Tag: ڈونلڈ ٹرمپ

  • بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    Dubai Naama

    انڈیا امریکی صدر کے ہاتھوں مسلسل ذلت کا شکار تھا۔ اب جنرل بخشی نے فائٹر جیٹ تیجس کریش کا ملبہ امریکہ پر ڈال کر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ دبئی کے ایئرشو میں کریش سے صرف ایک روز قبل انڈین پائلٹس اور عوامی وزٹرز پاکستان کے نمائشی لڑاکا طیاروں کو دیکھنے کے لیئے جوق در جوق آ رہے تھے۔ بہت سے انڈین تو پاکستان کے جے ایف17 تھنڈر کے ساتھ تصاویر بھی بنوا رہے تھے۔ اگلے روز جونہی انڈیا کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوا اور جس میں انڈین پائلٹ بھی ہلاک ہو گیا تو اس کا ملبہ جنرل موصوف نے امریکہ پر ڈال کر بھارتی خفت مٹانے کی کوشش کی۔ لیکن کہتے ہیں کہ، "جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔” مئی میں انڈیا نے پاکستان کے ہاتھوں شکست کھائی اور اب اپنی ہوائی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیئے جب بھارت نے دبئی کے ایئر شو میں شرکت کی تو اس نے اپنی رہی سہی کسر دنیا کے سامنے خود ہی پوری کر دی۔

    متحدہ عرب امارات دبئی میں انڈیا کا لڑاکا طیارہ کیا گرا ہے پوری دنیا بھارت کی نہ صرف ایئرفورس کا مذاق اڑا رہی ہے بلکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈیا کے 8 لڑاکا طیاروں کے گرائے جانے کی گواہی بھی عین سچ ثابت ہوئی ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے تقریبا ہر فورم پر بھارت کے 7 طیارے گرائے جانے کا تسلسل سے ذکر کر رہے تھے اور انہوں نے چند روز قبل ہی اپنے آخری بیان میں ایک مزید طیارہ گرنے کا اضافہ کیا تھا۔ عقل مند کہتے ہیں کہ جب دن برے چل رہے ہوں تو محتاط ہو جانا چایئے لیکن اس سے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا اور وہ پاکستان کو وقفے وقفے سے جنگ کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ جونہی بھارت کا دبئی میں جنگی طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے اس سے بھارت کا جنگی جنون وقتی طور پر ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ لیکن بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں شکست چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی ہے اور وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ بھارت عقل کے ناخن لے اور پاکستان کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ خطے میں امن کو بحال کیا جا سکے۔

    پاکستان اور بھارت دو عالمی ایٹمی قوتیں ہیں اور جب تک ان دونوں ممالک کے درمیان امن قائم نہیں ہوتا ہے دنیا پر ایٹمی جنگ کے خطرات مسلسل منڈلاتے رہیں گے۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف جارحیت کرنے میں پہل کرنے کی کبھی غلطی نہیں کی ہے۔ مئی 2025ء کی جنگ میں بھی بھارت نے بہاولپور میں رات کی تاریکی میں بزدلانہ بمباری کر کے جنگ کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں 8 پاکستانی شہری شہید اور 35 زخمی ہو گئے تھے لیکن اس جنگ میں بھارت کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آج بھی پاکستان بھارت کی جنگی دھمکیوں کے خلاف کوئی جارحانہ ردعمل نہیں دے رہا یے۔ پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارت پر حملہ کر کے اسے سبق سکھایا۔بھارت کو چایئے کہ وہ جنگی ماحول قائم کرنے کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئے اور "مسئلہ کشمیر” کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر لڑائی کی جڑ ہے جسے حل کیئے بغیر خطے میں جنگ کو روکنا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی قائم کرنا ناممکن ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی جنگوں کو روکنے اور دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانے کا یہ واحد حل ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے عالمی قوتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چایئے۔ جب تک بھارت پر عالمی طاقتیں دباؤ نہیں ڈالتی ہیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ لیکن بھارتی حکمرانوں کے ذہن میں "اکھنڈ بھارت” کا خناس شامل ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نہ صرف پاکستان کے خلاف دزدیدہ اور نفرت کے عزائم رکھتے ہیں بلکہ وہ بھارت کی مسلم برداری کے بھی دشمن ہیں۔ وہ بھارت میں مسلم کشی کے مرتکب رہے ہیں۔ گجرات کے فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا بلکہ جب وہ وہاں کے وزیراعلٰی تھے وہ ان فسادات کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ مودی کے مخالفین انھیں تفرقہ پیدا کرنے والی شخصیت گردانتے ہیں۔ سنہ 2002ء کے گجرات فسادات کے دوران مودی گجرات کا وزیر اعلیٰٰ تھا جس کی وجہ سے ان پر الزام دیا جاتا ہے کہ وہ پس پردہ اس میں ملوث تھے۔ اب وہ بھارت کے وزیراعظم ہیں تو وہ پاکستان کے وجود کو بھی نقصان پہنچانے کی اپنی ناتمام خواہش پر ہاتھ ملتے رہتے ہیں جو نہ صرف اچھے ہمسایہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ پوری دنیا کے امن کو بھی داو پر لگانے کے مترادف ہے۔

    جب مئی 2025ء میں بھارت کو شکست ہوئی تو اس وقت بھارت اسلحہ جمع کرنے کے جنون میں مبتلا ہو گیا۔ اس تناظر میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو مسلسل زچ کیا اور بھارت بلآخر امریکہ سے دفاعی معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا جس کے تحت امریکہ نے بھارت کو 3 خطرناک جنگی اٹاچی ہیلی کاپٹر فراہم کرنے تھے جو ترکی میں رکے اور واپس امریکہ لوٹ گئے۔ ریٹائرڈ جنرل بخشی نے اپنے بیان میں اس کا الزام بھی امریکہ پر لگایا اور ساتھ ہی بھارت کے دبئی کے ایئرشو میں تیجس طیارہ گرنے کا الزام بھی امریکہ کو دیا کہ اس نے بھارت سے ایک ارب ڈالر لے لیئے مگر تیجس طیارے کے ناقص انجن فراہم کیئے جس سے دبئی کے ایئرشو میں بھارتی جنگی طیارہ گرنے کا واقعہ پیش آیا جو کہ ایک ناعاقبت‌ اندیشی پر مبنی بیان ہے۔ بھارت کے جنرل بخشی ٹی وی پر بیٹھ کر ہمیشہ پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔ وہ بھارت کے نمایاں "جنگی بھونپو” ہیں جو اپنے ہر تبصرے میں بھارت کو جنگی اشتعال دلاتے ہیں۔ درحقیقت جنرل بخشی نہ صرف بھارت اور پاکستان کے لیئے خطرہ ہیں بلکہ وہ خطے کے امن کے لیئے بھی ایک بھڑکتی چنگاری ہیں۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ جنرل بخشی کا وجود دونوں ممالک کی امن و سلامتی کے لیئے کتنا مہلک ہے۔ ان کی بھاری اور نفرت اگلتی آواز دونوں ملکوں کی عوام کو اشتعال دلاتی ہے کہ امن و سکون اور پرامن رہنے کی بجائے ایک دوسرے کی عوام کا خون بہانا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کو سمجھنا چایئے کہ فطرت کے اشارے کیا کہہ رہے ہیں؟ قدرت ہر ملک اور قوم کو موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اشاروں کو سمجھے اور امن و سکون سے رہے لیکن ایک بھارت ہے کہ وہ روز اول سے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اسے جب جب موقع ملتا ہے وہ پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لے آتا یے۔

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    متحدہ عرب امارات دبئی کے ایئر شو میں جمعہ کی دوپہر کو بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ "تیجس” فضائی کرتب کے مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہوا۔ 15 نومبر سے 21 نومبر تک جاری رہنے والے اس ایئر شو کے دوران دوپہر کو بھارت کا یہ لڑاکا طیارہ اپنے ہوائی مظاہرے میں مصروف تھا کہ اچانک حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے بعد ایئر شو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ یہ حادثہ المکتوم ایئرپورٹ کے قریب اس مقام پر پیش آیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ فضائی مظاہرہ دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 10 منٹ پر طیارہ فضائی ڈسپلے کے دوران اچانک زمین سے ٹکرا کر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ انڈین ایئرفورس نے حادثے میں پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کرنے کے بعد حادثے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات تو شروع کر دی ہیں لیکن ہلاک ہونے والا بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر نومنش سیال دنیا میں پلٹ کر واپس کبھی نہیں آئے گا۔
    گرنے والے اس طیارے کے پائلٹ کے بارے میں معلومات لی جا رہی ہیں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گرا یا پھر پائلٹ کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے گرا۔

    جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے گرتے ہی گہرے سیاہ دھوئیں کے بادل فضا میں اٹھنے لگے تھے، جس پر نظارہ دیکھنے کے لئے آئے ہوئے شائقین پریشان ہو گئے۔ چند روز قبل بھی دبئی ائیر شو کے دوران بھارتی لڑاکا طیارے کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں تیجس طیارے کے فیول ٹینک سے تیل لیک ہوتے دیکھا گیا تھا۔ تیجس بھارت میں مقامی طور پر تیار ہونے والا لڑاکا طیارہ ہے، دو سال سے بھی کم عرصے میں اس طیارےکا یہ دوسرا حادثہ ہے۔ مارچ 2024ء میں تیجس لڑاکا طیارہ راجستھان کے شہر جیسلمیر میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں پائلٹ محفوظ طور پر باہر نکل آیا تھا لیکن اس دفعہ پائلٹ طیارے کے گرنے پر ہلاک ہو گیا۔ اس بھارت کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد کوئی چھوٹا ملک بھارتی ساختہ طیارے بھی نہیں خریدے گا۔ یہ واقعہ انسانی حوالے سے المناک ہے اور بطور انسانی ہمدردی اہل پاکستان کو بھی اس واقعہ پر شدید دکھ ہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس واقعہ کے بعد بھارت اپنے جنگی جنون سے باز آ جائے اور جنرل بخشی جیسے نامعقول جنگی ماہرین کو تبصروں کے لیئے بلانے کی بجائے کسی امن پسند جنگی تجزیہ کار کو ٹی وی پر بٹھائے جس سے عوام کو امن کا پیغام جائے۔ جنگوں کے بعد اگر مذاکرات کی میز پر جا کر حائل مسائل کو حل کرنے کے لیئے میز پر بیٹھنا ناگزیر ہوتا ہے تو یہ کام جنگ سے پہلے کیوں نہ کیا جائے۔ جنگیں چاہے سلامتی اور امن کے نام پر ہی کیوں نہ لڑی جائیں ان میں جان و مال کا نقصان ہوتا ہے اور پوری انسانیت کی "بقا” خطرے میں چلی جاتی ہے کہ اسلام کے مطابق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان "کالی” ہے وہ جو کہہ رہا تھا وہ ہو گیا اور بھارت کا 8واں جنگی طیارہ بھی گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت کی آنکھ کھولنے کے لیئے کافی ہونا چایئے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی عوام "امن” چاہتی ہے۔ ہم اہل پاک و ہند صدیوں تک اکٹھے رہتے رہے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا بھی سیکھ لیں۔ اگر اہل یورپ تباہ کن اور خونریز جنگوں کے بعد اچھے ہمسائے بن سکتے ہیں تو ہم بھی بن سکتے ہیں۔ امن کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا کوئی عقل مندی کا کام نہیں ہے۔

  • غزہ میں جنگ بندی اور امریکی ویٹو کی تلوار

    غزہ میں جنگ بندی اور امریکی ویٹو کی تلوار

    غزہ میں جنگ بندی اور امریکی ویٹو کی تلوار

    Dubai Naama

    اقوام متحدہ میں امریکہ نے غزہ میں جاری 2 سالہ جنگ کو ایک بار پھر روکنے سے متعلق قرارداد کو مسترد کر دیا یے۔ ایسا 6 دفعہ ہوا ہے کہ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ نے اپنا "ویٹو” کا "نام نہاد” اور "غاصبانہ” حق استعمال کیا ہے۔ اس موقع پر کونسل میں امریکی نمائندہ خاتون نے کہا ہے کہ حماس کو فوری طور پر ہتھیار ڈال کر قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے۔ یہ وہی امریکہ ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو کل تک مشرق وسطی میں امن اور غزہ میں جنگ بندی کے نام پر اہل عرب سے اربوں کھربوں ڈالرز کی انوسٹمنٹ اور اسلحہ ڈیلز کر رہے تھے، اور ساتھ میں قیام امن اور جنگ بندی کی یقین دہانیاں بھی کرا رہے تھے، مگر جونہی جنگی بندی کا موقعہ آیا ہے تو امریکہ نے اس کے بارے قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔

    سرمایہ داری نظام میں جمہوریت کی بڑی آنت صرف ملکی مفادات کے گرد گھومتی ہے جس میں جتنا مرضی سرمایہ انڈیلتے جاو’ وہ کبھی نہیں بھرتی ہے۔ یوں لگتا ہے امریکی صدر کے گزشتہ خلیجی دورے کا بنیادی مقصد بھی اس اسرائیل کی سلامتی کا تحفظ کرنا تھا جو خطے میں امریکہ کے لیئے "تھانیدار” کا کام کرتا ہے۔ امریکی ویٹو سے جہاں امن کی جدوجہد کو نقصان پہنچا ہے وہاں دیگر عرب ممالک سمیت پوری اسلامی دنیا سے اسرائیلی وجود کو تسلیم کروانے کی نام نہاد امریکی دعووں کی قلعی بھی کھل گئی ہے، جس کے بدلے اسرائیل امریکی سینٹ میں ہمیشہ اپنا غیرمعمولی اثر و رسوخ بڑھاتا رہتا ہے اور جو امریکہ کو آئے دن دل کھول کر سرمایہ بھی فراہم کرتا ہے۔

    جب امریکہ نے 18ستمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے ویٹو کے حق کو استعمال کرتے ہوئے اُس قرارداد کو مسترد کر دیا جس میں غزہ میں جنگ بندی، امداد کی فراہمی اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، تو اس وقت امریکہ کی جمہوری روایات اور انسانی حقوق کے بارے سارے دعوے زمین بوس ہو گئے۔ سلامتی کونسل میں امریکہ کی نمائندہ نے غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لئے نئی قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل اور حماس کو برابر نہیں سمجھا جا سکتا”۔ اگر فلسطینی اور اسرائیلی قیدی اور دیگر متاثرین برابر نہیں ہیں تو امریکہ کونسے انسانی حقوق کی بنیاد پر کہتا ہے کہ حماس کو فوری طور پر ہتھیار ڈالنے چایئے اور قیدیوں کو رہا کرنا چایئے۔امریکی نمائندہ نے مزید کہا کہ "امریکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بھیانک تنازعہ کو ختم کرنے کے لیئے کام جاری رکھے ہوئے ہے”۔ یہ جنگ بندی کی کیسی کاوش ہے کہ ایک طرف امریکہ جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرتا ہے دوسری طرف یہ بھی دعوی کرتا ہے کہ وہ جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے؟ اس قرارداد کو سلامتی کونسل کے کُل 15 اراکین میں سے 10 منتخب اراکین نے تیار کیا تھا۔ اس میں حماس اور دیگر گروہوں کے قبضے میں موجود تمام قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ شامل تھا۔ اس قرارداد کو 14 اراکین کی حمایت حاصل ہوئی تھی، مگر مقام افسوس ہے کہ غزہ میں اس تباہ کن جاری جنگ کو سلامتی کونسل کے ذریعے روکنے کی قررداد کو امریکہ نے بے بے دردی سے ویٹو کیا ہے۔

    غزہ میں جنگ بندی اور امریکی ویٹو کی تلوار

    اس پر ایک یورپی سفارت کار نے کہا کہ "امریکیوں کے لئے کچھ نہ کرنا زیادہ آسان ہو گا کیونکہ انھیں اپنی پوزیشن 14 اراکین اور عالمی رائے عامہ کے سامنے واضح نہیں کرنی پڑے گی”۔ اس سفارت کار کا حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ "اس سے فلسطینیوں کو زمینی طور پر بہت زیادہ فائدہ نہیں ملتا، لیکن کم از کم ہم یہ دکھاتے رہتے ہیں کہ ہم کوشش کر رہے ہیں”۔

    امریکی ویٹو نے اس سے قبل بھی سلامتی کونسل کے باقی 14 اراکین کو مشتعل کیا تھا، جو اسرائیل پر دباؤ ڈالنے میں ناکامی پر بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کر رہے تھے تاکہ غزہ کے شہریوں کی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ حتی کہ امریکی مغربی حلیف سپین، فرانس اور ہالینڈ وغیرہ غزہ میں جنگ بندی کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ سپین نے تو اپنے ملک میں فلسطین کے سفیر کا بھی خیرمقدم کیا۔ جبکہ بعض یورپی ممالک اسرائیل پر تجارتی پابندیاں بھی لگا چکے ہیں۔ یوں تل ابیب پر عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اُس جنگ کو روکے جو تنگ آ کر 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

    اقوام متحدہ کے شراکتی ماہرین نے امسال اگست میں اس تلخ انسانی المیئے کی تصدیق کی تھی کہ غزہ کے بعض حصوں میں قحط پڑ چکا ہے، تاہم اسرائیل اس کی تردید کرتا ہے اور الزام لگاتا ہے کہ حماس امداد لوٹ لیتی ہے، حالانکہ خود اسرائیل امدادی جہازوں پر بارہا حملوں کا مرتکب ہوا ہے اور فلسطین کے انفراسٹرکچر اور ہسپتالوں کو بھی ملیا میٹ کر چکا ہے جہاں فلسطینی بچے، بوڑھے اور خواتین زیرعلاج تھیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے الٹا اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کی اس رپورٹ کو بھی متعصب اور گمراہ کن قرار دیا تھا، جس میں اسرائیل پر غزہ میں ’’نسل کشی‘‘ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    شائد قارئین کو یاد ہو گا کہ سنہ 2024ء میں عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اُس وقت کے وزیر دفاع یوآف گالانٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ اس کے باوجود اسرائیل اور امریکہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ یکطرفہ طور پر غزہ میں جنگی جرائم کا ذمہ دار فقط حماس کو ٹھہراتے ہیں۔ یہ انصاف اور انسانی حقوق کا ایک دہرا عالمی معیار ہے جو نہ صرف غزہ میں جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ اس سے خطے میں بداعتمادی بھی پیدا ہوتی ہے اور مشرق وسطی میں امن قائم کرنے کے سارے راستے بھی محدود ہوتے ہیں۔

    امریکی ویٹو کے بعد عزہ میں جنگ بندی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین اطاعات کے مطابق اردن کے ساتھ مغربی کنارے کی راہداری بند ہو گئی ہے۔ 20سمبر کو اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہفتہ کے روز بھی غزہ کی پٹی میں 47 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے بین الاقوامی تنقید کے باوجود غزہ پٹی کے اس مرکزی شہر پر اپنی فوجی جارحیت جاری رکھی ہوئی ہے۔ اسرائیل پر ایک حوثی حملے کے بعد جنگ بندی کی بجائے اس کا دائرہ پھیلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے عبدالملک الحوثی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ، "عنقریب تمھاری باری بھی آئے گی”۔

    Title Image by NoName_13 from Pixabay

  • شنگھائی کانفرنس کا اختتامی اعلامیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    شنگھائی کانفرنس کا اختتامی اعلامیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    شنگھائی کانفرنس کا اختتامی اعلامیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    Dubai Naama

    شنگھائی تنظیم دنیا کی 40 فی صد سے زیادہ آبادی کی نمائندہ ایک انتہائی طاقتور تنظیم ہے جس کا 25واں سربراہی اجلاس اختمام پذیر ہوا۔ اس تنظیم پر چین کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور چین ہمارا ہمسایہ اور دیرینہ دوست ملک ہے۔ لیکن اس کانفرنس کے اختتامی اعلامیہ میں پاکستان اور بھارت کو نہ صرف برابر اہمیت دی گئی، بلکہ کئی حوالوں سے یہ مشترکہ اعلامیہ ہمارے لیئے مایوس کن رہا کیونکہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ تو دیا گیا مگر بھارت میں پہلگام اور پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا۔ اگرچہ اس اعلامیہ میں توازن قائم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اعلامیہ کے مکمل متن سے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو دہشت گردی کے ’’شریک مظلوم‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس حکمت عملی سے توازن قائم کرنے کی تو کوشش کی گئی مگر ہمارے لیئے جو اہم امور ہیں وہ سردست پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

    شنگھائی تعاون تنظیم ایک ایشیائی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون کی تنظیم ہے جسے چین کے شہر شنگھائی میں سنہ 2001ء میں چین، روس، قازقستان، کرغستان اور ازبکستان کے رہنماؤں نے قائم کیا۔ یہ تمام ممالک شنگھائی پانچ کے اراکین کہلائے۔ جب 2021ء کے آخر میں ازبکستان اس میں شامل ہوا، تب اس تنظیم کا نام بدل کر "شنگھائی تعاون تنظیم” رکھ دیا گیا۔ 10 جولائی 2015ء کو اس میں پاکستان اور بھارت کو بھی شامل کیا گیا۔ ہم پاک چین دوستی کا ہمیشہ دم بھرتے ہیں اور ایسا کرنا بھی چایئے۔ پاک بھارت حالیہ جنگ میں پاکستان کی تاریخی کامیابی کے پس پردہ چین کا تعاون بھی شامل تھا۔ اس کے باوجود شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ اجلاس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی کو متوان کرنے پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی فتح نے دنیا بھر میں پاکستان کے تشخص کو غیرمعمولی طور پر اجاگر کیا ہے۔ بھارت کے مقابلے میں امریکہ کا جھکاو واضح طور پر پاکستان کی طرف ہو گیا ہے اور امریکی صدر ہر سطح پر بھارت کی سرزنش اور پاکستان کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جبکہ مغربی ممالک اور روس میں بھی پاکستان کے لیئے نرم گوشہ پیدا ہوا ہے۔ جبکہ شنگھائی تنظیم کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے تنازعات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی ہے۔ اعلامیہ میں کہیں بھی پاکستان کے بنیادی مسئلے یعنی بھارت کی جانب سے "آبی جارحیت” اور بالخصوص سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو بھارت کی طرف سے معطل کرنے اور اس میں ردوبدل کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اور نہ ہی بھارت کی یکطرفہ کارروائی کے تحت آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کو "بھارتی اکھنڈ یونین” میں ضم کرنے، کا کوئی ذکر موجود ہے۔ یہاں تک کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے تحت تسلیم کیا گیا ہے، کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔

    شنگھائی کانفرنس کا اختتامی اعلامیہ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    اس مشترکہ اعلامیہ میں بھارت کے لئے ان مسائل کا غیر موجود ہونا ایک سفارتی کامیابی ثابت ہوا۔ نہ صرف نئی دہلی کو کشمیر میں اپنی غیر قانونی کارروائیوں پر کسی تنقید سے بچا لیا گیا بلکہ پاکستان کے خدشات کو مؤثر طور پر پس پشت ڈال دیا گیا۔ مئی کی جھڑپ کے دوران بھارت کے پاکستان پر بلااشتعال حملے پر ایس سی او کی خاموشی اور مکمل تحقیقات کی عدم موجودگی نے مزید بھارت کے حق میں پلڑا جھکا دیا ہے۔ اس کے برعکس، پہلگام حملے کو نمایاں طور پر اجاگر کیا گیا تاکہ بھارت کے بیانیئے کو عالمی توجہ ملے جبکہ پاکستان کا مؤقف دب کر رہ گیا۔ بے شک چین اور روس ایک دوسرے کے زیادہ قریب آ رہے ہیں اور بھارت کے روس پر اثرات کی وجہ سے چین نے اعلامیہ کو متوازن رکھا۔ لیکن اس وقتی جھکاو کو انتہائی سنجیدہ لیا جانا چایئے اور ہماری وزارت خارجہ کو سوچنا چایئے کہ چین کے ساتھ خارجہ پالیسی کے میدان میں کہاں کمی بیشی رہ گئی ہے۔ یہ عدم توازن ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا چین واقعی پاکستان کا ’’ہمہ موسم دوست‘‘ ہے؟ پاکستان کے اندر موجود کمیونسٹ نواز لابی طویل عرصے سے بیجنگ کو ایک قابلِ اعتماد اور وفادار شراکت دار کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ لیکن ایک ایسے فورم میں جہاں چین کا اثر و رسوخ نمایاں ہے، پاکستان کے قومی مفادات، بالخصوص کشمیر اور آبی سلامتی کو نمایاں کیا جانا مقصود تھا۔ یہ کسی بھول چوک کا نتیجہ نہیں بلکہ اس امر کی عکاسی ہے کہ کثیرالجہتی فورمز میں بھارت کتنا وزنی کردار رکھتا ہے اور پاکستان کا ایک ہی شراکت دار پر انحصار کس قدر محدودیت پیدا کرتا ہے۔

    یہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کا ذکر بھی ضروری ہے، جنہوں نے کھلے عام تسلیم کیا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تنازعہ ہے اور اس کے غیر حل شدہ ہونے کو واضح طور پر مانا۔ ٹرمپ کے اس مؤقف نے کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ عالمی منظرنامہ پر اجاگر کیا اور اسے بین الاقوامی سفارتکاری کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔ یہ اعتراف، اگرچہ مختصر ہے، تاہم یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بااثر عالمی رہنماؤں کی وضاحت کسی بھی "بیانئے” کو بدل سکتی ہے۔ یہ ایسا بنیادی کام ہے جو شنگھائی تنظیم کے اعلامیہ میں نظر آنا چایئے تھا۔

    خارجہ پالیسی کی از سرِ نو ترتیب ناگزیر ہے، ایسی حکمت عملی جس میں چین کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ، یورپ اور مسلم دنیا کے ساتھ روابط کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں ہمارے لیئے سبق واضح ہے کہ کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کے مسئلے اس وقت تک اجاگر نہیں ہوں گے جب تک اسلام آباد خود انہیں وضاحت، حکمت عملی اور تسلسل کے ساتھ آگے نہ بڑھائے۔

  • عالمی امراء کلب

    عالمی امراء کلب

    عالمی امراء کلب

    Dubai Naama

    سرمایہ داری نظام ذرائع، طاقت اور ارتکاز دولت کا بدترین ذریعہ ہے جس کے بل بوتے پر کچھ عرصہ پہلے ایلون مسک کی دولت میں صرف ایک دن میں 92 کھرب روپے کا مزید اضافہ ہوا تھا۔ اس کے کچھ وقت بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان پر مسک کی کمپنی کے شیئرز گر گئے جس سے ان کی کمپنی کو چند ہی دنوں میں کم و بیش 132 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا۔ دولت مندوں کے امیر سے امیر تر ہوتے جانے یا پیسے میں کچھ کمی آنے کا عمل زیادہ دولت جمع ہو جانے کے بعد صرف چند ہفتوں اور دنوں کا کھیل رہ جاتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر امیر ترین لوگوں کی دولت میں ہمیشہ اضافہ ہوتے ہی دیکھا گیا ہے۔ دولت مندوں کے سرمائے پر کسی کو حسد کرنے کا تو کوئی حق نہیں مگر دنیا کی طاقت کا محض ان چند ہاتھوں میں جمع ہونے کا ایک دوسرا مطلب غربت، بھوک پیاس اور بیماریوں میں تڑپتی انسانیت کا ان گنی چنی امیر ترین ہستیوں کا حسرت سے منہ تکتے رہنا ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت میں یہ غلامی کی بدترین شکل ہے کہ ساڑھے سات ارب کی دنیا میں آدھی سے زیادہ آبادی اپنی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے اور گنتی کے ان چند امیروں کی نسل در نسل اولادیں منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ سرمایہ داری نظام کو انگریزی زبان میں "کیپیٹل ازم” کہتے ہیں جس میں سرمایہ اکٹھا کرنے کی نہ ختم ہونے والی دوڑ شامل ہے۔ دنیا کے باقی سارے نظاموں کی حدود اور قوانین مقرر ہیں مگر سرمایہ جمع کرنے کی کوئی حد ہے اور نہ ہی کوئی قانون یے۔ یہ شائد سرمایہ داری نظام میں آج کی انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ آپ سرمایہ جمع کرنے پر دنیا کے کسی ملک، معاشرے یا قوم میں کوئی پابندی نہیں ہے۔

    مانا کہ دنیا کے سو امیر ترین افراد ہر سال اربوں روپے چیرٹی میں بھی دیتے ہونگے مگر سوچنے کی بات ہے کہ دولت میں یہ اضافہ انہی کی دولت میں ہی کیوں اور کیسے ہوتا ہے؟ یہ سوال دنیا کے معیشت دانوں کے لئے ایک ایسی کڑوی گولی ہے جو ان کی ذہنی پستی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سرمایہ داری دنیا میں اتنے گہرے پنجے گاڑ چکی ہے کہ اس کے سامنے بڑے بڑے فلسفی اور دانشور بھی شرمندہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں۔ ہر سال امریکی فوربز رسالہ دنیا کے امیرترین افراد کی فہرست شائع کرتا ہے۔ جب اس رسالے کے ماتھے پر دنیا کے سب سے امیرترین شخص کا نام اور تصویر چھپتی ہے تو ہمدردی اور نرم دلی کی خوگر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ نیویارک میں ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی کمپنیوں کے مالک ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور اب ان کی دولت میں کئی گنا مزید اضافہ ہوا ہے۔

    ایک نجی ٹی وی کے مطابق درحقیقت ایلون مسک نے ایک دن میں اتنا پیسہ کما لیا جتنا بیشتر ممالک کا سالانہ بجٹ بھی نہیں ہوتا۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی دولت میں اس دن 33 ارب 50 کروڑ ڈالرز (92 کھرب پاکستانی روپے سے زائد) کا اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں ایک دن میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔ ٹیسلا کی جانب سے جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی کی رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں ایلون مسک نے پیشگوئی کی تھی کہ سنہ 2025ء میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ حالانکہ اس سے قبل مسلسل ایک سال تک ٹیسلا کی جانب سے سہ ماہی رپورٹس میں آمدنی میں کمی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

    عالمی امراء کلب

    واضح رہے کہ ایلون مسک ٹیسلا کے 21 فیصد حصص کے مالک ہیں اور ان کی مجموعی دولت کا 68 فیصد حصہ بھی اسی کمپنی کے حصص سے منسلک ہے۔ ایلون مسک اب 270.3 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اور اس فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود جیف بیزوز ہیں جو ان سے 61 ارب ڈالرز پیچھے ہیں۔ جیف بیزوز 209 ارب ڈالرز کے مالک ہیں جبکہ میٹا اور فیس بک کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ 201 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص ہیں۔

    اس سے قبل دنیا کے جن امیر ترین افراد نے اپنی دولت کی وجہ سے شہرت حاصل کی ان میں امریکہ کے بل گیٹس، میکسیکو کے کارل سلم روز اور فرانس کے برنارڈ آرنالٹ اور امریکہ ہی کے سٹیو بالمر وغیرہ بھی شامل ہیں۔

    گذشتہ برس فوربز کی امیر ترین افراد کی فہرست میں صرف 6 افراد شامل تھے جن کے پاس انفرادی طور پر 100 ارب ڈالرز سے زیادہ مالیت کے اثاثے اور دولت تھی۔ سنہ 2024ء کی فوربز رپورٹ کے مطابق دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں 14 افراد سامنے آئے جنھوں نے اپنی دولت میں اضافہ کرتے ہوئے 100 ارب ڈالرز کے کلب میں شمولیت حاصل کی۔ سو ارب ڈالر کتنی زیادہ دولت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دولت دنیا کے بہت سے غریب اور ترقی پزیر ممالک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے حجم سے زیادہ ہے یعنی ان تمام اشیا اور خدمات کے مجموعہ سے بھی زیادہ مالیت ہے جو ایک قوم پیدا کرتی ہے۔

    فوربز میگزین کا دعوی ہے کہ سنہ 2024ء میں ریکارڈ 2781 لوگ ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل ہوئے۔ امیر اشرافیہ کا یہ گروہ آج پہلے سے زیادہ امیر ہے اور ان کی دولت کی مجموعی مالیت 14.2 کھرب ڈالرز سے زیادہ بنتی ہے جو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم دنیا بھر کے غرباء کا منہ چڑا رہی ہے۔

    دنیا میں دولت اور ذرائع ہمیشہ موجود رہتے ہیں مگر ان کے مالکان ہمیشہ نہیں رہتے ہیں۔ مائیکروسافٹ کمپنی کے شریک بانی بل گیٹس سنہ 1995 سے 2017 تک 23 برسوں میں سے 18 برس تک دنیا کے امیر ترین فرد کے درجے پر رہے ہیں۔ لیکن آج ایلون مسک دنیا کے امیر ترین فرد ہیں۔ لگثرری برانڈز لوئی ویٹون، کرسچیئن ڈائر اور سیفورا کا مالک برناڈ ہو یا انڈیا کا مکیش امبانی ہو، رتن ناتھ ٹاٹا ہو یا باہر کے ممالک میں جائیدادوں کے مالکان میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری ہوں، ان میں سے دولت کوئی بھی ساتھ لے کر دنیا سے رخصت نہیں ہو گا۔ ان کا صرف کردار اور اچھا پن ان کے ساتھ جائے گا۔ بہتر ہے کہ ان امراء سمیت ہم سب دولت کی بجائے اعمال اکٹھے کرنے پر توجہ دیں۔

    .

  • جنگ بندی کی اصل کہانی

    جنگ بندی کی اصل کہانی

    جنگ بندی کی اصل کہانی

    Dubai Naama

جنگ بندی کی اصل کہانی

    بغیر سیکورٹی کے ہیلی کاپٹر کی طرف جاتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے 59 سیکنڈز کے لاسٹ سیکنڈ میسج میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، "ایران نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے مگر اسرائیل نے بھی کی ہے۔ انہوں نے ڈیل کے بعد اس صبح وہ بم گرائے ہیں جو ہم نے پہلے نہیں دیکھے تھے۔ میں اسرائیل سے بالکل خوش نہیں ہوں، نہ ہی میں ایران سے خوش ہوں۔ دونوں ملک اتنی دیر سے سخت جنگ لڑ رہے ہیں۔” جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بارے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مختصر پیغام وائٹ ہاؤس کے سرسبز ہیلی پیڈ کی طرف جاتے ہوئے دیا جہاں ایک محفوظ ہیلی کاپٹر ان کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے۔ امریکی صدر اکیلے تھے اور انہوں نے کسی دفتری فائل کی بجائے اپنے دائیں ہاتھ میں ایک پلاسٹک ٹائپ سا کوئی لفافہ پکڑا ہوا تھا۔

    جنگ بندی کے بارے ڈونلڈ ٹرمپ کا تاحال آخری ٹویٹ اس سے بھی زیادہ مختصر اور دلچسپ ہے۔ یہ ایک ون لائنر میسج ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ جس نے بھی بم گرایا وہ ‘گے’ ہو گا۔ اردو زبان میں انگریزی لفظ "گے” کا ترجمہ تھوڑا غیر مہذب ہے مگر یہ فقرہ بہت معنی خیز ہے جس کا مفہوم ایک لائن میں یہ بھی بنتا ہے کہ اب جس فریق نے بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی بم گرایا، اٹھا کر وہی بم اس کی پشت پر مارا جائے گا۔

    قصہ مختصر کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے باوجود امریکہ کے جنگ میں براہ راست شامل ہو چکنے کے بعد، اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بند کروانے میں واقعی سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے روس اور یوکرین کی جنگ بند کروانے کی کوشش کی، بھارت اور پاکستان کی خطرناک ترین جنگ بند کروائی اور اب تیسری بار انہوں نے ایران اسرائیل جنگ کو بند کروانے کی ایک انتہائی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ اس سے ایک تو دنیا بھر میں ان کے اس کردار کو سراہا گیا۔ دوم امریکی صدر سے پاکستان کے فیلڈ مارشل کی ملاقات کے بارے جو وسوسے اور خدشات ابھرے تھے کہ شائد پاکستان نے امریکہ کو ایران کے خلاف اڈے دینے کا وعدہ کیا ہے یا امریکی صدر کو پاکستان نے "نوبل انعام” کے لیئے غلط تجویز کیا تھا، وہ سارے داغ نہ صرف ختم ہوئے ہیں، بلکہ پاکستانی فوج اور فیلڈ مارشل کی، پاکستانی عوام میں ایک بار پھر بہجا بہجا ہو گئی ہے۔

    بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا تو خیال ہے کہ یہ جنگ شروع بھی ٹرمپ نے کروائی تھی۔ اگر جنگ بندی مستقل ہو گئی تو اس کا سارا کریڈٹ بھی ٹرمپ کو ہی جائے گا۔ امریکی صدر یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ اچھا نہیں لگا کہ جنگ بندی پر رضامندی کے فوراً بعد اسرائیل نے شدید حملے کئے۔ صدر ٹرمپ کی رائے میں امریکہ نے ایران کی جن تین اٹامک سائٹس پر حملے کیئے اس کے بعد ایران کبھی جوہری پروگرام بحال نہیں کر سکتا، کیونکہ موصوف سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جوہری صلاحیت حملہ کر کے ختم کر دی ہے۔ اس سے ایک طرف جہاں اسرائیل کو جنگ بندی کے لیئے "فیس سیونگ” ملی تو دوسری طرف جب ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر حملہ کیا تو اس کا بھی جنگ بندی کی طرف جانے کے لئے مکمل بھرم قائم ہو گیا۔

    امریکی صدر کے اس قابل ستائش کردار کے باوجود اسرائیل نے اپنا روایتی صیہونی کردار دہرایا جسے اگر منافقانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، جب اسرائیل کے صدر نیتن یاہو اور اس کے کاٹز نامی وزیر دفاع دو متضاد سمتوں میں چلتے دکھائی دیئے اور اسرائیلی وزیر دفاع جنگ بندی معاہدہ کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ اس نے ببانگ کہا کہ ایران پر حملے جاری رکھیں گے جس کے بعد اسرائیل نے ایران پر سارا دن بمباری جاری رکھی۔ ایک طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگ بندی کے اعلان پر خوش تھے تو دوسری طرف ان کے ہی ایک وزیر نے جنگ بندی کے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے ایران پر حملے تیز کر دیئے جس سے یہ دونوں اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار "گڈ مین، بیڈ مین” کا روایتی یہودی کردار ادا کرتے دکھائی دیئے۔

    ایران پر اسرائیل نے حملوں کا آغاز فوجی قیادت اور نیوکلیئر سائنسدانوں پر حملوں سے کیا تھا تاہم اسے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے میں بظاہر ناکامی ہوئی تو اسرائیل کی عملی مدد کے لیئے بلآخر امریکہ میدان میں آیا اور ایران کی تین ایٹمی تنصیبات پر بمباری کر کے اسرائیلی وزیراعظم سے منوایا کہ امریکہ کے بغیر یہ کام ناممکن تھا۔

    عارضی 12 روزہ جنگ بندی تک اگرچہ ایران کا زیادہ نقصان ہوا، خاص طور پر اسے اپنے فوجی جرنیلوں اور کم و بیش درجن بھر ایٹمی سائنس دانوں کی شہادت کا نقصان اٹھانا پڑا، لیکن ایران کے آخری جوابی حملوں میں 28 اسرائیلی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، تل ابیب اور حیفہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے تھے، جسے غیر جانبدار عالمی میڈیا نے لائیو دکھایا۔ ایران اور اسرائیل دونوں نے اس جنگ کو اپنی فتح قرار دیا۔ جب جنگ بندی کا پہلا اعلان ہوا تو ایران میں جشن منایا گیا، ایرانی پرچم لہراتے ہوئے ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور فتح کی خوشی میں رقص کرتے رہے۔

    یہ جنگ بندی قائم رہے یا کچھ عرصے کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہو جائے، یہ بات دنیا پر واضح ہو گئی ہے، اور خود اسرائیل کو بھی شدت سے احساس ہوا ہے کہ اس کے دفاعی نظام میں بہت زیادہ خلا موجود ہے اور وہ قابل تسخیر ہونے کی وجہ سے اسے مستقبل میں دھوکہ دے سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایران اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے روس اور چین سے تعلقات کس قدر مضبوط کرتا ہے۔ ایران کا فضائی نظام انتہائی کمزور ہے۔ اس کو اپنی ایئرفورس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ایران اپنے اتحادیوں سے کس طرح کے نئے مراسم تعمیر کرتا ہے اور کس نوعیت کی ڈیلز کرتا ہے، شاید یہ طے کرے کہ اگلی ممکنہ جنگ میں اصل فاتح کون ہو گا۔

    Title Image by NVD from Pixabay

  • مشرق وسطی کی نئی عالمی صف بندی

    مشرق وسطی کی نئی عالمی صف بندی

    مشرق وسطی کی نئی عالمی صف بندی

    Dubai Naama

    اگر پاک بھارت جنگ جاری رہتی تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے منفعت بخش کاروباری دورے کبھی نہ کر پاتے۔ صدر ٹرمپ کے اس کامیاب دورے کے بعد امریکہ تیزی سے اپنے ملک میں سرمایہ کاری اور ترقی کرنے کے ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔ امریکہ کو یہ موقع کاروبار کے کنگ ڈونلڈ ٹرمپ نے فراہم کیا۔جنگ کے آغاز میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے، دونوں ممالک اسے خود سلجھائیں۔ جنگ کے آغاز سے چند ہفتے قبل امریکہ نے بھارت کے ساتھ 4 سالوں میں 420 ارب ڈالر کا اسلحہ سپلائی کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ شائد اس معاہدے کے پیچھے بھارت نے سمجھا کہ اس کی پشت پر امریکہ کھڑا یے یا پھر بھارت کی پیٹھ ٹھونکی گئی تھی اور پہلگام کو بہانہ بنا کر 7مئی کو انڈیا نے بہاول پور میں پاکستان پر حملہ کر دیا، 10مئی کو پاکستان نے بھارت کے مختلف شہروں، اسلحہ کی انسٹالیشنز اور چوکیوں وغیرہ کو ملتا میٹ کر کے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کو سرپرائز دیا تو انڈیا نے پاکستان کے سامنے کھٹنے ٹیک دیئے اور امریکہ کی طرف بھاگا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف جنگ بندی کروا کر بھارت پر احسان کر دیا اور دوسری طرف صدر ٹرمپ اگلے ہی روز 11 مئی کو سعودی عرب پہنچ گئے جہاں ان کا غیر روایتی انداز میں تاریخی استقبال کیا گیا۔

    امریکہ اور سعودی عرب نے تاریخ کے سب سے بڑے دفاعی آلات کی فروخت کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں، جس کی مالیت تقریباً 142 بلین ڈالر ہے۔ جبکہ سعودی عرب نے 600 بلین ڈالر (168,600 ارب روپے) کی امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے کا میگا معاہدہ بھی کیا جو مشرقِ وسطیٰ کی نئی سمت کا تعین کرتا دیکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب کی امریکہ میں دیگر انوسٹمنٹ کو بھی اس میں شامل کیا جائے تو یہ تقریبا ایک ٹریلن ڈالر کی سرمایہ کاری بنتی ہے۔ جس پس منظر میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان یہ معاہدے ہوئے ٹرمپ کا یہ صرف ایک سفارتی دورہ ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کی طاقت کے توازن کو ایک نئی سمت دینے والا معاہدہ ہے، بلکہ یہ تاریخی سرمایہ کاری ایک ایسا معاہدہ ہے جو عالمی معیشت اور دفاعی تعلقات کے نقشے کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سعودی عرب اور امریکہ کے ان دفاعی معاہدوں میں جدید ترین اسلحہ، جنگی طیارے، میزائل سسٹمز اور فوجی تربیت وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 20 بلین ڈالر مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لئے بھی مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 80 بلین ڈالر امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے لئے رکھے گئے ہیں۔
    یہ معاہدے صرف مالی لین دین ہی نہیں ہیں بلکہ یہ ایک پیغام ہیں کہ سعودی عرب نہ صرف خود کو جدید عالمی معیشت کا مرکز بنانے جا رہا ہے، بلکہ امریکہ جیسے طاقتور ملک کے ساتھ مل کر وہ اپنے دفاعی اور تکنیکی اتحاد کو بھی نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔

    یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ چین، روس اور ایران جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتی سعودی قربتوں کا توازن بحال کرنے کی کوشش ہے یا ٹرمپ کی واپسی کی سیاسی زمین ہموار کرنے کی ایک اسٹریٹیجک چال ہے؟ یہ جو بھی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتنی بڑی اسلحہ خریداری اور سرمایہ کاری کے یہ معاہدے نہ صرف امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی سعودی انویسٹمنٹ کا پیکج ہے، بلکہ اس نے پوری دنیا کی توجہ ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی جانب مبذول کر دی ہے۔

    امریکی صدر کے اس تہلکہ خیز کامیاب دورے نے عالمی منظرنامہ کو سرعت رفتاری سے بدل دیا ہے۔ امریکہ جب سے پاپولرازم کی طرف بڑھا ہے نتیجتا امریکہ اور دنیا کو ڈونلڈ ٹرمپ کا تحفہ ملا ہے۔ ٹرمپ ایک کامیاب ترین کاروباری ہستی ہیں۔ اس دورے میں سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان بن عبدالعزيز آل سعود اور شام کے عبوری صدر احمد الشرع شامی نے بالمشافہ ٹرمپ سے ملاقات کی اور ترکی کے صدر طیب اردگان نے ویڈیو لنک کے ذریعہ شرکت کی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ اب شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے امکانات تلاش کر رہی ہے۔ اسی ملاقات میں صدر ٹرمپ نے سعودی کراؤن پرنس کی سفارش پر شام سے پابندیاں ہٹانے کا اعلان کر دیا۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شام کے صدر احمد الشرع سے یہ 37 منٹ کی ملاقات بہت غیر معمولی ملاقات ثابت ہوئی جس کا چند ماہ پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، کیونکہ ماضی میں شامی صدر "القاعدہ” سے وابستہ رہے تھے۔ امریکہ کی جانب سے شامی رہنما کے سر کے لئے ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا جو اس سے قبل امریکہ نے دسمبر 2024 میں ختم کیا تھا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ممالک کے سربراہان کی موجودگی میں اپنے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنا میری عزت افزائی ہو گی، میری خواہش ہے اور امید ہے کہ سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں بھی شامل ہو جائے گا۔

    ابراہیمی معاہدے اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے طے پانے والے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے۔ یہ معاہدے سنہ 2020ء میں امریکہ کی ثالثی میں طے پائے گئے تھے۔ ان کا مقصد اسرائیل کو ابراہیمی بھائی قرار دیتے ہوئے اسے بطور ریاست تسلیم کرانا ہے۔ ابراہیمی معاہدے جو سال 2020ء میں طے ہوئے تو اس وقت کے اہم فریق اسرائیل، یو اے ای، بحرین، سوڈان اور مراکش تھے۔ اس میں مرکزی فریق کے طور پر اسرائیل سرفہرست تھا جس کی ضرورت تھی کہ وہ عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے۔ متحدہ عرب امارات پہلا عرب ملک تھا جس نے ستمبر 2020ء میں اس معاہدے پر دستخط کئے۔ متحدہ عرب امارات کے فوراً بعد بحرین اس میں شامل ہوا، جبکہ جمہوریہ سوڈان اکتوبر 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیئے رضامند ہوا تھا۔ پانچویں فریق کے طور پر مراکش نے دسمبر 2020 میں اس معاہدے پر دستخط کر کے اس میں شراکت اختیار کی تھی۔

    ابراہیمی معاہدے کے فریق ممالک میں سے کسی بھی ملک نے فلسطین کے ساتھ مشترکہ پلیٹ فارم پر بات چیت نہیں کی تھی۔ کیوں کہ یہ معاہدے بنیادی طور پر فلسطین سے الگ ہو کر طے پائے تھے۔ اہل غزہ اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایران بھی اس معاہدے کا فریق نہیں ہے۔ لیکن ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ایران حزب اللہ جیسی پراکسیز بند کرے تو ہم اس کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیئے تیار ہیں۔

    ایران کی وزارت خارجہ کئی مواقعوں پر کہہ چکی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات چاہتے ہیں، لہذا محسوس ہوتا ہے کہ ایران اس معاہدے کی جانب پیش رفت کرے گا اور شاید اس طرح دو ریاستی فارمولہ طے پا جائے۔ اگر فلسطین کو ایک الگ ریاست تسلیم کر لیا جاتا ہے تو ابراہیمی معاہدے کامیاب ہو سکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کی بھی یہی خواہش ہے۔ ایران سعودیہ سفارتی تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ممالک دو ریاستی حل کے لئے ٹرمپ سے ایک پائیدار معاہدہ کر سکتے ہیں۔

    یوں اگر فلسطین کا دو ریاستی حل نکل آتا ہے اور سب ممالک اسرائیل کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں پاکستان کیا کرے گا؟ پاکستان وہی کرے گا جو سعودی عرب کرے گا، اور سعودی عرب وہی کرے گا جس سے اس کی مسلم دنیا میں عزت بحال رہے۔ لگتا یہ ہے کہ عزہ کو نکال معاملات دو ریاستی مستقل حل کی طرف بڑھ رہے ہیں، اس سے کچھ ماہ قبل ٹرمپ نے یہ ارادہ بھی ظاہر کیا تھا کہ وہ عزہ کو خوبصورت رئیل سٹیٹ اور تفریح گاہ بنائیں گے، جس کی عملا ابتداء کچھ عرصہ بعد ٹرمپ کے اس دورے کے بعد ہو سکتی ہے۔

    بناء بریں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دورے سے دنیا کے سامنے ان کا مزاج کھل کر سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ کو پیسہ چاہئیے، پیسہ پھینک اور تماشا دیکھ اور کام کرا، اگر اسرائیل نے ٹرمپ کو پیسہ دکھایا ہے تو سعودی کراؤن پرنس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ جب 12مئی کو متحدہ عرب امارات پہنچے تو وہاں بھی انہیں روایتی ڈانس کے ساتھ غیرمعمولی پروٹوکول دیا گیا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں بھی سرمایہ کاری کے کامیاب وعدے و معاہدے کیئے جس کے بعد 13 مئی کو ٹرمپ جب قطر پہنچے تو وہاں ان کا اس سے بھی زیادہ پرتپاک طریقے سے استقبال کیا گیا۔

    قطر کی ریاست نے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو حسب موقع و محل ایک بوئنگ 747 "ٹرمپ فورس ون” نامی طیارہ تحفے میں دیا ہے، جس کی دم پر 24 قیراط سونے کا پورٹریٹ، سنہری اندرونی حصہ، اور سونے کا ایک ٹھوس واش روم شامل ہے۔ یہ بھی ٹرمپ دورے کی طرح ایک تاریخی تحفہ ہے جس کی قیمت 400 ارب ڈالرز بتائی جا رہی یے، جسے قطری حکام نے "دوستی اور احترام کی علامت” قرار دیا۔

    سرمایہ کاری کاروبار اور اثاثوں کی خریداری کو کہتے ہیں جبکہ سرمایہ داری یا کیپٹل ازم ایسا نظام معیشت ہے جس میں تمام پیداوری ذرائع یا صنعتیں اور کاروبار نجی ملکیت میں ہوتے ہیں، جہاں حکومت کی مداخلت برائے نام ہوتی ہے۔ آزاد اور فری مارکیٹ اس نظام معیشت کی بنیادیں ہیں. اشیا کی طلب اور رسد سے ان کی قیمتوں کا تعین ہوتا ہے.
    آپ مختلف کمپنیوں کے اسٹاک، بانڈز، یا رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں. گویا یہ آپ کے اثاثے ہیں. سرمایہ کاری کا مقصد اپنے لگائے ہوئے سرمائے پر آمدنی یا منافع حاصل کرنا ہے.

    سعودی عرب کی امریکہ میں سرمایہ کاری کوئی نئی چیز نہیں ہے جسے بعض حاسد اور متعصب سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ دفاع کے بدلے بھتہ یا خراج قرار دے رہیں مگر اب اس کے حجم میں اس دورے کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔ نجی سرمایہ کاروں کی طرح ملک بھی دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں. چین نے امریکہ میں مینوفیکچرنگ، رئیل اسٹیٹ، اور فنانس کے شعبوں میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے. امریکہ نے بھی چین میں مینوفیکچرنگ، ٹریڈ، فنانس، اور انشورنس کے شعبوں میں 127 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے. جبکہ خود امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں جاپان 783 ارب ڈالر، کینیڈا 750 ارب ڈالر، جرمنی 658 ارب ڈالر، برطانیہ 636 ارب ڈالر، فرانس 370 ارب ڈالر اور دیگر ممالک کی 1349 ارب ڈالر کی
    سرمایہ کاری موجود ہے، سرمایہ کاری کرنے والا ملک اور جس ملک میں سرمایہ کاری کی جائے دونوں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں.

  • رِنگ سائیڈ – Ring Side

    رِنگ سائیڈ – Ring Side

    رِنگ سائیڈ – Ring Side

    Dubai Naama

    ڈاکٹر نسیم اشرف سے دسمبر 2010ء میں پہلی ملاقات ابوظہبی میں "ایمریٹس پیلس ہوٹل” میں ہوئی جب پی ٹی آئی پنجاب کے سابق جنرل سیکریٹری فاروق ملک اور راقم سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف سے ملنے گئے تھے۔ اس کے بعد تین بار انہیں جنرل صاحب کے دبئی مال کے ساتھ واقع اپارٹمنٹ میں بھی دیکھا۔ جنرل پرویز کے عروج کے دنوں میں نسیم اشرف صاحب کا شمار جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ اسی بنیاد پر ڈاکٹر نسیم اشرف صاحب 6سال صدر جنرل پرویز مشرف کے کینٹ منسٹر اور آخری دو سال وہ "پاکستان کرکٹ بورڈ” (پی سی بی) کے چیئرمین بھی رہے۔ جب صدر جنرل پرویز مشرف نے 18اگست 2008ء کو استعفی دیا تھا تو اس کے چند گھنٹوں بعد ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ اب چوتھی بار ان سے غائبانہ ملاقات ان کی کتاب "رِنگ سائڈ” کے توسط سے ہوئی ہے جس میں انہوں نے اپنے ذاتی تجربے، پاکستان کے سیاسی, جغرافیائی اور عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کے مستقبل کے بارے اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔

    پاکستان قائم رہنے کے لیئے بنا ہے اور تب تک قائم رہے گا جب تک پاکستان کا وفاق مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ کتاب سرمد خان کے توسط سے ہاتھ لگی جسے "بک کارنر جہلم” نے جنوری 2025ء میں شائع کیا۔ بنیادی طور پر ڈاکٹر نسیم اشرف پیشے کے اعتبار سے ایک گائنالوجسٹ ڈاکٹر ہیں اور آجکل امریکہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اس کتاب کو کئی سالوں کی محنت اور عرق ریزی کے بعد لکھا ہے جسے لکھنے کا مشورہ انہیں اقوام متحدہ امریکہ میں پاکستان کے لئے خدمات انجام دینے والے محترمہ ڈاکٹر ملیحہ لودھی اور ان کے کولیگ ڈاکٹر سید امجد حسین نے دیا جنہوں نے اس کتاب کا دیباچہ بھی لکھا ہے۔

    "رِنگ سائیڈ” کتاب 320 صفحات پر مبنی ہے جس میں وار آن ٹیرر، پاکستانی ڈائسپورا (پاکستانی تارکین وطن)، یو ایس پولیٹیکل سسٹم، پریذیڈنٹ کلنٹن وزٹ ٹو پاکستان، یو ایس پاکستان ریلشن شپ، وائی امیریکہ کڈ ناٹ ون ان افغانستان (امریکہ افغانستان میں کیوں نہ جیت سکا) اور "دی جناح” (فلم) سمیت کل 14 ابواب شامل ہیں۔ اس کتاب میں 9/11 حملوں کے پس منظر پر خصوصی بحث کی گئی ہے، اس مد میں امیرکن پاکستان فاونڈیشن، ایسوسی ایشن آف فزیشن آف پاکستانیز، سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن، سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی( سی آئی اے)، ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (یو کے)، یورپئین یونین، انٹیلیجنس بیورو، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، ملٹری انٹیلی جنس، یونائیٹڈ نیشنز اور یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ پر لکھی گئی کتابوں اور مضامین سے خصوصی مدد لی گئی ہے جس سے کتاب کو پڑھنے سے اس کی بے لاگ وسعت اور حقیقت پسندی کا احساس ہوتا ہے۔

    انگریزی زبان میں لکھی گئی اس کتاب میں پاکستان کے سیاسی حالات و واقعات اور سیاست دانوں کی کارکردگی اور تجزیہ کاروں و دانشوران کی آراء کی روشنی میں پاکستان کے سیاسی ماضی کا تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے کہ پاکستان کو ماضی میں اور اس وقت جن عصری چیلنجز کا سامنا ہے انہیں کس طرح ایڈریس کیا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے جغرافیائی اور عالمی محل وقوع کی اہمیت کے حوالے سے ایک کارآمد اور متحرک بائیوگرافی ہے جس میں پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ سٹریٹیجک کارکردگی اور آئیندہ کی سیاسی و انتظامی حکمت عملیوں کے حوالے سے بھرپور رہنمائی کی گئی ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف صاحب جنرل پرویز مشرف کے دور میں 6سال تک سٹیٹ منسٹر کے عہدے کے برابر "نیشنل کمیشن فار ہیومین ڈویلپمنٹ” (این سی ایچ ڈی) کے سربراہ رہے اور پھر آخری 2سال تک "پاکستانی کرکٹ بورڈ” کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر صاحب کو پاکستان کی پولیٹیکل پوٹینشل اور ترقی کے امکانات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جس بناء پر اس کتاب کے اقتباسات عام قارئین اور خصوصی طور پر پولیٹیکل سائنس کے طلباء کے لیئے ایک "گائیڈ بک” کی حیثیت رکھتے ہیں۔

    کتاب کی لانچ کے وقت پشاور میں سابق چیئرمین پی سی بی ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے چیف جسٹس سے باتھ روم میں جا کر نواز شریف کی سزا سے متعلق بات کی تھی۔ لیکن کتاب کے صفحہ نمبر 163 اور 164 پر یہ لکھا ہے کہ کلنٹن کھانے کے دوران باتھ رومز کی کی طرف گئے، ان کا اور پاکستان کا سیکورٹی عملہ ان کے پیچھے پیچھے ہو لیا تو تھوڑی دیر بعد پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان بھی اٹھ کر باتھ رومز کی طرف چلے گئے۔ سیکورٹی عملے نے بتایا کہ کچھ دیر بعد کلنٹن اور جسٹس ارشاد نے زور دار قہقہہ لگایا۔ البتہ نسیم اشرف صاحب نے کتاب میں تسلیم کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ کلنٹن نے واضح کیا تھا کہ نواز شریف کو سزائے موت نہیں ہونی چایئے۔ اسی طرح کتاب میں انہوں نے پیش گوئی کی کہ
    ٹرمپ کے آنے سے پاک امریکہ تعلقات بہتر ہونگے، اور پاک افغان تعلقات میں بھی ٹرمپ کا کردار اہم ہو گا۔ کتاب میں پاک امریکہ تعلقات پر گہرائی سے روشنی ڈالی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو افغان جنگ کی وجہ سے کیا چیلنجز رہے۔ اس کتاب میں مصنف نے وہی کچھ لکھا ہے جو انہوں نے دس پندرہ سال تک پاکستان کے بارے دیکھا اور محسوس کیا۔ ان کی رائے میں سابق امریکی صدر کلنٹن اس وقت پاکستان آئے جب یہاں فوجی حکومت تھی اور ہم پر بہت سی پابندیاں تھیں۔ نسیم اشرف نے کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان کو سوشل انڈیکیٹر پر خطرات لاحق ہیں اور ملکی بقا کو قائم رکھنے کے لیئے بہت عقل مندی سے چلنے کی ضرورت ہے۔

    رِنگ سائیڈ – Ring Side

    انہوں نے کتاب میں لکھا ہے کہ ایک نجی ٹی وی کے مطابق سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے امریکی صدر بل کلنٹن کو دورہ پاکستان سے منع کر دیا تھا لیکن صدر بل کلنٹن نے محض اس لئے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا کہ برطرف وزیراعظم میاں نواز شریف کو پھانسی سے بچا سکیں۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یقین دہانی کے بعد وہ چند گھنٹوں کے لئے پاکستان آئے تھے۔
    امریکی صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی ایک خفیہ ملاقات کی تھی تاکہ یہ یقین دہانی حاصل کی جا سکے کہ نواز شریف کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔ بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کے بارے میں انہوں نے انکشاف کیا کہ صدر پرویز مشرف کی یقین دہانی کے باوجود انہوں نے صدارتی ظہرانے کے دوران چیف جسٹس ارشاد حسن خان سے تنہائی میں ملے اور یہ خفیہ ملاقات پانچ منٹ تک جاری رہی۔ صدر کلنٹن نے چیف جسٹس آف پاکستان سے استفسار کیا کہ نواز شریف کو پھانسی کی سزا تو نہیں ہو گی جس پر جسٹس ارشاد حسن خان نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ایسا نہیں ہو گا، یہ واقعہ اپنی نوعیت کا ایک تاریخی اور چشم کشا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شہباز شریف کی کابینہ میں شامل ڈاکٹر مصدق ملک نے ملک و قوم کی خاطر امریکہ میں لاکھوں روپے ماہانہ کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان آنے اور یہاں انسانی ترقی کے شعبہ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا وہ ایک انتہائی محب وطن پاکستانی ہیں۔

    اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق ڈاکٹر نسیم اشرف صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ جنرل مشرف کے دور میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق کام ہوا تھا اور مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد نے بھی اسرائیل سے مکالمہ کرنے کی حمایت کی تھی۔

    انہوں نے 2019ء میں عمران خان کے دورہ امریکہ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دورہ کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مستحکم ہوئے تھے۔
    ڈاکٹر نسیم اشرف کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے دورہ ہندوستان کے موقع پر انہوں نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی اور ان سے ایک واقعہ کے بارے میں اسرار کیا جس کے جواب میں من موہن سنگھ نے تصدیق کی کہ انہوں نے بھارتی بوئنگ طیارے میں دو ٹن سونا بنک آف برطانیہ کے لئے بھیجا تاکہ قرضہ حاصل کیا جا سکے، وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے حق میں نہیں تھے، بینک آف انگلینڈ سے لئے جانے والے قرض سے انہوں نے ہندوستان میں نئی اقتصادی پالیسی کا آغاز کیا۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کر دیا تھا، وہ ایک قابل فخر اور ہمدرد خاتون ہیں۔ کتاب میں مصنف "قومی کمیشن برائے انسانی ترقی” کو اپنا ایک عظیم کارنامہ قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس ادارے نے تعلیم کے فروغ اور لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکالنے میں قابل ذکر کردار ادا کیا تاہم انہیں چیئرمین کی حیثیت سے کئی محاذوں پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایک بار تو انہوں نے استعفی دینے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ جنرل مشرف کے دور میں ان کی کوششوں سے وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیئر کے صاحبزادے نکولس بلیئر خاص طور پر انٹرن شپ کے لئے پاکستان آئے تھے۔
    پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر نسیم اشرف نے کئی امور پر خامہ فرسائی کی ہے، ان کے خیال میں نائن الیون کے واقعہ نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا، یہی وجہ تھی کہ امریکہ نے افغانستان کو نشانہ بنایا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ صدر پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج بش کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا مگر جنرل مشرف نے 7 میں سے 5 مطالبات تسلیم کر لئے تھے۔ نسیم اشرف کی رائے میں اگر پاکستان امریکی مطالبات نہ مانتا تو پاکستان کو معاشی طور پر تباہی سے دوچار ہونا پڑتا جو ملکی سلامتی کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف نے کتاب میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی جمہوریت کے داعی اور محب وطن پاکستانی ہیں جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا اور یہی وجہ تھی کہ جب نواز شریف کو ہٹایا گیا تو پاکستانیوں نے ان کی بحالی کے لئے مظاہرے کئے اور اخبارات میں اشتہارات بھی دیئے جبکہ کانگریس اراکین سمیت امریکی صدر کو خط بھی لکھا جس کے نتیجہ میں صدر کلنٹن نے پاکستان کا دوہ کیا تھا۔

    ڈاکٹر نسیم اشرف خود بھی بہترین فرسٹ کلاس کرکٹر تھے جس وجہ سے انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنایا گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے کتاب میں اپنی مشکلات کا ذکر کیا ہے جن کا انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے ملک بھر میں 19 سٹیڈیم بنوائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کرکٹ اور مشہور کرکٹر انضمام الحق کے بارے میں کچھ سنسنی خیز اور دلچسپ واقعات بھی لکھے ہیں۔

  • نیٹو سربراہان کا بڑا ردعمل

    نیٹو سربراہان کا بڑا ردعمل

    نیٹو سربراہان کا بڑا ردعمل

    Dubai Naama

نیٹو سربراہان کا بڑا ردعمل

    امریکی صدر سے جھڑکیاں کھانے کے بعد یوکرینی صدر کا برطانوی وزیراعظم نے لندن، ڈاوننگ سٹریٹ میں بڑی خوش دلی سے استقبال کیا۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے یورپی ممالک کے رہنماؤں پر مشتمل اہم اجلاس بلایا تھا جس میں یوکرین کی حمایت اور سلامتی کے حوالے سے جائزے کے بعد طے پایا کہ یورپ اور نیٹو ممالک جنگ کے خاتمے تک یوکرین کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ یوکرین مشرقی یورپ میں آتا ہے جو روس کے بعد یورپ کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کی پچاسی فیصد آبادی عیسائی مذہب پر مشتمل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ جو سلوک کیا اس سے ہٹ کر اہل یورپ کا یوکرین کے ساتھ کھڑے ہونا علاقائی امن و امان اور سلامتی کے لحاظ سے ایک سیاسی مجبوری ہے کیونکہ یوکرین روس اور یورپ کے درمیان ایک "بفر سٹیٹ” ہے۔

    امریکہ کے وائٹ ہاوس میں جو واقعہ پیش آیا وہ قابل افسوس ضرور ہے مگر صدر ٹرمپ کے علاوہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی بھی یہ مجبوری ہے کہ وہ دنیا میں جنگوں کو فروغ دے کر اپنا اسلحہ بیچنے کے مواقع تلاش کرتا رہے اور خود کو ایک سپر پاور منوانے کا سلسلہ جاری رکھے۔

    وائٹ ہاوس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ملاقات کے مناظر میں واضح طور پر ٹرمپ کے بائیں جانب بیٹھے ٹرمپ کے نائب جے ڈی وینس نے زیلنسکی پر تنقید کا آغاز کرتے ہوئے ان کو کھری کھری سنانا شروع کیں اور پھر اس میں ٹرمپ بھی شامل ہو گئے۔ اس میٹنگ میں ایسا لگا کہ وینس ٹرمپ کے منہ میں الفاظ دے رہا تھا کہ یوکرینی صدر کو کس طرح کے جواز کی بنیاد پر رسوا کرنا ہے جس کے بعد ٹرمپ نے اپنے دائیں ہاتھ کی ایک اگلی کے اشارے سے دو تین بار زیلنسکی کو دھمکایا اور پھر کسی معاہدہ پر دستخط کیئے بغیر اور انہیں کھانا تک کھلائے بغیر وائٹ ہاؤس سے چلتا کر دیا۔

    یوکرائن کے صدر امریکی صدر سے وائٹ ہاوس میں بے عزت ہونے کے باوجود شہرت کے بام عروج پر ہیں۔ ‏دنیا کی اکثریت کو روس اور یوکرائن کی جنگ کا تو علم تھا مگر یوکرائن کے صدر کا نام بہت کم لوگ جانتے تھے۔ لیکن اب ہر طرف یوکرینی صدر زیلنسکی کی شہرت کا ڈنکا بج رہا ہے کہ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پوٹن کے بعد یوکرین کے صدر دنیا کی معروف ترین شخصیت بن گئے ہیں۔

    اگرچہ یوکرینی صدر زیلنسکی پر الزام ہے کہ وہ ایک آمر حکمران ہے مگر روسی صدر پوٹن اس سے کئی گنا زیادہ آمریت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک 5 سالہ اقتدار میں رہنے والا زیلنسکی ایک 26 سالہ اقتدار پر چمٹے ڈکٹیٹر پوٹن سے بہتر ہی ہو سکتا ہے۔ روس کو پوٹن سے جان چھڑانی چایئے کہ جس طرح زیلنسکی اپنے ملک میں مخالف عوام اور سیاست دانوں وغیرہ کو پابند سلاسل رکھتا ہے پوٹن اس سے کئی گنا زیادہ بری سیاست سے اپنے مخالفین کو روندتا چلا آ رہا ہے جو سنہ 1999ء سے ترامیم کر کر کے اقتدار پر قابض ہے اور آگے بھی اقتدار پر قابض رہنا چاہتا ہے۔

    شاید آپ کو علم ہو کہ روس اور یوکرین کے صدور ہم نام ہیں۔ یوکرین کے صدر کا پورا نام ویلادومیر زیلنسکی ہے اور روس کے صدر کا پورا نام ویلادومیر پوٹن ہے۔ شیکسپیئر نے کہا تھا کہ، "نام میں کیا رکھا ہے۔” دنیا میں آج اصل اہمیت ذرائع اور پیسے کی ہے اور جو حسن سلوک ٹرمپ نے زیلنسکی کے ساتھ کیا ذرائع اور دولت کے اعتبار سے ایک کمزور ملک کے طور پر وہ اسی سلوک کا مستحق تھا کیونکہ امریکہ اور یورپ اپنے اپنے مفادات کے پیش نظر اس صورتحال حال کو اب بھرپور طریقے سے کیش کرنا چاہتے ہیں۔

    جب روس اور یوکرین کی جنگ شروع ہوئی تو اس وقت روس پر عائد ہونے والی پابندیوں کے نتیجے میں یورپی یونین اور برطانیہ نے مجموعی طور پر روس کے 235 ارب ڈالرز منجمد کر لیئے تھے۔ گزشتہ چار سالوں کے دوران یورپی یونین اور برطانیہ نے مجموعی طور پر صرف 45ارب ڈالرز یوکرین کو دیئے ہیں جن میں 35ارب ڈالرز قرضے کی مد میں دیئے گئے تھے۔ مزید برآں امریکہ جس وجہ سے اب تلملا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ نے امریکہ سے ساڑھے تین سو ارب ڈالرز نیٹو سپورٹ کی مد میں لے لئے تھے۔ یورپ اور برطانیہ کیلئے یہ جنگ اپنی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کا ذریعہ ہے، جتنی زیادہ یہ جنگ لمبی ہو گی، اتنی ہی دیر تک روس کے ڈھائی سو ارب ڈالرز یورپ کے قبضے میں رہیں گے۔ اس کی آسان اور سادہ مثال یہ ہے کہ ڈھائی سو ارب ڈالرز پر 7فیصد شرح سود کے حساب سے یورپی یونین اور برطانیہ نے مجموعی طور پر 77ارب ڈالرز بطور منافع کما لیا ہو گا، جبکہ صرف 45ارب ڈالرز یوکرین کو دیئے جس کا زیادہ تر حصہ قرضہ ہے جس پر مزید سود کی شکل میں منافع یورپ اور برطانیہ کو جائے گا۔

    اس طرح روس یوکرین جنگ کو جاری رکھنا یورپ کیلئے اپنی ڈوبتی معیشتوں کو بچانے کا ذریعہ ہے۔ اگر ٹرمپ اس جنگ سے امریکہ کو علیحدہ کر لیتا ہے تو روس ان تمام یورپی ممالک کیلئے ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔ یوکرینی صدر کے برطانیہ میں برخلاف توقع استقبال کو کچھ تجزیہ کار امریکہ اور یورپ کے ٹھن جانے کے پیش نظر تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں مگر آخر میں وہی ہو گا جو دوسری جنگ عظیم میں ہوا یعنی یورپ ایک مرتبہ پھر امریکہ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز تو ہو گا مگر امریکہ کی نظر میں اس جنگ سے امریکہ سے زیادہ یورپ نے فائدہ اٹھایا جس وجہ سے امریکی صدر نے نیا معاہدہ نئی شرائط کے ساتھ کرنے کے لیئے زیلنسکی کو دنیا بھر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور اسی پس منظر میں برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد یوٹرن لیتے ہوئے زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے کیونکہ اس سے قبل یہ معاہدہ وائٹ ہاؤس میں دونوں صدور کی گرما گرم بحث کے باعث عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔

    امریکہ اور یورپ ہی نے زیلنسکی کو یوکرین پر مسلط کیا تھا۔ کہا جاتا یے کہ زیلنسکی تو ایک ڈانسر اور جوکر تھا جسے امریکہ نے خصوصی طور پر صدارت کے عہدے پر بٹھانے میں مدد کی جو مطلب نکل جانے پر اس سے جان چھڑانا چاہتا ہے یا اندرون خانہ اسے مزید استعمال کر کے اپنا اسلحہ بیچنا چاہتا ہے۔

    یورپ کا زیلنسکی کو اکیلا نہ چھوڑنے کا عہد بتاتا ہے کہ یہ جنگ مزید طول پکڑے گی۔ یورپ کا اس معاملے میں اتحاد کا مظاہرہ انتہائی اہم ہے جس میں پورے یورپ کے سربراہان نے شرکت کی اور یوکرین کی پیٹھ ٹھوکنے میں پولینڈ، لتھوینیا، ڈینمارک، فرانس، مالدووا، سویڈن، جرمنی، کروشیا، نیدرلینڈ لکسمبرگ اور دیگر یورپی ممالک کے سربراہان کے علاوہ کینیڈین، جاپانی، اور دیگر بہت سے ممالک نے بھی اپنے اپنے انداز میں یوکرین کے ساتھ کھڑا ہونے کے حق میں بیانات دیئے۔ یہ ایسی صورتحال ہے کہ جس سے امریکہ فائدہ اٹھائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منہ پھٹ اور جذباتی ضرور ہیں مگر انہوں سرخ بال دھوپ میں سفید نہیں کیئے ہیں کیونکہ زیلنسکی کے یوٹرن سے ظاہر یہی ہوتا ہے کہ کھیلنے کے لیئے بال دوبارہ امریکہ کے کورٹ میں چلی گئی ہے۔

  • صدر ٹرمپ کے عزائم اور عالمی منظر نامہ

    صدر ٹرمپ کے عزائم اور عالمی منظر نامہ

    صدر ٹرمپ کے عزائم اور عالمی منظر نامہ

    Dubai Naama


صدر ٹرمپ کے عزائم اور عالمی منظر نامہ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مقولے کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کہاوتیں، حکایتیں اور مقولہ جات وغیرہ بہت سبق آموز ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی واحد سپر پاور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر ہیں۔ کہانیوں سے اخذ کی گئی کہاوتوں میں عقل و دانش اور حکمت کا نچوڑ ہوتا ہے۔ گو کہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم اور مشیران میں چوٹی کے جہاندیدہ اور زہین ترین افراد شامل ہوں گے۔ لیکن ابھی تک ڈونلڈ ٹرمپ کے زیادہ تر بیانات اور فیصلوں میں جہاں بانی، انصاف اور دانش کی کمی نظر آتی ہے۔ محاورے اور مقولے لکھنے والے دانشوران اپنے تجربات کو دلکش کہانیوں کی صورت میں لکھتے ہیں تاکہ اس سے پڑھنے والوں کے دل پر گہرے اثرات مرتب ہوں۔ لیکن صدر موصوف ڈھنگ کی سیاست نہیں کر پا رہے ہیں اور محاورتا کچھوے کی چال چلنے کی بجائے خرگوش کی سرعت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

    سکول کے زمانے میں ایک کچھوے اور خرگوش کی دوڑ کے بارے کہانی پڑھی تھی۔ یہ کہانی بہت سبق آموز تھی اور اگر کوئی اسے سمجھنا چاہے تو آج بھی اس سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں ان کے لیئے اس کہانی سے کوئی سبق لینا جوئے شیر لانے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ہمارا فرض ہے کہ دنیا میں ہم آہنگی اور امن قائم کرنے کے لیئے ہم کچھ سمجھائے دیتے ہیں۔

    اس کہانی کے مطابق جب دوڑ شروع ہوتی ہے تو خرگوش آنا فانا چھلانگیں بھرتا ہوا آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھوا اپنی فطری چال کے مطابق دھیرے دھیرے چلتا ہے اور پیچھے رہ جاتا یے۔ جب خرگوش میاں دیکھتے ہیں کہ کچھوا کہیں نظر نہیں آ رہا تو وہ ایک درخت کے سائے میں کچھ دیر آرام کرنے کے لیئے لیٹتے ہیں تو وہ سو جاتے ہیں جبکہ کچھوا بغیر سستائے آہستہ آہستہ چلتا رہتا ہے اور اپنی منزل پر خرگوش سے پہلے پہنچ جاتا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ خرگوش کی رفتار سے چل رہے ہیں اور اپنے ملکی و عالمی منصوبوں پر عمل کرنے میں بہت جلدی دکھا رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدہ سنبھالے ابھی ایک ماہ سے بھی کم وقت ہوا ہے مگر انہوں نے بیک وقت اندرون اور بیرون ملک کئی محاذ کھولے ہیں جس میں کینیڈا کو امریکی ریاست کے طور پر شامل کرنا، روس، چین، یورپی ممالک حتی کہ برطانیہ وغیرہ سے درآمدات پر ٹیریف کی شرح میں غیر معمولی اضافے کا اعلان کرنا شامل ہے۔ اس کے جواب میں ان ممالک نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی نہ صرف اسی حساب سے اپنی برآمدات کی قیمتوں میں اضافہ کریں گے بلکہ وہ امریکی درآمدات پر بھی ٹیکس زیادہ لگائیں گے۔ اس سے ایک تو دنیا بھر میں مہنگائی کا سیلاب آئے گا اور دوسرا ڈونلڈ ٹرمپ کی ستائش دنیا کی نظروں میں کم ہو جائے گی۔

    اس پر مستزاد امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مل کر غزہ پر قبضے کے بارے جو پریس کانفرنس کی ہے اسے پوری دنیا نے نہ صرف یکسر مسترد کر دیا ہے بلکہ اسے احمقانہ بھی قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ فلسطینیوں کو غزہ کے علاقوں سے نکال کر مصر اور اردن وغیرہ میں آباد کیا جائے گا۔ اس پلان کی مخالفت کا اعلان ٹرمپ کے اعلان کے فورا بعد خود حماس، مصر اور اردن نے کیا، اور ساتھ میں چین، روس، آسٹریلیا، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کو مسترد کر دیا بلکہ الٹا فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان کیا۔

    کہتے ہیں کہ آنے والے واقعات اپنی پرچھائیاں پہلے چھوڑتے ہیں (Coming Events Cast Their Shadows Before) جو کہ ایک زمینی حقیقت ہے۔ کچھوے اور خرگوش کی کہانی میں بھی یہی کچھ کہا گیا ہے کہ آہستگی، تسلسل اور مستقل مزاجی ہی کامیابی کی ضمانت ہیں Slow and Steady Wins the Race کہ صدر موصوف آگے دوڑ کر پیچھا چوڑ کرتے رہیں گے تو خود امریکی اور عالمی معاملات سلجھنے کی بجائے الجھتے چلے جائیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاابالی طبیعت کے مالک ہیں اور کاف جذباتی بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کی یہ دونوں صفات سیاسی بصیرت (سٹیٹس مین شپ) میں نہیں آتی ہیں۔ لھذا لگتا نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسی تیزی کے انداز میں اور بے صبری سے غیردانشمندانہ فیصلے کرتے رہے تو وہ امریکہ کے کامیاب ترین صدر ثابت ہوں گے۔

    ڈونلڈ میاں کو چایئے کہ وہ بلند مرتبت کامیابیاں لینا چاہتے ہیں یا کوئی نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں تو خرگوش بننے کی بجائے کچھوے کی چال چلیں۔ یہ مصدقہ حقیقت ہے، فلسطین کی تاریخی جدوجہد اور قربانیوں کو چند دنوں اور مہینوں میں جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ملیا میٹ کیا جا سکتا ہے۔ یہ اچھا موقع ہے کہ امریکی صدر سیاسی اور عالمی بصیرت سے کام لیں۔ فلسطینی ریاست کی آزادی ہی غزہ کے مسئلے کا واحد اور یکتا حل ہے جسے ساری دنیا متحدہ طور پر قبول کر سکتی ہے۔

  • گوگل میپس کا گلف آف میکسیکو کا نام بدلنے کا اشارہ

    گوگل میپس کا گلف آف میکسیکو کا نام بدلنے کا اشارہ

    گوگل میپس کا گلف آف میکسیکو کا نام بدلنے کا اشارہ

    لندن (ویب رپورٹ )گوگل نے پیر کو ایک ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ گوگل میپس امریکی جغرافیائی ناموں کے نظام میں باضابطہ طور پر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکہ کر دے گا ۔ تبدیلی امریکہ میں نظر آئے گی لیکن میکسیکو میں خلیج میکسیکو ہی رہے گا۔

    گوگل میپس کا گلف آف میکسیکو کا نام بدلنے کا اشارہ

    ٹرمپ انتظامیہ کے محکمہ داخلہ نے جمعہ کو کہا کہ اس نے باضابطہ طور پر خلیج میکسیکو کا نام خلیج امریکہ اور الاسکا کی چوٹی ڈینالی جو کہ شمالی امریکہ میں سب سے اونچا پہاڑ ہے، کو ماؤنٹ میک کینلے کر دیا ہے۔

    گوگل میپس، جو کہ الفابیٹ کی ملکیت ہے، ماؤنٹ میک کینلے کے نام کو بھی ممکنہ طور پر تبدیل کرے گا۔

    ماؤنٹ میک کینلے

    صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد ہی انتظامی امور کے اولین احکامات کے سلسلے میں اس نام کی تبدیلی کا حکم دیا، اور اپنی انتخابی مہم کے وعدے کو پورا کیا۔

    محکمہ داخلہ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا کہ ‘صدر کی ہدایت کے مطابق، خلیج میکسیکو اب باضابطہ طور پر خلیج امریکہ کے نام سے جانا جائے گا اور شمالی امریکہ کی سب سے اونچی چوٹی ایک بار پھر ماؤنٹ میک کینلے کا نام سے پکاری جائے گی۔’

    الاسکا کی بلند و بالا چوٹی کو اس سے پہلے سابق امریکی صدر ولیم میک کینلے کے اعزاز میں ماؤنٹ میک کینلے کہا جاتا تھا، لیکن ریاست کی درخواست پر 1975 میں اس کا نام تبدیل کر کے ڈینالی رکھ دیا گیا – جس کا مطلب کوئیکون مقامی زبان میں ‘لمبا’ ہے۔

    محکمہ نے کہا، ‘یہ تبدیلیاں ریاستہائے متحدہ کے غیر معمولی ورثے کے تحفظ اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے قوم کے عزم کی تصدیق کرتی ہیں کہ امریکیوں کی آنے والی نسلیں اپنے ہیروز اور تاریخی اثاثوں کی میراث کا جشن منائیں’۔

    گزشتہ پیر کو اپنے افتتاحی خطاب میں، ٹرمپ نے کہا کہ میک کینلے، ایک ریپبلکن جو 1897 سے 1901 تک صدر رہے، ‘ہمارے ملک کو ٹیرف اور ٹیلنٹ کے ذریعے بہت امیر بنایا – وہ ایک فطری تاجر تھے۔’

    میک کینلے توسیع پسندانہ دور میں امریکہ کے سربراہ تھے، جنہوں نے ہوائی، گوام اور پورٹو ریکو کو خطوں کے طور پر حاصل کیا۔ ہوائی بعد میں امریکی ریاست بن گئی۔

    میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے اس ماہ کے شروع میں مذاق میں کہا کہ امریکہ سمیت شمالی امریکہ کا نام بدل کر ‘میکسیکن امریکہ’ رکھ دیا جائے – یہ ایک تاریخی نام ہے جو خطے کے ابتدائی نقشے پر استعمال ہوتا ہے۔

    اگرچہ ٹرمپ امریکی جیولوجیکل سروے کو یہ تبدیل کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں کہ وہ کس طرح خلیج میکسیکو کو نقشے پر ظاہر کرے، اس طرح کے نام کی تبدیلی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کا امکان کم ہے۔

    میکسیکو

    میکسیکو، جس میں امریکہ کی طرح ایک طویل ساحلی پٹی ہے ، نے کہا ہے کہ خلیج میکسیکو کا نام بین الاقوامی سطح پر پہچانا جاتا ہے اور اسے سینکڑوں سال پرانے سمندری بحری حوالہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    مآخذ: دی ڈیلی میل