مقامی زبانوں کا تحفظ: ایک ثقافتی ضرورت اور ڈاکٹر نجیبہ کا موقف

مقامی زبانوں کا تحفظ: ایک ثقافتی ضرورت اور ڈاکٹر نجیبہ کا موقف

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

ایک ایسی دنیا میں جہاں عالمگیریت اکثر ثقافتوں اور زبانوں کو ہم آہنگ کرتی ہے، مقامی زبانوں کا تحفظ ایک اہم کوشش کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں، جہاں لسانی تنوع ملک کی بھرپور ثقافتی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔
زبانیں محض رابطے کا ذریعہ نہیں ہیں۔ وہ انسانی تجربات کے نچوڑ کو سمیٹتے ہیں، اظہار، خواہشات، اور معاشرتی اصولوں کے لیے راستے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ہر زبان اپنے بولنے والوں کے اجتماعی شعور اور ورثے کو مجسم کرتی ہے، جو ان کے خوابوں، خواہشات اور معاشرتی اصولوں کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان زبانوں کے ایک موزیک پر فخر کرتا ہے، اس کے مختلف خطوں میں ستر سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اور وادی چترال کو جو دنیا کا واحد کثیر السانی خطہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے یہاں پر کل چودہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پاکستان کی ستر سے زائد زبانوں میں سے کچھ زبانیں صدیوں پرانی ادبی روایات رکھتی ہیں، جس میں بھرپور زبانی اور تحریری ورثہ، کلاسیکی ادب اور منفرد رسم الخط شامل ہیں۔ یہاں تک کہ معمولی لسانی اختلافات بھی ہر زبان کی گہری ثقافتی اور تاریخی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ کھوار زبان کے اپنے مخصوص حروف ہیں مثلاً ݯ- ݯھتراری (چترالی)، ݮ-ݮنݮیر (زنجیر)، ݱ-ݱوغ (پتلا)، ݰ-ݰوݰپ (چترالی حلوہ)، څ-څھؤو (یتیم)، ځ-ځعفران (زعفران)، ڵ یہ کھوار زبان کا مخصوص لام ہے جو کہ ڑے اور لام کی درمیانی آواز ہے جو کہ صرف کھوار زبان کے لیے مخصوص ہے اس لام کو پہلی بار راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) نے کھوار میں متعارف کروایا ہے اور یہ وہ واحد لام ہے جو لکھنے میں نہیں آتا بلکہ کھوار بولنے میں آتا ہے یعنی یہ مخصوص لام لفظ الله کی ادائیگی میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور مخصوص الف أ کو میں نے کھوار میں پہلی بار شامل کیا ہے مثلاً یہ شعر دیکھئے
پاکستانو شان مه جھنڈأ
پاکستانیان آن مہ جھنڈأ
ترجمہ:میرا قومی پرچم پاکستان کی شان ہے، یہ قومی پرچم پاکستانی قوم کی آن ہے۔
پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے چیئرمین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے کالم “مقامی زبانوں کا تحفظ کیوں ضروری ہے؟” میں ان زبانوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 26 فروری 2024 کو ان کا کالم ایک مقامی اخبار میں شائع ہوا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ زبانوں کا تحفظ محض ایک قومی فریضہ ہی نہیں بلکہ ثقافتی تنوع کے تحفظ کے لیے ایک عالمی ضرورت بھی ہے۔


مقامی زبانیں ثقافتی دولت کے ذخیرے کے طور پر کام کرتی ہیں، جو صدیوں میں کمیونٹیز کے تاریخی، لسانی اور سماجی ارتقا کو سمیٹتی ہیں۔ وہ خوشی، محبت، غصہ، خوف، اور ایمان کے باریک بینی سے اظہار کو انکوڈ کرتے ہیں جو انسانی تعاملات اور معاشرتی اصولوں کو تشکیل دیتے ہیں۔
آج کی تیزی سے عالمگیریت کی دنیا میں جہاں ثقافتوں اور زبانوں کو ایک ہم آہنگی کی لہر کی زد میں آنے کا خطرہ ہے، مقامی زبانوں کا تحفظ اور فروغ سب سے اہم ہے۔ یہ زبانیں کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ثقافتی دولت اور تنوع کی علامت ہیں۔ یہ مادری زبانیں ماضی کے لیے پل کا کام کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ان کی جڑوں اور شناختوں کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین ٹیوٹر کا کام کرتی ہیں۔
مقامی زبانوں کا جشن اور تحفظ متنوع لسانی برادریوں کے درمیان باہمی احترام، افہام و تفہیم اور تعریف کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔ اس کے لیے انفرادی اور ادارہ جاتی دونوں سطحوں پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ لسانی تنوع اور کثیر لسانی کو انسانیت کے قیمتی اثاثوں کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔
صدر نشین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف کی مادری زبانوں کے فروع کے لیے ان کا کالم مقامی کمیونیٹیز کے دل کی گہرائیوں کو چھونے والی تحریر ہے، وہ پاکستانیوں پر زور دیتی ہیں کہ وہ اس لسانی ورثے کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف ثقافتی لچک اور سماجی ہم آہنگی کے سنگ بنیاد کے طور پر لسانی تنوع کو پروان چڑھانے کی وکالت کرتی ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مقامی زبانوں کا تحفظ ایک قوم کی اپنی ثقافتی ورثے اور شناخت سے وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مادری زبانوں کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جو سرحدوں اور نظریات سے بالاتر ہے، جو انسانیت کی اجتماعی حکمت اور امنگوں کو مجسم کرتی ہیں۔ جیسا کہ پاکستان عالمگیریت کے دھارے پر گامزن ہے، اپنے لسانی تنوع کی حفاظت اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس کی ثقافتی و لسانی تاریخ وقت کی لہروں کے خلاف متحرک اور لچکدار رہے۔ اپنی مادری زبان پر فخر کیجئے، اپنی زبان میں لکھتے رہئیے اور اپنی ماں بولی میں ادب تخلیق کیجیے تاکہ آپ کی ماں بولی زندہ رہے۔

Title Image by Gerd Altmann from Pixabay

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

رحمت عزیز خان چترالی

رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ''کافرستان''، اردو سفرنامہ ''ہندوکش سے ہمالیہ تک''، افسانہ ''تلاش'' خودنوشت سوانح عمری ''چترال کہانی''، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں ۔

Next Post

مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا کردار

جمعرات مارچ 14 , 2024
مصنوعی ذہانت جسے انگریزی زبان میں آرٹیفیشئل انٹیلیجنس (اے آئی) کہتے ہیں آنے والے ادوار میں انسان کی
مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا کردار

مزید دلچسپ تحریریں