو وہ زمین جو خریف کی فصل کے لیئے چھوڑی جاتی ہے اس پر باجرہ بویا جاتا ہے۔

    ہلکی ربیع والی زمین پر عموماً گندم کے لیئے دو دفعہ ہل چلایا جاتا ہے اور چنے کی فصل کے لیئے ایک ہی دفعہ ہل چلاتے ہیں۔

    مضبوط اور پکی زمینیں زیادہ توجہ چاہتی ہیں۔

    اوسطاً 100 ایکڑ میرا زمین پر 61 ایکڑ پر فصل تیار ہوتی ہے اور بیجے ہوئے رقبہ پر خرابی کی اوسط 25 فی صد ہے۔

    100 ایکڑ مزروعہ راکڑ زمین پر سالانہ اوسطاً 52 ایکڑ پر فصل تیار ہوتی ہے اور بیجے ہوئے رقبہ پر خرابی کی اوسط 32 فی صد ہے۔

    ایسی زمینوں پر صرف بارشوں والے سال ہی بیجائی ہوتی ہے اور اس زمین کی فصلوں سے عموماً تارا میرا یا بعض اوقات پھلی دار اجناس کے ساتھ کبھی کبھار گندم بھی بوئی جاتی ہے۔

    جاری ہے۔۔۔

  • اٹک نلہ

    اٹک نلہ

    مرزا گاؤں سے مشرق "ہزارہ کی حدود تک بھیڈیاں گاؤں کے نزدیک ہرو کے داہنے کنارے والی زمینیں سوائے چند ایک مزروعہ کھیتوں کے جو ندی کے نزدیک ہیں گہری ندیوں اور نالوں کا ایک لا متناعی سلسلہ اٹک نلہ کا علاقہ ہے”.

    اونچی زمین میں پانی میں لڑھکنے والے پتھر یا مٹی کے بنے سخت کنکر بکھرے پڑے ہیں۔

    کہیں کہیں کوئی چوٹی بھی بلند ہو جاتی ہے۔زراعت کہیں کہیں ہے کیونکہ مٹی برابر نہیں ہے اور کم خاصیت کی حامل ہے۔

    پہاڑیوں سے تھوڑی دور تک پتھریلی ہے اور پھر مٹی بھی نرم سے سخت کی صورت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کوا گر کے پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ کچھ بڑی زمینیں ہیں۔

    کوا گر کھیری مار کا درمیانی علاقہ کم زرخیز ہے۔

    یہ بلند علاقہ اور مٹی کے لحاظ کے کمزور ندی نالوں سے بھرا پڑا ہے۔ چٹانیں اکثر نظر آ جاتی ہیں جو کہ زمین کے نزدیک ہی ہیں۔

    کٹاریاں سے مغرب تحصیل کی حدود تک اور شمال کی طرف جرنیلی سڑک تک کے دیہات کو ہرو کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔

    یہ علاقہ بہترین بارانی علاقوں میں شامل ہے خاصیت میں ایسی چکنی مٹی کا علاقہ ہے جس پر آسانی سے کام ہو سکتا ہے۔

    اچھی بارشوں کے سلسلے میں یہاں اچھی فصلیں ہوتی ہیں۔

    iattock
    ااٹک کا جغرافیہ- تصویر :سردار ساجد محمود خان

    ہرو کے ساتھ ساتھ بارشی پانی والی زمین جہاں ہرو جنوب کی طرف رخ کرتا ہے بہت بیکار زمینیں ہیں، مشکل سے ہی کوئی ہموار زمین ملتی ہے۔اچھی زمینیں وہی ہیں جو ندی اور نالوں کے کناروں پر ہیں۔زمین کی خاصیت کی وجہ سے جو بھی تبدیلیاں ہیں سب کا انحصار بارش ہر ہے۔

    اس علاقے کے مغرب میں اچھی زمین ہونے کے باوجود ایک سال وہاں فصل نہیں ہوئی دوسرے سال فصل اتنی تھی کہ سنبھالنی مشکل ہو گئی۔

    فتح جنگ نلہ

    فتح جنگ نلہ چونے کے پتھر کی ان چٹانوں کی خاصیت کا حامل ہے جو زمین کے نیچے موجود ہے۔

    یہ زمین جو چونے کے پتھر سے بنی ہے اس زمین سے جو کالا چٹا کے جنوب میں ہے بدرجہا بہتر ہے۔

    یہ علاقہ ہر جگہ ندی نالوں سے بھرا پڑا ہے۔مغرب کے طرف کنکریلی ٹیکریاں ابھرتی نظر آتی ہیں۔

    بے شمار ندیوں کی بدولت اس علاقے میں آبپاشی اچھی ہوتی ہے اگرچہ یہ ندی نالے کم بارش کے موسم میں خشک رہتے ہیں پھر بھی ان میں گہرے جوہڑ تالاب اِدھر اْدھر مل جاتے ہیں۔

    اپنے کناروں کے اوپر والی زمین کے لیئے بہت کار آمد ہیں جب کے نالوں کے اندر جگہ جگہ کنوئیں بھی موجود ہیں۔

    اس علاقے کا مرکز باہتر کے ارد گرد ہے۔یہ ضلع کا زرخیز ترقی والا علاقہ ہے جو کالا چٹا سے جنوب کی طرف واقع ہے۔

    مشرق کی طرف یہ راولپنڈی کے کھروڑا سرکل کی طرح خشک ہوتا ہوا ختم ہو جاتا ہے جو کہ عام سی بات ہے۔

    گھیپ کا علاقہ۔

    کھیری مورت اور کالا چٹا کے درمیانی علاقہ کو گھیپ کا علاقہ کہتے ہیں۔

    راولپنڈی کے کھروڑا کی طرح اس کی زمین خشک اور پتھریلی ہے جس کا مشرقی حصہ ریتلا  مگر زرخیز ہے۔

    جب کہ مغرب کی طرف سخت اور خشک ہو جاتی ہے۔ عام طور پر زمین بہت اچھی ہے اور صرف معمولی بارش میں بھی زیادہ فصل دیتی ہے لیکن خشک سالی اور تیز گرم دھوپ کو برداشت نہیں کر سکتی۔

    گھیپ میں پانی کی کمی ہے چند ایک دیہات میں تو پینے کا پانی بھی میسر نہیں۔

    جندال کا علاقہ۔

    جندال کے دیہات باقی ضلع کے دیہات سے بہت مختلف ہیں۔

    چٹانیں کہیں کہیں نظر آتی ہیں علاقہ کا زیادہ حصہ ایک گھومتی ہوئی ریت کا میدان ہے۔کنوئوں اور چشموں سے بہت کم آبپاشی ہوتی ہے لیکن زیادہ تر چنے کی کاشت کا وسیع علاقہ ہے۔

    خریف کی فصل کی اہمیت کم ہے گندم اگائی جاتی ہے لیکن اہم پیداوار چنا ہے۔

    ضلع کا بقیہ علاقہ۔

    جہاں تک زمین کا تعلق ہے تو باقی ماندہ کی تمام زمین ایک ہی قسم کی ہے ہلکی چکنی مٹی ہے جس میں زمین کے اندر کی ریتلی چٹانوں کی خاصیت پائی جاتی ہے۔

    جو تمام علاقے میں کہیں کہیں ابھری ہوئی نظر آ جاتی ہے۔گہری جگہوں پر زمین بھی گہری ہے۔

    علاقہ کی سطح پر بے شمار ندیاں اور نالے بہتے ہیں۔بڑی ندی کے اکثر بہت چوڑے اور ریتلے پارٹ ہوتے ہیں جو چپٹی یا تنگ پٹیوں میں پھیلے ہوتے ہیں ان کی مٹی زیادہ زرخیز ہوتی ہے ان پٹیوں پر کنوئیں کھودے جاتے ہیں۔

    ندیوں کے پاٹوں سے زمین خشک اور کٹی پھٹی ڈھلانوں کی شکل میں ابھرتی ہے جس کی مٹی ہلکی ہلکی چکنی ہوتی ہے۔

    اکثر جگہوں پر پانی کا بہاؤ انھیں بہا لے جاتا ہے اور نیچے سے چٹان نکل آتی ہے۔بناوٹ میں مکھڈ کا علاقہ باقی علاقوں سے مختلف ہے۔علاقہ جنگلی اور پہاڑی ہے زمین ریتلی ہے زراعت کے لیئے بہت گہری جگہوں پر موجود ہے۔

    صرف پتھریلی چٹانوں کی ٹیکریوں پر یا ان گہری وادیوں میں جہاں بند باندھ کر دریائی مٹی روک کر زمین بنائی گئی ہو وہاں زراعت ہوتی ہے۔

    زمین کی اقسام.

    (آبپاشی والی زمینیں)

    چاہی-

    تمام وہ زمینیں جن کی آبیاری کنوئوں سے کیجاتی ہے۔

    آبی-

    وہ زمینیں جن کی آبیاری کنوئوں یا نہروں کے علاؤہ کی جاتی ہو۔

    نہری-

    نہروں سے آبپاشی والی زمینیں ان تحصیلوں میں کوئی نہیں۔

    سیلابی-

    وہ زمینیں جن پر ندی نالوں کا پانی چڑھتا ہے یا وہ جن میں پانی کی زیادتی کی وجہ سے ہمیشہ نمی رہتی ہے۔

    لپاڑہ-

    وہ زمین جو دیہات کے ارد گرد ہوتی ہے گاؤں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے اور قدرتی کھاد ڈالنے کی وجہ سے زرخیز ہوتی ہیں اور ایسی زمینیں دوہری فصلیں حاصل کرنے کے لیئے استعمال ہوتی ہیں۔

    لس-

    ایسی گہری زمینیں جو زمینوں سے پانی حاصل کرتی ہیں یا وہ زمینیں جن کے کنارے اونچے کیئے گئے ہوں تا کہ وہ بہنے والے پانی کو محفوظ کر سکیں، ایسی زمینیں اکثر اچھی صفات کی حامل ہوتی ہیں۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔

  • جنگل اور جنگلی حیات

    جنگل اور جنگلی حیات

    آج کی یہ تحریر عمومی طور پر تمام قارئین کے لئے اور خاص طور پر ان لوگوں کے لئے ہے جو تاریخ کے ساتھ ساتھ جغرافیہ سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس مضمون میں ضلع اٹک کے جنگلات میں پائے جانے والے درخت اور جڑی بوٹیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات (جانور اور پرندے) پر بھی گہری تحقیق پیش کی گئی ہے۔

    بیر: بیر کا عام درخت ہر جگہ ملتا ہے۔ پتے اور ٹہنیاں چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہے جبکہ لکڑی گھر بنانے اور جلانے کے کام آتی ہے۔ اسکا پھل بھی کھانے کے لئے مفید ہے۔ اسکی ایک چھوٹی قسم کو بیری کہتے ہیں۔ اسکے خشک پتے اور ٹہنیاں زخیرہ کر کے جانوروں کا چارہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی بقایا ٹہنیاں باڑ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ پھل اگرچہ چھوٹا ہوتا ہے لیکن شوق سے کھایا جاتا ہے۔

    دھریک: یہ درخت عام طور پر خود بخود نہیں اُگتا بلکہ اسے خاص طور پر اُگایا جاتا ہے۔ یہ تیزی سے بڑھتا ہے اور سایہ دار درخت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسکی لکڑی کم اہمیت کی حامل ہے لیکن حلقے شہتیر اور دوسرے کاموں میں استعمال ہوتی ہے خاص طور پر ہل کے لئے” پنجالی” بنانے کے کام آتی ہے۔ بوہڑ پیپل کے درخت بھی کم مقدار میں ملتے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے اور اٹک تحصیل کے کچھ علاقے میں توت کا درخت بھی پایا جاتا ہے جو باقی علاقوں میں کم ہے۔

    لانہ: دریائے سندھ کے نذدیک اگنے والا کلری زمین کا ایک درخت ہے جہاں اور کوئی دوسری چیز پیدا نہیں ہوتی۔ جہاں یہ درخت ہوگا ظاہر کرے گا یہ کلر والی اور نمکین زمین ہے۔ مویشیوں کے چارے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

    گھنیرا: خوبصورت گلابی اور سفید پھولوں والی یہ جھاڑی اکثر ندی نالوں کے اندر زیادہ مقدار میں ملتی ہے۔ اس کے پتے زہریلے ہوتے ہیں اور ضلع میں پائے جانے والے تمام جانور اسکو نہیں کھاتے۔ اس کی ٹہنیوں اور تنوں کو تمباکو پینے والے پائپ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    آک: یہ بنجر اور ناہموار زمین پر اگنے والی چوڑے پتوں کی ایسی جھاڑی ہے جس کا تنا لکڑی جیسا ہوتا ہے۔ عام طور پر غیر مفید بوٹی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن اس سے کچھ فائدے اور مقاصد بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس کی ٹہنیاں جلانے کے کام آتی ہیں۔ بکریاں کڑوے پتے کھاتی ہیں۔ اس سے دھاگا یا ریشہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جو روئی جیسا نرم ریشہ ہوتا ہے جو گٹھڑیوں میں بند ہوتا ہے۔ نرم و گداز گدے اور تکئے بنانے کے کام آتا ہے۔

    پوہلی: ایک کانٹے دار پودا جو کسی بھی کانٹے دار پودے سے مماثلت نہیں رکھتا۔ اپنے خوبصورت پیلے پھولوں کے ساتھ ربیع کی فصل کے دوران ضلع کے تقریبا” ہر علاقے میں پیدا ہوتا ہے۔ جانوروں کا چارہ بھی بنتا ہے۔ اسکے بیج خوراک کے طور پر اکثر خشک سالی میں استعمال ہوتے ہیں۔

    بھوکاٹ: یہ پیاز جیسی بن بلائی جڑی بوٹی ہے جو گندم کے کھییتوں میں تمام خالی جگہوں کو بھر لیتی ہے۔ اسکے کالے بیج پیس کر کھانے میں بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔

    بھکڑا: یہ ایک عام قسم کی بوٹی ہے جو خزاں کے دنوں میں بہتات سے ہوتی ہے۔ اس کے بیج تکونی شکل کے کانٹے دار ہوتے ہیں۔ قحط اور خشک سالی کے دنوں میں یہ بیج پیس کر آٹے میں ملا کر پکائے جا سکتے ہیں۔

    کھبل: گھوڑوں اور مویشیوں کی خوراک ہے۔ بہت کم مقدار میں کھیتوں کے گرد اگنے والا چھوٹا گھاس ہوتا ہے۔ بارش کے دنوں میں زیادہ بڑھتا ہے اور سارے سال میں بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    تھوہر: یہ بنجر علاقوں میں بہت عام ہے۔ فائدے کے نسبت زیادہ نقصان دہ ہے لیکن جب مویشیوں کے کھانے کو کچھ نہ ہو تو چارے کے طور ہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    جنگلی حیات:

    اُڑیال / ہُڑیال: ضلع میں بہترین شکار ہے۔ کالاچٹا اور اسکی زیلی پہاڑیوں، نرڑا کے علاقے اور کوہستان نمک میں پانی کے نزدیک پہاڑوں پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات ندی نالوں کے کناروں، جہاں چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں ہوں جیسے تحصیل پنڈی گھیپ کے جنوب مغرب میں بھی ملتا ہے۔

    لومڑ: ضلع میں تیزی سے ہونے والی آبادکاری کی وجہ سے اب کافی کم مقدار میں موجود ہے لیکن ضلع کے تمام علاقوں میں کم و بیش پایا جاتا ہے۔ جبکہ گیدڑ پورے ضلع میں اکثر مقامات پر پایا جاتا ہے۔ بنیادی طورپر بزدل ہونے کی وجہ سے کم نظر آتا ہے لیکن اسکی آوازیں سنی جاتی ہیں۔

    خرگوش: تمام چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور ڈھلانوں کے علاوہ بھی ہر جگہ ملتا ہے لیکن کم تعداد میں موجود ہے۔

    کبوتر: پرندوں میں یہاں قابل زکر "جنگلی کبوتر” ہے۔ یہ ایک پہاڑی کبوتر ہے جسے عرف عام میں "جنگلی کبوتر” کہتے ہیں۔ کالا چٹا کے پہاڑوں میں زیادہ تعداد میں موجود ہے۔

    تیتر / کالا تیتر اور چوکور: یہ کالا چٹا میں عام ہے۔ نرڑا کی پہاڑیوں کے علاوہ عام جگہ پر بھی تیتر ملتا ہے جبکہ چوکور صرف پہاڑوں میں ملتا ہے۔ بھورے رنگ کا تیتر پورے ضلع میں عام ہے لیکن کالا تیتر نہ ہونے کے برابر پایا جاتا ہے۔

    بٹیر اور کھڑ مور : بہار اور خزاں کے موسم میں پورے ضلع میں بٹیر بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ انکا شکار سواں جھیل میں عام طور پر ہوتا ہے۔ اٹک تحصیل میں اٹک قلعہ کے آس پاس اور پنڈی گھیپ کے مغربی علاقوں میں کبھی کبھار ملتا ہے۔

    اسکے ساتھ ہی ہمارا آجکا یہ مضمون مکمل ہوتا ہے۔ آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ نیچے کمنٹس میں آپنی رائے کا اظہار ضرور کریں تاکہ آپکی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے دیگر موضوعات پر بھی لکھا جائے۔

  • کالا چٹا پہاڑ

    کالا چٹا پہاڑ کے متعلق دلچسپ معلومات آج کا یہ مضمون عمومی طور پر تمام قارئین کے لئے اور خصوصی طور پر انکے لئے پیش کر رہی ہوں جو شدت سے اس کے منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی معزرت خواہ ہوں کہ آپکے بے حد اصرار کے باوجود تحریر کرنے میں تاخیر ہوئی۔ البتہ ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ مضمون آپکی دلچسپی میں خاطر خواہ اضافہ کرے گا۔ مندرجہ ذیل مضمون میں کالا چٹا پہاڑ کے متعلق انتہائی دلچسپ معلومات پیش کی جارہی ہیں۔ شمالی میدان کے جنوب میں کالا چٹا کا سلسلہ ہے جو شرقا” غربا” پھیلا ہوا ہے۔ اس پہاڑی سلسلہ کی چٹانیں اور پتھر دو رنگوں پر مشتمل ہے، سیاہی مائل / بھورے اور سفید، اسی وجہ سے اسکا نام کالا چٹا ہے۔ یہ سلسلہِ کوہ گھنے اور پستہ قد درختوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ لیکن کہیں کہیں سے سبزے سے بالکل محروم نظر آتا ہے۔ اس پہاڑی سلسلہ میں مختلف درخت پائے جاتے ہیں جن میں سے قابل ذکر "گنگھیر” یا "گنگھور” کا درخت ہے جس کے ساتھ کالے رنگ کا فالسے کے برابر پھل لگتا ہے، جو بے حد لذیذ لگتا ہے۔ یہ درخت پاکستان میں اور کہیں نہیں ہوتا۔ یہاں ایک اور درخت "کاہو” بھی پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ اس کے پتوں کی چائے اور قہوہ بنا کر بھی استعمال کرتے ہیں۔ (کچھ لوگ اس درخت کا تعلق زیتون کے درخت کے خاندان سے بتاتے ہیں)۔ اس سلسلہِ کوہ میں مختلف قسم کے جانور پائے جاتے ہیں۔ جن میں ہرن، ساہنبر، اڑیال وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ پرندوں میں یہاں تیتر چکور اور باز ملتے ہیں۔ کالا چٹا پہاڑ کا نصف شمالی حصہ سوائے چند گاوں کے جو تحصیل فتح جنگ میں شامل ہیں اور ہزارہ کی پہاڑیوں کا تمام علاقہ اس تحصیل میں شامل ہے۔ سب سے اہم پہاڑی سلسلہ کالا چٹا پہاڑ ہے۔ پہاڑوں کی دیوار ضلع کے شمال کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور تحصیل اٹک کو دوسری تحصیلوں سے جدا کرتی ہے۔ جنوب مغربی حصہ کالا پہاڑ کہلاتا ہے جو کہ عام طور پر کالے ریتلے پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ بعض جگہ پر سخت گرم موسم کی وجہ سے اسکا رنگ نارنجی اور کہیں کالا ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ کچھ خاکی رنگ کا ریتلا پتھر اور لال مٹی بھی پائی جاتی ہے۔ یہ حصہ دریائے سندھ سے جنوب کی طرف سے شروع ہوتا ہے اور تحصیل پنڈی گھیپ کی حدود سے گزرتا ہوا گگن گاؤں تک ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 35 میل اور چوڑائی 4 میل ہے۔ سفید یا چٹا پہاڑ جو کہ اس سلسلہ کا زیادہ حصہ ہے، پورے سلسلے میں شمال کی طرف لمبائی میں پھیلا ہوا ہے۔ دریائے سندھ کے ساتھ اس کی چوڑائی تقریبا” 8 میل ہے۔ یہ پہاڑ سفیدی مائل چونے کے پتھروں سے بنا ہوا ہے۔ اس لئے اسے چٹا پہاڑ کہتے ہیں۔ لیکن اسکے درمیانے حصہ میں کالے پتھروں کے کچھ حصے بھی ملتے ہیں۔ اس پہاڑی سلسلے کا یہ ایک اہم حصہ ہے۔ چونے کے پتھر سے چونا بنانے کی بھٹیاں موجود ہیں اور جنگلی پیداوار کے لحاظ سے کالے پہاڑ سے بدرجہا بہتر ہے۔ کالے پہاڑ میں یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔ ریتلے پہاڑوں پر پھلاہی کے درختوں کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آتی ہے، سوائے چند ایک غیر مفید جھاڑیوں کے۔ جبکہ گھاس بھی کہیں کہیں کم نظر آتی ہے۔ چونے کے پتھر کے پہاڑ یعنی چٹا پہاڑ کی شمالی ڈھلانوں پر بہت زیادہ مقدار میں پھلاہی کے درخت ہیں۔ علاوہ ازیں کاہو (جنگلی زیتون)، سنتھا اور دوسری جھاڑیاں بھی بہت زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔ یہ سلسلہ چھوٹی پہاڑی ڈھلانوں سے بنا ہوا ہے جن کے درمیان بہت سی وادیاں ہیں۔ کچھ وادیاں کافی پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں کافی مزروعہ زمین بھی ہے۔ مشرقی طرف کی پہاڑیاں بہت کم اونچی ہیں۔ عام سطح بہت ہی کٹی پھٹی اور بنجر ہے۔ ان پہاڑوں کے درمیان ندیاں بھی ہیں جو ان ہی سے نکلتی ہیں لیکن کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں۔ نندنہ، گڑھی حسو کی پہاڑیوں کو کاٹتا ہوا بہت گہرائی میں اور تیزی سے شمال کو بہتا ہے۔ کھیری مورت سے شروع ہوتا اور دریائے ہرو میں جا گرتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عمارتی لکڑی نہیں ملتی لیکن یہ جنگلات ارد گرد کے علاقوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ کیمبل پور کا ریلوے اسٹیشن جو کہ شمال مغربی ریلوے لائن پر واقعہ ہے ان جنگلات سے حاصل شدہ لکڑی کو دوسرے علاقوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اٹک خورد ریلوے سٹیشن سے شروع ہونے والا یہ سفر کیمبل پور ریلوےاسٹیشن پر تمام ہوتا ہے۔ اس کے بعد ریلوے لائن کئی پہاڑی سلسلوں سے ہو کر گزرتی ہے جن میں 7 سرنگیں ریلوے انجنیرنگ کا عمدہ شاہکار ہے۔ ہمارا اگلا مضمون انہی پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہوگا۔