حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس

سیدزادہ سخاوت بخاری

نبی سلیمان حضرت داود کے بیٹے اور ان کا شجرہ یہودا سے ہوتا ہوا حضرت ابراھیمؑ سے جا ملتا ہے ۔ آپ بنی اسرائیل کے بادشاہ اور نبی ہوگزرے ہیں ۔ آپ کے والد حضرت داود ؑبھی بنی اسرائیل کے بادشاہ اور خدا کے نبی تھے ۔ حضرت داودؑ کو اللہ نے لحن عطاء کیا تھا یعنی وہ اسقدر خوش آواز تھے کہ لحن داودی ایک مثال بن گیا ۔  خوش گلو ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ طاقت بھی بخشی گئی تھی کہ وہ پتھروں اور لوہے کو ہاتھ سے موڑ توڑ لیتے تھے ۔

حضرت سلیمانؑ اپنے والد داودؑ کے بعد بنی اسرائیل کے بادشاہ بنے اور انہیں نبوت عطاء ہوئی ۔ اللہ نے آپ کو ھوا ، جنات ، پرندوں اور جانوروں تک پہ حکمرانی عطاء کی ۔ آپ پرندوں اور جانوروں کی بولیاں سمجھ لیتے تھے ۔ جنات آپ کے حکم سے عمارات بناتے ، سمندر سے موتی نکال کر لاتے اور ہر وقت دست بستہ آپ کے دربار میں کھڑے رہتے ۔ چونکہ ہوا بھی آپ کے تابع تھی لھذا آپ کا لکڑی سے بنا ایک بہت بڑا تخت ہوا میں اڑتا رہتا اور صبح سے شام تک ایک مہینے کی مسافت طے کرلیتا تھا ۔

اس سے قبل کہ ہم کہانی کو سبا کی ملکہ بلقیس تک لیجائیں ، قارئین کی دلچسپی کے لئے یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ عرب اسرائیل یا مسلمانوں اور یہودیوں کی تاریخی دشمنی اور مسئلہ فلسطین کی نظریاتی بنیادیں انہی حضرت سلیمان ؑکے دور حکومت سے جا ملتی ہیں ۔

ہوا کچھ یوں کہ حضرت سلیمان ؑنے فلسطین کے شہر یروشلم کے مشرقی حصے میں  ایک عمارت تعمیر کی جسے تاریخ میں  ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس عمارت کا بنیادی مقصد عبادت اور تابوت سکینہ کے لئے ایک محفوظ جگہ مہیاء کرنا تھا ۔

تابوت سکینہ نامی یہ مقدس صندوق  جو حضرت آدم ؑکو دیا گیا اور ان سے ہوتا ہوا حضرت سلیمانؑ تک پہنچا ، اس میں مختلف  انبیاء کرام کے تبرکات ، حضرت موسیؑ کا عصاء اور تورات کا اصلی نسخہ رکھا تھا ۔ یہ عمارت حضرت سلیمان ؑنے جنات سے تعمیر کرائی ، جو دور دراز پہاڑوں سے بڑی بڑی چٹانیں اٹھا کر لائے اور پھر گہرے سمندروں سے موتی نکال کر اس کی تزئین و آرائیش کی ۔

چونکہ یہ عمارت بنی اسرائیل کے نبی نے تعمیر کی تھی اور اس کے اندر تابوت سکینہ رکھا تھا لھذا اسرائیلی قوم کے نزدیک یہ ایک متبرک ترین عبادت گاہ کا درجہ حاصل کرگئی لیکن جب یہودیوں نے حسب عادت دوسری قوموں کو تنگ کرنا شروع کیا تو بابل  ( عراق )کے بادشاہ نبو کد نصر یا بخت نصر نے یروشلم پر چڑھائی کرکے نہ فقط شہر کی اینٹ سے اینٹ سے بجادی بلکہ ہزاروں یہودیوں کو تہہ تیغ کرنے کے ساتھ ساتھ ہیکل سلیمانی کو تباہ کرکے تابوت سکینہ اپنے ساتھ بابل لے گیا ۔ یاد رہے یہ ھیکل دو بار تعمیر ہوا اور دو بار یعنی شاہ بابل بخت نصر اور رومیوں کے ھاتھوں تباہ ہوا ۔ یہ سب واقعات قبل از اسلام کے ہیں ۔

تاریخ کی گہرائی میں جائیں تو علم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت سلیمانؑ کے جد امجد حضرت یعقوبؑ نے اس جگہ مسجد تعمیر کرکے اللہ کی عبادت شروع کی اور اس کے بعد حضرت سلیمان ؑنے اسے دوبارہ تعمیر کرایا ۔ یہودںی اسے ہیکل سلیمانی تو   ہم مسلمان ، مسجد اقصی کہتے ہیں کیونکہ واقعہ معراج النبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مناسبت سے سورة اسراء میں اسے یہ نام دیا گیا ۔

” پاک ہے وہ ذات جو رات ہی رات میں لے گیا اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک “

اگر غور کریں تو چند سطور قبل میں نے یہ بات کہی کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین نزاع کی جڑیں حضرت سلیمان ؑکے دور تک جاتی ہیں ۔ امید ہے اس عمارت کی تعمیر و تقدیس کا احوال سن کر یہ بات آپ پر واضع ہوگئی ہوگی کہ اصل جھگڑا اس بات پر ہے کہ یہاں کبھی یہودیوں کی مقدس ترین عمارت ہیکل سلیمانی تھی جسے ہم نے مسجد اقصی یا بیت المقدس  کا نام دے کر اپنا قبلہء اول قرار دے دیا ۔

مسجد اقصی کی پہلی تعمیر نو حضرت عمرؓ اور پھر اموی خلیفہ عبدالملک کے دور میں ہوئی ۔ عبدالملک کے بعد اس کے بیٹے ولید بن عبدالملک نے اسے مکمل کیا اور پھر عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے تزئین و آرائیش کی مگر صلیبی جنگوں کے دوران عیسائی حکمرانوں نے اسے کلیسا میں تبدیل کردیا تا آنکہ صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد اسے اس کی اصل شکل میں بحال کردیا ۔

بات چل نکلی ہے تو ایک  غلطی کا ازالہ بھی کرتا چلوں اور وہ اسطرح کہ جہاں مسجد اقصی واقع ہے اسی احاطے میں کچھ دیگر عمارات بھی ہیں مثلا قبة الصخرا ء جسے یہودی اور عیسائی Dome of the Rock کہتے ہیں اور اس کے اوپر پیلے رنگ کا گنبد ہے ۔ یاد رکھئیے پیلے رنگ کے گنبد والی عمارت مسجد اقصی نہیں ۔ کم علمی کی وجہ سے مسلمان چھاپہ خانوں نے اسکی تصویریں  مسجد اقصی کے طور پر چھاپ دیں ہیں جبکہ مسجد اقصی نیلے مائیل رنگ کے گنبد والی ایک الگ عمارت ہے  اور یہودیوں کے منشور میں ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ اسے گراکر ہم دوبارہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرینگے ۔

al-aqsa-mosque
Image by Martin Forciniti from Pixabay

آئیے اب اصل کہانی کی طرف  اور چلتے ہیں دنیائے عرب کے قدیم ترین ملک یمن جہاں صنعاء اور حضرموت کے درمیان سبا بن یشجب نامی ایک عرب شخص کے نام کی  مناسبت سے سبا قبیلہ آباد تھا اور پھر اس خطے کو سبا  ہی کا نام دے دیا گیا ۔ یہ لوگ سورج دیوتا کی پوجا کرتے تھے ۔ اگرچہ قرآن کی سورة نمل میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے مگر تفاصیل ہمیں تورات سے ملتی ہیں جن کے مطابق وہاں بلقیس نامی ایک خوبرو خاتون ان کی حکمران تھی ۔

ایک دن کا واقعہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے دربار لگایا تو جن و انس ، جانور اور پرندے سب کے سب حاضر ہوئے مگر ان کا چہیتا پرندہ ہد ہد غائب تھا ۔ آپ نے پوچھا ہد ہد کہاں ہے ۔ جب وہ نظر نہ آیا تو سلیمان علیہ السلام نے فرمایا ، اگر وہ اپنی غیر حاضری کی معقول وجہ پیش نہ کرسکا تو اسے ذبح کردیا جائیگا ۔ ابھی یہ گفتگو ہورہی تھی کہ ہدہد حاضر ہوگیا ۔ پوچھا گیا ، تم کہاں تھے ۔ ہدہد نے بڑے احترام سے جواب دیا۔  اے اللہ کے پیغمبر میں اڑتے اڑتے ایک ایسے ملک  پہنچ گیا جہاں لوگ شرک میں مبتلاء دیکھے ۔ وہ آگ اور سورج کی پوجا کرتے ہیں ۔ ان کی ایک رانی ہے جسے وہ بلقیس کے نام سے پکارتے ہیں ۔ وہ ایک بہت بڑے تخت پر بیٹھ کر حکومت کرتی ہے ۔ اس کے تخت میں قیمتی ہیرے ، جواھرات اور لعل و زمرد جڑے ہوئے ہیں اور اس کے پاس تمام شاہی سامان آرائیش و نمائیش موجود ہیں ۔

حضرت سلیمان نے کہا اگر تمہاری بات سچ ہے تو میرا خط اس ملکہ تک پہنچاو تاکہ وہ شرک سے باز آجائیں ۔اور خط پہنچانے کے بعد وہاں بیٹھ کر سنو وہ کیا ردعمل اختیار کرتے ہیں اور پھر آکر مجھے خبر دو۔ 

حضرت سلیمان ؑنے ملکہ بلقیس کو مخاطب کرکے لکھا

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

یہ عزت والا خط سلیمان کی طرف سے ہے اور اگر تم اپنے آپ کو  بڑا نہیں سمجھتے ہو تو فورا میرے دربار میں حاضر ہوجاو ۔ یہ خط دراصل ملکہ سبا اور اس کی قوم کی طرف دعوت اسلام تھی ۔ انہیں شرک سے ہٹاکر توحید کی طرف لانا تھا ۔

ہد ہد نے خط لے جاکر ملکہ بلقیس کی گود میں گرادیا ۔ ملکہ کے دربار میں اس وقت 300  کے قریب سردار بیٹھے تھے ۔ انہوں نے جب خط کا متن سنا تو طیش میں آگئے اور کہا کہ یہ ہماری توہین ہے ہمیں اس کا سخت جواب دینا چاہئیے مگر ملکہ بہت سمجھمدار تھی اس نے انہیں سمجھایا کہ خط سے پتہ چل رہا ہے یہ کوئی عام شخص نہیں خدا کا پیغمبر ہے لھذا ہمیں حکمت سے کام لیکر  اسے آزمانا چاہئیے اگر سچا نبی ہوا تو ہم ایمان لے آئینگے ۔ ہد ہد یہ ساری گفتگو سن رہا تھا اس نے آکر حضرت سلیمان کو ساری بات بتادی۔

ملکہ بلقیس نے ایک وفد تیار کیا جس کے ھاتھ نہایت قیمتی تحفے ، غلام اور لونڈیاں حضرت سلیمانؑ کی خدمت میں روانہ کئے گئے ۔ ادھر سلیمان علیہ السلام نے وفد کا ایسا شاندار استقبال کیا کہ وہ انگشت بدنداں رہ گئے ۔ یاد رہے حضرت سلیمان ؑاس وقت  دنیاء میں سب سے امیرترین شخص تھے ۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ مجھے خدا نے وہ کچھ دیا ہے جس کا بلقیس تصور تک نہیں کرسکتی اس لئے یہ سب تحائف واپس لے جاو اور اپنی ملکہ سے کہ دو ہم لشکر لے کر آرہے ہیں ۔

وفد جب واپس چلاگیا تو حضرت سلیمان ؑنے اپنے وزیروں اور جنات کو بلاکر کہا ، تم میں سے کون ہے جو ملکہ بلقیس کا تخت اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے لے آئے ۔ ایک جن نے کہا ، حضور میں دن ڈھلنے سے پہلے لاسکتا ہوں ۔ سلیمان ؑ کا ایک وزیر تھا آصف بن برخیا ، اس نے کہا میں پلک جھپکبے سے پہلے لاسکتا ہوں میرے پاس صحیفوں کا علم ہے ۔اور ایسا ہی ہوا ۔ حضرت سلیمان ؑنے حکم دیا اور  تخت ان کے سامنے موجود تھا ۔

قارئین کرام

اس واقعے پر تعجب اور تششک میں پڑنے کی بجائے ہمیں علوم و فنون کی حیثیت و اہمیت کو تسلیم کرلینا چاھئیے ۔ ہم اگر آج آصف بن برخیاء کے علم پر حیراں ہونگے تو کیا اس زمانے کا کوئی شخص آج کی ایجادات ، ریڈیو ، ٹی وی ، ہوائی جہاز اور موبائل فون کا تصور کرسکتا تھا ؟ اگر اس دور میں کوئی دعوی کرتا کہ میں پلک جھپکتے آپ کو ایک چھوٹی سی اسکرین پر ہزاروں میل دور بیٹھے  امریکی صدر کی تقریر سنا سکتا ہوں تو شاید کوئی بھی یقین نہ کرتا کیونکہ ٹیلیوژن ایجاد نہیں ہوا تھا ۔

حضرت سلیمان ؑنے تخت حاضر ہوجانے کے بعد اس پر لگے ہیرے جواھرات اور دیگر قیمتی اشیاء کو ہٹانے کا حکم دیا تاکہ اس کی شناخت باقی نہ رہے اور ملکہ کا امتحان لیا جاسکے ۔ چنانچہ جب ملک حاضر ہوئی تو اس کا پرتپاک استقبال ہوا ۔ اسے ایک ایسے محل میں لیجایا گیا جس کا فرش ایک مخصوص  شیشے کا بنا ہوا تھا جسے دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ شاید پانی کا چھوٹا سا تالاب ہے لھذا جب ملکہ اس محل میں داخل ہوئی تو فریب نظر کا شکار ہوکر اپنی میکسی

( لباس ) کو دونوں ہاتھوں سے اوپر سرکا لیا تاکہ بھیگ نہ جائے لیکن اس پر قدم رکھنے کے بعد ، اسے یہ جان کر حیرت اور شرمساری محسوس ہوئی کہ یہ پانی نہیں بلکہ فرش پہ لگے شیشے کا عکس ہے ۔

تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کو سائنس پر بھی عبور حاصل تھا اور ان کی حکومت کی بعض صنعتوں میں جنات کام کرتے تھے ۔ ھیکل سلیمانی کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سینکڑوں من بھاری پتھر ، موتی اور ان کے محلات میں بنے شیشے کے فرش اس تاریخی روایت کی تصدیق کرتے ہیں ۔

بات ہورہی تھی ملکہ بلقیس کی ، تو جب اسے اس کا تخت دکھایا گیا جس کی شکل بہ ظاہر تبدیل کردی گئی تھی لیکن اس نے اپنی ذھانت سے اسکو پہچان لیا اور اسے اس بات کا یقین ہوگیا کہ جو شخص اس کے اتنے بھاری بھرکم تخت کو اتنی کم مدت میں یمن سے 1500 میل دور یروشلم کے شہر لاسکتا ہے وہ یقینا خدا کا پیغمبر ہے ۔ یہ سب معجزات دیکھ کر وہ اور اس کے تمام لشکری حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے اور کفر و شرک کی دنیاء چھوڑ کر توحید کا پرچم تھاما ۔ تاریخ میں لکھا ہے کہ بلقیس نے حضرت سلیمان ؑسے شادی کرکے باقی زندگی ان کے حرم میں گزاری ۔

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

مسقط، سلطنت آف عمان

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

One thought on “حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس

Comments are closed.

Next Post

نماز شب موجب رضائے الہٰی

جمعہ دسمبر 10 , 2021
حدیثِ پاک کی رو سے نمازِ شب پڑھنے والا جہاد کرنے والے شخص کے برابر اجر حاصل کرتا ہے ۔ اور یہ اجر اللہ تعالی کی خوشنودی ہے
morocco