اوراق انوار – اوّل

شخصیات اٹک کے حوالے سے علماء و مشائخ اہلسنت کے احوال کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے کا ایک باب اوراق انوار کے عنوان سے جناب حضرت علامہ قاضی انوار الحق رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں قائم کیا گیا ہے۔ اس میں ان کے احوال پرچیدہ و چنیدہ مضامین شائع کیے جائینگے۔ یہ اس سلسلے کا پہلا مضمون ہے جو قبلہ نذر صابری مرحوم و مغفور کی تحریر ہے۔

آغا جہانگیر بخاری

مولانا قاضی انوار الحق رحمۃ اللہ تعالی

تحریر : نذر صابری مرحوم

میں 1948ء کے شروع میں ہی کیمبل پور آگیا تھا۔ راجہ نذیر کے پڑوس میں مکان تھا۔ کالج کو آتے جاتے ان کی دوکان کی طرف قدرتی طور پر نظر اُٹھ جاتی تھی، وہاں ایک شخص متناسب الاعضا، شلوار، اچکن اور طرہ دار پگڑی میں گاہے گاہے نظر آتا تھا۔ کچھ عرصے بعد تجسس یہ خبر لایا کہ شمس آباد کے ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔ تقسیم ملک سے کچھ عرصہ قبل ریاست جونا گڑھ کے مفتی اعظم رہ چکے ہیں۔ ابھی جامعہ حنفیہ کا وجود عمل میں نہیں آیا تھا۔ میں نماز مرکزی جامع مسجد میں ادا کیا کرتا تھا۔ مولانا محمد عمر لدھیانویؒ ان دنوں خطیب تھے اور یوں وہ اس مسجد کے پہلے پاکستانی خطیب ٹھہرے۔وہ پیشہ کے اعتبار سے طبیب تھے۔ بازار میں ان کو ایک دوکان الاٹ ہوگئی تھی۔ اہل درد میں سے تھے۔ حلیم الطبع، خوددار، متوکل، حق گو، نرم گفتار اور جوش محفل تھے۔ وعظ میں زیادہ تر مردانِ خدا کا ذکر اور ان کی سیرت و فضائل کا تذکرہ ہوتا تھا۔وہ زیادہ دیر تک نہ ٹھہر سکے، مسجد کی انتظامیہ سے بیزار ہوکر لاہور چلے گئے اور وہیں بیگم شاہی مسجد میں خطیب ہوگئے۔ ان کے بعد مولانا زاہد الحسینیؒ خطیب مقرر ہوئے۔ وہ دیوبند کے فاضل اور مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ اس نسبت سے حسینی کہلاتے تھے۔مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلیفہ مجاز تھے اور کئی کتابوں کے مصنف بھی۔ وہ مقامی آدمی تھے ، مقامی سیاست کو اچھی طرح سمجھے ہوئے تھے، سنبھل کر چلتے رہے۔ دس جنوری 1953ء کو مولانا ایبٹ آباد میں پروفیسر ہو کر چلے گئے۔ اب مسجد کی انتظامیہ کو کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ نمازی واضح طور پر دو گروہوں میں بٹ گئے۔ خطیب کے انتخاب پر دونوں گروہوں میں ٹھن گئی اور یہ رسہ کشی دیر تک چلتی رہی۔ بظاہر اس کو مہاجروں کی شرارت قرار دیا گیا، مگر اصل میں اس کی بنیاد دیوبندی اور بریلوی عقائد کی دیرینہ کش مکش پر تھی۔ حالات کو ناقابل اصلاح پا کر بریلوی عقائد ولوں نے بازار والے مدرسے سے ملحقہ ‘جنج گھر’ میں نماز ادا کرنا شروع کردی۔ مرکزی مسجد والوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور شہر میں سرد جنگ شروع ہوگئی ۔کبھی کہتے مندر ہے, اس میں نماز نہیں ہو سکتی ,کبھی کہتے یہ مسجد ضرار ہے,کبھی مہاجروں کی مسجد کا نام دیتے اور ضلعی افسروں کے بھی کان بھرتے رہے۔

Qazi Anwaar Ul Haq
مولانا قاضی انوار الحق رحمۃ اللہ تعالی

    بالآخر فیروز خان نون کے دورِ اقتدار میں خواجہ محمد شریف کی مساعی جمیلہ سے یہ جگہ  مسجدکےطور پر الاٹ کر دی گئی ۔مولوی خوشی محمد اس کے پہلے خطیب ہوئے ۔وہ ایف ۔پی ۔ او میں ملازم تھے۔علوم دینی پر اچھا خاصا عبور رکھتے تھے اور اپنے عقائد کے اظہار میں ننگی تلوار کی طرح تھے۔مخالف گروہ اس قسم کےمتشدد کو کب برداشت کرتا تھا ۔افسرانِ بالا سے مل کر انکو یہاں سےبدلوا کرچھوڑا۔ان کے بعد مولانا قاضی انوارالحق ،وہی جن کو بار بار پہلے نذیر کی دوکان پر دیکھتا رہا تھا،حنفیہ کے خطیب مقرر ہو کر آئے۔

 مولانا انوارالحق کے دورِ خطابت کے شروع میں جب کہ وزیرِ اعلیٰ فیروز خان نون تھا ۔محکمہ آ باد کاری کے کمشنر شیخ منظور الہیٰ تھے۔یہ جگہ مسجد اور مدرسے کےلئے باقاعدہ طور پر الاٹ ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی مخالفت کا ایک دور اپنے اختتام کو پہنچا ،مگر اب ایک دوسرے محاذ پر لڑائی شروع ہو  گئی ۔مولانا کی ذات کو ہدفِ تنقید بنایا جانے  لگااور مختلف قسم کی الزام تراشی شروع کر دی۔

        میں نے گھر پر ایک خصوصی تقریب میں چند احباب کو شام کے کھانے پر دعوت دی,اس میں مولانا بطورِ خاص مدعو تھے۔ہمارے مکان کے ساتھ کوئی بیٹھک نہيں تھی,لہٰذا راجہ نذیر احمد (پڑوسی )کی بیٹھک میں اہتمام کیاگیا ۔میں مولانا کے پاس بیٹھا تھا ۔سید محمود کوثر بھی ساتھ تھے۔کھانے کے بعد کوثر نےمجھ کو ایک پان دیا ۔کھایا تو میرا سر چکرانے لگا,جیسے زلزلہ آ گیا ہو ۔میری سراسیمگی دیکھ کرمولانا نے پوچھا !میرے بتانے پر انہوں نےمسکرا کر فرمایا !کوثر نے شرارت کی ہے۔تمباکو والا پان کھلا دیا ہے،فکر نہ کریں ابھی تھوڑی دیر میں یہ کیفیت رفع ہو جائے گی۔میں نے شاہ صاحب کی طرف دیکھا تو وہ اپنی کامیابی پر مسکرا رہے تھے ۔کوثر سے پہلی ملاقات 7,ستمبر 1953ء,(سعداللہ کلیم کی شادی کی تاریخ )کے کچھ بعد ہوئی ۔لہٰذا گمان غالب  ہے کہ مولانا کےساتھ اس سے پہلے  راہ ورسم آشنائی قائم ہو  چکے تھے۔

علامہ قاضی انوار الحقؒ کی زمانہ طالب علمی  کی تصویر گورنمنٹ کالج کیمبل پور
علامہ قاضی انوار الحقؒ کی زمانہ طالب علمی کی تصویر گورنمنٹ کالج کیمبل پور

مولانا بالعموم  عصر کے وقت شہر  آتے تھے ۔ نماز  مغرب اور عشا پڑھ کر جاتے تھے،بار بار ایسا ہوا کہ نمازِ عشا سے فارغ ہو کر کچھ نمازی مشایعت کی خاطرمولانا کے ساتھ دور دور تک چلے جاتے تھے ۔مولانا کو معلوم تھا کہ میں چائے کا بڑا رسیا ہوں ۔راستے میں چائے کی کسی دوکان پر رک جاتےاور چائے کا دور چلتا ۔مٹھائی کا پوچھتے توبے تکلف ہاں کہہ دیتا۔میرے ساتھ والے اس پر مجھے کہنی مارتے،میں کہتا علماء کا رزق بہت بابرکت اور پر نور ہوتا ہے۔یہ نعمت ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔کبھی چلتے چلتے ان کےگھر پہنچ جاتے۔وہاں خوب تواضع فرماتے ۔وہ کھلا پلا کر بہت خوش ہوتے تھے ۔

       جن دنوں مولانا نے عشا کے بعد مشکوٰۃ شریف کا درس دینا شروع کیا,میں نے بالالتزام درس میں شرکت شروع کر دی,مگر درس کے دوران اونگھتا اور سوتا رہتا,جی ہی جی میں شرمندہ تھا کہ کس درجے بد بخت ہوں ۔حدیث پاک کے درس میں سویا رہتا ہوں,اس سے بہتر ہے کہ آیا ہی نہ کروں۔آخر یہ کیا ہےاور کیوں ہے؟ایک روز میں نے مولانا سے اپنی ساری کیفیت کہہ ڈالی۔فرمانے لگے!حضور پاکﷺ کی حدیث ماں کی لوری کی طرح ہے۔تمہاری روح بہت پاکیزہ اور لطیف ہے,اس کو سن کر جھومتی رہتی ہے۔مجھے گمان تک بھی نہ تھا کہ مولانا میری اس بد بختی کوسعادت کا ایسا خوبصورت لباس پہنا دیں گے کہ کل قیامت میں سرور انبیاء ﷺ سے واسطہ پڑے گا تو نہ جانے وہ خطا پوش و کریم میری خطاؤں اور سیاہ کاریوں سے کیا معاملہ کریں گے۔یقیناً ان کی نگاہِ کرم بھی میری بدیوں کو نیکیوں کا لباس پہنا دے گی۔         ایک بار کالج میں تشریف لائے تو ایک ساتھ ہی اٹھے ،راستے میں,میں نے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص حضور ﷺ کو خواب میں دیکھے ,مگر صورت ایسی ہو کہ اس کی طبیعت مطمئن نہ ہو رہی ہو توکیا  ؟ارشاد فرمایا : اس نے خواب میں یقیناً حضور ﷺ کو دیکھا ہےالبتہ اس کے دل کا آئینہ گدلا اور نا صاف ہے ۔جس کی وجہ سےآپ ﷺ کی صورتِ زیبا اچھی طرح منعکس نہیں ہو پاتی۔

 5 اکتوبر 1957 ء کو مولانا کی صدارت  میں محفل شعر و ادب کا افتتاحی  اجلاس جامعہ حنفیہ میں میں منعقد ہوا۔ جو عرس نعتیہ مشاعرہ پر مبنی تھا۔ مولانا نے میری نعت کو خاص طور پر پسند کیا  اور اس کی ایک نقل طلب کی۔ایک دو بار بعد میں انہوں نے تقاضا کیا۔میں ہر بار کہتا رہا کہ خوش خط لکھوا کر آپ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ مگر افسوس یہ وعدہ کبھی پورا نہ کر سکا,اس لئے مجھے اپنی کم کوشی پر جس قدر بھی افسوس ہو کم ہےاس مشاعرے کے بارے میں بعض حلقوں میں یہ کہا جانے لگا کہ لو جی!اب تو مسجد میں بھی مشاعرے ہونے لگے ہیں۔ان کو مشاعرے کا لفظ تو یاد رہا، مگر نعتیہ کا سابقہ نظر انداز ہو گیا۔ہم خوش تھے کہ چلو کسی رنگ میں ہی سہی،مخالف نے اسے مسجد تو تسلیم کر لیا

        2نومبر 1957 ء کو سید کوثر کے گھر پر بابا بہرام چشتی کی صدارت میں بڑی گیارہویں شریف کا عرس ہوا۔ مضامین اور عربی مشاعرہ کے بعد قوالی کا پروگرام تھا۔مولانا مشاعرہ تک تشریف فرما رہےاور قوالی سے پہلے رخصت ہو گئے ۔گوانھوں نے کبھی سماع کی مخالفت نہیں کی,مگر خطیب شہر ہونے کے ناطےان کا اٹھ جانا بہتر تھا ۔ورنہ مخالفت کا ایک اور باب کھل جاتا۔5/فروری 1959ء مولانا ہی کی  صدارت میں جامعہ حنفیہ “میں ایک اور نعتیہ طرحی مشاعرہ ہوا۔اس اجلاس کے خلاف کوئی آواز سنائی نہیں دی۔شاید بات ان کو سمجھ آ گئی تھی ۔25 جنوری 1970ء کے جشنِ معراج اور 20 مارچ 1970ء کے یوم بو ترابؑ ” میں بھی وہ صدرِ محفل تھے۔ان دونوں مواقع پر انھوں نے خطبہ صدارت میں اپنے حکیمانہ افکار وتصورات سے نوازا۔

        13مئی 1970ءکو خاندانی منصوبہ بندی کے اہم مسئلے پر ایک مجلسِ مذاکرہ منعقد ہوئی ,اس کے صدر بھی مولانا ہی تھے۔شہر کے سر برآوردہ اہلِ علم نے اس میں بھر پور حصہ لیا۔یہ پوری کارروائی رقم الحروف نے ملک عنایت الہیٰ کی فرمائش پر مرتب کی اور ان کے مجلے “نئی کرن”میں شائع ہو کر دادوتحسین کا باعث ہوئی ۔شہر کے علمی وادبی حلقوں نے بڑا سراہا اور ساتھ ہی مولانا کی تجدد پسندی پر حیرت کا اظہار بھی کیا ۔ مذاکرہ سے چند روز قبل مولانا کو کالج لائبریری سے اس موضوع پر چند کتابیں فراہم کی گئی تھیں۔مجھے اچھی طرح یاد ان میں ایک کتاب مولانا مودودی کی اسلام اور ضبطِ  ولادت “بھی تھی اور دوسری  کے مصنف مولانا  جعفر شاہ پھلواری تھے۔

یہ مولانا ایک  عظیم   علمی اور روحانی شخصیت (شاہ سلیمان پھلواری ؒ ) کے فرزند تھے مگر ان میں باپ کی عظمتوں کا کوئی رنگ نہ تھا ، تقسیم  سے قبل وہ کپور تھلہ کی شاہی مسجد کے خطیب رہے ہیں اور پاکستان بنا تو”ادارہ ثقافت اسلامیہ “کے رکن ہو گئے ،سرکاری مولوی ہونے کے ناطے ان کی تحریروں کا حکومتی پالیسی سے ہم آہنگ ہوناضروری تھا۔

        27نومبر 1972ء”یوم رومی و تبریزی ” منایا گیا تو اس کی صدارت برگیڈیئر گلزار  احمد نے کی۔صدر کے علاوہ دیگر مقررین میں مولانا محمد زاہد الحسینی ,ڈاکٹر غلام جیلانی برق اور مولانا انوارالحق کے نام شامل تھے،اجلاس بہت بھرپور تھا۔محفل نے تمام تقاریر کو ایک کتابی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔صدر اور مولانا زاہد الحسینی کی تقریریں لکھی ہوئی تھیں ۔جب کہ ڈاکٹر برق اور مولانا کی تقاریر برجستہ تھیں ۔اشارات کی مدد سے میں نے ڈاکٹر کی تسویدکی اور پھر ان کو دکھانے کےلئے پبلک سکول گیا۔لطف کی بات ہے کہ انہوں نے میری کاوش کی بہت تعریف کی اور پوری تقریر میں صرف ایک جملے کو قلم زد کیا۔اس سے میری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی ۔ایسی ہی تقریر لکھ کر مولانا  قاضی انوارالحق کے روبرو لے گیا تو ردِ عمل مختلف تھا۔انہوں نے میری تقریر رکھ لی اور چند روز کے بعد خود اپنی تقریر لکھ کر میرے حوالے کی اور میری لکھی ہوئی تقریر کو واپس نہیں کیا۔ردی کی ٹوکری میں پھینک دیاہو گا,اگر وہ ساتھ میں لکھی ہوئی تقریر بھی واپس کر دیتے تو مجھے اپنی کاوش پہ نظر ثانی کا موقع ملتا۔جو شخص ڈاکٹر برق سے داد پا چکا ہو،مولانا کے رویے پر بگڑنے کےلئے اس کے پاس اچھا خاصا مواد ہو سکتا تھا،مگر سفرِ محبت اس پر بھی جاری وساری رہا۔

