میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں رکھتا ہوں
میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں رکھتا ہوں
عمیق درد کی گہرائیوں میں رکھتا ہوں
گداز طبع کو تو کھینچ لوں گا اپنی طرف
گھمنڈیوں کو میں سودائیوں میں رکھتا ہوں
وہ زر پرست جو رانجھےؔ سے ہیرؔ چھینتے ہیں
تو اپنی چیخ میں شہنائیوں میں رکھتا ہوں
فقط اجالا نہیں راس میری آنکھوں کو
رمق اندھیرے کی بینائیوں میں رکھتا ہوں
وہ میرا دوست ہو، دشمن کہ ہو سگا بھائی
میں خود پرست کو ہرجائیوں میں رکھتا ہوں
کروں میں کیا کہ یہ برداشت میرا شیوہ ہے
ملال جتنا ملے کھائیوں میں رکھتا ہوں
جو سچ کہوں تو دھنک ان کے دم قدم سے ہے
میں اپنے شعروں کو انگڑائیوں میں رکھتا ہوں
سبھی کو دعویٰ تھا، آیا تھا مجھ پہ وقت کٹھن
رہے جو ساتھ، انہیں بھائیوں میں رکھتا ہوں
رشیدؔ تن پہ جو مزدور کے سجی ہے میاں
پھٹی قمیص کو زیبائیوں میں رکھتا ہوں
رشِید حسرتؔ
۲۸ جولائی ۲۰۲۵
Title Image by Lukas_Rychvalsky from Pixabay

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |