پیچیدہ مذاکرات اور تازہ صورتحال
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد کو "بی بی سی نیوز” نے سب سے پہلے بریک کیا تھا، جس کے مطابق عراقی وزیر خارجہ نے تین ملکی دورہ کرنا ہے۔ یہاں سے عراقچی جنگی صورتحال ڈسکس کرنے کے لیئے مسقط اور ماسکو جائیں گے۔ ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ کے اس دورے کا سنتے ہی اعلان کیا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیئے وہ اپنے دو اہم مشیروں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجیں گے۔ وٹکوف رئیل اسٹیٹ ٹائکون، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور ان کے پرانے ساتھی ہیں جبکہ کشنر بھی رئیل سٹیٹ کے ٹائکون، اور ٹرمپ کے مشیر ہونے کے ساتھ ان کے داماد بھی ہیں۔ مذاکرات کے لیئے ایک امریکی وفد اور کچھ صحافی پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہیں۔ پاکستانی قیادت مذاکرات کی کامیابی کے لیئے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے لیکن مذاکرات کی کامیابی کے بارے کوئی پیش گوئی کرنا ابھی بھی قبل از وقت ہے۔
مذاکرات کے مشکوک ہونے کی دو بنیادی وجوہات ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ٹرمپ کو ایک تو مذاکرات کی جلدی ہے اور وہ جب بھی اس موضوع پر بات کرتے ہیں تو ٹرمپ ایران کو برباد کرنے اور اسے مٹانے کی بھی دھمکی دیتے ہیں، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس دفعہ ایران نے بھی مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ کی طرح انتہائی سخت لہجا اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ اپنے ایک بیان میں 48 گھنٹے کا "الٹی میٹم” دیتے ہوئے کہا ہے کہ، "آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گا جب تک ایران کے 11 کھرب ڈالر کے منجمد اثاثے ریلیز نہیں کیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اثاثے ایران کو واپس نہ کیئے گئے تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ اب ایران بھی جنگ کے بارے وہی موقف اختیار کر رہا ہے جو اب تک ٹرمپ نے اپنا رکھا تھا۔ دونوں اطراف سے یہ ایسا لب و لہجا ہے جس سے مذاکرات یا تو ایک بار پھر کھٹائی میں پڑتے نظر آ رہے ہیں اور یا دونوں متحارب گروپس اسلام آباد مذاکرات کو ایک پریشر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ وہ مکمل جنگ بندی تک اپنی مرضی کی شرائط منوا سکیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیئے پاکستانی قیادت کی آخری نمایاں کوشش ہے۔ جنگ بندی کی یہ امید امریکہ کے لیئے "ڈیل” اور ایران کے لیئے "معاہدے” کی حیثیت رکھتی ہے۔ امید ہے آپ اس فرق کو سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں "معاہدہ” امن کو قائم کرنے کے لیئے بلامشروط کیا جاتا ہے جبکہ "ڈیل” وہ ہوتی ہے جس میں ایک فریق کو اس کے حق سے کچھ زیادہ مل جاتا ہے۔ گو کہ ایران مقابلتا کمزور ملک ہے مگر دونوں کے درمیان طاقت کے گھمنڈ کا بھی فرق ہے۔ امریکہ اپنی طاقت کی بنیاد پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران سے کوئی ڈیل کرنے کے موڈ میں ہے۔ جب سے ایران نے آبنائے ہرمز سے "ٹول ٹیکس” وصول کر کے اپنے قومی خزانے میں جمع کروایا ہے ٹرمپ کو چین نہیں آ رہا ہے۔ ٹرمپ اپنے پہلے بیانات میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ انہیں ایران کا تیل اور گیس چایئے۔ اگر آبنائے ہرمز کے ٹول ٹیکس سے بھی ایران اسے حصہ دینے پر آمادہ ہو گیا اور افزودہ یورینیئم پر بھی کچھ سودے بازی ہو گئی تو پھر ایران کو منجمد اثاثے ملنے کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ایران سے جو سٹریٹجک پاور کے زور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں وہی کچھ ایران اپنی جواں مردی سے لینے پر آمادہ نظر آتا ہے۔ یہ مذاکرات امن کا روایتی راستہ ہرگز نہیں ہیں بلکہ امریکہ اسے ایک دباو کے طور پر استعمال کرنا چاہتا یے۔ امریکہ اپنی سٹریٹجک پاور کی وجہ سے کسی قسم کی سودا بازی کرنے کے موڑ میں نہیں ہے۔ امریکہ پہلے کچھ منوائے گا اور اس کے بعد کچھ ایران کو بھی دینے پر راضی ہو گا۔ ایران صرف اپنی انا پر اڑا ہوا ہے اور پاکستان کو ثالث بنا کر اس کے ذریعے اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات منوانا چاہتا ہے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا نیوکلیئر پروگرام رول بیک کرے یعنی یورینیئم کی افزودگی بند کرے (امریکہ کے حوالے کرے) یا اسے ایک مطلوبہ حد تک کم کرے اور اس کی افزودگی کو "انڈر گراونڈ” کی بجائے "سطح زمین” پر لے آئے تاکہ اسے عالمی نگرانی میں رکھا جا سکے۔ اگر ایران ایسا نہیں کرتا تو پھر ٹرمپ دوبارہ جنگ کا آغاز کرنے کی دھمکی پر قائم ہیں۔ امریکہ ایران کی پراکسی وارز ختم کرانا چاہتا ہے جو ایران نے حوثیوں کے ذریعے یمن اور حزب اللہ کے ذریعے لبنان میں ایک عرصے سے شروع کر رکھی ہیں۔ اس میں پاسداری انقلاب کی طاقت کو زائل کرنے اور آبنائے ہرمز کو عالمی آمدورفت کے لیئے کھلا رکھنے کی بھی ایک شرط شامل ہے۔ امریکہ کی آخری شرط چینی یوآن کی بجائے تیل کی خرید و فروخت وغیرہ امریکی ڈالر میں کرنے کی ہے۔
مذاکرات کے دوسرے دور کا یہ ایسا نقشہ ہے کہ جو بہت زیادہ گنجلک اور پیچیدہ ہے۔ ایران کو ایک طرف جہنم کے شیطان اور دوسری طرف گہرے سمندر والا معاملہ درپیش ہے۔ ایران یورینیم افزودگی اور اپنی پراکسی وارز 1979 کے بعد سے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ مدت 47 سال کی ہے جو تقریبا نصف صدی بنتی ہے۔ اس دوران ایران کو عالمی پابندیوں کا سامنا رہا ہے اور اس کی 11 کھرب ڈالر کے اثاثے ابھی تک منجمد ہیں۔ اب ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے بھی ٹرمپ کے لہجے میں دھمکی دی ہے کہ اس کے منجمد اثاثے فورا ریلیز کیئے جائیں ورنہ جنگ دوبارہ شروع ہو گی۔ اس کے بعد عراقچی کے اسلام آباد پہنچتے ہی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ دنیا چاہتی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں۔ ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شرکت کے لیئے اسلام آباد پہنچ جائیں گے لیکن خطے میں انتہائی کشیدہ صورتحال ہے۔ مذاکرات ہوں گے یا نہیں اور کامیابی کا کتنا امکان ہے، اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کا ایک اعلی عہدے دار ایران پہنچا ہے اور برطانیہ، روس، بھارت، چین اور ترکی نے اپنے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر ایران چھوڑ دیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |