سڈنی ہانوکا واقعہ کا اصلی ہیرو
آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی آسٹ بونڈائی بیچ پر یہودیوں کے ایک مذہبی تہوار پر 14دسمبر 2025ء کو یہودی کمیونٹی کے لوگ ہانوکا کے نام جسے اردو زبان میں روشنی کہا جاتا ہے اپنا مذہبی تہوار منا رہے تھے جس پر ساجد اکرم اور نوید اکرم باپ بیٹے نے گولیوں سے حملہ کر کے 16 افراد کو ہلاک کر دیا۔ آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اتوار کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً 6 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا۔ تقریب میں کم و بیش 2 ہزار افراد شریک تھے جنہوں نے فائرنگ کے بعد بھاگ کر محفوظ مقامات پر پناہ لی۔ اس اجتماع پر گولیاں چلانے سے درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں بشمول 2 پولیس اہلکار 38 افراد ابھی بھی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور 12 شدید زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی یے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ تقریباً 20 منٹ تک جاری رہی، اس دوران حملہ آور میگزین بدلتے رہے اور فائرنگ کرتے رہے۔ یہ دونوں مشتبہ حملہ آور (جیسا کہ نام سے ظاہر ہے) مسلمان ہیں۔ اس افسوسناک واقعہ پر عجیب و غریب درفطنیاں چھوڑی جا رہی ہیں آیئے ہم اس قابل مذمت واقعہ کے چند اہم پہلوؤں پر غور کرتے ہیں تاکہ حقائق تک پہنچنے میں آسانی ہو۔
امسال ہانوکا کے اس مذہبی تہوار کو یہودیوں نے انگریزی زبان اور اپنے لہجے کے لحاظ سے "چانوکا بائی دی سی“ نامی تقریب سے منسوب کیا جس کا اہتمام یہودی تہوار ہانوکا کی پہلی رات منانے کے لئے کیا گیا تھا۔دنیا بھر میں ہر سال یہودی 7 سے 15 دسمبر تک یہ تہوار مناتے ہیں۔ ہانوکا کا لفظی مطلب "وقف کر دینا” ہے اور اہلِ یہود اس تقریب کا انعقاد اس واقعے کی یاد میں کرتے ہیں جب انھوں نے تاجِ یونان کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں انھوں نے 168 قبل مسیح یروشلم کو یونانیوں کے قبضے سے چھڑا کر اپنی مقدس شمع دان کو ایک مرتبہ پھر شہر کی دوسری بڑی عبادت گاہوں میں روشن کیا تھا۔ یہودیوں کی مذہبی کتابوں میں اس تاریخی واقعہ کا ذکر ملتا ہے جہاں اس معجزے کا بھی ذکر ہے جب مذکورہ مقدس شمع دان میں پڑا ہوا تیل مسلسل 8 دن تک جلتا رہا تھا اور سیکِنڈ ٹیمپل کے درودیوار اتنے ہی دن تک روشن رہے تھے۔
اسی نسبت سے ہمارے ہاں یہودیوں کے اس تہوار کو "روشنی کا تہوار” بھی کہا جاتا ہے۔ اس خون آلود واقعہ کا ملبہ کچھ ملک دشمن عناصر پاکستان پر ڈالنے کے لیئے بھارت، افغانستان اور اسرائیل کی ہمنوائی کر رہے تھے۔ اب آسٹریلوی حکام کی تحقیقات اور دیگر اطلاعات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ملزمان کا تعلق کسی بھی لحاظ سے پاکستان سے نہیں جڑتا ہے۔ حملہ آور افغان نژاد 50سالہ ساجد اکرم کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا جو 1998ء میں آسٹریلیا آیا تھا جبکہ اس کا 25سالہ بیٹا آسٹریلیا میں پیدا ہونے کی وجہ سے آسٹریلوی قومیت کا حامل تھا۔ اس خونریز حملے کے ملزمان فلپائن بھی گئے تھے، جہاں سے واپس آ کر انہوں نے حملہ کیا۔ فلپائن کے امیگریشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ والد بیٹے کا جوڑا بھارتی شہریوں کے طور پر فلپائن آیا تھا۔آسٹریلوی پولیس نے بھی کہا ہے کہ یہ دونوں ملزمان جنہوں نے سڈنی کے ساحل پر ہانوکا کے پروگرام پر فائرنگ کی تھی حملے سے قبل فلپائن گئے تھے۔
