ٹرمپ کے خفیہ جنگی مقاصد
ڈدنلڈ ٹرمپ کے دو داماد ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات کی امریکی ٹیم میں ٹرمپ کا ایک داماد جیرڈ کشنر (Jared Kushner) بھی شامل تھا جو آرتھوڈوکس یہودی ہونے کے علاوہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا بزنس پارٹنر بھی ہے۔ ٹرمپ کی پہلی بیٹی ایوانیکا ٹرمپ(Ivanka Trump) نے جیرڈ کشنر سے شادی کرنے سے پہلے اپنا مذہب تبدیل کر کے یہودیت (Orthodox Judaism) اختیار کر لی تھی۔ اب وہ اور ان کے شوہر جیرڈ کشنر باقاعدگی سے یہودی روایات پر عمل کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے دوسرے داماد کا نام مائیکل بولوس (Michael Boulos) ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری بیٹی ٹیفانے ٹرمپ (Tiffany Trump) سے شادی رچا رکھی ہے۔ ٹرمپ کا دوسرا داماد مائیکل بولوس نائجیریا میں بزنس ٹائیکون ہے۔ اسرائیل کو نائجیریا سے تیل کی ساری سپلائی ٹرمپ کا یہی داماد مائیکل بولوس کرتا ہے۔ اپنے ہم زلف جیرڈ کشنر کی طرح اس کے بھی یاہو سے قریبی تعلقات ہیں۔ نیتن یاہو جب بھی امریکہ جاتا ہے وہ باری باری ٹرمپ کے ان دونوں دامادوں کے گھر میں ٹھہرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ دونوں داماد ٹرمپ کے سرکاری ایڈوائزر ہیں۔ جیرڈ کشنر ٹرمپ ایڈمنسٹریشن میں مشرق وسطی کی سیاسی پالیسی پر ٹرمپ کے سینیئر مشیر ہیں اور مائیکل بولوس ٹرمپ سرکار کے سینئیر بزنس ایڈوائزر ہیں۔ یہ دونوں ٹرمپ کے گزشتہ دور میں بھی ان عہدوں پر فائز تھے اور اب بھی ہیں۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی دوسری بیٹی ٹیفانے ٹرمپ کے فادر ان لاء (سسر) اور مائیکل بولوس کے والد کا نام ماساد بولوس (Massad Boulos) ہے۔ وہ لبنانی امریکن ہیں اور دونوں دفعہ سے وہ بھی ٹرمپ ایڈمنسٹریشن میں مڈل ایسٹ اور افریقہ کے معاملات پر ان کے سینئیر بزنس ایڈوائزر ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی اور کاروباری انتظامیہ میں یہ وہ ٹرائیکا (Troika) ہے، جس نے ٹرمپ کو اپنے سیاسی اور کاروباری مقاصد کے لیئے تینوں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ ٹرمپ آرگنائزیشن کا اصل کاروبار ریئل اسٹیٹ ہے، لیکن جب سے ٹرمپ امریکہ کے صدر بنے ہیں اب وہ کئی دوسرے شعبوں میں بھی سرگرم ہیں جس میں دنیا بھر میں ہوٹلز، گالف کورسز اور پرتعیش رہائشی منصوبوں ( ٹرمپ ٹاورز) وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ‘افینٹی پارٹنرز’ (Affinity Partners) نامی انویسٹمنٹ فرم کے مالک ہیں جو مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ مائیکل بولوس کا خاندان نائیجیریا میں ایک اربوں ڈالرز کے تجارتی "گروپ بولوس انٹرپرائزز” (Boulos Enterprises) کا مالک ہے، جو موٹر سائیکلوں اور دیگر گاڑیوں کی درآمد اور تقسیم کا کام کرتا ہے۔ ان کے جدید منصوبوں میں کرپٹو اور میڈیا بھی سرفہرست ہیں اور وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹرتھ سوشل (Truth Social) میں بھی گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ جب 2025ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی تعمیری ترقی اور اسے جدید پارک بنانے کا اعلان کیا تھا تو اس کے پیچھے اسی کاروباری ٹرائیکا کے کاروباری و ترقیاتی منصوبے کام کر رہے تھے۔ وہ غزہ کی ساحلی پٹی کو قیمتی "ریئل اسٹیٹ” (Real Estate) بنانا چاہتے تھے، جبکہ گرین لینڈ پر ٹرمپ کے قبضہ کرنے کا ادھورا خواب بھی اس کے خاندانی کاروبار کو ترقی دینے کا منصوبہ تھا۔
اسرائیل اور نیتن یاہو سے ٹرمپ کے گہرے سیاسی مراسم ٹرمپ کے خاندانی کاروبار کا حصہ ہیں۔ امریکہ کے لیئے جنگ ایک منافع بخش کاروبار رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر دو ایٹم بم چلا کر امریکہ نے جاپان اور جرمنی پر قبضہ کر لیا اور ان کے ذرائع کو جی بھر کر لوٹا۔ کشنر اور بولوس خاندان کے نیتن یاہو کے ساتھ پرانے ذاتی تعلقات ہیں جس بنیاد پر ان خاندانوں نے اسرائیل کی انشورنس کمپنی "افینٹی پارٹنرز” اور "فینکس ہولڈنگز” اور گاڑیوں کے لیزنگ گروپ ‘شلومو ہولڈنگز’ میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ کا نائب صدر جے ڈی وینس کو مذاکرات کو ادھورا چھڑوا کر واپس بلا لینے کے پیچھے بھی یہی کاروباری بدنیتی شامل ہے جس کے بعد امریکہ کا بش بحری بیڑا آبنائے ہرمز پہنچا ہے۔
اسلام آباد مذاکرات سے امریکی وفد اور نائب صدر کی اچانک واپسی نے جو خدشات پیدا کیئے تھے، خلیج فارس میں امریکہ کی تازہ جنگی کمک سے اب وہ واضح ہو چکے ہیں۔ امریکہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے خود اس کا کنٹرول سنبھالنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ "مجھے ایران کا تیل چایئے۔” امریکہ سیزفائر سے ایران کو انگیج کر کے مزید وقت لینا چاہتا تھا تاکہ وہ خطے میں اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی کمی کو پورا کر سکے اور پھر "بڑی جنگ” کر کے اس کا منافع اسرائیل اور امریکہ آپس میں آدھا آدھا کر لیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |