Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • حماس اسرائیل جنگی بندی معاہدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار

    حماس اسرائیل جنگی بندی معاہدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار

    حماس اسرائیل جنگی بندی معاہدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار

    Dubai Naama

    گزشتہ روز فلسطین کی جہادی تنظیم حماس اور اسرائیلی اتھارٹی کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جانا مشرق وسطی میں قیام امن کے لیئے ایک انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔ اسرائیل نے اپنے ہوائی حملوں میں بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے قتل کے علاوہ غزہ کا انفراسٹرکچر تباہ کیا، ہسپتالوں، امدادی قافلوں اور عمارتوں وغیرہ کو نشانہ بنایا مگر اس کے مقابلے میں اسرائیل کا بہت کم جانی و مالی نقصان ہوا۔ اسرائیل نے یہ جنگ امریکی اسلحہ اور امداد کے زور پر جاری رکھی اور امریکہ ہی کی مداخلت پر اب ان دونوں متحارب گروپوں میں قطر میں جاری مذاکرات کے نتیجے میں یہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے۔

    امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنے پہلے صدارتی خطاب میں مشرق وسطی میں جنگ بندی اور انسانی خونریزی کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا جو ان کے امریکہ کی صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی پورا ہو گیا ہے۔ گو کہ ٹرمپ کا ایک تلخ اور دھمکی آمیز بیان بھی آیا تھا کہ ان کے حلف اٹھانے تک حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو وہ فلسطین (مشرق وسطی) کو "جہنم کی آگ” میں بدل دیں گے۔ اس بیان کا اشارہ فلسطینی تنظیم کے حمایتی ممالک ایران وغیرہ کی طرف تھا۔ سعودی عرب بھی حماس کی اخلاقی حمایت کرتا ہے اور فلسطین کو امدادی رسد وغیرہ پہنچاتا رہتا ہے۔ البتہ اس بیان کا مثبت نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حماس اور فلسطین کے درمیان قطر میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا اطلاق 19 جنوری 2025ء سے ہو گا۔

    اس جنگ بندی اور امن معاہدے کا اعلان چند روز قبل قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا جس کا پوری عالمی برادری نے خیر مقدم کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19جنوری سے ہو گا۔ یہ وضاحت حوصلہ افزا ہے کہ امریکہ، مصر اور قطر مذکورہ معاہدے کی نگرانی کریں گے۔ قطر فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتا ہے۔ قطری وزیراعظم نے اس معاہدے میں کردار ادا کرنے پر نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرق وسطیٰ کا شکریہ ادا کیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 6 ہفتوں کی فائر بندی ہو گی جس دوران 33 اسرائیلی قیدیوں کے بدلے میں تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جن میں 250 وہ فلسطینی بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیل نے "سزائے موت” سنا رکھی تھی جو حماس اور فلسطین کے لیئے ایک فتح اور خوشخبری سے کم نہیں ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا طے شدہ شیڈول کے مطابق مرحلہ وار ہو گا۔ صہیونی افواج مصر اور غزہ کی سرحد فلاڈیلفی کوریڈور (صلاح الدین محور) سے بھی نکل جائیں گی۔

    امریکہ کے دوسری بار منتخب ہونے والے صدر محترم المقام جناب ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کے اعلان میں سبقت لی اور اپنے الفاظ کی پاسداری کی۔ راقم خصوصی طور پر انہیں امن پسندی کے اس اقدام پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔ مذکورہ معاہدہ امریکہ کی بہترین سفارت کاری کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ انسانیت اور امن پسندی کے اس اقدام کو سرا جانا اخلاقی فرض ہے۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس، یورپی یونین اور عالمی برادری کی طرف سے بھی جنگ بندی کے اس قابل تعریف فیصلے پر خیرمقدمی پیغامات سامنے آئے ہیں۔

    اس عظیم الشان پیش رفت پر اسرائیل اور غزہ کے علاقوں میں عوامی سطح پر بھی خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ جنگ بندی کے اعلان سے قبل بدھ کو غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی طیاروں نے بھرپور اور بے رحمانہ حملے کیئے جس میں 67 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا جبکہ 7 اکتوبر 2023ء کو شروع کی گئی اس جنگ کے 15ماہ سے زائد عرصے میں 46 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید اور ایک لاکھ دس ہزار سے زائد کو زخمی کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب مزاحمتی گروپوں کی کارروائیوں میں 405 صہیونی فوجی مارے گئے اور اسرائیل کے اندر 1200سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

    فلسطین کی تنظیم حماس اور صہیونی ریاست اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے کی خبر امن کا ایک مثبت پیغام ضرور ہے مگر کئی حوالوں سے امن پسند حلقوں کو فکر لاحق ہے کہ اسرائیل امن معاہدے کی پاسداری کے وعدے پر کس حد تک اور کتنی مدت تک قائم رہے گا؟ اس کے ماضی کے کردار کی روشنی میں حتمی طور پر اس سوال کا پرامید جواب آسان نہیں ہے۔ تاہم واشنگٹن اس باب میں عالمی امن کے مفاد میں کردار کرنا چاہے گا تو وہ موثر بھی ہو سکتا ہے۔

    اس اعتبار سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن پسند پالیسیوں کو مدنظر رکھا جائے تو وہ تمام سابق امریکی صدور سے زیادہ قابل اعتبار ریکارڈ رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلم ممالک کو بھی چایئے کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس خوبصورت کردار کا خیر مقدم کریں۔ ممکن ہے تو اسلامی تنظیم او آئی سی (OIC) کو بھی چایئے کہ وہ جنگ بندی کو مستقل بنیادوں پر قائم رکھنے میں اپنا رول ادا کر سکے۔

  • فارم پنتالیس، سنتالیس اور امریکن صدر

    فارم پنتالیس، سنتالیس اور امریکن صدر

    فارم پنتالیس، سنتالیس اور امریکن صدر

    تحریر/زاہد شکور چوہدری
    شائع کردہ: شاندار بخاری
    تاریخ۔ 9-11-2024
    انتخابی عمل کی پیچیدگیاں اور ان کے پیچھے چھپی حقیقتیں ہمیشہ سے عوام کی دلچسپی کا باعث رہی ہیں۔ آج ہم ایک دلچسپ موضوع پر بات کریں گے – فارم 45، فارم 47 اور ان کی امریکی سیاست سے عجیب مماثلت۔

    پاکستان میں آج کل فارم 45 اور 47 کی بحث عروج پر ہے۔ کچھ حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ موجودہ حکمران جماعت امریکی صدر بائیڈن کی پسندیدہ ہے اور فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ دوسری جانب، فارم 45 کو عمران خان کی جماعت سے منسوب کیا جاتا ہے۔

    انتخابی عمل میں ان دونوں فارموں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ فارم 45 پولنگ اسٹیشن پر ووٹوں کی گنتی کا ریکارڈ ہے، جسے ریٹرننگ افسر کی نگرانی میں مکمل کیا جاتا ہے۔ یہ بنیادی دستاویز ہے جس پر پوری انتخابی عمارت کھڑی ہے۔ فارم 47 حتمی نتائج کا اعلان ہے جو فارم 45 کے اعداد و شمار پر مبنی ہونا چاہیے۔

    لیکن یہاں ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ اگر فارم 47 کے نتائج فارم 45 سے مختلف ہوں، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ حقیقی نتائج کیا ہیں؟ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ ان کے فارم 45 کے مطابق انہیں واضح اکثریت حاصل تھی، لیکن فارم 47 میں تبدیلیاں کر کے انہیں اس حق سے محروم کر دیا گیا۔

    اب آئیے امریکی صدارتی نمبروں کی جانب۔ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45ویں صدر تھے اور اب 47ویں صدر بننے کی دوڑ میں ہیں۔ بلکہ صدر بن چکے ہیں اور حلف اُٹھانا باقی ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی اس تناظر کو اپنے موقف کی تائید کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

    امریکہ میں جمہوری عمل کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں عوامی فیصلے کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کو ان کے قانونی حق کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ لیکن پاکستان میں، الزامات ہیں کہ عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کر دیا گیا۔

    ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے انتخابی عمل کی شفافیت ناگزیر ہے۔ چاہے وہ فارم 45 ہو یا 47، یا پھر صدارتی نمبر – ہر ایک کو اپنی قانونی اور آئینی حیثیت کے مطابق احترام ملنا چاہیے۔

    آخر میں، یہ کہنا ضروری ہے کہ ہماری قومی ترقی کا دارومدار ہمارے جمہوری اداروں کی مضبوطی پر ہے۔ ہمیں اپنے انتخابی نظام کو مزید شفاف اور قابل اعتماد بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور جمہوری اقدار مستحکم ہوں۔

    Title Image by Gerd Altmann from Pixabay

    آخر میں نوٹ شامل کرتا چلوں کہ فارم 45، 47 اور امریکی صدارتی نمبروں کی مماثلت ایک دلچسپ تصادف ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہری معنویت چھپی ہے۔ تاہم، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر ملک کے حالات اور سیاسی ماحول مختلف ہوتے ہیں، اور ان عددی مماثلتوں کو صرف ایک دلچسپ تجزیاتی نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

  • ٹرمپ کا مشرق وسطی میں امن کا خواب

    ٹرمپ کا مشرق وسطی میں امن کا خواب

    ٹرمپ کا مشرق وسطی میں امن کا خواب

    Dubai Naama

    ٹرمپ کی جیت دنیا میں امن قائم کرنے کی ایک نئی امید لے کر آئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں جنگ مخالف اور روایات شکن امیدوار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کا انداز سیاست جارحانہ ہے مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنے گزشتہ 4سالہ دور اقتدار میں دنیا کے کسی ملک میں امریکہ کو فوجی مداخلت کی اجازت نہیں دی تھی، گو کہ انہیں اپنی پارٹی ری پبلکن کی طرف سے بھی سخت دباؤ تھا۔ اس بار بھی امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی تقریر میں دنیا میں امن قائم رکھنے کا اعادہ کیا، جب انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کی ترقی اور خوشحالی کے لیئے کام کریں گے اور دنیا میں کوئی نئی جنگ شروع نہیں کریں گے جس سے امن کو فروغ حاصل ہو گا۔

    کسی نومنتخب امریکی صدر کا اپنی پہلی ترجیح میں ماضی کے برعکس امریکہ کے جنگی جنون کو ترک کرنے کا عہد ایک خوش آئند پیغام ہے جس کا پوری دنیا میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطی میں امریکی مداخلت کے حوالے سے اسے ضرور سراہا جانا چایئے۔ انتخابی مہم کے دوران جوبائیڈن نے ٹرمپ کے حامیوں کو کچرا کہا تھا کیونکہ بائنڈن کی رائے میں دنیا میں امن قائم کر کے امریکی بالادستی کو قائم نہیں رکھا جا سکتا ہے، جس کا ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ  انتخابی مہم کے دوران کچرا اٹھانے والے ایک ٹرک پر بیٹھ گئے تھے (اس ٹرک پر جلی حروف میں TRUMP لکھا تھا)۔ 

    سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ سبز اور نارنجی رنگ کی ایک ہلکی جیکٹ پہنے ایک کچرا اٹھانے والے ٹرک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہیں جو اس بات کی علامت سمجھا گیا کہ ٹرمپ دنیا میں جنگ و جدل کی گندگی کو صاف کرنے کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو حماس یا حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرتا اور نہ ہی وہ اسرائیل فلسطین جنگ ہونے دیتے۔ اس ضمن میں امریکا کی نائب صدر اور ڈیموکریٹک شکست خوردہ صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے پر کچھ پیش رفت ہوئی لیکن جب تک حقیقت میں کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا یہ بے معنی تھا۔ اس کی مخالفت میں ٹرمپ کا ایک یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ اگر وہ امریکی صدر ہوتے تو وہ مشرق وسطی کی جنگ محض چند گھنٹوں میں بند کروا سکتے تھے۔ ٹرمپ کے اس امن پسند موقف کی امریکی ووٹرز خوب ستائش کی اور انہیں صدارتی انتخابات میں کامیاب کرایا۔

    ٹرمپ کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ اب امریکی عوام کی اکثریت امریکہ کی دوسرے ممالک میں فوجی مداخلت کو ناپسند کرتی ہے۔ امریکہ کی ابھی بھی قطر، اومان، شام، عراق اور کویت وغیرہ میں افواج موجود ہیں۔ امریکہ نے اسرائیل فلسطین جنگ اور خاص کر ایران اور اسرائیل کے حملوں کے بعد فوری ردِ عمل دیتے ہوئے انھیں "ناقابلِ قبول” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی جنگی بحری جہازوں نے متعدد ’ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنایا۔‘ صدر بائیڈن نے پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں فوجیں بڑھانے کا حکم دے رکھا تھا اور اس سے قبل ستمبر کے اواخر میں مشرقی بحیرۂ روم میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومن‘ بھیجا گیا تھا۔

    امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکہ کے 40 ہزار سے زیادہ فوجی مشرقِ وسطیٰ میں مختلف ممالک میں تعینات ہیں۔ لیکن امریکی افواج اپنے ملک سے ہزاروں میل دور مشرقِ وسطیٰ میں اتنی بڑی تعداد میں کیوں موجود ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا ٹرمپ اب مثبت جواب سامنے لانا چاہتے یہ

    ٹرمپ نے اپنے پہلے ہی خطاب میں اس بات کو ایک پالیسی سٹیٹمنٹ کے طور پر نمایاں کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس سیاست کا اتنا عملی تجربہ نہیں تھا۔ انہوں اپنے مشیروں کی ہدایت کے مُطابق ہی الیکشن لڑا۔ یہی وجہ تھی کہ اُنکی تقاریر میں سیاسی تدبر اور بصیرت کمی نظر آئی۔ بلاشبہ، ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس پیسے کی فراوانی تھی، وُہ بہت شاطر اور ذہین مشیروں سے استفادہ کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ لہذا انہوں نے پیسے کا استعمال عمدگی سے کیا اور مُختلف طبقوں کے درمیان نفرتوں کو ابھار کر امریکی سیاست کو ایک نیا رنگ دیا جس نے مجموعی طور پر امریکی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے جس پر ٹرمپ کے امن پسندی کے جذبے نے سونے پر سہاگے کا کام کیا جسے مشرقی وسطی میں حماس نے خصوصی طور پر سراہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی اسی امن پسند پالیسی کے پس منظر میں ان کی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے حماس کے رہنما سمی ابو ذوہری نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو ان کے بیانات کے حساب سے جانچا جائے گا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ بطور صدر غزہ جنگ کو چند گھنٹوں میں روکیں گے۔

    حماس سیاسی بیور کے ممبر باسم نعیم نے بھی ٹرمپ کے امریکہ کے صدر بننے پر اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی ریاست کی اندھی حمایت ختم ہونی چاہئے کیونکہ یہ حمایت ہمارے لوگوں کے مستقبل اور خطے کی قیمت پر کی جاتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطی کو حقیقی اور پائیدار امن کی طرف لوٹتے دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ اس عمل کو اچھے طریقے سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    اگر ٹرمپ اپنے ان سابقہ بیانات کی پاسداری کرتے ہوئے واقعی مشرق وسطی میں جنگ بندی کرواتے ہیں تو پھر اس بات کا قوی امکان ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ اور امریکی فوج کی واپسی کا بھی امکان پیدا ہو جائے گا جو دنیا میں وسیع تر امن قائم کرنے کے لئے ایک بنیادی قدم ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ امریکہ ماضی میں جہاں جنگی مداخلتوں سے دنیا کا امن تباہ کرتا رہا، وہ اب یہ مداخلتیں بند کر کے امن بحال بھی کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے کریڈٹ کا سارا سہرا ٹرمپ کے سر پر بندھے گا۔

    اسرائیل کی امریکہ پشت پناہی چھوڑ دے تو جہاں اسرائیل فلسطین جنگ بندی میں پیش رفت ہو سکتی ہے وہاں فلسطین بھی آزاد ہو سکتا ہے، اسرائیل کی آزادی کو بھی عرب اور مسلم دنیا تسلیم کر سکتی ہے وہاں دنیا بھر کے امن پر اس کے مثبت اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

  • ٹرمپ کارڈ  – Trump Card

    ٹرمپ کارڈ – Trump Card

    ٹرمپ کارڈ – Trump Card

    Dubai Naama

ٹرمپ کارڈ – Trump Card

    امریکہ کے صدارتی انتخابات پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہتی ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس وقت امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ امریکہ بہادر دنیا کے کسی ملک میں سیاسی مداخلت کیئے بغیر بھی اپنی عالمی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔ 15فروری 1989ء کو افغانستان سے روس کا مکمل انخلاء ہوا۔ تب سے دنیا کے اکثر سیاسی تجزیہ کار اسے روس کی شکست سے تعبیر کرتے ہیں۔ سنہ 1991ء سے پہلے تک امریکہ اور روس دو متوازی عالمی قوتیں تھیں۔ تب روس کو "سویت سوشلسٹ ریپبلک” یا مختصرا "سویت یونین” کہا جاتا تھا جس میں آج کی آزاد اور خود مختار 15ریاستیں آرمینیا، آذربائیجان، بیلارس، ایسٹونیا، جارجیاء، اور کرغستان وغیرہ شامل تھیں۔ جب 25دسمبر 1991ء کو روسی صدر گوربا چوف نے صدارت سے استعفی دے کر اقتدار روسی صدر بورس یلسن کے حوالے کیا تو یہ دن روس کے عروج کا آخری دن تھا۔ 24فروری 2022ء کو روس نے یوکرائن پر حملہ کرنے کی غلطی کی جو جنگ میں بدل گئی اور روس ابھی تک یوکرائن کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ روس کی طرح امریکہ کو ویت نام کی جنگ 1955-1975 میں شکست ہوئی تھی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ نے برطانیہ سے 4جولائی 1776ء کو آزادی حاصل کی۔ برطانیہ آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کرنے کے باوجود آج بھی ایک مضبوط عالمی طاقت ہے جو اب امریکہ کا اتحادی ہے اور جس کی پشت پر فرانس سمیت طاقتور یورپی یونین کے ممالک بھی کھڑے ہیں۔

    مزید برآں امریکی ادارے ناسا NASA کے خلائی پروگرام اور یورپ میں فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی پٹی میں واقع سائنسی لیبارٹری سرن CERNکی تحقیقات اور ایجادات کا دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک، حتی کہ روس، جاپان، کنیڈا، آسٹریلیا اور چین کے پاس بھی کوئی توڑ موجود نہیں ہے۔ امریکہ کا اقوام متحدہ میں بھی کافی اثر و رسوخ ہے، اور اس کے فیصلے پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
    لھذا امریکہ میں جب بھی صدارتی انتخابات ہوتے ہیں تو امریکہ کی اس اہمیت کی وجہ سے دنیا بھر کی عوام میں یہ تجسس پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ میں کونسی پارٹی کامیاب ہوتی ہے یا اس کا کونسا امیدوار امریکی مسند اقتدار پر بیٹھتا ہے۔

    اس دفعہ امریکہ میں یہ صدارتی انتخابات 5نومبر 2024 کو ہو رہے ہیں جس کی تیاریاں ابھی سے زوروں پر ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کی طرف سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے بھارتی نژاد کملا ہیرس اس دوڑ میں شامل ہیں۔ امریکی صدارت کے ان دونوں امیدواروں کا ایک دلچسپ اور مشترکہ پہلو یہ ہے کہ ان دونوں کے آباء و اجداد امریکہ میں پناہ گزینوں کی شکل میں وارد ہوئے تھے۔ کملا ہیرس کی والدہ ایک اینڈو کرائنولوجسٹ تھیں جو میں بھارت میں پیدا ہوئیں اور ان کے والد ایک ماہر اقتصادیات ہیں جو جمیکا میں پیدا ہوئے۔
    جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دادا جرمنی سے پناہ گزین ہو کر آئے تھے اور ان کی والدہ اسکاٹ لینڈ سے آئی تھیں جبکہ والد کا تعلق نیو یارک سے تھا جو وہاں ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے۔ ٹرمپ خود بھی ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہیں اور ارب پتی ہیں۔

    امریکی صدارتی امیدوار کملا کا پورا نام کملا دیوی ہیرس ہے جو 20اکتوبر 1964ء کو امریکی ریاست آک لینڈ میں پیدا ہوئیں، جو اس وقت امریکہ کی تاریخ میں صدر جوبائیڈن کے ساتھ پہلی ایشین افریکن خاتون امریکی نائب صدر ہیں۔ وہ 2017 سے 2021 تک کیلیفورنیا سے سینیٹر بھی رہی ہیں۔ کملا ہیرس نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیلیفورنیا سے کیا تھا جو وہاں کا سب سے اعلیٰ پراسکیوٹر کا عہدہ ہے۔ بطور سینیٹر اور نائب صدر کملا ہیرس مباحثوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، کیونکہ بنیادی طور پر ان میں وکالت کی بہترین مہارتیں پائی جاتی ہیں۔

    امریکی صدارتی انتخابات میں کچھ امریکی ریاستوں کو "سوئنگ اسٹیٹس” کہا جاتا ہے جن میں ایریزونا، جارجیا، مشی گن، نیواڈا، شمالی کیرولائنا، پنسلوانیا اور وسکونسن وغیرہ شامل ہیں۔ حالیہ پولز کے مطابق کملا ہیرس، ٹرمپ سے آگے نظر آتی ہیں۔ جبکہ ریوٹرز ایپسوس پول کے مطابق بھی کملا ہیرس ٹرمپ سے آگے ہیں۔

    ٹرمپ کارڈ  – Trump Card

    اگرچہ کملا ہیرس کو خواتین ووٹرز اور ہسپانوی ووٹرز کے درمیان بھی ٹرمپ پر کچھ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، مگر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایک جادوئی شخصیت رکھتے ہیں، جنہیں سفید فام ووٹرز اور مردوں کے درمیان برتری حاصل ہے۔ ٹرمپ کو امریکہ کی صدارت کا تجربہ بھی ہے اور وہ سفید فام لوگوں میں بے حد مقبول بھی ہیں اور انہیں ان کی چنداں حمایت بھی حاصل ہے۔ میرے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کا یہی ٹرمپ کارڈ Trump Card ہے یعنی ترپ کا پتا ہے کیونکہ جوبائیڈن کی صدارت کو بلند افراطِ زر اور بین الاقوامی سطح پر انتشار جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے، اور ریپبلکنز ان مسائل کا الزام کملا ہیرس پر عائد کرتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پر خفیہ دستاویزات کے غلط استعمال اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات تو ہیں۔ لیکن "بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہو گا”۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے میں خود ایک بہترین اداکار ہیں اور ایسے ماحول کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان الزامات کا ڈونلڈ ٹرمپ کی شہرت پر کوئی خاص منفی اثر پڑتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ 15 جولائی کو جج نے یہ مقدمہ خارج کر دیا تھا۔ یوں ڈونلڈ ٹرمپ کملا ہیرس کے مقابلے میں کافی متحرک اور مضبوط صدارتی امیدوار نظر آتے ہین تو ۔

    امریکہ میں کملا ہیرس دیوی امریکی صدر بنیں یا ڈونلڈ ٹرمپ بنیں، اس کے اثرات خود پاکستان کی حکومتی آزادی اور خودمختاری کے اعتبار سے پڑنے ہیں کہ ہماری حکومت خود کو اندرونی سیاسی خلفشار سے کس حد تک آزاد کرتی ہے یا وہ حسب روایت امریکی امداد پر کتنا انحصار کرتی ہے۔ حالانکہ پاکستان کے چند ارب ڈالرز کے ذخائر میں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا حصہ تو ہے مگر اس میں امریکہ کا ایک ڈالر بھی شامل نہیں ہے۔ پاکستان کی کامیابی کا "ٹرمپ کارڈ” اس کی اقتصادی کامیابیاں ہیں جن میں نئی حکومت ابھی تک کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی ہے۔

    بہرکیف، پاکستان کو اپنی کل سدھارنی چایئے۔امریکہ میں ایرا غیرا چاہے کوئی بھی صدر منتخب ہو یا کسی بھی پارٹی کی حکومت آئے، ڈیموکریٹک کی حکومت آئے یا ریپبلکن پارٹی کی، اب عالمی سٹریٹیجک پوزیشن ایسی ہے کہ امریکہ سے کوئی ڈالر پاکستان نہیں آنے والا ہے، ویسے بھی امریکہ پاکستان کو اپنے مقابلے میں چین کے زیادہ قریب دیکھتا ہے۔


    Title Image by Gerd Altmann from Pixabay