اکیلا ایک ڈونلڈ ٹرمپ کافی ہے
کل ملا کر 45 صدور نے امریکہ پر حکومت کی، جن میں سے صرف 3 کو مواخذہ کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے واحد صدر ہیں جنہیں اپنے پہلے دور میں دو بار اور شائد اپنے اگلے اڑھائی سالوں میں اب کسی بھی وقت تیسری دفعہ مواخذہ کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ دوسری مرتبہ ان کا مواخذہ اس بات پر ہوا تھا کہ انہوں نے مظاہرین کو امریکی کانگریس کی عمارت "کیپیٹل ہل” (Capital Hill) پر حملہ کرنے کے لیئے اکسایا تھا، اور ان فسادات میں 6 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وقت ٹرمپ انتخابات ہار چکے تھے، لیکن ان کا خیال تھا کہ وہ امریکہ کے سب سے زیادہ مقبول لیڈر ہیں، اور وہ کیسے ہار سکتے ہیں۔ انہوں نے بار بار دھاندلی کے الزامات لگائے جن کو عدالتوں نے مسترد کر دیا لیکن ٹرمپ نے عدالتی فیصلوں کو قبول کرنے نہیں کیا اور اس کے حامی سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے کسی بھی صورت میں ٹرمپ کی شکست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
آج ڈونلڈ ٹرمپ کی طبیعت میں جو بیتابی، تضاد اور بار بار "یو ٹرن” لینے کی عادت ہے اس میں ٹرمپ کے اکثریتی سپورٹرز کا عکس جھلکتا ہے۔ امریکہ سرمایہ داری اور جمہوری نظام کو لیڈ کرنے کا دعوی کرتا چلا آ رہا ہے اور آج بھی خواہش مند ہے لیکن اس کے یہ دعوے امریکی مفادات کی وکالت سے بھرے پڑے ہیں۔ اس کا امریکہ کا پورا ماضی گواہ ہے جس دوران امریکہ کے اخلاقی معیارات سرمایہ داری نظام پر کاری ضربیں لگاتے چلے آ رہے ہیں۔ امریکہ نے اپنی سپریمیسی کے تمام دور میں تیس سے زیادہ ملکوں پر حملے کیئے، اپنے دہرے اخلاقی معیارات کا مظاہرہ کیا، کسی جگہ جمہوریت کے نام پر ملک و ملک سیاسی مداخلتیں کیں اور کسی جگہ جمہوریت کو پس پشت ڈال کر آمریت اور بادشاہتوں کو تحفظ فراہم کیا۔
ٹرمپ جب پہلی مرتبہ صدارتی امیدوار کے طور پر نامزد ہوئے تو وہ 1200 سے زائد مقدمات کا سامنا کر رہے تھے۔ ان مقدمات میں مالی بدعنوانی، ٹیکس چوری، کاروباری فراڈ، اپنی ملکیتی کمپنیوں کو دیوالیہ ظاہر کر کے قرض واپسی سے مکر جانا، خواتین کے ساتھ نامناسب رویہ، صنفی امتیاز، جنسی ہراسانی، جعلی ڈگریوں کا کاروبار، اور معاہداتی خلاف ورزی جیسے سنگین الزامات شامل تھے۔ اس قدر بدنام زمانہ ٹرمپ جو ایک صاف ستھرے اور پاکیزہ کردار کی بجائے ایک "مجرم” کے طور پر زیادہ مشہور ہے، وہی آج امریکہ کے صدر ہیں اور اسرائیل کو بچانے کے لئے ایران پر دوسری دفعہ حملہ کر کے، بار بار اپنے وعدوں سے مکر جانے، دھمکانے جیسی حرکات کر کے، اور پوری دنیا کی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، دنیا کے امن پسندوں کے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کا وسیع ریکارڈ رکھتے ہیں اور وہ امریکہ کی تمام سیاسی جماعتوں میں نقب زنی لگا چکے ہیں، یعنی وہ ساری سیاسی اور اخلاقی برائیاں جو پاکستان کے تمام ایسے نام نہاد اور کرپٹ سیاست دانوں میں پائی جاتی ہیں، وہ اکیلے "ایک ٹرمپ” میں موجود ہیں۔
آج سے پہلے جو لوگ صبح شام مغربی اخلاقیات کے قصیدے پڑھتے تھے اور ان کا یقین تھا کہ پاکستان سے باہر مغربی دنیا میں "سب اچھا” ہے، وہ دور نہ جائیں اکیلے ایک ٹرمپ کو دیکھ لیں تو انہیں دن میں تارے نظر آنے لگیں گے۔ اگر مغربی دنیا کے اکیلے ٹرمپ کا یہ حال ہے تو باقی امریکہ اور مغربی ممالک کا کیا حال ہو گا؟ اگر یہ بات غلط ہے یا آپ کو تعصب پر مبنی لگتی ہے تو مذکورہ بالا ریکارڈ کا حامل ٹرمپ، اپنی دوسری ٹرم کے لیئے کیسے منتخب ہو گیا تھا؟ امریکہ میں گرتی ہوئی جمہوریت اور سرمایہ داری کے اخلاقی اور سیاسی زاویئے اور معیارات بتاتے ہیں کہ امریکہ کس بری طرح سے اخلاقی زوال کا شکار ہے، جس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی "سپر پاور” کے طور پر ہمیشہ زندہ رہنے کا خواب تیزی سے پاش پاش ہو رہا ہے۔
ٹرمپ کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی معاشرے میں بحیثیت مجموعی، کس قسم کی اخلاقی گراوٹ شروع ہو چکی ہے۔ پھر ایک نظر دنیا کے ان سربراہان اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے بارے ٹرمپ کے بدتہذیبی پر مبنی ان رویوں پر بھی غور کریں جو ریکارڈ پر موجود ہیں۔ خاص کر سعودی عرب کے شہزادہ سلمان بن محمد کے بارے انہوں نے جو ریمارکس دیئے تھے، وہ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر نہیں، بلکہ گالی گلوچ کا عادی ایک آوارہ غنڈا ثابت کرنے کے لیئے کافی تھے۔ امریکی معاشرے میں اب کرپشن سے نفرت کی جاتی ہے، نہ شرم و حیا کی کوئی اہمیت ہے، نہ جنسی جرائم کو سنجیدہ لیا جاتا ہے اور نہ ہی صنفی امتیاز کو کوئی قابل ذکر جرم سمجھا جاتا ہے۔ اگر ٹرمپ اپنے بقیہ اڑھائی سال پورے کر گیا تو وہ رہی سہی کسر نکال دے گا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |