ڈیل یا معاہدے کا کتنا امکان ہے ؟
امریکہ ایران سے ڈیل یا معاہدے میں جو شرائط ڈالنا چاہتا تھا وہ ایران کے لیئے کسی قیمت پر قابل قبول نہیں تھیں، جس میں ایک شرط یہ بھی شامل تھی کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم اس کے حوالے کر کے اپنے انڈر گراونڈ ایٹمی پروگرام کو ختم کر دے۔ اس پر اطالوی وزیراعظم میلونی نے بڑا مدلل اور برمحل سوال اٹھایا تھا کہ اگر امریکہ ایٹمی طاقت ہے تو وہ دوسرے ممالک کو یہ طاقت حاصل کرنے سے کیوں روکنا چاہتا ہے؟ میلونی نے اپنے تبصرے میں یہ کہہ کر جان ڈالی تھی کہ جہاں تک وہ جانتی ہیں، "دنیا میں کسی دوسرے ملک نے ایٹم بم نہیں چلایا یہ امریکہ ہی ہے کہ جس نے دو بار ایٹم بم چلایا ہے”۔ ایران نے یہ شرط ماننی ہوتی تو جنگ کی نوبت ہی نہ آتی۔ اسرائیل امریکہ کا "بغل بچہ” ہے جسے امریکہ نے خطے میں "تھانے داری” کے لیئے پال رکھا ہے اور جس سے وہ عربوں کو کنٹرول کرتا ہے اور ان سے اربوں ڈالرز کی سالانہ دولت بھی بٹورتا ہے۔ اگر معاہدہ ہو گیا اور مستقل جنگ بندی ہوئی تو اس سے نہ صرف ایران کو خفیہ طور پر اپنا نیوکلیئر پروگرام جاری رکھنے کا موقعہ مل جائے گا بلکہ اس سے خطے کے دیگر ممالک بھی ایٹمی پروگرام شروع کرنے پر مائل ہو جائیں گے۔ یہ اسرائیل ہرگز نہیں ہونے دے گا کیونکہ اس سے اسرائیل کی عربوں پر نہ صرف ماضی کی برتری ختم ہو جائے گی بلکہ اسرائیل کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ گو کہ امریکہ کے لیئے یہ جنگ ایران کے مقابلے میں بہت مہنگی ثابت ہو رہی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ڈیل یا جنگ بندی کی صورت میں امریکہ کی خطے میں ایک تو برتری ختم ہو جائے گی اور چند ایک عرب ممالک کو چھوڑ کر پورا خطہ ہی چائنا کی دست برد میں چلا جائے گا، بلکہ امریکہ کو عربوں کی سرمایہ کاری اور انہیں اسلحہ فروشی سے جو اربوں ڈالرز کی سالانہ رقم وصول ہوتی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی، جو پہلے ہی خطرے میں پڑ چکی ہے۔
جنگ اور اسلحہ سازی امریکہ کے دو بنیادی اور منافع بخش کاروبار ہیں جنہیں بند کرنے کا امریکہ قطعا رسک نہیں لے سکتا ہے۔ بغور دیکھا جائے تو امریکہ بھی اندر سے مستقل جنگ بندی نہیں چاہتا ہے۔ مذاکرات کسی حد تک محض "ڈرامہ بازی” ہیں۔ ٹرمپ وقفے وقفے سے مذاکرات کا ڈھونگ رچاتے ہیں تاکہ سٹاک مارکیٹ، شیئرز ٹریڈنگ، ضروریات اشیاء اور تیل کی قیمتوں وغیرہ کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ ٹرمپ ایران کے ساتھ کوئی ایسی "ڈیل” بھی نہیں کریں گے کہ جس سے امریکہ کے وہ دونوں کاروبار ٹھپ ہو جائیں، جن پر امریکہ کی پوری اکانومی کھڑی ہے۔
اس وقت بھی امریکہ پر 37 ٹریلین کا قومی قرضہ ہے۔ یہ بلند ترین سطح امریکی جی ڈی پی (کل معیشت) کے تقریباً 120فیصد سے 122فیصد کے برابر ہے، اور یہ قرضہ ہر تین ماہ میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ دنیا کے 100 سے زائد ممالک اور خطوں کو اسلحہ اور دفاعی ساز و سامان برآمد کرتا ہے جس میں "نیٹو” (NATO) اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ اس جنگ کے دوران امریکہ کے ہاتھ سے نیٹو ممالک تقریبا نکل چکے ہیں لیکن اس کے باوجود 2025ء کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں میں سے 47 کمپنیاں امریکی تھیں۔ امریکی اسلحہ خریدنے والے اہم ممالک میں مشرق وسطیٰ، ایشیا اور یورپی ممالک ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ امریکی اسلحے کی برآمدات دنیا کی کل برآمدات کے 40 فیصد حصے سے زائد ہیں۔ سنہ 2025ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا۔ امریکہ میں اسلحہ ساز کمپنیوں کی تو موجیں ہیں۔ امریکہ اسلحہ سازی بند یا اسے کم کرتا ہے یا پھر دنیا میں جنگوں کو فروغ دینا ختم کرتا ہے تو امریکہ دنیا پر اپنی برتری برقرار رکھ سکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنی معیشت کو بچا سکتا ہے۔
امریکہ کے دنیا کے تقریباً 80 ممالک میں 800 کے قریب فوجی اڈے یا تنصیبات موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر فوجی جاپان، جرمنی، جنوبی کوریا، اٹلی، برطانیہ، سپین اور جنوبی کوریا وغیرہ میں تعینات ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بھی 19 سے زائد امریکی فوجی اڈے ہیں جن میں اردن، عراق، شام، بحرین، سعودی عرب، کویت، اومان اور قطر وغیرہ سرفہرست ہیں۔ یہ نیٹ ورک دنیا میں سب سے بڑا ہے، جس نے مختلف عالمی خطوں میں پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ امریکی فوجی ٹھکانوں کی اصل تعداد مسلسل بدلتی رہتی ہے اور اکثر اسے خفیہ بھی رکھا جاتا ہے جیسا کہ 2001 میں امریکہ نے پاکستان کے راستے جیکب آباد بیس سے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔
امریکہ اسلحہ سازی بند کر دے بھلا کوئی کیسے سوچ سکتا ہے، امریکہ دنیا کے ان سارے ممالک کو یہ جدید آگ بیچنا بند کر دے یا ایک ایسی جنگ کو بند کر کے ایران سے کوئی غیرمنافع بخش اور نقصان دہ ڈیل کر لے ایسا ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ اس سے امریکہ کی بقا اور سلامتی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ ایران میں پھنس گیا ہے وہ مجبور ضرور ہے اسی لیئے امریکی صدر بظاہر جنگ یا ڈیل کے لیئے جلدی میں نظر آ رہے ہیں لیکن امن پسندی پر مبنی کوئی ڈیل ہونا اس لیئے بھی ممکن نہیں ہے کہ ایران اپنی قیادت اور انفراسٹرکچر پہلے ہی کھو چکا ہے اور اب اس کے پاس مزید کھونے کے لیئے کچھ نہیں ہے۔
Title Image by wastedgeneration from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |