جمال دین وینس کی واپسی اور مذاکرات کا اگلا دور
ایران اپنی بقا اور سلامتی کی خاطر مذاکرات میں بے لچک رویئے پر قائم رہنے کے لیئے مجبور تھا۔ یہی دفاع وطن اور حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ ایرانی وفد اپنی 170 ہلاک شدہ سکول کی بچیوں کے بستے ساتھ لے کر آیا تھا لیکن مذاکرات بے دردی سے کسی ڈیل اور مستقل جنگ بندی کی خوشخبری کے بغیر ختم ہو گئے، جو بنی نوع انسان کی جنگی تاریخ میں ایک اور افسوسناک واقعہ کا اضافہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہو گا؟ مذاکرات ابھی جاری تھے تو حفظ ماتقدم کے طور پر سعودی عرب نے پاکستانی شاہینوں کو پورے سعودی عرب میں تعینات کر دیا تھا۔ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہے اور دوبارہ جنگ کے آغاز کے امکان کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا ضروری تھا۔ کیا سیزفائر کے 2 ہفتے پورے ہونے اور دوبارہ مذاکرات شروع نہ ہونے کی صورت میں جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی اور اس میں امریکہ بھی شامل ہو گا یا نہیں؟ یہ سوال بہت اہم ہے جس پر نہ صرف مشرق وسطی، بلکہ پوری دنیا کے امن کا دارومدار ہے۔
بہت سارے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 47 سال کے بعد یوں امریکہ اور ایران کا مزاکرات کے دوران براہ راست ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرنا اور اکٹھے بیٹھنا ایک نیک شگون ہے۔ یہ بات قدرے سچ بھی ہے کیونکہ بعض نازک مذاکرات کو کامیاب ہونے میں وقت لگتا ہے۔ خاص کر جہاں امریکہ کسی جنگ کو بند کرنے میں ملوث ہو وہاں مذاکرات کو کامیاب ہونے میں واقعی طویل وقت درکار ہے مثلا ویت نام اور افغانستان میں جنگ بندی اور امریکہ کے وہاں سے نکلنے میں کم و بیش 20سال لگے گئے تھے لیکن تب مختلف حالات تھے جبکہ آج دنیا زیادہ خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے مشرق وسطی کو دوبارہ جنگ میں جھونکنے کی کوشش کی تو خطے سے امریکی اثرورسوخ تقریبا ختم ہو جائے گا کیونکہ قطر اور عمان واضح طور پر ایران کے ساتھ مل گئے ہیں، سعودی عرب اپنے دفاع کے لیئے مکمل طور پر پاکستان کے ساتھ جڑ گیا ہے۔ مزید برآں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے امریکہ کی مرضی کے خلاف یوکرائن سے دفاعی اسلحہ خریداری کے معاہدے کیئے ہیں، اور دیگر خلیجی ممالک اس مد میں چین اور روس کے قریب ہونے کے لیئے پر تول رہے ہیں۔
امریکی صدر جے ڈی وینس نے امریکہ واپسی سے قبل پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران سے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا جس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ بظاہر مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں لیکن ابھی مذاکرات کو ناکام قرار دینا قبل از وقت ہے. ایرانیوں کے بقول مذاکرات جاری رہیں گے اور یہی ایران کا بہترین مثبت اور امن پسند رویہ ہے. مذاکرات کی ناکامی بڑی بدقسمتی ہو گی. مذاکرات میں واپسی کے لیئے ایران ہی کو لچک دکھانا ہو گی. دنیا ابھی بھی تیسری عالمی جنگ کے کنارے پر کھڑی ہے۔ ایران کو یہ الزام اپنے سر نہیں لینا چایئے کہ اس نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں ہٹ دھرمی دکھائی تھی۔ جنگ بندی دو ہفتے کے لئے ہے تو مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری رہنا چایئے۔ دوسری نشست کسی دوسرے ملک مثلا چین میں بھی کی جا سکتی ہے جس کا قوی امکان موجود بھی یے۔
مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے رویئے سے ظاہر ہوا کہ وہ امن پسند شخصیت ہیں۔ ان کا ماضی تلخ تھا۔ 41 سالہ جے ڈی وینس کی ماں "وینس” نشے کی عادی تھی اور اس کی پرورش اس کی غریب نانی نے کی تھی. وینس نے بچپن میں غربت دیکھی جس سے وہ پختہ سوچ کے مالک اور مضبوط انسان بن گئے۔ جے ڈی وینس نے 2022ء میں سیاست شروع کی اور حیران کن طور پر اتنے کم عرصے میں آج وہ امریکہ کے نائب صدر ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ عالمی سیاسی جنگ ہو یا اپنی زندگی کی عملی جنگ ہو، ہار جیت فرد کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے نہ کہ سسٹم انسان کو بچانے آتا ہے۔ جے ڈی وینس نے اپنے ان موٹیویشنل سیاسی نظریات کو اپنی کتاب "ہلبلی الیجی” (Hillbilly Elegy) میں بیان کیا ہے۔ وینس نے عارضی جنگ بندی کے بعد مذاکرات ایک ایسی ٹیبل پر بیٹھ کر کیئے جہاں مذاکرات کی کامیابی کا کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لینا تھا اور ناکامی کا الزام امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پر لگنا تھا۔ جے ڈی وینس اگلے الیکشن میں صدارت کیلئے تیاری کر رہے ہیں جس وجہ سے یہ مذاکرات ان کے لیئے "پل صراط” بن گئے تھے۔ اب اگر مذاکرات کا اگلا دور ہوتا ہے تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کو کامیاب کرانے کی سرتوڑ کوشش کریں گے، کیونکہ ان کی سیاست کا بنیادی فلسفہ "امن پسندی” ہے۔
گزشتہ 15 برس میں امریکی نائب صدر کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس سے قبل 2011ء میں جو بائیڈن جبکہ 2005ء میں ڈک چینی بطور نائب صدر پاکستان آئے تھے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ روانگی سے پہلے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً 16 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اپنی ریڈ لائنز نہایت واضح انداز میں پیش کیں اور یہ بھی واضح کیا کہ کن امور پر مفاہمت ممکن ہے اور کن پر نہیں، تاہم ایران نے ان شرائط کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ جے ڈی وینس کے مطابق یہ صورتحال امریکہ کے لیے اتنی نقصان دہ نہیں جتنی ایران کے لیے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی وفد گزشتہ 21 گھنٹوں سے اسلام آباد میں موجود تھا اور اس دوران مسلسل مذاکرات جاری رہے۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کے انعقاد میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ مذاکرات کی تفصیلات کے حوالے سے انہوں نے مکمل وضاحت دینے سے گریز کیا، تاہم اتنا ضرور بتایا کہ امریکہ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ ایران واضح یقین دہانی کرائے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی اس کے حصول کے لیئے درکار ٹیکنالوجی یا آلات حاصل کرے گا۔ ان کے مطابق امریکہ اسی مقصد کے حصول کے لیے مذاکرات میں شریک ہوا تھا، لیکن ایران کی جانب سے اس حوالے سے مطلوبہ آمادگی دیکھنے میں نہیں آئی۔
یہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مذاکرات کا وہ انداز ہے جس میں وہ امریکی سیاست میں اپنا مستقبل دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان نے ایران اور امریکی وفود کی خدمت کرنے اور انہیں محبت دینے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ پاکستانی عوام نے تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بہت سے شہروں سے رشتے تک جوڑ دیئے تھے۔ یہاں تک کہ پاکستان کی وینس برداری نے جے ڈی وینس کو "جمال دین وینس” کہنا شروع کر دیا تھا۔ اگر پاکستان اپنی یہ امن پسند سفارتی مہم جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے چایئے کہ فوری طور پر سیز فائر کا وقت ختم ہونے سے پہلے وہ مذاکرات کا اگلا دور بیجنگ میں شروع کروانے کی سفارت کاری کا آغاز کرے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ پاکستان ایران اور امریکہ کو بیجنگ لانے میں کامیاب ہو گیا تو ایران امریکہ معاہدہ بھی ہو جائے گا اور مستقل جنگ بندی بھی ہو جائے گی۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔۔۔!!
Title Image by Andres Mejer Law

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |