ہاں، مگر دل پر
کئی خراشیں پڑ چکی تھیں۔
افسانچہ
امی ، ماسی نے بڑی دعائیں دی ہیں ۔ کہتی ہے آپ لوگ بڑے دیالو ہیں
‘یہ دیکھیں، امّی ابو کی پسند!’”
کمرے میں ایک طویل خاموشی اتر آئی۔
پھر وہ دن بھی آیا جب اس ادارے نے سب کو پچھاڑ دیا ۔
نہیں اسے تو بو بھی خوشبو ہی لگتی ہے
بخت کے تخت سے یک لخت اتارا ہوا شخص
عکس بالکل صاف اور واضح تھا۔
موڈ دوائیوں سے نہیں بہتر رویوں سے بہتر ہوتا ہیں
میرا کوئی مریض آج تک مجھ سے مایوس ہو کر نہیں گیا
ایک دن وہ بہت تیز بھاگی