قصور – Fault
شادی کے ابتدائی دنوں ہی میں مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ صرف اپنی سنتی ہے۔ دلیل اسے لمحہ بھر کے لیے خاموش تو کر سکتی تھی، قائل نہیں۔ ایک دن میں نے اصرار سے اپنی رائے دی تو وہ ہنس کر بولی،
"میں شہر کے سب سے بڑے بزنس مین کی بیٹی ہوں۔ مجھے کاروبار مت سکھاؤ۔ مچھلی کو تیرنا کون سکھاتا ہے؟”
اس دن کے بعد میں نے سمجھانا چھوڑ دیا۔ سوچا، بعض فیصلے انسان کو خود ہی سکھاتے ہیں۔
وہ کاروبار میں بھی اسی یقین کے ساتھ فیصلے کرتی رہی۔
ایک دن اس نے ایک بہت بڑی ڈیل پر دستخط کر دی۔ کاغذات دیکھے تو میں خود کو روک نہ سکا
” بہت بڑی ڈیل ہے ، بہتر ہے ایک بار پھر سوچ لو۔”
وہ حسبِ عادت مسکرا دی ۔
"فکر نہ کرو، میں سب دیکھ چکی ہوں۔”
چند ہفتوں بعد برسوں کی محنت بکھر چکی تھی۔
اس رات وہ خاموش بیٹھی رہی۔ صبح اس نے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں نمی تھی، لہجے میں شکست۔
"سب تمہارا قصور ہے… تم نے مجھے روکا کیوں نہیں؟”

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |