Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • ایران امریکہ کشیدگی کا منطقی نتیجہ 

    ایران امریکہ کشیدگی کا منطقی نتیجہ 

    ایران امریکہ کشیدگی کا منطقی نتیجہ 

    Dubai Naama

    اطلاعات کے مطابق امریکی جنگی بیڑا "یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ” بھی خلیج فارس پہنچ چکا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔ اس کا یہاں لانے کا مقصد ایران سے جنگ کرنا نہیں، بلکہ اس سے اپنی شرائط کے مطابق ڈیل کرنا ہے۔ چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیراعظم کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات ہوئی۔ اس میں نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران پر حملے کے لیئے کافی دباؤ ڈالا مگر وہ ٹرمپ کو فوری حملے کے لیئے راضی نہ کر سکے۔ اسرائیل اپنی بقا کے لیئے ہر قیمت پر ایران میں رجیم چینج چاہتا ہے جو صرف ایران پر کامیاب حملے ہی سے ممکن ہے۔ لیکن امریکی حملے کے بعد بھی سو فیصد گارنٹی فراہم نہیں کی جا سکتی کہ ایران میں اسرائیل نواز حکومت قائم ہو سکے گی۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ ایک مکمل جنگ کو جنم دے گا جس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ ایران بار بار اس بات کا عندیہ دے چکا ہے ایران پر امریکی حملے کی صورت میں وہ جہاں اسرائیل پر بھرپور حملہ کرے گا وہاں وہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ امریکی معیشت ڈانواں ڈول ہے مگر ایران پر حملے کا جتنا فائدہ اسرائیل کو ہو گا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان امریکہ کو ہو گا کیونکہ جنگ کی صورت میں خلیج فارس میں موجود  امریکہ کے دس بحری بیڑے، دس ہزار امریکی فوجی اور تمام خلیجی ممالک میں امریکی اڈے ایران کے ایٹمی میزائلوں کی زد میں آ جائیں گے۔

    مشرق وسطی کے تمام ممالک امریکہ کو آگاہ کر چکے ہیں کہ ایران پر حملے میں وہ امریکہ سے تعاون نہیں کریں گے۔ ایران پر حملے کے امکان کو مدنظر رکھ کر سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ایران اور روسی مشترکہ جنگی مشقیں بھی خلیج فارس میں جاری ہیں  اور دوسری طرف چین اور اس کے اتحادی بھی ایران کو جنگی تعاون کی مکمل یقین دہانی کروا چکے ہیں۔ اس دفعہ ایران پر امریکی حملہ یقینا تیسری عالمی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا یا جنگ نہ بھی ہوئی تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ امریکہ خطے میں مستقل طور پر بیٹھ جائے گا۔ اس تمام صورتحال کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بھانپ چکے ہیں۔ اسی تناظر میں غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں انہوں نے ایران کو اپنی شرائط پر دھمکاتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی، وہاں انہوں نے کانفرنس کے خاتمے پر ایران کے بارے نرم گوشہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس دس مارچ تک مذاکرات پر آمادہ ہونے کا وقت ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے ایرانی بچوں کے لیئے دودھ کے ڈبے بھجوانے کا اعلان کیا۔

    دراصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی معیشت کمزور ہو چکی ہے۔ اہل مغرب ایران سے جنگ کو جہاں اپنی معیشت کو بچانے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں وہاں وہ مشرق وسطی کے ذرائع اور دولت پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے اور اسرائیل کو استعمال کیئے بغیر خلیج فارس میں اپنی مستقل موجودگی کا بہانہ بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کار خلیج فارس میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی جنگی طاقت کو "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے سے جوڑ رہے ہیں مگر امریکہ کی خلیج میں اتنی طاقت بڑھانے کا واحد مقصد ایران سے جنگ کرنا نہیں، بلکہ یہاں اپنا آزادانہ امریکی بحری اور بری اڈا قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیئے امریکہ کو کویت پر عراقی قبضے کی طرح اگر کسی چھوٹے خلیجی ملک پر قبضہ بھی کرنا پڑا تو اس سے گریز نہیں کرے گا۔ 

    ایران امریکہ کشیدگی کا منطقی نتیجہ 

    اگر امریکہ ایران پر حملہ کر کے اور روس، چین، شمالی کوریا اور ایران سے گرم جنگ میں جیت گیا تو وہ "نیو ورلڈ آرڈر” رائج کرنے کے لیئے دنیا کے سارے رولز بدل دے گا۔ تجارت کے رول، کرنسی کے رول، اقوام متحدہ کے قوانین اور  انٹرنیشنل لاز کو اپنی مرضی سے ازسرنو مرتب کرے گا۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کا زندہ رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ امریکہ کا غزہ امن بورڈ کو قائم کرنا اور اس کا تن تنہا چیئرمین بننا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ جنگ بظاہر امریکی سپر پاور کی بقا کی جنگ ہے جس میں امریکہ خود کو ہیرو اور باقی متحارب دنیا کو ولن ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دوبارہ دنیا کا بلاشرکت غیرے حکمران بن کر بیٹھ جائے۔ یہی امریکہ کا خلیج فارس میں اپنی جنگی قوت کو بڑھانے کا مقصد ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت ہوشیار ہیں جن کی اولین جنگی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ وہ یہ مقصد ایران سے جنگ کیئے بغیر حاصل کر لیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرنے میں بار بار توسیع کر رہے ہیں۔ 

    تاحال امریکہ کی خارجہ پالیسی کا دوسرا محور پاکستان ہے کہ اسے بیک فٹ پر رکھ کر ایران سے کشیدگی کی صورت میں وہ پاکستان کو اپنے سٹریٹجک مقاصد کے لیئے استعمال کر سکے۔ امریکہ اگر پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق  استعمال نہ کر سکا تو اس کی اصل اور حتمی ترجیح ایران پر حملہ ہی ہو گا۔ اگر اسے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی ہوتی ہے اور ایران میں رجیم بھی چینج ہو جاتا ہے تو پھر اسرائیل ایران میں بیٹھ کر بلوچستان میں حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا۔ ادھر بھارت بھی یہی چاہتا ہے کہ اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دیا جائے۔ یہ ایسی ممکنہ صورتحال ہے جس کے خلاف پاکستان کو بھی اپنی سٹریٹجک ترجیحات کو ازسرنو مرتب کرنے کی فوری ضرورت پیش آئے گی۔ اسرائیل نے غزہ امن بورڈ کے تحت فلسطین میں عالمی امن فورس میں پاکستان اور ترکی کی شمولیت کی اسی بناء پر مخالفت کی تھی تاکہ اس مد میں گیم چینجر کی حتمی طاقت اسرائیل اور امریکہ ہی کے ہاتھ میں رہے۔ یہ ایسی پیچیدہ صورتحال ہے جو امریکہ کو "پیچھے ہٹ جاو” یا "جنگ کرو اور مرو” کی طرف دھکیل رہی ہے۔ امریکہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں یاناکام  ہوں، یہ ایک امکان ہے۔ جنگ ہو بھی سکتی ہے اور ٹل بھی سکتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکہ خلیج فارس میں مسلسل جنگی طاقت میں اضافہ کر کے اب بند گلی میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی حالت جنگ میں ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو برسوں سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔ امریکہ کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ اسی مقصد کے لیے تھا۔ اب شام سے نکلنے والے لوگ بھی اسی طرف بھیجے جا رہے ہیں۔ مقصد یہاں عدم استحکام پیدا کرنا اور ایران اور پاکستان کے گرد آگ لگانا ہے۔ یہ جنگ ہم پر مسلط کی جا رہی ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، ہمیں مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس لیے پاکستان کو ڈرنے کے بجائے تیار رہنا ہو گا۔ پاکستان کی فوج میں ہمارے اپنے بچے ہیں۔ وہ ہم ہی میں سے ہیں۔ ان کی حفاظت تب ہو گی جب ہم متحد رہیں گے۔ ہمیں چایئے کہ ہم فرقہ پرستی اور دہشت گردی کی مخالفت کریں۔ ہم اندر سے کمزور ہوئے تو باہر والے ہمیں آسانی سے توڑ دیں گے۔ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہوا تو یقینا پاکستانی قوم اور فوج کسی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔

  • امریکی ایپسٹین فائلز کا جنسی سکینڈل

    امریکی ایپسٹین فائلز کا جنسی سکینڈل

    امریکی ایپسٹین فائلز کا جنسی سکینڈل

    Dubai Naama

    جب بڑی سیاسی، مذہبی یا دیگر معروف شخصیات کو بدنام کرنا مقصود ہو تو ان پر جائز اور ناجائز جنسی تعلقات کے بدترین الزامات لگائے جاتے ہیں۔ مذہبی ممالک ہوں یا سیکولر، دنیا بھر میں جنسی خواہشات پائی جاتی ہیں۔ مرد اور عورت کے درمیان جنسیت کا تعلق انسانی نسل کی بقا کو قائم رکھنے سے ہے۔ لھذا فطرت نے جنسی تعلق کے اندر انتہائی لذت رکھی ہے جو آکسیجن، خوراک اور رہائش کے بعد بنی نوع انسان کی چوتھی بڑی ضرورت ہے۔ مغربی دنیا میں جنسی تعلق بنانا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن مذہبی ممالک میں سیاسی و شخصی مخالفت، سزاوں اور بدنامی کے خوف سے انہیں خفیہ رکھا جاتا ہے، حالانکہ مشرق ہو یا مغرب، جنسی تعلق قائم کرنا پوری دنیا میں ایک کاروباری صنعت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر یہ تعلق چھپ کر قائم کیا جائے تو اس سے "دہری زہنیت” اور "منافقت” در آتی ہے۔ 

    ہمارے پاکستانی مسلم معاشرے میں ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنا انتہائی خطرناک ہے جس سے دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں اور بعض دفعہ بات قتل و غارت تک بھی جا پہنچتی ہے لیکن مغربی ممالک میں شادی کی رجسٹریشن یا نکاح کے بغیر جنسی تعلقات بنانا ایک عام اور نارمل سی بات ہے۔ یہاں تک کہ ان ممالک میں 70فیصد تک بچے بغیر شادی کے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ وہاں رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرنے اور بچے پیدا کرنے کی قانونا اجازت ہے۔ ہمارے ہاں اس کی اجازت نہ ہونے اور اس کے مجوزہ مسائل کی وجہ سے یہ تسکین حاصل کرنے کے لیئے صاحبان حیثیت عموما مغربی ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔ وقتی جنسی تعلقات بنانے کا دھندا پاکستان اور دیگر مشرقی اور مذہبی ملکوں میں بھی خفیہ طور پر ہوتا ہے لیکن جب ایسا کوئی سکینڈل مغربی ملکوں اور خاص طور پر امریکہ جیسے لادین اور  سیکولر ملک میں سامنے آئے تو وہ ان کے دہرے معیار کا مظہر ہے۔

    انہی سکینڈلز میں سے ایک جنسی سکینڈل ان دنوں ڈسکس ہو رہا ہے جسے جیفری ایپسٹین نام کا ایک یہودی ہم جنس پرست (پیڈوفائل) ایک بڑے اور منافع بخش کاروبار کے طور پر چلا رہا تھا. وہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکیوں کو پھانس کر ان سے جنسی تعلق قائم کرتا تھا اور پھر انہیں اپنے ممبران کو بھی پیش کرتا تھا. پھر وہ ایک دن قانون کی گرفت میں آ گیا اور جیل چلا گیا جہاں اس نے خوف اور بدنامی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی. یہ کروڑپتی اور بااثر آدمی تھا جس کے  سیاستدانوں، بادشاہوں، شہزادوں، اور تاجروں سے تعلقات تھے. جو بھی اس جنسی حرم میں داخل ہوتا یا اس سے تعلقات اور رابطہ کرتا وہ ایسے ہر بندے کا نام ایپسٹین فائلز میں درج کر لیتا تھا، خواہ یہ تعلق کاروباری نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو. 

    ان ایپسٹین فائلز کو پبلک کرنے کا مطالبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی پارٹی والوں نے کیا تھا. ان کا خیال تھا کہ یوں وہ ڈیموکریٹ بل کلنٹن کو رسوا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے. ٹرمپ نے الیکشن سے پہلے ایپسٹین فائلز پبلک کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ٹرمپ کی اٹارنی جزل اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پامیلا بونڈی نے انہیں خبردار کیا کہ ان فائلز میں آپ کا نام نامی  بھی موجود ہے. پھر ٹرمپ نے کوشش کی کہ فائلز پبلک نہ ہوں. لیکن کانگریس کی دونوں پارٹیوں ریپلکن اور ڈیموکریٹ نے بل پاس کر کے اسے ایپسٹین فائلز پبلک کرنے پر مجبور کر دیا. دعوی کیا جا رہا ہے ایپسٹین فائلز میں دنیا کے مشہور سائنس دان سٹیفن ہاکنگ کا نام بھی شامل ہے۔ سائنس کے طالب علم جانتے ہیں کہ انہیں ایک خاص قسم کی جسمانی بیماری لاحق تھی جس کی وجہ سے ان کا آدھا جسم حرکت کے قابل نہیں تھا لیکن اس سکینڈل میں انہیں بھی گھسیٹا گیا یے۔ ان فائلز کے پبلک ہوتے ہی اہل وطن کے سیاسی  مخالفین کے ہاتھوں میں بھی بہانہ آ گیا یے، اب وہ اس سے دنیا کے ہر بڑے غیر مذہبی یا ملحد کو بدنام کرنے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں. شیخ ابراہیم ذوق نے کہا تھا، "رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو، تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔” دوسروں کو خواہ مخواہ بدنام کرنے والے یہ  بھول گئے ہیں کہ خود ایپسٹین یہودی تو تھا لیکن اس سے میل ملاقات یا رابطہ کرنے والوں کی بھاری اکثریت میں مذہبی افراد بھی شامل ہیں. ان فائلز میں پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی کوششیں کرنے والے تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان صاحب کا نام  بھی لیا جا رہا ہے. خان صاحب کی اور اس قبیل کی کچھ خواتین کے ساتھ ان کی کچھ تصاویر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، ان فائلز میں تحریک انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی کا  نام بھی شامل ہے۔ اس میں سچ کتنا ہے اور جھوٹ کتنا ہے اس سکینڈل کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر پتہ چلے گا۔ ایپسٹین فائلز آسمان سے نازل نہیں ہوئی ہیں، یہ امریکہ کے محکمہ انصاف نے پبلک کی ہیں.

    امریکی ایپسٹین فائلز کا جنسی سکینڈل

    حیران کن حد تک ایپسٹین فائلیں چھ ملین سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات ہیں، جن میں تصاویر اور ویڈیوز کا مجموعہ موجود ہے۔ ان میں کون کونسے پردہ نشین شامل ہیں آپ ان کے بارے میں تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس سکینڈل کا بانی امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ طفلی بچوں کا جنسی مجرم جیفری ایپسٹین تھا جس نے عوامی شخصیات پر مشتمل سماجی حلقوں کی مجرمانہ سرگرمیوں کی تفصیل جمع کی، جن میں سیاست دان اور مشہور شخصیات شامل ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 2024ء کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران، ایپسٹین فائلوں کو جاری کرنے کا خیال پیش کیا تھا تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ یہ فائلیں ڈیموکریٹک پارٹی (ریاستہائے متحدہ) کے اراکین کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔ 18 نومبر 2025ء کو ریاستہائے متحدہ ایوان نمائندگان نے ایپسٹین فائلز شفافیت ایکٹ کو اکثریتی ووٹ سے منظور کیا، اور ریاستہائے متحدہ سینٹ نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اگلے دن ٹرمپ نے اس بل پر دستخط کیے۔ ریاستہائے متحدہ محکمہ انصاف نے 19 دسمبر 2025ء کی قانونی آخری تاریخ تک ایپسٹین فائلوں کی نسبتاً کم مقدار جاری کی، جس پر دو جماعتی تنقید ہوئی۔ 30 جنوری 2026 کو 30 لاکھ سے زائد صفحات جاری کیے گئے، جن میں 2,000 ویڈیوز اور 180,000 تصاویر شامل تھیں۔ اگرچہ محکمہ انصاف نے تسلیم کیا کہ مجموعی طور پر 60 لاکھ سے زائد صفحات ایسے ہو سکتے ہیں جو ایپسٹین فائلز شفافیت ایکٹ کے تحت جاری کیے جانے کے اہل ہوں۔ تاہم 30 جنوری کی اشاعت آخری ہے اور اس نے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔

    ایپسٹین فائلز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ، صدر کلنٹن، ان کی اہلیہ ہیلری، صدر جارج بش سینئر، ایلون مسک، بل گیٹس اور درجنوں دیگر اہم شخصیات کے نام سرفہرست ہیں۔ ایک اور بڑا نام برطانوی بادشاہ چارلس کے بھائی اینڈریو کا بھی ہے جن سے شاہی خاندان کے خطاب اور مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ ہاورڈ یونیورسٹی کے صدر لیری سمرز، سلواکیہ کے قومی سلامتی کے مشیر مائرواسلاو لائچاک، برطانوی سفیر لارڈ پیٹر مینڈیل سن اور نیویارک کے مسلم میئر ظہران ممدانی جیسی شخصیات بھی شامل ہیں۔

  • دیکھتا ہوں ناروے نوبل پرائز کیسے نہیں دیتا

    دیکھتا ہوں ناروے نوبل پرائز کیسے نہیں دیتا

    دیکھتا ہوں ناروے نوبل پرائز کیسے نہیں دیتا

    Dubai Naama

    امریکی صدر کی حالیہ جارحانہ پالیسیوں نے پوری دنیا میں طاقت کے توازن کا نظریہ بدل دیا ہے۔ اب یہ دعوی کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن سا ہو گیا ہے کہ بیلنس آف پاور امن کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ کسی ملک کی کمزوری دشمن ملک کو حملہ کرنے پر اکسا سکتی ہے لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ کمزور ملک طاقت اکٹھی کرے تو طاقتور ملک خود کو مزید طاقتور نہیں بنائے گا؟ گزشتہ سرد جنگ کے دوران تخخیف اسلحہ پر کافی کام ہوا تھا لیکن دنیا طاقت کے اس کھوکھلے فہم کی وجہ سے اسلحہ کے ڈھیر لگانے میں دوبارہ پاگل ہو رہی ہے۔

    جارح امریکی صدر نے دنیا کو آگ کے الاو پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کا پہلا دور پھر بھی کچھ پرامن تھا لیکن اس بار انہیں جہاں موقع مل رہا ہے وہ جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔ اسرائیل کے قطر اور ایران پر حملوں، وینزویلا پر امریکی قبضے، گرین لینڈ کو زبردستی خریدنے کا اعلان، کنیڈا جیسے پرامن ملک سے تناو اور یورپ سے امریکہ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو امریکہ کی بے مہار طاقت بری طرح ہوا دے رہی ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اس جارہانہ پالیسی کو امن کا روڈ میپ قرار دیتے ہیں، حالانکہ طاقت اپنے اظہار سے طاقت ہی کو فروغ دیتی ہے، جو امن کی بجائے بلآخر جنگ برپا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

    ماضی میں سپر طاقت کی دوڑ میں امریکہ کا مدمقابل روس یوکرین میں بری طرح پھنسنے کے بعد فوجی اور معاشی طور پر کمزور ہو چکا ہے جبکہ دفاعی اور فوجی طاقت رکھنے کے باوجود امریکہ کی معاشی حالت یہ یے کہ اس کا قومی قرضہ 38 ٹریلئن ڈالرز کو چھو رہا ہے، جو امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بنا چکا ہے۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی فوجی طاقت ہے لیکن وہ جارحیت کی بجائے خاموشی کے ساتھ کاروبار کو تیزی سے فروغ دے دینے کے ساتھ ساتھ اپنی فوجی طاقت میں بھی مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ جیسے کہتے ہیں کہ گہرے پانیوں کی خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے اب امریکہ کو احساس ہو چکا ہے کہ چین کے گرد گھیرا تنگ نہ کیا گیا تو کل کلاں وہ امریکہ کی عالمی سپریمیسی کو چیلنج کر سکتا ہے۔ اس خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ نے پہلے وینزویلا اور اب گرین لینڈ پر امریکی جھنڈا لہرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ امریکہ کی اس جارحانہ خارجہ پالیسی کے پیش نظر کنیڈا کے وزیراعظم بھی چین کا دورہ کیا اور امریکہ کی بجائے چین سے دفاعی معاہدوں پر دستخط کیئے۔ امریکہ کا قومی قرضہ لاکھوں ڈالر فی منٹ کے حساب سے بڑھ رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی اکانومی بچانے کے لئے اسی قدیم جارحانہ خارجہ پالیسی پر کام کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جس پر عمل کرتے ہوئے دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے فتح حاصل کی اور جس کے بعد امریکہ کی چھتری تلے برطانیہ کے کندھوں پر دنیا میں استعماری نظام کو رائج کیا گیا۔

    جنگ عظیم دوم کے بعد ایک عرصہ تک دنیا میں استعماریت کا سکہ چلتا رہا لیکن مختلف قوموں کو آزادی اور خودمختاری ملنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس کا سورج غروب ہو گیا۔ یہاں تک کہ مشرق وسطی میں ایران اب تک امریکہ کے لیئے درد سر بنا ہوا ہے۔ ایشاء میں بھارت کے علاوہ چین اور پاکستان ایٹمی طاقتیں ہیں تو یورپ بھی اب گرین لینڈ کے مسئلے پر امریکہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے کیونکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ نے امریکہ کے سامنے سینہ سپر ہونے کے لیئے علامتی طور پر اپنے فوجی گرین لینڈ بھیجے ہیں۔ آنے والے چند سال امریکہ کے لئے ڈالر چھاپنے کا شائد آخری دور ہے، اس لئے امریکہ بے تحاشا ڈالر چھاپے گا اور ان سے بے تحاشہ خریداری کرے گا کیونکہ ان حالات کے بناء پر دنیا میں ڈالر کی قدر دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ ممکن ہے ایسا وقت بھی آئے کہ دنیا بھر میں ڈالرز بکھرے پڑے ہوں گے اور ان سے کچھ بھی خریدنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے بعد ڈالر عملی طور پر ختم بھی ہو سکتا ہے کیونکہ جیسے ہی کوئی مضبوط متبادل نظام آ گیا، ڈالر کی حیثیت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اسی لئے امریکہ میں اب ڈالر چھاپنے کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی جائے گی اور امریکی قرضہ بھی تیزی سے بڑھتا چلا جائے گا۔

    دیکھتا ہوں ناروے نوبل پرائز کیسے نہیں دیتا

    امریکہ نے قرض ڈالرز میں واپس کرنا ہے اور وہ ڈالر چھاپ کر قرض واپس کر دے گا اس لئے ڈیفالٹ کا خطرہ امریکہ کو کم اور انہیں زیادہ ہے جو ڈالر جمع کر کے بیٹھے ہیں۔ روسی ماہرین بتا رہے ہیں کہ امریکہ اپنے قرض کو کرنسی کی قیمت گرا کر کم کر سکتا ہے۔ ویلیو ختم ہو گی تو قرضے خود بخود بے معنی ہو جائیں گے۔ یہ قرضوں سے جان چھڑانے کا ایک پیچیدہ مگر جدید طریقہ ہے۔ اگر امریکہ آج گرین لینڈ خریدنے کی بات کرے یا وینزویلا سے تیل خریدنے کی بات کر رہا ہے، تو اصل نقصان بیچنے والوں کا ہے۔ ڈالر کی اپنی کوئی حقیقی قیمت نہیں رہے گی۔ ایران کی کرنسی کو ہی دیکھ لیں کہ پابندیوں کی وجہ سے وہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ایران کی کرنسی کا یہ حال ہے کہ ایک امریکی ڈالر 1,075,000.00 ایرانی ریال کے برابر ہے۔ امریکہ کاغذ دے کر تیل لے رہا ہے، اثاثے لے رہا ہے، وفاداریاں خرید رہا ہے۔ یہ سب کچھ امریکہ نہیں کر رہا، یہ اسٹیبلشمنٹ اور بینکرز کر رہے ہیں، جس کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، جاپان اور یورپ وغیرہ ہیں۔ جنگ عظیم دوم میں جو ممالک ایک دوسرے کے حریف تھے جنگ کے خاتمے پر ایک دوسرے کے حلیف بن گئے۔ جاپان شکست کے بعد امریکہ کی زیر نگرانی چلا گیا۔ انگلینڈ لندن میں دریائے تھیمز کے کنارے جرمنی کے جہازوں کی بمباری کے نشانات کو وزٹ کر کے آج بھی دیکھا جا سکتا ہے لیکن جنگ ختم ہوئی تو جرمنی اور انگلینڈ ایک دوسرے کے اتنے قریب آئے کہ ان میں گاڑھی چھننے لگی۔ یورپ جو کچھ وقت پہلے تک امریکہ کا حلیف رہا ہے آج اس کی راہیں جدا ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ کنیڈا اور امریکہ میں بھی فاصلے پیدا ہو چکے ہیں۔ اگر امریکہ کو زوال آیا جو ان حالات میں زوال کی طرف بڑھ بھی رہا ہے اور تیسری عالمی جنگ بھی ہو گئی تو شکست اور پابندیوں کے بعد امریکہ کی کرنسی کا بھی وہی حال ہو گا جو آج ایرانی کرنسی کا ہے۔

    ممکن ہے انفلیشن کے باوجود امریکہ اگلے پانچ سال تک زیادہ نوٹ چھاپنے کا سلسلہ جاری رکھے لیکن گلوبل ساؤتھ نے چین کا متبادل مالی نظام مکمل طور پر اپنا لیا، تو ممکن ہے امریکہ کے منصوبے درمیان میں ہی ناکام ہو جائیں۔ بہرکیف اس وقت حقیقت یہی ہے کہ امریکہ دھڑا دھڑ ڈالر چھاپ رہا ہے۔ منی سپلائی لاکھ ڈالر فی منٹ سے بھی زیادہ ہے۔ ایک سال پہلے تک امریکہ ہر سو سال میں ایک ہزار ارب ڈالر قرض اٹھا رہا تھا اس وقت یہ اوسط نوے دن پر آ چکی ہے۔ امریکی بجٹ کا سب سے بڑا خرچ قرض پر سود کی ادائیگی ہے۔ قرض کی ادائیگی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، مزید قرض لئے بغیر سود ادا کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آخری حد تک جانے کو تیار نظر آتے ہیں اور بظاہر وہ تیسری عالمی جنگ لڑے بغیر ہی یہ جنگ جیتنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ یہ سب کچھ دنیا میں امن کی بحالی کے لیئے کر رہے ہیں، اور اب تو انہوں نے ناروے کی نوبل انعام کمیٹی کو بھی دھمکی لگائی ہے کہ نوبل پیس پرائز کمیٹی ان کی خدمات کے بدلے انہیں "نوبل پرائز” کے لیئے کیوں کنسیڈر نہیں کر رہی ہے؟

  • یو ایس ایس ابراہام لنکن

    یو ایس ایس ابراہام لنکن

    یو ایس ایس ابراہام لنکن: امریکی طیارہ بردار بحری جہاز

    یو ایس ایس ابراہام لنکن (USS Abraham Lincoln (CVN-72))ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بحریہ کا پانچواں نیمٹز کلاس طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔ یہ امریکی  بحریہ کا تیسرا جہاز ہے جس کا نام سابق صدر ابراہم لنکن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کی آبائی بندرگاہ NAS نارتھ آئی لینڈ، سان ڈیاگو، کیلیفورنیا ہے۔ وہ ریاستہائے متحدہ پیسیفک فلیٹ کا رکن ہے۔ یہ  انتظامی طور پر کمانڈر، نیول ایئر فورس پیسیفک کے ماتحت ہے، اور آپریشنل طور پر کیریئر اسٹرائیک گروپ 3 کی فلیگ شپ اور کیریئر ایئر ونگ نائن کا بحری مستقر ہے۔ 

    ابراہم لنکن کا ٹھیکہ 27 دسمبر 1982 کو نیوپورٹ نیوز شپ بلڈنگ کو دیا گیا تھا۔ اس کی بنیاد 3 نومبر 1984 کو نیوپورٹ نیوز، ورجینیا میں رکھی گئی۔ یہ جہاز 13 فروری 1988 کو لانچ کیا گیا تھا اور 11 نومبر 1989 کو پہلی بار چلایا گیا تھا۔

    تاریخ و تفصیل
    ریاستہائے متحدہ
    نامابراہم لنکن
    ناموسابراہم لنکن سابق امریکی صدر
    بهره بردارامریکی بحریہ
    تاریخ اعطا27 دسمبر 1982
    معمارنیوپورٹ نیوز شپ بلڈنگ
    لاگت2.24 بلین ڈالر (2024 میں 6.82 بلین ڈالر)
    تاریخ ساخت3 نومبر 1984
    تاریخ افتتاح13 فروری 1988
    اسپانسرجو این کے ویب
    تعمید13 فروری 1988
    اعزام30 اکتوبر 1989
    تاریخ آغاز کار11 نومبر 1989
    بندرگاہ ابتدانیول ایئر اسٹیشن نارتھ آئی لینڈ
    شناختMMSI number: 369970406Callsign: NABE
    Hull number: CVN-72
    شعارShall Not Perish
    عرفیتAbe
    کیفیتفعال
    نشان1
    عمومی خصوصیات
    کلاس اور قسمنیمٹز کلاس طیارہ بردار بحری جہاز
    نقل و حرکت104,300 طویل ٹن (116,800 مختصر ٹن)
    لمبائیمجموعی طور پر: 1,092 فٹ (332.8 میٹر)
    واٹر لائن: 1,040 فٹ (317.0 میٹر)
    بیممجموعی طور پر: 252 فٹ (76.8 میٹر)
    ڈرافٹزیادہ سے زیادہ نیویگیشنل: 37 فٹ (11.3 میٹر)
    حد: 41 فٹ (12.5 میٹر)
    انسٹال شدہ پاور2 × ویسٹنگ ہاؤس A4W جوہری ری ایکٹر
    260,000 shp (190,000 kW)
    پروپلشن4 × سٹیم ٹربائنز
    4 × شافٹ
    رفتار30 ناٹس سے زیادہ (56 کلومیٹر فی گھنٹہ؛ 35 میل فی گھنٹہ)
    رینجلامحدود فاصلہ؛ 20-25 سال
    تکمیل3,200
    ایئر ونگ: 2,480
    سینسر اور
    پروسیسنگ کے نظام
    AN/SPS-48E 3-D ایئر سرچ ریڈار
    AN/SPS-49(V)5 2-D ایئر سرچ ریڈار
    AN/SPQ-9B ہدف کے حصول کا ریڈار
    AN/SPN-46 ایئر ٹریفک کنٹرول ریڈار
    AN/SPN-43C ایئر ٹریفک کنٹرول ریڈار
    AN/SPN-41 لینڈنگ ایڈ ریڈار
    4 × Mk 91 NSSM رہنمائی کے نظام
    4 × Mk 95 ریڈار
    الیکٹرانک جنگ
    اور decoys
    SLQ-32A(V)4 کاؤنٹر میژرز سویٹ
    SLQ-25A نکسی ٹارپیڈو
    اسلحہ2 × Mk 57 Mod 3 Sea Sparrow
    2 × RIM-116 رولنگ ایئر فریم میزائل
    2 × فیلانکس CIWS
    گنجائش90 فکسڈ ونگ اور ہیلی کاپٹر

    اسے 12 مئی 2017 کو نیوپورٹ نیوز شپ یارڈ میں اپنے ریفیولنگ اور کمپلیکس اوور ہال (RCOH) کی کامیاب تکمیل کے موقع پر بحری بیڑے میں واپس کر دیا گیا۔ اگست 2024 میں، یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے اسٹرائیک گروپ کو ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر امریکی ردعمل کے ایک حصے کے طور پر مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا۔

    یو ایس ایس ابراہام لنکن
    یو ایس ایس ابراہم لنکن جنوری 2019 کو بحر اوقیانوس میں – تصویر ویکیپیڈیا انگریزی سے

    ابراہام لنکن کو ستمبر 1990 میں بحرالکاہل منتقل کر دیا گیا تھا جہاں اس نے ارجنٹائن نیول ایوی ایشن کے ساتھ گرینگو-گاوچو بحری جنگی مشقوں میں حصہ لیا تھا۔ 4 اکتوبر سے، ابراہم لنکن نے یو ایس ایس ڈوئیل (USS Doyle )بحری جہاز کے ساتھ مل کر CTG 24.8 تشکیل دیا۔ [2]اور امریکی بحریہ کے تیل بردار جہاز یو ایس ایس پاؤکاتک (USS Pawcatuck) اور Doyle کے ساتھ 6 اکتوبر تک سفر کیا۔ 5 نومبر 1990 کو جب ابراہم لنکن والپاریسو میں لنگر انداز تھا، فرنٹ پیٹریوٹیکو مینوئل روڈریگز کے گوریلوں نے ویانا ڈیل مار کے سمندر کنارے ریسورٹ میکس اینڈ مورٹز کے اندر ایک بم دھماکہ کیا، جس سے اس کے تین ملاح زخمی ہو گئے۔2

    جنوری 2026 میں، ایران میں مظاہروں کے بعد، 3ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ، اس بحری جہاز کو بحیرہ جنوبی چین سے نکلتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی طرف جانے کی اطلاعات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسے 26 جنوری کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا اور امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ 27 جنوری سےکئی روزہ فضائی فوجی مشقیں شروع کرے گا۔ 29 جنوری تک، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ فی الحال آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والا ہے۔4

    حوالہ جات:

    1. US Navy. Retrieved 25 April 2022 ↩︎
    2. The New York Times. 5 November 1990 ↩︎
    3. Iran Update, January 11, 2026 ↩︎
    4. USNI News Fleet and Marine Tracker: Jan. 26, 2026 ↩︎

  • اسلامی دنیا کی دوسری ایٹمی پاور بننے کا امکان 

    اسلامی دنیا کی دوسری ایٹمی پاور بننے کا امکان 

    اسلامی دنیا کی دوسری ایٹمی پاور بننے کا امکان 

    Dubai Naama

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن پلان اور ایران پر حملے کے دو اکٹھے محاذ کھولے۔ انہیں وینزویلا کی فتح کا نشہ ابھی نہیں اترا تھا کہ انہوں نے کنیڈا کو ناراض کیا جس کے ردعمل میں کنیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے نہ صرف چین کا دورہ کیا اور اس کے ساتھ تجارتی اور اسٹریٹجک معاہدے بھی کیئے بلکہ کنیڈا کے  وزیراعظم نے چند روز پہلے امریکی ٹیرف کی بھی کھل کر مخالفت کر دی۔ مزید دیکھیئے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کا اشو کھڑا کیا تو اس کے فورا بعد ایران پر حملے کے لیئے خلیج فارس میں ابراہیم لنکن بحری بیڑا بھی بھیج دیا۔ امریکی صدر کی یہ وہ بیک وقت غلط عالمی جارحانہ پالیسیاں تھیں جس نے نہ صرف پوری دنیا میں ہلچل پیدا کر دی اور بشمول روس اور چین دیگر عالمی طاقتوں کے بھی کان کھڑے کر دیئے، بلکہ ایران کو بھی یہ نادر موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی خفیہ طاقت کا کھل کر مظاہرہ کرے۔

    برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارم بھی 3 روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ چینی قیادت سے اہم سیاسی اور معاشی معاملات پر بات چیت کریں گے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ سال 2018ء کے بعد کسی برطانوی وزیرِاعظم کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایران امریکہ اس کشمکش کے موقع پر یہ دورہ اور بھی اہمیت کا حامل ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق کیئر اسٹارمر کی چین کے صدر شی جن پنگ سے جمعرات کو ملاقات متوقع تھی، جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلۂ خیال کیا جانا تھا۔ برطانوی وزیرِاعظم کے ہمراہ 60 سے زائد کاروباری اور ثقافتی شعبوں سے وابستہ شخصیات بھی چین پہنچی تھیں، جو اس دورے کو تجارتی اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران چین کے ساتھ معاشی تعلقات کو فروغ دینے پر خصوصی گفتگو ہونا تھی، جبکہ انسانی حقوق اور سائبر سکیورٹی جیسے حساس معاملات بھی مذاکرات کا حصہ تھے۔

    تا دم تحریر خبر آئی ہے کہ امریکہ نے کینیڈا کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے 88 لڑاکا طیارے خریدنے کے معاہدے پر عمل نہ کیا تو امریکی لڑاکا طیارے کینیڈا کی فضائی حدود میں بھیجے جا سکتے ہیں۔ امریکی صدر کے جلد بازی میں کئی محاذوں پر ایک ہی وقت میں اٹھائے گئے یہ اشتعال انگیز اقدامات سے جہاں عالمی سیاسی مبصرین کو حیرت ہوئی ہے وہاں ایران نے اپنی قوت کو بھرپور انداز میں مجتمع کیا ہے۔ جونہی امریکی جنگی بحری بیڑا خلیج فارس میں پہنچا ایران کی تقریباً 300 تیز رفتار میزائل بردار کشتیاں قریبی فاصلے پر طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے کے سامنے آ گئیں اور ٹرمپ کو جنگ کے لئے آمادگی کا پیغام دیا۔ ایران نے سپاہ کی تاریخ میں پہلی بار، بحریہ کے تمام جہازوں کو میزائلوں سے لیس کیا اور جنگی ترتیب اختیار کرتے ہوئے خلیج فارس میں داخل کیا۔ بحریہ کے تمام میزائل نظام محفوظ گوداموں سے نکال کر مختلف مقامات پر تعینات کر دیئے اور فائرنگ کے لئے انہیں اگلے حکم کا انتظار کرنے کے لیئے کہا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی بھی غلطی کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا.

    اسلامی دنیا کی دوسری ایٹمی پاور بننے کا امکان 

    امریکی صدر کے ان جارحانہ عزائم اور ایران پر حملے کی صورت میں ایران نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ اسرائیل اور خطے میں موجود جن مسلم ممالک سے ایران پر حملہ ہوا جواب میں وہ امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دے گا۔ ایران کی اس دلیرانہ حکمت عملی کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ چین اور روس نے ایران کو فوری جنگی کمک پہنچانی شروع کر دی۔ گزشتہ 78 گھنٹوں میں چین اور روس کے 20 سے زیادہ اسلحہ بردار جہاز ایران میں اترے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت تمام خلیجی ممالک نے امریکہ پر دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ وہ امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان نے بھی واضح کیا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل ایران پر حملہ کریں گے تو ہم اس صورتحال میں ایران کا مکمل ساتھ دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پوری دنیا پر اس کا کنٹرول ہو لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

    پاکستان اور ترکی نے بھی امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں وہ ایران کا ساتھ دیں گے۔ سید علی حسینی خامنہ ای کو ایران میں روحانی طاقت حاصل ہے۔ وہ اہل تشیع کے 12 امامی مُجتہد اور سیاست دان ہیں جو سنہ 1989ء سے ایران کے دوسرے رہبرِ معظم کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں. اس سے پہلے وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے تیسرے صدر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ خامنہ ای کی 35 سالہ طویل حکمرانی انھیں مشرق وسطیٰ میں سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے طاقتور سربراہ مملکت بناتی ہے۔ یوں پچھلی صدی میں شاہ محمد رضا پہلوی کے بعد وہ دوسرے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے ایرانی رہنما ہیں. انہوں نے دنیا پر اپنے ایک بیان میں واضح کر دیا ہے کہ گزشتہ اسرائیل امریکی حملوں کے دوران ان کی ایٹمی تنصیبات اور افزودہ یورینیم مکمل طور محفوط رہی تھی اور اب وہ اپنے دفاع کی خاطر ایٹمی پروگرام جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ ایران کے پاس کتنی دفاعی قوت ہے؟ اس سوال کا جواب ایران کے 46 سالہ انقلاب کے اندر ہے اور اب ایرانی حکومت کے لیئے تخت اور تختے کا مسئلہ ہے جس سے ایران کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایران کو انگریزی محاورے "ڈو آر ڈائی” کا سامنا ہے یعنی کچھ کرو یا شہید ہو جاو’۔ اسرائیل اور امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے اپنے میزائلوں پر ایٹمی وار ہیڈز نصب کر لیئے ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر اب امریکی صدر بھی ایران پر حملے کی بجائے مذاکرات پر پلٹ رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان نے مئی 1998ء میں ایٹمی دھماکے کیئے تھے۔ بھارت نے 11 اور 13 مئی 1998ء کو پوکھران میں 5 دھماکے کئے، جس کے جواب میں پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو بلوچستان کے چاغی کے مقام پر 5 زیر زمین ایٹمی دھماکے کر کے عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطرناک (ممکنہ ایٹمی وار ہیڈز سے بھرا) ابراہیم لنکن بحری بیڑا ایران پر حملے کے لیئے خلیج فارس میں لانا ایران کو یہ موقع دے چکا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی دوسری ایٹمی پاور بننے کے لیئے ایٹمی دھماکے کرے جو بہت سے عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کی نظر میں عین ممکن نظر آ رہے ہیں۔

    ایران اپنی جنگی حکمت عملی ترتیب دے چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی ممکنہ حملے کے نتیجے میں ایران سب سے پہلے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دے گا۔ اس کے بعد وہ ایک ساتھ 30ہزار سے 50ہزار سب سے خطرناک میزائل اور سات سے دس ہزار ڈرون اسرائیل کی طرف ایک ہی لمحے میں فائر کرے گا۔ اس کے بعد جہاں جہاں سے ایران پر حملہ ہو گا ان پر بلیسٹک میزائل ہزاروں کی تعداد میں فائر کرے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے 22 ہزار ہائپر سونک میزائلوں پر "ایٹامک وار ہیڈ” بھی نصب کیا ہوا ہے کسی ایمرجنسی کی صورت میں وہ بھی فائر کرے گا۔ اگر اب بھی امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو جہاں اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا وہاں امریکہ کا سپر پاور رہنا بھی محال نظر آ رہا ہے۔ شاید ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کی سپریمیسی میں ایران پر حملے کی تیاری کر کے امریکی گوربا چوف بننا چاہتے ہیں۔ اگر امریکہ حملے سے باز بھی رہتا ہے تو نیتن یاہو اور ٹرمپ نے ایران کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ بھی ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو بتا دے کہ وہ اسلامی دنیا کی دوسری ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔

    Title Image by Markus Distelrath from Pixabay

  • ٹرمپ کے امن بورڈ کا ڈرامہ

    ٹرمپ کے امن بورڈ کا ڈرامہ

    ٹرمپ کے امن بورڈ کا ڈرامہ

    Dubai Naama

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے غزہ عالمی امن بورڈ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس میں ایک ارب ڈالر کی انٹری فیس دینے کے وعدے پر کچھ ممالک نے شمولیت بھی اختیار کر لی ہے لیکن لگتا ایسا ہے کہ، "ایں خیال است، محال است و جنوں”، کے مصداق اس منصوبے کی بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ بظاہر غزہ اور مشرق وسطی میں امن کی بحالی کا یہ منصوبہ بہت خوشنما ہے لیکن ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ہے۔

    امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غزہ میں امن اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ فلسطینوں کی نسل کشی اور جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ نے 8 قرار دادیں پاس کیں، آٹھوں کو امریکہ نے ویٹو کیا۔ انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس نے اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کئے لیکن صدر ٹرمپ نے عدالت کے احکامات کی تضحیک کی اور نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے بجائے اسکے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کی اور اسے مدد جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا۔ اس میں بوڑھے مرد و خواتین اور معصوم بچے بھی تھے، لاکھوں ٹن بارود گرا کر غزہ کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا، انفراسٹرکچر تباہ کیا، امدادی قافلوں پر حملے کیئے اور ہسپتالوں تک کو تباہ کر دیا۔ 

    اس امریکی حمایت اور اسرائیلی جارحیت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ دھشتگرد حماس نہیں بلکہ اسرائیل ہے۔ ساری دنیا چاہتی ہے کہ غزہ میں امن قائم ہو لیکن اس امن کے لئے اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ امن کی تمام کوششوں میں فلسطین کی اتھارٹی کو کیوں نہیں بٹھایا جاتا؟ حماس کو غیر مسلح کرنے کے بجائے اسرائیل سے غزہ کا قبضہ چھڑایا جانا چایئے اور نیتن یاہو کو گرفتار کر کے عالمی عدالت میں جنگی جرائم اور فلسطین میں انسانی مسئلہ پیدا کرنے کے مقدمات چلائے جانے چایئے۔ جب اسرائیل فلسطینوں کی سر زمین سے نکل جائے گا تو حماس خود بخود غیر مسلح ہو جائے گی۔فلسطینی علاقوں پر تو امریکہ کے ایماء پر خود اسرائیل قابض ہے، تو پھر فلسطین کی جہادی تنظیم کو اپنے علاقے واپس لینے کی جدوجہد سے روکنا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ ایکشن تو غاصب ریاست اسرائیل کے خلاف لیا جانا چایئے۔ لیکن امریکہ امن بورڈ کا ڈرامہ رچا کر فلسطینیوں کو بیدخل کر کے غزہ پر خود قبضہ جمانا چاہتا ہے جس کا امریکی صدر بارہا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ وہ غزہ کا انفراسٹرکچر بحال کر کے اسے خوبصورت عالمی سیرگاہ بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن غزہ میں امن کی بحالی اسی صورت میں ممکن ہے جب فلسطینیوں کے حق رائے دہی اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

    ٹرمپ کے امن بورڈ کا ڈرامہ

    21 جنوری 2026ء کو 8 اسلامی ملکوں نے غزہ عالمی امن بورڈ میں شمولیت کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کیا تھا جس میں پاکستان، انڈونیشیا، مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر شامل ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے مطابق غزہ میں قیامِ امن، مستقل جنگ بندی، تعمیرنو، فلسطینیوں کی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں حقِ رائے دہی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں اعلامیہ جاری کیا تھا۔ ان ممالک کی نیت اور اخلاص پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ امریکی صدر نے 60 ممالک کو شرکت کے دعوت نامے بھیجے جن میں سے صرف 19ممالک معاہدے میں شامل ہوئے۔ دیگر ممالک کے شامل نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس امن معاہدے میں فلسطین کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ یہ غزہ کا کیسا عالمی امن بورڈ ہے کہ جسے غزہ اور فلسطین میں امن کی بحالی کے لیئے بنایا گیا یے مگر اس میں فلسطین ہی کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ بعض ممالک اسی وجہ سے شمولیت کرنے باز رہے یا پھر انہوں نے غیر حاضر رہنے کو ترجیح دی۔ اسرائیل کو پاکستان کے کسی عبوری فورس کا حصّہ بننے یا تعمیر نو میں شامل ہونے پر اعتراض ہے۔ دوسری طرف چین، جرمنی، اسپین اور فرانس نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا جبکہ روس نے صدر ٹرمپ کی یوکرائن جنگ ختم کرانے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امن بورڈ میں شمولیت اپنے اسٹریٹجک پارٹنر ممالک سے مشاورت سے مشروط کر دی۔ البتہ روس نے غزہ امن بورڈ میں ایک ارب ڈالر فلسطینیوں کی امداد کے لئے دینے کا اعلان کیا۔ مغربی ممالک میں برطانیہ، کینیڈا اور اٹلی خاموش ہیں۔ صدر ٹرمپ کا خیال صرف چنیدہ ممالک کے تعاون سے غزہ میں امن کا قیام تھا لیکن بعد میں انہوں نے 60 ممالک کو نہ صرف شمولیت کے دعوت نامے جاری کئے بلکہ بورڈ کو اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ صدر ٹرمپ اقوامِ متحدہ پر الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ جنگیں رکوانے میں مؤثر طریقے سے کردار ادا نہیں کر رہا ہے لیکن دنیا جانتی ہے کہ فلسطین میں امن کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ ہے جس نے اقوام متحدہ کی آٹھ کی آٹھ قرار دادوں کو ویٹو کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینکا۔

    حال ہی میں امریکہ نے اقوامِ متحدہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسکی 66 کمیٹیوں سے نکلنے کا عندیہ دیا۔ اقوام متحدہ کے مدمقابل اس سے بڑا اور کیا ڈرامہ کیا ہو سکتا ہے کہ خود صدر ٹرمپ اس بورڈ کے تاحیات چیئرمین ہوں گے اور ویٹو کی واحد طاقت بھی ان کے پاس ہو گی۔ یہ تو صدر ٹرمپ نے پنجابی محاورے، "انھا ونڈے چوریاں مڑ مڑ گھر دیاں نوں”، کے مصداق خود ہی یہ امن معاہدہ بنایا ہے اور خود ہی اس کے ویٹو پاور کے حامل تاحیات چیئرمین بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے باقی مستقل اراکین چین، فرانس، روس اور برطانیہ نے اس میں شمولیت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

    امریکی صدر کم و بیش  7 لاکھ فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کے ساتھ کمر باندھ کر کھڑے ہیں۔ اب وہ عزہ میں امن معاہدے کا یہ ڈرامہ رچا کر حماس کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں۔ حماس کی ہمت، استقامت اور ایثار نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ جتنی مرضی چالیں چلیں، ان کی فلسطینی قربانیوں کے سامنے ایک نہیں چلے گی۔

    پاکستان نے فلسطین کے معاملے پر کبھی اپنی ریاستی پالیسی سے انحراف نہیں کیا۔ غزہ امن بورڈ میں پاکستانی شمولیت اس اعتبار سے خوش آئیند یے کہ پاکستان اس سے باہر رہ کر فلسطین کے حق میں وہ کردار ادا نہیں کر سکتا تھا جتنا اس میں شامل ہو کر اور فلسطینی امن فورس کا حصہ بن کر کر سکتا ہے۔ اسرائیل ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان کی شمولیت سے خائف ہے اور  یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کی اس امن بورڈ میں شمولیت پر سخت سیخ پا ہو رہا ہے۔

    .

  • امریکی آرمیڈا کی آمد اور ایران پر حملے کا خطرہ

    امریکی آرمیڈا کی آمد اور ایران پر حملے کا خطرہ

    امریکی آرمیڈا کی آمد اور ایران پر حملے کا خطرہ

    Dubai Naama

    امریکی اور مغربی دنیا کی نظریں مشرق وسطی پر ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے درمیان چند روز پہلے گرین لینڈ کے معاملے میں کچھ اختلافات سامنے آئے تھے لیکن کسی مسلم ملک یا خلیج فارس وغیرہ پر کنٹرول کے لیئے مغربی ممالک دو قالب یک جان ہیں۔ یہاں مستقل قدم جمانے کے لیئے انہیں ایک اسرائیل ناکافی نظر آتا ہے۔ گو کہ قطر میں امریکہ کا کسی مسلم ملک میں دنیا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ موجود ہے جہاں 10000 ہزار تک امریکی فوجی ہر وقت متحرک رہتے ہیں لیکن ایران کو قابو کرنے، وہاں رجیم چینج کے لیئے اور پھر اپنی مرضی کے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیئے یہ سب کچھ انہیں ناکافی نظر آتا ہے۔ اسلامی دنیا کے خلاف مغربی اتحاد کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ چند روز پہلے گرین لینڈ پر اختلافات اور وہاں چند درجن علامتی فوجی بھیجنے کے باوجود ٹرمپ کی جانب سے فرانسیسی شراب پر ٹیرف کی دھمکی کے بعد یورپی یونین نے سخت معاشی جواب دیا۔ بروسلز نے اعلان کیا کہ یورپی کمپنیاں امریکی بانڈز اور اثاثے جن کی مالیت تقریباً 8.1 ٹریلین ڈالر ہے فروخت کریں گی۔ اطلاعات کے مطابق تمام تجارتی معاہدے روک دیئے جائیں گے اور سب سے اہم یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان تمام دفاعی معاہدے بھی معطل کر دیئے جائیں گے۔ لیکن اب ایران پر امریکی حملے کا دوبارہ امکان پیدا ہوا ہے تو یورپ دوبارہ امریکی حمایت میں کھڑا ہو گیا ہے۔

    گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا کہ امریکہ کا خطرناک بحری بیڑا ایران کی طرف چل پڑا ہے۔ انہوں نے ایک خاص جملہ استعمال کیا کہ "امریکی آرمیڈا” ایران کی طرف جا رہی ہے۔ فوجی زبان میں آرمیڈا ایک عام یا معمولی اصطلاح نہیں ہے، کیونکہ لفظ آرمیڈا محض چند جنگی جہازوں کے مجموعے کے لیئے استعمال نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد ایک بہت بڑا، منظم اور انتہائی طاقتور بحری بیڑا ہوتا ہے، جس میں عموماً طیارہ بردار جہاز، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، آبدوزیں اور فضائی دفاعی نظام شامل ہوتے ہیں۔ اس اصطلاح کا استعمال عموماً اس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی ریاست اپنی زیادہ سے زیادہ عسکری تیاری، طاقت کے مظاہرے اور اسٹریٹجک دباؤ کا واضح پیغام دینا چاہتی ہو۔

    ٹرمپ کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی کو ایران پر حملے کے تناظر میں نمایاں طور پر بڑھا رہا ہے۔ اس طرح کا بیان صرف فوجی نقل و حرکت کی اطلاع نہیں ہوتا بلکہ ایک سیاسی سگنل بھی ہوتا ہے، جس کا مقصد مخالف فریق کو خبردار کرنا، اسے روکنا یا مذاکرات کی میز پر دباؤ کے ساتھ لانا ہوتا ہے۔ فوجی اور سفارتی اصطلاح میں اسے "گن بوٹ ڈپلومیسی” یا "طاقت کی سفارت کاری” کہا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ زبان نئی نہیں ہے۔ سنہ 2017ء میں شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کے دوران بھی ٹرمپ نے اسی لفظ کا استعمال کیا تھا، جب امریکی بحری بیڑا جزیرہ نما کوریا کے قریب بھیجا گیا تھا۔ اس وقت بھی اس لفظ نے جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا تھا، حالانکہ بعد میں یہ واضح ہوا کہ مقصد براہِ راست حملہ نہیں بلکہ طاقت کا نفسیاتی دباؤ تھا۔ آج اسی اصطلاح کا دوبارہ استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ ایران امریکہ کشیدگی ایک حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

    ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کو “ہمہ جہت جنگ” تصور کیا جائے گا۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ ایسے الفاظ خطے میں غلط فہمیوں اور تصادم کے خطرات کو بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر خلیج فارس جیسے حساس علاقے میں جہاں عالمی توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ٹرمپ کا آرمیڈا کا حوالہ دینا محض ایک لفظی انتخاب نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا سیاسی اور عسکری پیغام ہے۔ اس کا لازمی مطلب فوری جنگ نہیں، لیکن یہ اس بات کا واضح اشارہ ضرور ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے اختیارات، تیاری اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہتا ہے، اور یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس وقت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ رہی ہے۔

    امریکی آرمیڈا کی آمد اور ایران پر حملے کا خطرہ

    وینزویلا آپریشن میں امریکہ نے ایک خطرناک ہتھیار استعمال کیا تھا جس کے بارے میں وینزویلا کے صدارتی محل کے ایک سیکورٹی گارڈ کا انٹرویو دنیا بھر میں چلایا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق جو امریکی آرمیڈا خلیج فارس پہنچ رہا ہے اس میں اس سے زیادہ خطرناک ہتھیار موجود ہیں۔ وینزویلین گارڈ نے انکشاف کیا تھا کہ حملہ آور امریکی فوجیوں نے ایک ایسا ہتھیار استعمال کیا تھا جس سے کوئی گولی چلی تھی نہ ہی دھماکہ ہوا تھا، لیکن وینزویلئین محافظوں نے اپنے سر کے اندر بلاسٹ محسوس کیا تھا، جس کے بعد ان کے سر چکرا گئے، وہ گر گئے اور ان کے ناک اور منہ سے خون بہنے لگا تھا، ان کو خون کی الٹیاں بھی آئی تھیں  اور کئی گارڈ مزاحمت کیئے بغیر ہی بے ہوش ہو گئے تھے۔ اس آپریشن کی تفصیل بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے بھی تصدیق کی تھی کہ آپریشن میں ایک ایسا ہتھیار استعمال کیا گیا جو بہت زیادہ خطرناک تھا۔ اس کے بعد معروف امریکی اخبار نیویارک پوسٹ اور گارڈین سنڈے نے بھی اس وینزویلن گارڈ کا انٹرویو چھاپ دیا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے پاس واقعی کچھ نئے خطرناک قسم کے ہتھیار موجود ہیں جنہیں اب وہ ایران میں آزمانا چاہتا ہے۔

    جو امریکی بحری بیڑا ایران کے نزدیک پہنچ رہا ہے، نیویارک پوسٹ کے مطابق اس میں سونک اور سپر سونک ویپن ہو سکتے ہیں جن میں الٹرا سونک شعاؤں کی طرز کی بہت طاقتور اور نظر نہ آنے والی شعائیں پھینک کر دفاعی مخالفین کا اعصابی نظام درہم برہم کر دیا جاتا ہے۔ جب دنیا ابھی چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں پر انحصار کر رہی تھی، امریکہ نے 1990 کی دہائی میں ہی پانچویں نسل کے فائٹر جیٹ پروگرام پر کام شروع کر دیا تھا۔ ایف22 ریپٹر کی پہلی آزمائشی پرواز 1997 میں ہوئی تھی، جبکہ 2005-2006 کے دوران یہ طیارہ امریکی فضائیہ میں عملی طور پر شامل ہو چکا تھا۔ اُس دور میں اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، سپرکروز، جدید ایویانکس اور سینسر فیوژن جیسے تصورات باقی دنیا کے لئے ابھی خواب ہی تھے، مگر امریکہ نے انہیں حقیقت میں بدل دیا تھا۔ آج امریکہ ایسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے کہاں پہنچ چکا ہے اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔

    امریکی آرمیڈا میں شامل ان امریکی سونک ویو ہتھیاروں کا توڑ ٹیسٹ کرنے کے لئے چین اور روس نے جو اینٹی سونک میگنیٹک ہتھیار ایجاد کیئے تھے وہ ایران پہنچا دیئے گئے ہیں۔ اگرچہ ایران امریکہ کے مقابلے میں کمزور ملک ہے لیکن وہ عراق سے آٹھ سالہ جنگ بھگت چکا ہے اور اسرائیل امریکہ کے گذشتہ حملوں کو بھی دیدہ دلیری سے جھیل گیا ہے۔ اس لیئے ایسا نہیں ہے کہ وینزویلا کی طرح ایران بھی امریکہ کے لیئے "گنی پگ” ثابت ہو گا۔

  • گرین لینڈ کا غیریقینی مستقبل 

    گرین لینڈ کا غیریقینی مستقبل 

    گرین لینڈ کا غیریقینی مستقبل 

     بعض دفعہ حسن حسینوں کا دشمن بن جاتا ہے۔ گرین لینڈ بحرِ منجمد شمالی اور بحرِ اوقیانوس کے درمیان میں واقع ایک انتہائی خوبصورت ملک ہے۔ گرین لینڈ ایک خود مختار ملک ہے مگر سیاسی طور پر یہ   ڈنمارک کی دولت مشترکہ میں شامل ہے۔

    اس جزیرے پر 14ویں صدی سے ڈنمارک کا کنٹرول ہے، تاہم 1979ء میں گرین لینڈ کو ایک خودمختار علاقے کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس کا اپنا وزیراعظم اور اپنی حکومت ہے۔ گرین لینڈ کے مغرب میں کینیڈا کا کچھ علاقہ ہے جبکہ جغرافیائی طور پر اس کا کچھ حصہ شمالی امریکہ میں بھی ہے۔ 

    گرین لینڈ نام سے بظاہر ایک چھوٹا سا جزیرہ لگتا ہے۔ لیکن آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ گرین لینڈ کی کل آبادی صرف 57 ہزار نفوس پر مشتمل ہے مگر رقبے کے لحاظ سے یہ پاکستان سے بھی 3 گنا بڑا ملک ہے، جس کا رقبہ 21 لاکھ 66 ہزار مربع کلو میٹر ہے، جبکہ پاکستان کا کل رقبہ 095 ،796 مربع کلومیٹر ہے۔ پھر گرین لینڈ کے اندر کی خوبصورتی کا یہ عالم ہے کہ وہاں تیل اور معدنی ذخائر کی بہتات ہے، جس وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔

    گرین لینڈ کے لفظ کا مطلب "لوگوں کی سرزمین” ہے لیکن اس کی شومئی قسمت دیکھیں کہ آنے والے وقت میں اس عظیم ملک میں خود وہاں کے باشندوں کا رہنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔ ​حالیہ برسوں میں گرین لینڈ صرف برف کا ڈھیر نہیں رہا، بلکہ یہ اپنے محل وقوع اور معدنی اہمیت کی وجہ سے عالمی طاقتوں امریکہ، روس اور چین کے درمیان ایک "نئی سرد جنگ” کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ گرین لینڈ آرکٹک میں برف کی 4 کلومیٹر موٹی تہیں ہیں اور وہاں برف پگھلنے کی رفتار باقی دنیا کے مقابلے میں 4 گنا تیز ہے۔ گرین لینڈ میں برف کے قدیم پہاڑ پگھل رہے ہیں اور برف کے دیوقامت ٹکڑے پانی میں تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    اگر گرین لینڈ کی تمام برف پگھل جائے تو دنیا بھر کے سمندروں کی سطح 24 فٹ بلند ہو جائے گی۔ چونکہ گرین لینڈ امریکہ، یورپ اور روس کے درمیان واقع ہے اس لیئے اس کی "اسٹریٹجک” اہمیت بہت زیادہ ہے گرین لینڈ جس کے زیر زمین بہت بڑی مقدار میں دیگر قیمتی معدنیات بھی موجود ہیں۔ وہ جزیرہ جسے کبھی صرف قطب شمالی کی ایک دور افتادہ اور بنجر سرزمین سمجھا جاتا تھا، ان عالمی قوتوں کے درمیان ایک ایسی بساط بن چکا ہے جہاں ہر مہرہ سوچ سمجھ کر رکھا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر اس برفیلے خطے میں ایسا کیا ہے کہ دنیا کی سپر پاورز یہاں دست و گریبان ہیں؟ اول گرین لینڈ یورینیم،  قدرتی گیس اور دیگر معدنیات کے علاوہ مستقبل کے سونے کا خزانہ ہے کیونکہ ​گرین لینڈ کی اہمیت کی سب سے بڑی وجہ اس کے سینے میں دفن یہی قدرتی وسائل ہیں، جیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یہاں کی برف پگھل رہی ہے، زمین کے اندر چھپے ہوئے ان خزانوں تک رسائی آسان ہوتی جا رہی ہے۔ ​یہاں "رئیر ارتھ میٹلز” کے وسیع ذخائر بھی موجود ہیں، جو اسمارٹ فونز، الیکٹرک کاروں اور جدید ترین فوجی ہتھیاروں کی تیاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    گرین لینڈ کا غیریقینی مستقبل 

    ​سردست چین ان معدنیات کی عالمی سپلائی پر قابض ہے، اور امریکہ ہر قیمت پر اس اجارہ داری کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ وہاں ​برف پگھلنے سے "نارتھ ویسٹ پیسج” کے امکانات روشن ہو گئے ہیں جو کہ ایک نیا عالمی تجارت راستہ بن جائے گا۔ اگر یہ راستہ تجارتی جہازوں کے لیئے کھل گیا تو ایشیا سے یورپ کا سمندری سفر ہزاروں میل کم ہو جائے گا، جو موجودہ "نہر سویز” کے راستے کا ایک بڑا متبادل راستہ بن سکتا ہے۔ جو ملک اس راستے پر اثر و رسوخ رکھے گا، وہ عالمی تجارت کا نیا محافظ ہو گا۔

    ​​اس بناء پر امریکہ گرین لینڈ کو اپنا قومی سلامتی کا "دفاعی حصار” سمجھتا ہے۔ گرین لینڈ ویسے بھی ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کی نسبت نیویارک سے زیادہ قریب ہے۔ یہاں امریکہ کا "تھول ایئر بیس” پہلے سے موجود ہے جو روس سے آنے والے کسی بھی میزائل حملے کی قبل از وقت اطلاع دینے کا نظام رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا گرین لینڈ خریدنے کا ارادہ اسی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ چین خود کو ایک "قریبی آرکٹک ریاست” قرار دے کر یہاں قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نے یہاں ہوائی اڈوں کی تعمیر اور کان کنی کے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے، جسے امریکہ اپنے مفادات پر حملے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ادھر  روس آرکٹک خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ اس نے پرانے سوویت دور کے فوجی اڈے دوبارہ فعال کر دیئے ہیں، جو امریکہ کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ حاصل کرنے کی خواہش نے، دنیا کے اس سب سے بڑے جزیرے کو میڈیا اور عالمی سیاست کا ایک اہم موضوع بنا دیا ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ، "دنیا بھر میں قومی سلامتی اور آزادی کے مقاصد کے لئے امریکہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے گرین لینڈ کی ملکیت اور کنٹرول کی بہت ضرورت ہے۔” ٹرمپ اس سے قبل بھی گرین لینڈ کے حصول کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور انہوں نے 2019ء میں اپنی پہلی صدارتی مدت میں بھی اپنا یہ نظریہ پیش کیا تھا لیکن گرین لینڈ اور ڈنمارک دونوں ہی ٹرمپ کی اس تجویز کو مسترد کر چکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے گرین لینڈ کے بارے میں ٹرمپ کے بیان پر فرانس اور جرمنی نے بھی اپنے ردعمل میں اس کی مخالفت کی تھی۔ جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا تھا کہ "سرحدوں کے ناقابل تسخیر ہونے کا اصول ہر ملک پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ چھوٹا ملک ہو یا بہت بڑی طاقت ہو۔” اسی طرح فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بیروٹ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یورپی یونین دنیا کی دیگر اقوام کو اپنی خود مختار سرحدوں پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔”

    گرین لینڈ میں آنکھوں کو خیرہ کرنے والے مناظر ظاہر ہونے کو ہیں۔ پانی میں "امپائر اسٹیٹ بلڈنگ” سائز کے تیرتے اور چٹانوں سے ٹکراتے ہوئے برف کے ٹکڑے، خوبصورت جنگلی حیات، پانیوں میں تیرتی ہوئی دیوہیکل سیل اور وہیلز مچھلیاں اور دیگر انتہائی خوبصورت، دلکش اور حیران کن نظارے دیکھنے کو ملیں گے مگر وہاں عالمی طاقتوں کی للچائی ہوئی نظروں کے ہوتے ہوئے، اس کا مستقبل کیا ہے اور وہاں تادیر امن قائم رہے گا یا نہیں ابھی اس کے بارے میں کوئی یقینی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں ہے۔

    ​گرین لینڈ کے مقامی لوگ ایک طویل عرصے سے مکمل آزادی کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ ڈنمارک سے سالانہ امداد تو لیتے ہیں، لیکن معدنیات کی دریافت کے بعد انہیں لگتا ہے کہ وہ معاشی طور پر خود کفیل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی یہ آزادی انہیں عالمی طاقتوں کے درمیان باعث نزع بنا سکتی ہے۔ ​یوں اب ​گرین لینڈ صرف جغرافیہ کا نام نہیں رہا بلکہ یہ 21ویں صدی کی "جیو پولیٹکس” کا نیا محاذ ہے۔ امریکہ اسے اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے، چین اسے اپنی "پولر سلک روڈ” بنانا چاہتا ہے، اور روس یہاں اپنی فوجی بالادستی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ آنے والے عشروں میں گرین لینڈ کی برف جتنی زیادہ پگھلے گی، عالمی سیاست کا درجہ حرارت اتنا ہی بڑھے گا۔

    Title Image by Bernd Hildebrandt from Pixabay

  • مدد پہنچ رہی ہے

    مدد پہنچ رہی ہے

    مدد پہنچ رہی ہے

    Dubai Naama

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مطلق العنان جمہوری صدر بن کر ابھرے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کار ان کی جارحانہ پالیسیوں کو ڈسکس کر رہے ہیں۔ وہ امریکی مفادات کی خاطر دنیا کے کمزور ملکوں کو قابو میں رکھنے کے لیئے کوئی بھی خطرناک قدم اٹھا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے منصوبوں اور  اقدامات کے بارے کوئی حتمی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ وہ تمام سابق امریکی صدور سے زیادہ "ان پریڈکٹیبل” ہیں۔ وینزویلا پر حملے اور اس کے صدر کے اغواء پر ان کا جارحانہ عالمی انداز سیاست کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ اب وہ ایران پر چڑھائی کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ صدر موصوف پوری دنیا پر اپنی جارحیت کی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ اسی تیز رفتاری کے انداز سے چلتے رہے تو دنیا ماضی کی "استعماریت” کو بھول جائے گی۔ 

    آج کی دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی کی وجہ سے "گلوبل ولج” بن گئی ہے۔ سوشل میڈیا پل پل کی خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا رہا ہے۔ امریکی صدر کو چھوٹے اور کمزور مگر تیل اور ذرائع سے مالا مال ممالک امریکی کالونی لگتے ہیں۔ گرین لینڈ پر ہاتھ صاف کرنے کے بارے انہوں نے دوبارہ اپنے عزائم سے پردہ اٹھایا ہے۔ گزشتہ دنوں ٹرمپ کے ریمارکس کہ”میں تمھیں خریدنا چاہتا ہوں” پر ڈنمارک کی وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے ممبران نے کھل کر قہقہے لگائے۔ صدر ٹرمپ گرین لینڈ کی بولی لگوا کر اسے خریدنا چاہتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس بولی میں چین اور روس شرکت نہ کریں۔عالمی سیاسی تجزیہ کار حیران ہیں کہ وہ دنیا کو کیوں اپنی ذاتی مرضی کے مطابق چلانے پر مصر ہیں؟ امریکہ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں پہلے ایسے صدر ملے ہیں جو اہم سے اہم ترین بات بھی بغیر کسی لگی لپٹی کے کہنے میں کوئی عار نہیں کرتے ہیں۔ وینزویلا کو فتح کرنے کے بعد نیویارک ٹائمز نے صدر ٹرمپ کا پینل انٹرویو کیا تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بے لاگ باتیں کیں۔ انہوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنے عزائم کا کھل کر اظہار کیا۔  

    جب نیویارک ٹائمز نے پوچھا کہ، "کیا امریکہ کی فوجی طاقت کے استعمال پر کوئی حد ہے؟” صدر ٹرمپ نے جواب دیا، "ہاں، ایک چیز ہے، میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا ذہن، بس یہی وہ واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے۔” ایک منتخب جمہوری صدر کے لیئے دیدہ دلیری پر مبنی یہ الفاظ کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ اس پر مستزاد وینزویلا کے معاملے میں چین اور روس کی معنی خیز خاموشی دو ہی امکانات کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ دو عالمی طاقتیں امریکہ کو آمر جمہوری صدر بنا کر اسے بے پردہ کرنا چاہتی ہیں یا پھر وہ اتنی بے بس ہیں کہ وہ امریکہ کو بلاشرکت غیرے واحد "عالمی سپر پاور” تسلیم کر چکی ہیں۔ امریکی صدر نے انٹرویو دیتے ہوئے یہ بھی کہا، "مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں۔ میں کسی بین الاقوامی قانون، ضابطے، توازن یا نگرانی سے خود کو پابند محسوس نہیں کرتا،” ممکن ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو گئی ہے کہ سابق امریکی صدور امریکی طاقت کے استعمال میں حد سے زیادہ محتاط رہے ہیں۔

    مدد پہنچ رہی ہے

    وینزویلا کے بارے میں صدر ٹرمپ کا یہ کہنا تھا کہ "میں توقع کرتا ہوں کہ امریکہ برسوں تک وینزویلا کو چلائے گا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے تیل نکالے گا۔” ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وینزویلا کی عبوری حکومت امریکہ سے بھرپور تعاون کر رہی ہے اور امریکہ کو وہ سب کچھ فراہم کر رہی ہے جس کی امریکہ کو ضرورت ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ، "ہم وینزویلا کو انتہائی منافع بخش انداز میں دوبارہ تعمیر کریں گے۔ ہم تیل استعمال کریں گے اور تیل لیں گے۔ ہم تیل کی قیمتیں کم کر رہے ہیں، اور ہم وینزویلا کو پیسہ دیں گے جس کی انہیں اشد ضرورت ہے۔” 

    ایران بھی تیل اور ذرائع سے مالا مال ہے۔ اسرائیل ایرانی احتجاجیوں کے حق میں پہلے ہی کھل کر سامنے آ گیا جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے چند روز پہلے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا کہ ایرانی احتجاجی اپنا احتجاج جاری رکھیں ہم ان کی مدد کے لیئے تیار ہیں۔ اب ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران میں جاری مظاہروں کے حوالے سے اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا جب انہوں نے کہا کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، مدد پہنچ رہی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، اپنے اداروں پر قبضہ کر لیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، انہیں بہت قیمت چکانی پڑے گی۔ اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ اپنی تمام ملاقاتیں اس وقت تک منسوخ کر دی ہیں جب تک مظاہرین کا قتل عام بند نہیں کیا جاتا۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں لکھا کہ، "مدد پہنچ رہی ہے۔”

    جبکہ گرین لینڈ کے بارے میں بھی صدر ٹرمپ کے خیالات نہایت جارح ہیں۔ اسی کی دہائی تک امریکہ کو دنیا کا "پولیس مین” کہا جاتا تھا اب امریکہ اسم بامسمی ثابت ہو رہا ہے اور اس کی وجہ امریکی صدر کا دنیا کو چلانے کا یہی جارہانہ انداز سیاست ہے۔ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے لیکن امریکہ کے موجودہ صدر عالمی معاملات میں آمرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے نزدیک "ملکیت” بہت اہم ہے۔ ٹرمپ کے انداز  سے لگ رہا ہے کہ وینزویلا کی طرح گرین لینڈ پر قبضے سے کم وہ کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس کے لیئے نیٹو افواج کو بھی اس میں جھونکنے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں۔ 

