ہم اس کو دور بہت اس کی حد سے لے کے گئے
ہم اس کو دور بہت اس کی حد سے لے کے گئے
خلوصِ دل سے، وفا کی سند سے لے کے گئے
رقم نکالی کہ بیٹی کے ہاتھ پیلے کرے
وہ ساری لوٹ کے ڈاکو صمد سے لے کے گئے
دعائیں ماؤں کی جو ساتھ لے کے آئے تھے
سند یہاں سے خدا کی مدد سے لے کے گئے
کتاب پڑھنے کو دشواریوں کا سامنا تھا
جو بوڑھے لوگ گئے ساتھ عدسے لے کے گئے
ہُوا ہے شور کسی کو کیا گیا اِغوا
دراز قد کو تو کچھ پستہ قد سے لے کے گئے
جو مر گیا تھا اسے ہم تو قبر تک لائے
پھر اس کے بعد فرشتے لحد سے لے کے گئے
یہ خرچ اور کسی مد سے ہونے والا تھا
رقم جناب کسی اور مد سے لے کے گئے
مجھے تو جوئے کی لت بھی پڑی ہے یاروں سے
بڑے کی سمت وہ چھوٹے عدد سے لے کے گئے
سفینہ بیچ سفر میں ہی غرق کر ڈالا
سفر پہ وہ جو ہمیں شد و مد سے لے کے گئے
شعور بانٹنے کی تھی وہاں پہ چھوٹ، سو ہم
گِھسے ہوئے سے، خیالات رد سے لے کے گئے
رشیدؔ آج وہ انکار کر رہے ہیں کیوں؟
رقم ادھار جو کل میرے ید سے لے کے گئے
رشید حسرتؔ
٢٨، اکتوبر ٢٠٢٥
Title Image by David Clode from Pixabay

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |