امن کا سفیر پاکستان اب ناگزیر طاقت ہے
امن مذاکرات کی جنگ پاکستان نے جیت لی ہے۔ اب اس سے فرق نہیں پڑتا ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کا اگلا اور فائنل راؤنڈ کہاں ہوتا ہے۔ مستقل جنگ بندی کے بریک تھرو کے لیئے اگلے 48 گھنٹے بہت اہم ہیں۔ یہ مذاکرات دوبارہ اسلام آباد میں ہوں یا جنیوا میں، دنیا کی نظروں کا مرکز پاکستان ہی رہے گا۔ حالیہ خلیجی جنگ میں سیزفائر کے لیئے جو کردار پاکستان نے ادا کیا، اسے پوری دنیا میں تحسین کی نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بھارتی میڈیا کے امن پسند تبصرہ نگار بھی پاکستان کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اب اگر مذاکرات کی سٹیج ایک بار پھر اسلام آباد میں سج جاتی ہے تو پاکستان کے لیئے یہ ایک قابل فخر اور تاریخ ساز لمحہ ہو گا !
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دورہ پاکستان کے حتمی اشارے دے دیئے ہیں۔ ٹرمپ نے "نیو یارک پوسٹ” (New York Post) کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایک بار پھر کھل کر تعریف کی اور کہا، "پاکستانی فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ وہ شاندار انسان ہیں اور بہترین کام کر رہے ہیں، اسی لیئے پاکستان جانے کا زیادہ امکان ہے۔” مزے کی ایک بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ایک علیحدہ بیان میں یہ طرح مصرعہ بھی لگایا کہ، "پاکستان نے انڈیا کے 7 نہیں بلکہ 12 خوبصورت طیارے گرائے تھے۔” اس سے یہ بھی مراد لی جا رہی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شائد ایران کے 15 اہم نکات میں سے 12 نکات کو من و عن تسلیم کر لیا ہے جو پاکستان کے ذریعے امریکہ کو پیش کیئے گئے تھے (جس وجہ سے انڈین طیاروں کی تعداد اب سات سے بڑھ کر ایک درجن ہو گئی ہے)۔ ٹرمپ کے اس انٹرویو نے عالمی سیاست اور سفارتی حلقوں میں ایک ہلچل سی پیدا کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف اپنے دورہ پاکستان کی تصدیق کی بلکہ پاکستانی عسکری قیادت کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور اعتراف کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔
اس انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے یہ انکشاف کیا کہ، ” اگلے دو دنوں میں کچھ بڑا ہونے والا ہے” نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، "ہم زیادہ امکان پاکستان جانے کا رکھتے ہیں۔” جب میزبان نے ٹرمپ سے یہ پوچھا کہ کیا وہ کسی ایسے ملک جانے کے حق میں نہیں ہیں جس کا اس معاملے یعنی ایران کے تنازعہ سے کوئی تعلق نہ ہو تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ان کے نزدیک پاکستان ہی وہ ملک ہے جو اس وقت مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو پاکستانی عسکری قیادت کی سفارتی اور تزویراتی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان عالمی امن کا نیا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے واضح ہو رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ہولناک کشیدگی کو صرف پاکستان ہی ختم کروا سکتا ہے۔ اگر صدر ٹرمپ پاکستان آتے ہیں، تو یہ حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا سفارتی واقعہ ہو گا، جس میں ایران کے ساتھ ایک بڑے معاہدے کی توقع کی جاری رہی ہے۔پاکستان اپنی ثالثی اور فیلڈ مارشل کی مصالحانہ حکمتِ عملی سے پورے عالم میں ایک "ناگزیر طاقت” بن چکا ہے۔ ٹرمپ کے اس انٹرویو سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسِ پردہ تمام معاملات طے پا چکے ہیں اور اب صرف باضابطہ اعلان اور دستخط ہونا باقی ہیں۔ اگر مذاکرات کا اگلا اور ممکنہ طور پر آخری دور بھی اسلام آباد میں ہوا تو عالمی امن کی تاریخ میں "اسلام آباد پیکٹ” کو ایک تاریخی دستاویز کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے یہ تصدیق بھی کی ہے کہ اپریل کے تیسرے ہفتے میں جب پاکستان ایران امریکہ مذاکرات کی دوبارہ میزبانی کرے گا (یا کوئی اور ملک بھی کرے گا) تو یہ کوئی عام مذاکرات نہیں ہوں گے بلکہ اس دفعہ وطن عزیز کے دارالحکومت اسلام آباد میں دنیا کے وہ طاقتور لیڈران اکٹھے ہونے جا رہے ہیں جن کا ایک ساتھ ہونا کسی "معجزہ” سے کم نہیں ہے جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردگان، مصری وزیراعظم مصطفی مدبولے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان شامل ہوں گے۔ اسلام آباد مذاکرات میں 1972 کی "اسلامی کانفرنس” کے بعد مسلم دنیا کا یہ دوسرا بڑا اور اہم اجلاس ہو گا۔ ان مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیئے تا دم تحریر وزیراعظم شہباز شریف ہنگامی دورے پر سعودی عرب ہیں، جبکہ پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد چین کی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے بیجنگ بھی پہنچ گیا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے ایران کو دباؤ میں لانے کے لیئے "یو ٹرن” لیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ، "بات چیت کا اگلا راؤنڈ یورپ کے کسی ملک میں بھی ہو سکتا ہے۔” لیکن پاکستان کو جو عزت اس موقع پر رب العزت نے دی ہے اس سے پاکستان کو امن قائم کرنے کا ایک بہت بڑا عالمی مقام پہلے ہی مل چکا ہے، مذاکرات جہاں بھی ہوں ان کی کامیابی کا سارا کریڈٹ پاکستان ہی کو جاتا ہے۔ خدا کی قدرت دیکھیں کہ کل تک پاکستان کو جو دشمن ممالک بدمعاش اور دہشت گردی ریاست قرار دیتے تھے آج وہ اسی کو "امن کا سفیر” قرار دینے پر مجبور ہیں۔ بہت جلد ایسا ہونے جا رہا ہے کہ پوری دنیا میں وطن عزیز کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے گا۔ پاکستانی قومیت رکھنے والے اپنے پاسپورٹ کو چھپانے کی بجائے اپنے ماتھے پر فخر کے ساتھ سجا کر پھریں گے۔ یہ عظیم الشان لمحہ بہت جلد آنے والا ہے جب پاکستان معاشی بھی مشکلات سے نکلنا شروع ہو جائے گی۔ پھر پوری دنیا اپنے فیصلے کرنے کے لیئے پاکستان کی طرف دیکھا کرے گی۔ یہاں احمد ندیم قاسمی کا یہ قطعہ یاد آ رہا ہے کہ
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |