ٹالسٹائی کا جنگ اور امن، سید زادی اور فیڈو نیڈو
جنگ کے دوران کسی دوسرے عنوان پر لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔ 28 فروری سے آج تک کے تمام اظہاریئے خلیجی جنگ سے متعلق ہیں۔ اس دوران روسی مصنف لیو ٹالسٹائی (Leo Tolstoy) کی مشہور زمانہ کتاب "جنگ اور امن” (War and Peace) کو پڑھنے کا خیال کئی بار ذہن میں آیا لیکن دوسری ناگزیر مصروفیات کی وجہ سے کتاب ہاتھ لگی اور نہ ہی اسے پڑھنے کا موقع ملا۔
ٹالسٹائی کا پورا نام لیو نیکولے ایوچ ٹالسٹائی (Leo Nikolayevich Tolstoy) ہے جن کا یہ شاہکار ناول پہلی بار سنہ 1869ء میں چھپا تھا۔اس کی کہانی 19ویں صدی کے اوائل میں روسی معاشرے، نپولین کی جنگوں، اور انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کی ایک عظیم داستان ہے۔ یہ ناول پانچ روسی اشرافیہ خاندانوں کے ذریعے محبت، موت، اور جنگ کی تباہ کاریوں کے درمیان زندگی کے معنی تلاش کرتا ہے، جس میں تاریخی واقعات اور ذاتی کہانیوں کو مہارت سے یکجا کیا گیا ہے۔ دنیا کی یہ مشہور اور اہم ترین تصنیف پڑھنے والے کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں امن بلاخر جنگ کو شکست دے دیتا ہے۔ ہماری حقیقی زندگی کی کچھ کہانیاں بھی ایسی ہی ہیں جو لکھنے اور پڑھنے سے زیادہ محسوس کرنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اگر ایسی کہانیوں کو انسانوں کی اکثریت اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لے تو پھر انسانی تہذیب میں "جنگ” کی کبھی نوبت ہی نہیں آئے گی۔
ٹالسٹائی کی یہ کہانی انگلینڈ میں مقیم ایک پاکستانی نوجوان زاہد منظور بھٹی کی زندگی پر بھی صادق آتی ہے جو جنگی بنیادوں پر انگلینڈ بھر میں "فیڈو نیڈو” (Feedo Needo) کے نام سے ایک خیراتی ادارہ چلا رہے ہیں۔ میری ان سے لندن میں پہلی ملاقات "الفورڈ شاپنگ سنٹر” میں ہوئی تھی، جب اچانک انہوں نے مجھے پیچھے سے "بھائی جان بھائی جان” کہہ کر پکارا تھا۔ تب میں ان کی زندگی کا صرف ایک رخ جانتا تھا۔ ان کے بارے میرا پہلا تصور ان کی پنجاب یونیورسٹی کی وہ خوشنما اور پرکشش زندگی تھی جب وہ 80 کی دہائی میں پاکستان کے موخر اردو اخبارات کے کلر صفحات پر ایک "ماڈل” کے طور پر شائع ہوتے تھے۔ ان کے اس خیراتی کام کے بارے میرے دماغ میں دوسری یہ بات راسخ تھی کہ بھلا انگلینڈ میں خدمت خلق کا کوئی خیراتی ادارہ چلانے کی کیا ضرورت ہے۔ انگلینڈ ایک ترقی یافتہ "سوشل ویلفیئر سٹیٹ” ہے۔ وہاں بے روزگار افراد کو حکومت گھر اور گھر چلانے کے لیئے ہفتہ وار الاونس دیتی ہے جسے "سوشل بینیفٹس” (Social Benefits) کہتے ہیں۔ اس کے باوجود زاہد بھٹی صاحب ایک ہفتہ میں دو سے تین بار انگلینڈ کے مختلف شہروں میں کھانے پینے کے پیکٹس، لباس، ادویات اور تحائف وغیرہ مفت تقسیم کرتے ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے عمران خان کے کینسر ہسپتال کو بھی 10 ہزار پونڈ کا آن لائن عطیہ دیا تھا۔ اس وقت بھی میرے ذہن میں ان کی شخصیت کا وہ راز نہیں کھلا تھا جس نے انہیں بے لوث خدمت خلق پر آج تک مائل کر رکھا ہے۔
گزشتہ برس فروری 2025ء میں وہ دبئی کاروبار شروع کرنے کے لیئے تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھا۔ ان کے ساتھ چند پاکستانی دوست بھی تھے جن سب کے پاس برٹش پاسپورٹ تھے لیکن زاہد منظور بھٹی کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہی تھا، جس پر انگلینڈ کا "لائف ٹائم ویزہ” (Indefinite Stay) لگا ہوا تھا۔ انہوں نے برطانیہ جا کر کاروبار شروع کرنے کے لیئے ایک خطیر رقم بھی مجھے ٹرانسفر کی تھی۔ وہ دبئی انگلینڈ کی یونیورسٹیوں کے الحاق سے پرائیویٹ کالج کھلولنا چاہتے تھے اور پھر وہ "ہولڈنگ” کی کمپنی بنا کر کچھ پراپرٹیاں بھی خریدنا چاہتے تھے تاکہ یہاں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بھی شروع کیا جا سکے۔ جب میں نے کمپنی بنانے کے لیئے "ابتدائی منظوری” (Initial Approval) اور "خصوصی کمپنی نام” (Especial Company Name) کی منظوری بھی لے لی تو ایک دن اچانک ان کا مجھے پیغام آیا کہ ابھی کاروبار شروع نہیں کرنا ہے۔ اس کے چار ماہ تک انہوں نے مجھ سے کوئی رابطہ نہ کیا۔ پھر ایک دن انہوں نے مجھ سے دوبارہ رابطہ کیا اور مجھے اپنی مسسز (نوشین) کا پاسپورٹ بھیجا، اور بتایا کہ ان کے نام پر کاروبار کا آغاز کرنا ہے۔ جب میں نے کمپنی بنانے کے لیئے کچھ کام شروع کیا تو ایک بار پھر انہوں نے مجھے حکم دیا کہ کام روک دیں۔ 28 فروری کو جب ایران، اسرائیل اور امریکہ جنگ شروع ہوئی تو مجھے اچانک زاہد منظور بھٹی یاد آ گئے۔ جنگ کے بعد دبئی ہی نہیں پورے خلیجی ممالک کی رئیل اسٹیٹ کا کام شدید متاثر ہوا ہے اور پراپرٹی کی قیمتیں 30 سے 40 فیصد تک گر گئی ہیں۔ اگر زاہد بھٹی اس وقت دبئی میں کالج کھول لیتے اور کچھ پراپرٹیاں بھی خرید لیتے تو آج انہیں کافی نقصان ہونا تھا۔ زاہد صاحب خوش قسمت رہے کہ وہ وقتی طور پر کاروبار کو شروع کرنے سے رک گئے!!
زاہد منظور بھٹی انگلینڈ جیسے ملک میں رہ کر عبدالستار ایدھی، مدرٹریسا اور جرمن خاتون ڈاکٹر روتھ فاو (Dr. Ruth Pfau) جیسا کام کر رہے ہیں۔ ان کے لندن، برمنگھم، پولینڈ اور ترکی میں پرائیویٹ کالجز ہیں جن سے جتنی بھی آمدن آتی ہے وہ اس سارے پیسے کو اپنے ” فیڈو نیڈو” (Feedo Needo) خیراتی ادارے کے اکاونٹ میں ٹرانسفر کر دیتے ہیں. یہاں تک کہ نوشین انگلینڈ کی کسی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور وہ بھی جو کماتی ہیں ضرورت کا پیسہ رکھ کر باقی رقم اپنے خیراتی ادارے کو دے دیتی ہیں۔ چونکہ وہ میرے عزیز ہیں میرے دماغ میں ان پر لکھنے کا کبھی خیال نہیں آیا تھا۔ اللہ تعالٰی کی ذات کچھ انسانوں کو خصوصی مشن دے کر پیدا فرماتی ہے۔ کل ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں زاہد منظور بھٹی اور ان کی مسسز سیدہ نوشین کو کنگز گارڈن پارٹی (Kings Garden Party) میں شرکت کے لیئے لندن کے شاہی محل "بکنگھم پیلس” (Buckingham Palace) میں ان کی چیرٹی خدمات کے اعتراف میں دعوت دی گئی تھی۔ زاہد منظور بھٹی کی مسسز کا پورا نام سیدہ نوشین نقوی ہے جو فیڈو نیڈو کی "کو-فاونڈر” (Co-Founder) بھی ہیں۔ زاہد منظور بھٹی کی مسسز کے پاس پچھلے پندرہ سال سے برٹش پاسپورٹ ہے۔ زاہد منظور بھٹی چاہتے تو وہ بھی برٹش پاسپورٹ اپلائی کر سکتے تھے لیکن وہ آج بھی "پاکستانی” کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
زاہد منظور بھٹی اور ان کی ٹیم 2015 سے یہ چیرٹی کا کام کر رہے ہیں۔ کمیونٹی کی مدد کے لیئے وہ بے گھر افراد اور ضرورت مندوں کو فوڈ بنک اور فری کیف کی خصوصی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ایک انگلینڈ ہی نہیں، ان کی چیرٹی کا یہ ادارہ پاکستان اور نائجیریا میں بھی کام کر رہا ہے۔ لاہور ماڈل ٹاؤن میں انہوں نے ایک چیرٹی ہسپتال بھی قائم کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ، "ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے”۔ مجھے کل معلوم ہوا کہ زاہد منظور بھٹی کی مسسز "سیدہ” ہیں۔ ان دونوں کی اولاد نہیں ہے، وہ پھر بھی خوش خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو دل اور روح سے چپک جاتے ہیں۔ بہت سارے پاکستانی بیرون ممالک میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔ انگلینڈ اور دیگر ممالک میں اپنی صلاحیتوں اور نیک نیتی کے بل بوتے پر زاہد منظور بھٹی دنیا اور آخرت کی جو نیک نامی کما رہے ہیں، اس کے پیچھے ہماری بہن سیدہ نوشین نقوی کا ہاتھ ہے۔
جب کچھ انسانوں سے قدرت کوئی بڑا کام لینا چاہتی ہے تو وہ انہیں خدمت خلق اور دوسروں کو خوشیاں دینے کے کام پر لگا دیتی ہے۔ دنیا میں بہت کم لوگ ہیں جو دنیا داری سے منہ موڑ کر انسانی فلاح اور ایسے نیکی کے کام کرتے ہیں۔ پھر زندگی بھر کا ایسا جذبہ انہی لوگوں میں پیدا ہوتا ہے جو جنگ اور امن کے درمیان فرق کو محسوس کر لیتے ہیں، اور وہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے کسی غرض یا مفاد وغیرہ سے اوپر اٹھ کر محبت کرتے ہیں۔ میں چشم دید گواہ ہوں کہ دنیا کی شائد ہی کوئی ایسی نعمت ہو جو اولاد کے علاوہ اللہ تبارک تعالی نے انہیں عطا نہ کی ہو۔ وہ دونوں میاں بیوی اس کمی کو اللہ کی حکمت سمجھ کر بے گھر، نادار اور ضرورت مندوں کی خدمت کر کے اور انہیں خوشیاں دے کر پورا کر رہے ہیں۔ انسان کے اندر کی اصل روح جاگتی ہی تب ہے اور اطمینان قلب بھی اسی وقت نصیب ہوتا ہے جب وہ جنگ اور نفرت کے مقابلے میں بااختیار محبت کرنے کا گر سیکھ لیتا ہے۔ ٹالسٹائی کی کتاب بھی "جنگ اور امن” کی ایسی ہی کہانی پیش کرتی ہے جس میں انسانیت سے محبت کرنے والے زاہد منظور بھٹی اور سید زادی نوشین جیسے کردار موجود ہیں۔
تازہ ترین جنگی صورتحال یہ ہے کہ ایرانی وفد کے سربراہ اور وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اسلام آباد میں پاکستان کی اعلی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان کے سامنے ایران کے 4 بنیادی نکات رکھے ہیں تاکہ پاکستان ان نکات کو ٹرمپ تک پہنچائے، جن میں لبنان میں مکمل جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، 20 ملئین ایرانی منجمد اثاثوں کی ریلیز اور یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت شامل ہیں۔ ایران یہ معاہدہ کرنے کو تیار ہے وہ افزودہ یورینیم کسی ملک کے حوالے نہیں کرے گا لیکن وہ اس سے "ایٹم بم” بھی نہیں بنائے گا۔
یہ ایران کا ایک سخت ترین موقف ہے جو سامنے آیا ہے۔ ایرانی وفد نے کہا ہے کہ ان میں سے کوئی شرط بھی امریکہ نہیں مانتا ہے تو ایران اس سے مذاکرات نہیں کرے گا۔صدر ٹرمپ ایک طرف اسلام آباد میں مذاکرات کی پینگیں بڑھا رہے تھے تو دوسری طرف وہ مسلسل امریکی اسلحہ بردار جہاز خطے میں پہنچا رہے تھے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے دہانے پر ایک "ٹریپ لائن” قائم کر دی ہے تاکہ ایرانی کشتیوں کو سرنگیں بچھانے سے روکا جا سکے۔ پینٹاگون نے بھی تصدیق کی ہے کہ بی-52 بمبار طیاروں نے خطے میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اور وہ کسی بھی وقت "آپریشن آئرن کلاڈ” کے اگلے مرحلے کا آغاز کر سکتے ہیں۔
خدا خیر کرے! ابھی کچھ دیر پہلے صدر ٹرمپ کی بدنیتی پر مبنی اس چال کا ایران نے یوں جواب دیا ہے کہ ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سر کی قیمت لگاتے ہوئے ایک فنڈ قائم کیا ہے جس میں صرف چند گھنٹوں کے اندر 5 کروڑ ڈالر جمع ہو چکے ہیں۔ دنیا میں امن انسانیت سے زاہد اور نوشین کی طرح محبت کر کے ہی قائم کیا جا سکتا ہے ناکہ کسی ملک کی روحانی قیادت کو قتل کر کے، اور پھر قاتل کے سر کی قیمت لگا کر۔ ایران نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ایران کی 9 کروڑ آبادی میں سے کوئی ایک ایرانی بھی مذاکرات کے لیئے دنیا میں کسی بھی جگہ ٹرمپ سے ہاتھ ملائے گا اور نہ ہی اس کے سامنے بیٹھے گا، اور جو ایسا کرے گا، اس کے لیئے ایران واپس آنے کی کوئی جگہ نہیں بچے گی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |