اگست 22, 2026

قصور – Fault

چند ہفتوں بعد برسوں کی محنت بکھر چکی تھی۔

قصور – Fault


صفدر علی حیدری

شادی کے ابتدائی دنوں ہی میں مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ وہ صرف اپنی سنتی ہے۔ دلیل اسے لمحہ بھر کے لیے خاموش تو کر سکتی تھی، قائل نہیں۔ ایک دن میں نے اصرار سے اپنی رائے دی تو وہ ہنس کر بولی،

"میں شہر کے سب سے بڑے بزنس مین کی بیٹی ہوں۔ مجھے کاروبار مت سکھاؤ۔ مچھلی کو تیرنا کون سکھاتا ہے؟”

اس دن کے بعد میں نے سمجھانا چھوڑ دیا۔ سوچا، بعض فیصلے انسان کو خود ہی سکھاتے ہیں۔

وہ کاروبار میں بھی اسی یقین کے ساتھ فیصلے کرتی رہی۔

قصور – Fault

 ایک دن اس نے ایک بہت بڑی ڈیل پر دستخط کر دی۔ کاغذات دیکھے تو میں خود کو روک نہ سکا 

” بہت بڑی ڈیل ہے ، بہتر ہے ایک بار پھر سوچ لو۔”

وہ حسبِ عادت مسکرا دی ۔

"فکر نہ کرو، میں سب دیکھ چکی ہوں۔”

چند ہفتوں بعد برسوں کی محنت بکھر چکی تھی۔

اس رات وہ خاموش بیٹھی رہی۔ صبح اس نے سر اٹھایا۔ آنکھوں میں نمی تھی، لہجے میں شکست۔

"سب تمہارا قصور ہے… تم نے مجھے روکا کیوں نہیں؟”

.

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com