نوکِ سناں پہ بولا سچ مچ
اللّٰہ والا سارا سچ مچ
سر ہے جس کا نیزہ پر وہ
چھ ماہ کا ہے بچہ سچ مچ
کُتبِ الٰہی سب ہیں کہتی
آلِ نبی ہے بالا سچ مچ
وجہہ اللّٰہ کا خون ہے اس میں
حق کی خاطر لڑنا سچ مچ
کربل تیرا پاک گھرانہ
سب کا منصب اعلیٰ سچ مچ
نانا سے جو عہد کیا تھا
کر دیا آپ نے پورا سچ مچ
بَن میں تنہا قتل ہوا جو
زہرا کا ہے بیٹا سچ مچ
جنّت کا بھی مالک ہے یہ
کہتا ہے یہ مولا سچ مچ
کوثر کی جب چاہت ہو تو
شاہ سے الفت کرنا سچ مچ
کربل میں گر ہم ہوتے تو
دیتے جاں نذرانہ سچ مچ
باطل بلکل بول نہ پایا
سن کر خطبہ شاہ کا سچ مچ
رات کو روئے دن کو روئے
لحد میں بی بی زہرا سچ مچ
کربل حق کا رستہ ایسا
میرے من میں چمکا سچ مچ
کر مقبول محبّت روح سے
در ہے ان کا ایسا سچ مچ
چاہت سے مقبول کا دیکھو
کربل آنا جانا سچ مچ

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |