جلیل عالی کی نعتیہ شاعری کا فنی و فکری مطالعہ

جلیل عالی کی نعتیہ شاعری کا فنی و فکری مطالعہ

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

جلیل عالی کی اردو زبان میں نعتیہ شاعری غار حرا کی مقدس یادوں کو یاد کرنے اور الله رب العزت کی قدرت کو سمجھنے کے درمیان گہرے تعلق کو بیان کرتی ہے۔ شاعر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی خاطر کائنات کی تخلیق پر زور دیتا ہے اور مہر و محبت اور دردمندی کے موضوعات، حضور اکرم ﷺ کی سیرت کی پیروی اور آپ ﷺ کی فوج میں سپاہی بھرتی ہونے کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ مبالغہ آرائی سے پاک آپ کے نعتیہ اشعار دنیا کے عدم انکار اور نیکی کی تلاش پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔

جلیل عالی کی نعتیہ شاعری کا فنی و فکری مطالعہ
جلیل عالی


جلیل عالی کے اشعار کا مرکزی موضوع رحمت للعالمین ﷺ کے ساتھ روحانی اور جذباتی تعلق کے گرد گھومتا ہے، شاعر مقدس مقامات کو یاد کرنے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں بروئے کار لانےکی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ یہ شاعری اس خدائی بندھن کی کھوج پر مبنی ہے جو دنیاوی معاملات میں بھی روحانی تقاضوں کو پیشِ نظر رکھنے کی اہمیت واضح کرتا ہے۔
ساخت اور لہجے کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جلیل عالی نے اپنی شاعری میں ایک دلی اور عقیدت مندانہ اور عزت و تکریم والا لہجہ استعمال کیا ہے، جس میں نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کے فرمودات کو نصیحت کے ساتھ ساتھ سنت کے طور پر بھی دکھایا گیا ہے۔ یہ ڈھانچہ گہرے غور و فکر کی عکاسی کرتا ہے، جو اکثر ذاتی تجربات کو وسیع تر روحانی موضوعات کے ساتھ جوڑتا ہے۔
شاعر نے استعارے، شخصیت سازی اور علامت نگاری کو مہارت کے ساتھ اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے۔ مقدس غار حرا کے حوالہ جات روحانی بیداری کے استعارے کے طور پر کام کرتے ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اقوال مبارکہ کو خوبصورتی کے ساتھ برتر درجے کی انسانی ہمدردی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ نعتیہ شاعری میں طائف اور بدر جیسے تاریخی واقعات کو بھی رسول مقبول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات کی علامتی گواہیوں کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔


جلیل عالی کے اشعار مقدس مقامات کو یاد کرنے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات کو مجسم کرنے کے گہرے اثرات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اںسانی ہمدردی، قرآن کی حکمت کی تفہیم، اور نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اعلیٰ نصب العین کے لیے میدان میں میں اترنے والی فوج سے عقیدت کے درمیان تعلق کو گہرائی سے بیان کیا گیا ہے۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ نیکی کی تلاش اور قدرتِ الٰہی تک رسائی مشکل نہیں ہے، اور روحانی جذبے کا موضوع حضرت محمد ﷺ کے لشکر میں سپاہی ہونے کے استعارے کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔
راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کا کھوار زبان میں ترجمہ جلیل عالی کی اردو نعت کے شاعرانہ تاثرات کے جوہر کو محفوظ رکھنے کی پہلی کوشش ہے، علاقائی زبان کھوار میں یہ تراجم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ شاعری کی بھرپور روحانی اور جذباتی تہوں کو اردو اور کھوار دونوں میں مؤثر طریقے سے پہنچایا جائے۔ یہ ترجمہ جلیل عالی کے اصل اشعار میں موجود گہرائی اور تعظیم کو برقرار رکھے گا، جس سے دونوں زبانوں کے قارئین شاعری کے گہرے موضوعات سے مستفید ہو سکیں گے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے جلیل عالی کی نعت اور کھوار تراجم پیش خدمت ہیں۔


“نعتِ حضور ﷺ”


دل جو یادِ حرا جِیا ہی نہیں
آشنائے خدا ہوا ہی نہیں
کھوار:کیہ ہردی کی غار حرو یادا زندہ کی نو بہچیتائے، ہش جوشے کی ہسے ہردی خدایو قندرتاری آگاہ نو بیتی آسور۔
جس کی خاطر یہ کائنات بنی
کون سی شے پہ اُسؐ کی شاہی نہیں
کھوار:کوس کی بچے ہیہ دنیا ساوز بیتی شیر، کیہ اشناریو سورا ہتو حکم نو چلوران۔
دیکھ لہجہ لبِ رسالت کا
مامتائی ہے انتباہی نہیں
کھوار: لوڑے رسالتو شونان لہجو، ہیہ لہجہ مامتائی شیر انتباہی نو۔
اُن لبوں نے نہ جس پہ جُنبش کی
وہ سمجھ مرضیِ خدا ہی نہیں
کھوار:ہتے مبارک شون نہ کوستے کیہ ریتانی، ہتیتان ہوش کو ہتیت خدایو حکمار غیر نہ کوستے کیہ ریتانی۔
جانے کیا درد مندیاں اُسؐ کی
آنکھ رستے جو دل بہا ہی نہیں
کھوار: کیہ خبار کیہ دردمندی اوشونی ہتو، غیچھاری اشرو یو گیتی ہردیار یو نو چوٹیتانی۔
جس کو سیرت نہ ہو سکی ازبر
اس پہ قرآں کبھی کھلا ہی نہیں
کھوار: کوستے کی جو دُنیو سردارو سیرت ازبار نو ہوئے، ہتو بچے قرآن کیاوت کھولاو نو ہوئے
ایسا صاحب جنوں بھی کیا معنی
اُسؐ کے لشکر کا جو سپاہی نہیں
کھوار:ہروش صاحب جنونو دی کیہ مطلب
کا کی ہتو لشکرا سپاہی کی نوہوئے
طائف و بدر کی گواہی ہے
اس کی تعلیم خانقاہی نہیں
کھوار:طائف اوچے بدرو یہ گواہی شیر، ہتو تعلیم خانقاہی نو۔
اُس درِ خیرِ تام پر عالی
مانگنے کی کوئی مناہی نہیں
کھوار:ہتو خیرو دروازا اے عالی، مشکیکو کیہ منع تان نیکی۔
نوٹ:”در خیرِ تام کا مطلب ہے ابسولوٹ خیر”

Title Image by Abdullah Shakoor from Pixabay

رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ''کافرستان''، اردو سفرنامہ ''ہندوکش سے ہمالیہ تک''، افسانہ ''تلاش'' خودنوشت سوانح عمری ''چترال کہانی''، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

علمی معراج

منگل جنوری 30 , 2024
فطری اصولوں کے مطابق دنیا میں صرف وہی اقوام ترقی اور نشوونما کر سکتی ہیں جو فطرت کے اصولوں کی پابندی کرتی ہیں۔
علمی معراج

مزید دلچسپ تحریریں