ادبی دنیا کا گمنام روشن ستارہ ’’قمرالدین قمرؔ ‘‘جرولی

گہوارۂ شعر و ادب مرکزِ علم و فن قصبہ جرول اپنی تاریخ کا مکمل باب ہے، جہاں کے علم و ہنر کی شمع سے قرب و جوار درخشاں نظر آتے ہیں ،یہاں کے مختلف شعرا و ادبا نے اس قصبے کی نمائندگی ہندوستان کے علاوہ بیرونِ ملک بھی کی ہے ،یہاں کی زرخیز مٹی نے شعرو ادب کو فروغ دینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی ہے ، اور رئیس ؔجرولی ،قسیم جرولی ؔ،فہیم جرولیؔ، اثیم جرولیؔ،دل جرولی،ؔ قوی جرولی،ؔ شاکر جرولی،ؔ اقبال جرولیؔ ،اشعرنوری جرولیؔ، اورپیکرجرولیؔ وغیرہ جیسے قد آور شعراکو جنم دیا وہیںاس ادبی سلسلے کی آخری شمع نوے کی دہا ئی میںقمر جرولیؔ کی شکل میںٹمٹماتی نظر آرہی ہے، جس کی لویں تومدھم ہیں مگر شعری خیالات آسمانِ ادب کو آج بھی پوری استقامت کے ساتھ روشنی عطا کر رہے ہیں۔

کئی زبانوں کے ماہر قمر جرولی ؔکی شاعری سماجی اور معاشرتی عکاس کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے ،کیونکہ ان کے یہاںاردو، اودھی اور ہندی کے کلام ان کے وقار میں اضافہ کرتے نظر آتے ہیں۔

QAMAR JARWALI
قمرالدین قمرؔ جرولی

قمر جرولی ؔ کے یہاں شاعری کے سارے اصناف اور ہیئت میں اپنے وجود کا احساس بھی دلاتی ہیں جس سے ان کی شاعری ساحریبن کر ابھر تی ہے اور موصوف کی حیثیت چودھویں کی چاند سے کم نظر نہیں آتی ہے،کیونکہ ان کی شاعری اخلاق و کردار سے مزین ہے اور عادات واطوار میں بھی بڑی شائستگی ہے ،ان کے یہاں اگر کلاسیکی روایت کی  وضع داری موجودہے تو وہیں لہجے میں طرزِ قدیم کی پیروی بھی ملتی ہے۔

انہوں نے شاعری کے ہر میدان میں اپنے نقوش قائم کئے ہیں اور ہر جگہ اپنے دیر پا اثرات چھوڑے ہیں مثلاً حمد، نعت، غزل ،نظم، قصیدہ ،مرثیہ،قطعہ، منقبت ،سلام وغیرہ کثرت سے ملتے ہیں، انہوں نے اپنی پوری حیات کتب بینی، کتب فروشی اور شاعری کے گہرہائے آبدار کو سنوار نے گزاری تو وہیں محبوب کی پیچیدہ زلفوں کو سلجھانے میں بھی بڑی مہارت سے کام لیا ہے،چھوٹی اور لمبی دونوں بحروں میں اشعار کہناان کا فطری امتیاز ہے۔ حمدِ باری تعالیٰ کے اشعار اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ خدا کی وحدانیت کی جلوہ گری کی غماز ہیں، ان کی حمد کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:۔

بشر سے ہو ثنا تیرییہ بالکل غیر ممکن ہے
فرشتے جب کہ رہتے ہر گھڑی حیران اے مولیٰ
جسے چاہے تو عزت دے جسے چاہے تو ذلت دے
جسے چاہے تو رحمت سے بنا سلطان، اے مولیٰ


قمرجرولیؔ کے یہاں عوامی جذبات کی عکاسی ملتی ہے اور ان کی شاعری سہل اور سلیس لفظوں کا ایک حسین باب ہے، ان کے یہاں لفظوں کی عقدہ کشائی ہے اور نہ ہی معنوی الجھاؤ ہے ،جو کچھ کہنا چاہتے صاف اور سیدھے لفظوں میں کہہ دیتے ہیں تاکہ سامعین معنوی بھول بھلیوں میں گم ہوں نہ ہی لغت بینی کی ضرورت محسوس ہو، نعتِ رسولؐ میں اپنی صلاحیتوں کا سلیقے سے استعمال کرتے ہیںاوربڑے پرجوش ہو کر کچھ اس انداز سے لب کشا ہوتے ہیں کہ دل کی پژمردہ  دنیامیں سرورانبساط کی کلیاں کھل جاتی ہیں ،کہتے ہیں:۔

نہ تلاشِ دیر و کعبہ نہ فراق طورِ سینا
مری چشمِ تر کی حسرت، رہے سامنے مدینہ
صفِ انبیاء میں ایسے نظر آتے ہیں محمدؐ
کہ انگوٹھی میں ہو جیسے، کوئی قیمتی نگینہ
چاہو قربِ رب کو، پکڑو بنیؐ کا دامن
اُن سے قمر ملے گا، وحدانیت کا زینہ

قمر جرولیؔ اپنی خوبصورت نعت ’’صحنِ محشر ‘‘کے ذریعے عوام کے دلوں میں دلکشی پیدا کردیتے ہیں جس سے خزاں رسیدہ چمن میں بہار، کمھلائے ہوئے پھولوں میں تازگی اور فضائے بسیط میں دلفریب و شادابی مناظر نمایاں ہوجاتے ہیں،جس کی ترجمانی ان کے اس شعر سے ہوتی ہے جو ان کی شاعری میں چمک بکھیرتی ہے:۔

اے شفیع الاممؐ تاجدارِ حرم ،یوں نظر آپ کی مہرباں ہوگئی
مٹ گئی ساری الجھن خدا کی قسم،دل کی کشتی بھنور سے رواں ہوگئی
جب ملیں رفعتیںکیا سے کیا بن گئی، اوج پاکر کہاں سے کہاںہوگئی
ان کے پیروں تلے آگئی جو زمیں،دیکھتے دیکھتے آسماں ہوگئی

قمر جرولیؔ دربارِ رسالت مآب میں گلہائے عقیدت بڑے انہماک سے پیش کرتے ہیں اور شرفِ حصولِ حاضری کے بعدکسی بھی دنیاوی امراء وسلاطین کو خاطر میں نہیں لاتے،محبت ِ رسولؐ میں کائنات کی ساری چیزوں کو نثارکرنے والے قمرصاحبؔ اس عالمِ فانی کی قیمتیسے قیمتی چیزوں کو اپنی ٹھوکر میں رکھتے ہیں اور جسے لذتِ عشقِ نبیؐ حاصل ہوجائے تو اس کاکہنا ہی کیا، اس کی ٹھوکر میں تو زمانہ رہتا ہی ہے جس کی ترجمانی ان کے اس شعر سے ہوتی ہے،کہتے ہیں:۔

گدائے مصطفیؐ رکھتے ہیں ٹھوکر میں شہنشاہی
کسی کے سامنے وہ ہاتھ پھیلایا نہیں کرتے
٭٭٭

رضواں ہمیں نہ چھیڑ، خدایا ہمیں نہ چھیڑ
آغوشِ مدینہ میں ارم دیکھ رہے ہیں

قمر جرولیؔ اپنی شاعری میں نعت کو مقدم رکھتے ہیں ، انہوں نے نعتیں کثرت سے کہیں ہیں، ان کی پوری شاعری کا  احاطہ کیا جائے تو ان کی شاعری کا بیشتر حصہ نعتِ نبیؐ پرہی مبنی ہے اور ان میں اودھی اور ہندی کے نعتوں کاایک طویل سلسلہ ہے جس سے قمر جرولیؔ کو اردو کے علاوہ اودھی اور ہندی کا بھی شاعر کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، اردو شاعری میں ان کا تعارف ان کے ہندی اور اودھی کلام کی مقبولیت کے سبب ہوئی ہے،کیونکہ جرول اودھ کا ایک مستقل اورمستحکم علاقہ رہا ہے جہاں کی عوام اودھی کو اپنی روزمرہ کی زبان بنائے ہوئے ہے اسی وجہ سے ان کی مقبولیت میں دن بہ دن ترقی ہی ہوتی چلی گئی۔

موصوف کا اودھی اور ہندی کلام اپنے اندرایک نادر اندازِ بیان اور زورِ کلام رکھتا ہے جہاں غنائیت اور موسیقیت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے اورسامعین پر ایک حال طاری ہوجاتا ہے یہ ان کا خاصہ ہیں، ان کی اودھی نعت کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں جو دل کے تاروں میں ایک مضرابی کیفیت چھیڑ دیتے ہیں:۔

چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا
جہاں نوری رحمت کی لاگی بجریا
نور کے بادل جہواں بَرسے
نین ہمارے دیکھن ترسے
سُونی سُونی لاگت ہے من کی نگریا
چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا

جن کے دوارے بھیک ملت ہے
شاہ و گدا کی جھولی بھرت ہے
بھر بھر لاویں سب اپنی گگریا
چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا

دائی حلیمہ کی بکری چراویں
ڑھون، غریبن کی گٹھری اٹھاویں
شفاعت کے ہے جن کے ماتھے پگڑیا
چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا

کھجورن کے چھیاّں ما ہم سُستیبے
اپنے نبیؐ کا ہم دکھڑا سُنیبے
جن کے کرم کی چلت ہے بَیریا
چلو چلی دیکھ آئی طیبہ نگریا

قمر صاحب ؔنے نعت ومنقبت کے ساتھ ساتھ بہت سے سلام بھی تحریر کئے ہیںان میں ان کاایک بہت ہی مشہور سلام ہے جس میں ہندی ،عربی اور اردو کے جمالیاتی لفظوں کی آمیزش ہے ،جو سننے والوں کے دلوں میں اپنا مقام بنا لیتا ہے،اس کا جادوئی لب و لہجہ روحانی دنیا میں تازگی بخش دیتا ہے۔اس کی ایک مثال پیشِ نظر ہے:۔

الصلوٰۃعلی النبی،والصلوٰۃ علی الرسول،
یا شافع الابطحی، وامحمد عربی
عبداللہ کے پوت سپوت، تمرے سیوک دَیو کے دوت
تمرا سہارا ہے مضبوط، تم کا مانے چھوت اچھوت
الصلوٰۃعلی النبی،والصلوٰۃ علی الرسول،
یا شافع الابطحی، وامحمد عربی
تمرا روپ رچس کرتار، تم پر موہا خود انہار
راتن رات گیو ہردوار، لوٹ پڑیو ہوتے بھنسار
الصلوٰۃعلی النبی،والصلوٰۃ علی الرسول،
یا شافع الابطحی، وامحمد عربی
امت کارن تجیو پران، حسنؓ حسینؓ کیہو قربان
کربل بیچ مچی گھمسان، موڑن کاٹ کیہو کھریہان
الصلوٰۃعلی النبی،والصلوٰۃ علی الرسول،
یا شافع الابطحی، وامحمد عربی

قمر جرولیؔ جہاں ایک طرف محبوبِ حقیقی اور عشقِ رسول میں جنبشِ قلم ہوئے ہیں تو دوسری طرف محبوبِ مجازی کو بھی اپنی شاعری کا محور بنایا ہے ،کیونکہ عشقِ مجازی ہی عشقِ حقیقی کااول زینہ ہوتا ہے پھر آگے چل کر راستے مختلف سمت اختیار کر لیتے ہیں جس میں ایک حقیقی اور دوسرا مجازی ہوتا ہے ، اسی طر ح موصوف نے دونوں کا سفر بڑے پر سکون طریقے سے کیاہے اسی لئے ان کی شاعری میں بھی محبوب سے گلہ شکوہ اور ہجرو وصال کی کیفیات ملتیں ہیں جس کو موصوف نے برتا بھی ہے اور نبھایا بھی ہے۔

قمر صاحبؔ بھی عارضی محبوب کے دامِ فریب سے خود کو بھی نہیں بچا سکے اور اس کی حسین یادوں میں کھو کرخیالات کے خوشنماوادیوں کی سیر بھی کرتے ہیں اور محبوب کی خوش گفتاری سے محظوظ بھی ہوتے ہیں ،مگر جب دل کی دنیا ظلمتِ شب کی کرب ناکیوں سے گزرنے لگتی ہے تو اپنے محبوب سے یو ںگویا ہوتے ہیں:۔

سو بار رُلایا ہے اک بار ہنسا دیجئے
جب آگ لگائی ہے شعلہ بھی بجھا دیجئے
٭٭٭

مجھ پہ بھی ایک عنایت کی نظر ہوجائے
آپ چاہیں تو شبِ غم کی سحر ہو جائے

موصوف اپنے محبو ب کو چاند سے بھی زیادہ روشن مانتے ہیں،ا ور اس کو کسی اجنبی کے ساتھ دیکھنا پسندنہیں کرتے بلکہ ہر لمحہ اس کو اپنی یادوں میں بسانے کے خواہاں رہتے ہیںـ:۔

ان کی زلفوں سے گھٹاؤں نے ہے مانگی خیرات
دیکھ لے چہرہ تو شرمندہ قمر ہوجائے
٭٭٭

نیندیں حرام ہوگئیں اس روز سے مری
دیکھا ہے جب سے میں نے تمہیں اجنبی کے ساتھ

ان کے یہاں رباعیوں کا بھی طویل سلسلہ ہے جس میںبہت ہی سہل اور سادے لفظوں میں اشعار ملتے ہیں جو ان کے تجربات اور پختگی کی دلیل ہیں۔ :

جب ترے در پہ بندگی ہوگی
تب مکمل یہ زندگی ہوگی
رازِ دل مجھ سے کیوں چھپاتے ہو
بات تو کچھ نہ کچھ ہوئی ہوگی
٭٭٭

جو برباد گلشن ہمارے ہوئے ہیں
کسی باغباں کے اشارے ہوئے ہیں
ترے حسنِ جاناں کی خیرات لینے
بہت لوگ دامن پسارے ہوئے ہیں
قمرصاحب ؔحق بیانی اور غیر جانبدای سے کام لیتے ہیں اور سماج کی آئینہ داری بھی بڑے خلوص سے کرتے ہیں اور معاشرے میں پیش آنے والے واقعات کی منظر کشی اور منظر نگاری بڑے سلیقے سے کرتے ہیں مگر سیاست سے دور رہ کر، سن بیاسی۱۹۸۲ء؁میں اسی قصبے میں ایک سیلابی طوفان آیا تھا اور جرول کے قرب و اطراف کے ہر گھر میں پانی بھر گیا تھا اور حدِ نگاہ تک صرف پانی ہی پانی نظر آتا تھاجس کی قیامت خیزی سے بہت سے کچے و پکے مکانات زمیں بوس ہوگئے تھے اور فصلیں بھی تباہ ہوگئی تھیں گویا بہت زیادہ مالی نقصان ہوا تھا،اس کی عکاسی کچھ اس انداز سے پیش کی کہ یہ اشعار آج بھی لوگوں کی زبان پر رواں رہتے :۔

جِیَرا کیسے ہم سمجھائی اب دوہائی رے اللہ
کھیت گھر کی بھئی صفائی اب دوہائی رے اللہ
سَن بیاسی نواں مہینہ آوا جب طوفان
گَھرن گَھرن ما پانی بھر گا عقل بھئی حیران
کَونَو رستہ نہیں سوجھائی اب دوہائی رے اللہ
جرول کٹرہ اور چوہدی مچ گئی ہاہاکار
جَہرے دیکھو وَہرے ہَلّہ ہر سو یہی پکار
نیّا لاؤ جلدی بھائی اب دوہائی رے اللہ
قمرؔجرولی کے یہاں شاعری کے مختلف اصناف و ہیئتوںپر طبع آزمائی ملتی ہے ،مگر ان کو نعتِ رسولؐ سے جو الفت وعقیدت ہے اور اس میں جو لذت ملتی ہے وہ شاید کسی دوسری اصناف میں نہیں، اسی لئے ان کا نعتیہ کلام بہ نسبت غزلوں کے زیادہ ہے۔

انہوں نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہ سیاسی ابتری کا دور تھااور قمر جرولیؔ نے اپنی آنکھوں سے بہت سے پُر آشوب ،پُر فتن اورخونی سیاسی مناظربھی دیکھے ہیں اور فرنگیوں کے ظلم وستم کے مشاہدے بھی بہت قریب سے کئے ہیں مگراس کے باوجود سیاسی مسائل سے خود کو مسثنیٰ رکھا اور خاموشی سے صرف ادبی معاملات سے ہی سروکار رکھا اسی لئے ان کی شاعری میں کوئی سیاسی پہلو نظر نہیں آتاہے ،جب کہ جرول ایک سرگرم اور فعال قصبہ تھا اور یہیں سے انگریزوں کے خلاف پریس’’ مطبع عین الفیوض‘‘(جو سید جعفر مہدی کے گھر میں تھا ) سے جنگِ آزادی کے مضامین شائع ہوتے تھے جس کے ضمن میں انگریزوں نے اس پریس کوضبط کرلیا تھا۔

ان کے یہاں اضافتوں کا استعمال بہت عمدہ پیرائے میں ملتا ہے،لفظوں کی لطافت اور معنوی شائستگی ان کے یہاں بدرجۂ اتم موجود ہیں ،مگر موجودہ عوام کا خاص خیال کچھ یوں رکھتے ہیں کہ بہت پیچیدہ اور معنی آفرینی سے گریز کرتے ہیں ،صرف عوامی شاعری سے ہی اپنی شناخت قائم کرتے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تر کلام عوامی نفسیات کی نباضی کرتاہے اور موجودہ دور کے مدِ نظر انہوں نے عوام کی بالکل حقیقی نمائندگی کی ہے۔

ان کے چارنعتیہ مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں اور عوام میں ان کی کافی مقبولیت بھی رہی ہے ،پہلا مجموعہ’’نورِ عرفاں حصہ اول‘‘’’نورِ عرفاں حصہ دوم‘‘کلامِ قمر ’’اور عرفانِ محمدؐ ‘‘ان کی نعتیہ تصانیف ہیں جو مذکورہ زبانوں پر مبنی ہیں۔

ان کی شاعری میں ان کی شخصیت کی پوری چھاپ نظر آتی ہے، خوش مزاجی اورخندہ پیشانی سے ملنا خاص وصف ہے جوان کو عوام میں ممتاز بناتا ہے۔ انہوں نے مختلف موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے اور اس میں اخلاص ومحبت کا ایسا جادو جگایا ہے جس کو پڑھ کر قاری یا سامعین بے ساختہ واہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ان کو لفظوں کے استعمال اور اس کو نبھانے کا جو فن معلوم ہے اس کی مثال قمر جرولیؔ خود ہیں۔ اس کے باوجود ادب کا یہ مایہ ناز شاعر اردو دنیا سے اس طرح گم ہے جیسے کہ دنیائے ادب سے نہ تو ا ن کا کوئی تعلق ہو اور نہ ہی ان کی کوئی شناخت۔اس کے باوجود وہ جرول قصبہ کے منعقدہ مشاعرے میں چاہے وہ طرحی ہوں یا غیر طرحی شرکت ضرور کرتے تھے،یہ ان کا اردو ادب پر بڑا احسان ہے۔

ABDULLAH Hindi

محمد عبداللہ

مصطفی آباد،ضلع بہرائچ

اترپردیش

محمد عبداللہ

Next Post

کوہ قاف کی ڈائری

پیر جولائی 19 , 2021
باکو میں امام موسی کاظمؑ کی بیٹیاں دفن ہیں توجنجا شہر میں امام محمد باقرؑ کے دو بیٹے اسماعیلؑ اور ابراھیمؑ کے مزارہیں ۔ صوبہ نیخچوان میں اصحاب کہف کی غار ہے ۔
fantasy