اس مبینہ فائرنگ کے واقعہ میں ملوث ساجد اکرم نامی کو آسٹریلیا کے ایک خودساختہ داعش کمانڈر سے روابط رکھنے پر کچھ عرصہ پہلے آسٹریلین پولیس نے زیر تفتیش رکھا تھا، اس کے بعد اسے لوگوں کے لئے خطرناک نہ قرار دیتے ہوئے کلیئر کر دیا تھا۔ دونوں باپ بیٹا حال ہی میں فلپائن سے ہو کر آئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے ان کے اس دورے کے تعلق کی تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔ یہ دونوں حملہ آور تو مسلمان ہی ہیں لیکن اس حملے میں کئی جانیں بچانے والا راہ گیر احمد الاحمد بھی مسلمان ہے جس نے ایک حملہ آور کو قابو کر کے مزید کئی لوگوں کی جانوں کو بچا لیا اور خود دوسرے حملہ آور کی گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا، جبکہ دوسرا حملہ آور پولیس کی گولیاں لگنے سے ہلاک ہوا۔ احمد ال احمد کو نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پوری دنیا میں ہیرو کا درجہ دیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنی جان پر کھیلتے ہوئے گاڑیوں کی اوٹ سے آ کر ایک حملہ آور کو دبوچ کر اس سے گن چھین لی۔ اس بہادر اور عظیم الشان ہیرو پر دوسرے حملہ آور نے فائرنگ کھول دی مگر انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لے کر واپس فائرنگ نہیں کی بلکہ چھینی ہوئی گن کو درخت سے لٹکا دیا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے احمد ال احمد کو ہیرو قرار دیا ہے۔ آسٹریلیا نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے۔ آسٹریلین وزیراعظم انتھونی البانیز نے احمد الاحمد کی ہسپتال میں جا کر عیادت کی اور اس کے ساتھ تصاویر بنوانے میں فخر محسوس کیا۔ آسٹریلیا اور دنیا بھر کا میڈیا اس ہیرو کی ستائش کر رہا ہے۔ ان کی انسانی ہمدردی اور بہادری کے اعتراف میں ایک آن لائن امدادی فنڈ قائم کیا گیا ہے جس میں صرف دو دنوں میں لاکھوں ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔ اس واقعہ سے دنیا بھر میں فلسطینی ریاست کے حق میں اور یہودیوں کے خلاف پائی جانے والی نفرت کی مقدار کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی وزراء کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں غزہ کے حق میں مظاہروں میں یہود مخالف نعرے لگتے رہے جنہیں حکومت نے کنٹرول نہیں کیا۔آسٹریلین وزیراعظم انتھونی البانیز نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مڈل ایسٹ میں امن کے لئے دو ریاستی حل ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بنیت کو نتن یاہو کا متوقع حریف سمجھا جاتا ہے۔ دونوں کا اگلے سال الیکشن میں ٹاکرا ہے۔ نفتالی نے برطانوی سفیر کی رہائش گاہ پر پندرہ ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کی ہے۔ نفتالی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں یہودی مخالف جذبات عروج پر ہیں اور یہ مخالف جذبات کا ایک "سونامی” ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں۔
ان 16 یہودیوں کی زندگیاں سفاک اسرائیل کے ہاتھوں ہر ماہ سینکڑوں بے گناہ شہریوں سے زیادہ قیمتی نہیں ہیں۔ نوید اکرم کی والدہ ویرینا اکرم کا کہنا ہے کہ "میرے بیٹے جیسا بیٹا ہر کوئی چاہے گا، وہ اسلحہ نہیں رکھتا تھا، وہ شراب پیتا تھا اور نہ ہی سگریٹ، بری جگہوں پر بھی نہیں جاتا تھا، وہ کام پر جاتا تھا اور گھر آ جاتا تھا، اسے ایکسرسائز کا شوق تھا اور بس۔” حملہ آور 24 سالہ نوید کی ایک بہن بھی ہے جس کی عمر 22 سال ہے جبکہ ایک چھوٹا بھائی 20 سال کا ہے۔ حملے میں مارے جانے والوں کی عمریں 10 سے 87 سال تک کی ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |