سند باد

تحریر و تحقیق : شاندار بخاری

مقیم مسقط

سندباد کا نام سنتے ہی ذہن میں خیال آتا ہے کہ کوئی ایسا شخص ہوگا جو کشتی میں سوار دنیا کی سیر کرتا تھا ، بھٹکے ہوئے بحری جہازوں کو راستہ دکھاتا تھا ، بحری قزاقوں سے لڑتا تھا ، ان سے لوٹا ہوا خزانہ مال و جواہر کسی دوردراز خفیہ جزیرے پر جمع کر رکھتا تھا ، دیوہیکل وہیل مچھلیوں کے ساتھ تیرتا تھا تو اگر ایسا تھا تو آپ کا خیال بالکل درست ہے کچھ ایسے ہی تھے حضرت سندباد صاحب تو آئیے آج میں آپ کو ان کی کہانی اور ان سے منسوب دیگر کہانیوں کو تحریری شکل دے کر آپ سے ان کی ملاقات کرواتا ہوں جو کہ یقینا آپ کو پسند آئے گی۔

سندباد جہازی
سندباد جہازی

یوں تو سندباد کو لے کر کئی  کہانیاں موجود ہیں جن میں سرفہرست ألف ليلة وليلة ہے کہا جاتا ہے کہ ایران کے بادشاہ شہریار اپنی بیگمات کو ایک مخصوص مدت کے بعد قتل کروا دیتے تھے تو موت سے بچنے کیلئیے ایران کی ملکہ شہرزاد نے یہ الف لیلا کی کہانیوں کا سلسلہ شروع کیا اور ہر روز ایک نئی کہانی سنا کر اپنی جان بچا لیتی تھی ، اس کے علاوہ ھارون الرشید کے زمانے کے قصوں میں بھی سند باد کا ذکر ملتا ہے ، ہالی ووڈ میں اس پر فلمیں بھی بنیں اور کئی مصوروں نے اپنی حکایات میں ان کی تصویریں بنا کر شامل کیں لیکن جو واقع اور قصہ سب سے دلچسپ ہے وہ سر زمین عرب میں واقع ملک سلطنت عمان سے وابستہ ہے تو آئیے آپ کو وہاں لے چلتے ہیں۔

 بادشاہ شہر یار اور ملکہ شہرزاد
بادشاہ شہر یار اور ملکہ شہرزاد

عمان جنوب مغربی ایشیا میں ایک ملک ہے جو جنوب مشرقی جزیرہ نمائے عرب پرواقع ہے۔ اس کا سرکاری نام سلطنت عمان ہے۔ اس کی سرحدیں شمال مغرب میں متحدہ عرب امارات سے ملتی ہیں، مغرب میں سعودی عرب سے جبکہ جنوب مغرب میں اس کی سرحدیں یمن سے ملتی ہیں۔ سلطنت عمان کا دار الحکومت مسقط ہے۔ اس کا ساحل جنوبی اور مشرقی بحر ِ عرب اورشمال مشرقی علاقے میں خلیج ِ عُمان تک پھیلاہواہے۔

سلطنت عمان
سلطنت عمان

سن 80 کی دہائی میں ایک آئرش محقق ٹم سیورن ( ٹیموتھی سیورن ) نے سندباد کی کہانیاں سن کر متاثر ہو کر اس پر تحقیق کی اور یہ کھوج لگالی کہ سندباد زمانہ قدیم میں جس علاقہ میں مقیم تھا وہ آج کا عمان اور بالخصوص شہر صحار ہے اور اس کی پیدائش بھی صحار کی بتائی جاتی ہے حالانکہ اس کا کوئی تحریری جواز موجود نہیں ہے اور الف لیلا کے قصوں میں سندباد کا تعلق عراق کے شہر بغداد سے بتایا گیا ہے ، خیر ٹم سیورن کی تحقیق اور مطالعہ نے اسے اس بات پر قائل کر لیا کہ سندباد صحار کا رہنے والا تھا۔ زمانہ قدیم میں عمان کے ایک اور ملاح احمد بن ماجد بہت مشہور ہوئے ہیں جنہوں نے کئی سمندری سیاحوں اور بھٹکے ہوئے قافلوں کو صحیح سمت بتا کر ان کی جان بچائی انہیں میں سے ایک قافلہ ہندوستان سے تعلق رکھتا تھا اور انہوں نے اپنی یاداشتوں میں اس عمانی ملاح احمد بن ماجد کا ذکر بھی کیا ہے اور لکھے ہوئے یہ ورق یہاں کے ایک مقامی عجائب گھر میں موجود ہیں۔

ٹم سیورن اور علی مانکفان 80 کی دھائی ، کشتی کی تعمیر کے دوران خوشگوار موڈ میں
ٹم سیورن اور علی مانکفان 80 کی دھائی ، کشتی کی تعمیر کے دوران خوشگوار موڈ میں

ٹم سیورن نے دن رات کی کوششوں سے ایک پلان مرتب کیا اور اسے عمان کے بادشاہ وقت سلطان الخالد السلطان قابوس بن سعید کے دیوان میں پیش کیا کہ رواں سال سالانہ جشن کے موقع پر ہم سندباد کی استعمال کی ہوئی کشتی کی نقل بنا کر ایک بار پھر تاریخ کو دہرائیں گے اور بحر عرب سے بحر چین تک کا سفر خیر سگالی کی بنیادوں پر مکمل کریں گے جسے شاہی منظوری مل گئی اور یوں سندباد کی اس پرخطر اور دلچسپ سمندری سفر کا کئی دہائیوں کے بعد پھر سے آغاز ہوا۔

السلطان قابوس بن سعید  ؒ

اب اگلا مرحلہ ٹیم کی تشکیل کا تھا جس میں انہیں لکشوادیپ کے جزیرے مینیکوئے میں مقیم علی مانکفان کو شامل کرنے کا کہا گیا بتایا جاتا ہے کہ مانکفان صاحب کی وجہ شہرت ان کے ان پڑھ ہونے کے باوجود ان کی کمال ذہانت اور 14 زبانوں پر عبور حاصل تھا اور وہ لکڑی سے بنی کشتیوں کو بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

کشتی کا ماڈل

ٹم سیورن نے علی مانکفان کو اس 30 رکنی کاریگروں کی ٹیم کا سربراہ مقرر کردیا اور یوں کئی ماہ کی ان تھک محنت کے بعد 80 فٹ لمبی اور 22 فٹ چوڑی کشتی جس میں کسی قسم کے لوئے کا استعمال نہیں کیا گیا اور کیلوں کے بجائے مخصوص پیڑوں کی چھال اور لکڑی کا استعمال کیا گیا تیار کر لی گئی۔

سند باد کی کشتی کا ماڈل صحار
سند باد کی کشتی کا ماڈل صحار

یہ کشتی 6 ماہ کی مدت میں صحار سے صور براستہ ہندوستان ، سری لنکا اور وہاں سے ہوتے ہوئے چین پہنچی جس کا وہاں پر تپاک استقبال کیا گیا اور واپسی پر اس کشتی کو مسقط شہر میں البستان پیلس کے سامنے چوراہے میں نصب کر دیا گیا۔

موجودہ بادشاہ السید ھیثم بن طارق ' صحار ' کشتی کا ماڈل دیکھتے ہوئے
موجودہ بادشاہ السید ھیثم بن طارق ‘ صحار ‘ کشتی کا ماڈل دیکھتے ہوئے

اس کشتی کا نام عمان کے سابقہ درالخلافہ اور سندباد کی جائے ولادت سے منسوب شہر کے نام پر ‘ صحار ‘ رکھا گیا۔

سند باد تو عرصہ ہوا تاریخ کی کتابون کے صفحات میں کھو گئے اور گذشتہ سال دسمبر میں ٹم سیورن بھی 80 سال کی عمر میں چل بسے جبکہ رواں سال کے پہلے مہینے جنوری میں علی مانکفان جو کہ اب بھی حیات ہیں کو ان کے ملک نے تیسرے بڑے اعزاز سے نوازا۔  آپ کا اگر کبھی سلطنت عمان آنے کا اتفاق ہو تو شہر مسقط میں موجود اس شاہکار کو دیکھنے ضرور جائیے گا جو کہ آج عرصہ 40 سال سے زائد گزر جانے کے باوجود اپنی اب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔

موجودہ بادشاہ السید ھیثم بن طارق اور ٹم سیورن سندباد کی کشتی سے منسوب تصویری نمایش کے دوران
موجودہ بادشاہ السید ھیثم بن طارق اور ٹم سیورن سندباد کی کشتی سے منسوب تصویری نمایش کے دوران

شاندار بخاری

Next Post

شجر کاری مہم ضلع بھر کی6تحصیلوں میں جاری ہے

جمعرات مارچ 4 , 2021
حکومت پنجاب کی ہدایت کی روشنی میں شجر کاری مہم ضلع بھر کی6تحصیلوں میں جاری ہے اور اس مہم کے تحت لاکھوں پودے لگائے جارہے ہیں،
شجر کاری مہم ضلع بھر کی6تحصیلوں میں جاری ہے