    وینزویلا میں صدر ٹرمپ کی ہدایت پر جن مہلک الٹراسونک یا مائیکرو ویو ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے آپریشن کیا گیا اب لاطینی امریکہ میں بھی خوف پھیل گیا ہے اور لوگوں کو خدشہ ہے کہ امریکہ کا اگلا ہدف کولمبیا یا میکسیکو وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پوری کوشش ہے کہ چین کو لاطینی امریکہ سے باہر کیا جائے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں وینزویلا، پاناما اور برازیل سمیت پورے براعظم کو دوبارہ واشنگٹن کے خصوصی دائرۂ اختیار میں لانا اتنا آسان نہیں ہے۔ خود امریکہ دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے جس پر پہلے ہی کم و بیش 37 ٹریلئین ڈالر کا قومی قرضہ ہے۔ اس اعتبار سے ڈونلڈ ٹرمپ کھیل کا میز الٹنا چاہتے ہیں اور ایسا عموما وہی کھلاڑی کرتا ہے جو کھیل ہار رہا ہو۔ 

    ڈونلڈ ٹرمپ کو معلوم ہے کہ لاطینی امریکہ، امریکہ کا عقبی دروازہ ہے لیکن وہاں پر چینی کرینیں بندرگاہوں پر کنٹینر لادتی دکھائی دیتی ہیں۔ وہاں چینی بجلی کے گرڈ سٹیشنز، ٹیلی کام کا نظام، سڑکیں اور ریلوے لائنیں حتی کہ روزمرہ زندگی کی چیزیں بھی چینی ساختہ ہیں۔ یہ انفراسٹرکچر معیشت کے لیئے ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے جسے اتنا جلدی وہاں سے غائب نہیں کیا جا سکتا یے۔ لاطینی امریکہ میں انفراسٹرکچر کو مسمار کرنے کا سیدھا سا مطلب وہاں کی کئی کمزور معیشتوں کو منہدم کرنے سے ہو گا۔ امریکہ پر پہلے سے موجود قومی قرضہ الگ ہے اور تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا نیا حکومتی قرض جاری کرنے کی امریکہ کو الگ سے ضرورت ہے۔ اوپر سے عالمی منڈی میں تجارت آہستہ آہستہ ڈالر کے استعمال سے نکلتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ نے اب برکس ممالک کو بھی کھلی دھمکی دے ڈالی ہے۔

    اس پس منظر میں اگر امریکہ کو اپنے ہی ٹریژری بانڈز خریدنے کے لئے نوٹ چھاپنا پڑے، تو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیئے افراطِ زر کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اوپر سے گرین لینڈ کے علاوہ ایران کے "باغیوں” کو کھلے لفظوں میں امریکی صدر کہہ رہے ہیں کہ، "مدد پہنچ رہی ہے۔” آزاد اور خود مختار ممالک میں ایسی مداخلت کر کے امریکی صدر رسک پر رسک لے رہے ہیں۔

    .

  • سڈنی ہانوکا واقعہ کا اصلی ہیرو

    سڈنی ہانوکا واقعہ کا اصلی ہیرو

    Dubai Naama

    آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی آسٹ بونڈائی بیچ پر یہودیوں کے ایک مذہبی تہوار پر 14دسمبر 2025ء کو یہودی کمیونٹی کے لوگ ہانوکا کے نام جسے اردو زبان میں روشنی کہا جاتا ہے اپنا مذہبی تہوار منا رہے تھے جس پر ساجد اکرم اور نوید اکرم باپ بیٹے نے گولیوں سے حملہ کر کے 16 افراد کو ہلاک کر دیا۔ آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اتوار کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً 6 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا۔ تقریب میں کم و بیش 2 ہزار افراد شریک تھے جنہوں نے فائرنگ کے بعد بھاگ کر محفوظ مقامات پر پناہ لی۔ اس اجتماع پر گولیاں چلانے سے درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں بشمول 2 پولیس اہلکار 38 افراد ابھی بھی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور 12 شدید زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی یے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہی، اس دوران حملہ آور میگزین بدلتے رہے اور فائرنگ کرتے رہے۔ یہ دونوں مشتبہ حملہ آور (جیسا کہ نام سے ظاہر ہے) مسلمان ہیں۔ اس افسوسناک واقعہ پر عجیب و غریب درفطنیاں چھوڑی جا رہی ہیں آیئے ہم اس قابل مذمت واقعہ کے چند اہم پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تاکہ حقائق تک پہنچنے میں آسانی ہو۔

    امسال ہانوکا کے اس مذہبی تہوار کو یہودیوں نے انگریزی زبان اور اپنے لہجے کے لحاظ سے "چانوکا بائی دی سی“ نامی تقریب سے منسوب کیا جس کا اہتمام یہودی تہوار ہانوکا کی پہلی رات منانے کے لئے کیا گیا تھا۔دنیا بھر میں ہر سال یہودی 7 سے 15 دسمبر تک یہ تہوار مناتے ہیں۔ ہانوکا کا لفظی مطلب "وقف کر دینا” ہے اور اہلِ یہود اس تقریب کا انعقاد اس واقعے کی یاد میں کرتے ہیں جب انھوں نے تاجِ یونان کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں انھوں نے 168 قبل مسیح یروشلم کو یونانیوں کے قبضے سے چھڑا کر اپنی مقدس شمع دان کو ایک مرتبہ پھر شہر کی دوسری بڑی عبادت گاہوں میں روشن کیا تھا۔ یہودیوں کی مذہبی کتابوں میں اس تاریخی واقعہ کا ذکر ملتا ہے جہاں اس معجزے کا بھی ذکر ہے جب مذکورہ مقدس شمع دان میں پڑا ہوا تیل مسلسل 8 دن تک جلتا رہا تھا اور سیکِنڈ ٹیمپل کے درودیوار اتنے ہی دن تک روشن رہے تھے۔

    اسی نسبت سے ہمارے ہاں یہودیوں کے اس تہوار کو "روشنی کا تہوار” بھی کہا جاتا ہے۔ اس خون آلود واقعہ کا ملبہ کچھ ملک دشمن عناصر پاکستان پر ڈالنے کے لیئے بھارت، افغانستان اور اسرائیل کی ہمنوائی کر رہے تھے۔ اب آسٹریلوی حکام کی تحقیقات اور دیگر اطلاعات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کا تعلق کسی بھی لحاظ سے پاکستان سے نہیں جڑتا ہے۔ حملہ آور افغان نژاد 50سالہ ساجد اکرم کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا جو 1998ء میں آسٹریلیا آیا تھا جبکہ اس کا 25سالہ بیٹا آسٹریلیا میں پیدا ہونے کی وجہ سے آسٹریلوی قومیت کا حامل تھا۔ اس خونریز حملے کے ملزمان فلپائن بھی گئے تھے، جہاں سے واپس آ کر انہوں نے حملہ کیا۔ فلپائن کے امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ والد بیٹے کا جوڑا بھارتی شہریوں کے طور پر فلپائن آیا تھا۔آسٹریلوی پولیس نے بھی کہا ہے کہ یہ دونوں ملزمان جنہوں نے سڈنی کے ساحل پر ہانوکا کے پروگرام پر فائرنگ کی تھی حملے سے قبل فلپائن گئے تھے۔

    اس مبینہ فائرنگ کے واقعہ میں ملوث ساجد اکرم نامی کو آسٹریلیا کے ایک خودساختہ داعش کمانڈر سے روابط رکھنے پر کچھ عرصہ پہلے آسٹریلین پولیس نے زیر تفتیش رکھا تھا، اس کے بعد اسے لوگوں کے لئے خطرناک نہ قرار دیتے ہوئے کلیئر کر دیا تھا۔ دونوں باپ بیٹا حال ہی میں فلپائن سے ہو کر آئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے ان کے اس دورے کے تعلق کی تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔ یہ دونوں حملہ آور تو مسلمان ہی ہیں لیکن اس حملے میں کئی جانیں بچانے والا راہ گیر احمد الاحمد بھی مسلمان ہے جس نے ایک حملہ آور کو قابو کر کے مزید کئی لوگوں کی جانوں کو بچا لیا اور خود دوسرے حملہ آور کی گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا، جبکہ دوسرا حملہ آور پولیس کی گولیاں لگنے سے ہلاک ہوا۔ احمد ال احمد کو نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پوری دنیا میں ہیرو کا درجہ دیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنی جان پر کھیلتے ہوئے گاڑیوں کی اوٹ سے آ کر ایک حملہ آور کو دبوچ کر اس سے گن چھین لی۔ اس بہادر اور عظیم الشان ہیرو پر دوسرے حملہ آور نے فائرنگ کھول دی مگر انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لے کر واپس فائرنگ نہیں کی بلکہ چھینی ہوئی گن کو درخت سے لٹکا دیا۔

    سڈنی ہانوکا واقعہ کا اصلی ہیرو

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے احمد ال احمد کو ہیرو قرار دیا ہے۔ آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔ آسٹریلین وزیراعظم انتھونی البانیز نے احمد الاحمد کی ہسپتال میں جا کر عیادت کی اور اس کے ساتھ تصاویر بنوانے میں فخر محسوس کیا۔ آسٹریلیا اور دنیا بھر کا میڈیا اس ہیرو کی ستائش کر رہا ہے۔ ان کی انسانی ہمدردی اور بہادری کے اعتراف میں ایک آن لائن امدادی فنڈ قائم کیا گیا ہے جس میں صرف دو دنوں میں لاکھوں ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔ اس واقعہ سے دنیا بھر میں فلسطینی ریاست کے حق میں اور یہودیوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت کی مقدار کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی وزراء کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں غزہ کے حق میں مظاہروں میں یہود مخالف نعرے لگتے رہے جنہیں حکومت نے کنٹرول نہیں کیا۔آسٹریلین وزیراعظم انتھونی البانیز نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مڈل ایسٹ میں امن کے لئے دو ریاستی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

    اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بنیت کو نتن یاہو کا متوقع حریف سمجھا جاتا ہے۔ دونوں کا اگلے سال الیکشن میں ٹاکرا ہے۔ نفتالی نے برطانوی سفیر کی رہائش گاہ پر پندرہ ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کی ہے۔ نفتالی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں یہودی مخالف جذبات عروج پر ہیں اور یہ مخالف جذبات کا ایک "سونامی” ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔

    ان 16 یہودیوں کی زندگیاں سفاک اسرائیل کے ہاتھوں ہر ماہ سینکڑوں بے گناہ شہریوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہیں۔ نوید اکرم کی والدہ ویرینا اکرم کا کہنا ہے کہ "میرے بیٹے جیسا بیٹا ہر کوئی چاہے گا، وہ اسلحہ نہیں رکھتا تھا، وہ شراب پیتا تھا اور نہ ہی سگریٹ، بری جگہوں پر بھی نہیں جاتا تھا، وہ کام پر جاتا تھا اور گھر آ جاتا تھا، اسے ایکسرسائز کا شوق تھا اور بس۔” حملہ آور 24 سالہ نوید کی ایک بہن بھی ہے جس کی عمر 22 سال ہے جبکہ ایک چھوٹا بھائی 20 سال کا ہے۔ حملے میں مارے جانے والوں کی عمریں 10 سے 87 سال تک کی ہیں۔