اس کے بعد مولانا کچھ مدت کےلئے تبلیغی دورے پر جنوبی افریقہ تشریف لے گئے ۔ان کی عدم موجودگی میں راولپنڈی سے ہر جمعہ کو ڈاکٹر محمد یوسف نام کے ایک شخص آتے رہے ۔خوش الحان مگر ان کا مبلغ علم قصہ کہانیوں سے آگے نہیں بڑھتا تھا۔داستان گومولوی تھے اگر ان کو مولوی  کہا جا سکتا ہے تو ۔تاہم ان کی ترنم اور داستان گوئی نے عوامی زخموں کو بہت متاثر کیا۔سالہاسال کی خطابت نے عوام   کے دلوں میں اگر کچھ دینی شعور پیدا بھی کیا تھا تو ایک قصہ خوان مولوی اس کو چند دنوں میں اپنے ترنم کے ساتھ بہا کر لے گیا۔خدا خدا کر کےاس واعظ سے نجات ملی اور مولانا دوبارہ اپنے منصب پر فائز ہو گئے ۔

     18مئی1979ء کو مولانا انوارالحق کے بڑے لڑکے محمد قاسم کی شادی تھی۔مجھے  دعوت تو تھی ,میں اس لیئے شامل نہیں ہوا کہ دو ماہ قبل میری بیٹی کی شادی میں شریک نہیں ہوئے تھے ۔اور نہ بعد میں عذر و معذرت کسی قسم کا انکی زبان پر آیا۔اگلے روز مولانا زاہد الحسن کی زبانی معلوم ہوا کہ دعوت ولیمہ میں دو قسم  کا کھانا تھا ۔ایک عوام کے لیے اور دوسرا خواص کے لیے ۔       14/اپریل 1974ء کو کالج لائبریری میں سیرت النبی ﷺکے موضوع پر ایک خصوصی اجلاس کا اہتمام کیا گیا تھا ۔مولانا عبدالرحمن طاہر سورتی ,رکن تحقیقات اسلامیہ ,اسلام آباد بطورِ خاص مدعو تھے۔طاہر سورتی کی تقریر اہلِ شہر کےلئے نہیں تھی ۔انہوں نے بڑی آزادی سے اسلامی معاشرے پر تنقید کی اور اسلامی اداروں کی روایت پرستی کو ہدفِ تنقید ٹھہرایا ۔اس کو ہمارے بعض دوستوں نے پسند نہیں کیا تھا۔مولانا انوارالحق کی تقریر ختمِ نبوت ﷺکے موضوع  پر تھی ۔لوگوں نے اسے بہت پسند کیا۔مولانا نے یہ دلائل اس گروہ کو خارج از اسلام قرار  دیا اور فتویٰ یہ دیا کہ :”جو حضور ﷺکو معروف معنوں میں آخری  نبی ﷺ نہیں مانتا وہ اسلام سے خارج ہے “میرا اپنا بھی دل خوش  ہوا ,ایمان میں تازگی آئی ۔ہمارے اس اجلاس کے کچھ ماہ بعد ملک بھر میں تحریک ختمِ نبوت ﷺ زور پکڑ گئی اور ہر شہر اور قریہ میں قادیانیوں کے خلاف زبردست مظاہرے شروع ہو گئے ۔علما ہر اول دستوں میں تھے ۔شہر کی قیادت مرکزی جامع مسجد کے خطیب قاری خلیل کے ہاتھ میں تھی۔

14دسمبر 1974ء میں غالباً قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے دیا,تاہم تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی ۔قادیانیوں کے بارے میں بعض اور مسائل بھی طے ہونا باقی تھے ۔غیر مسلم قرار دینے کے بعد ان کی زندگی کے مختلف  شعبوں پر اثرات مرتب ہوتے تھے ۔ لہٰذا  تحریک جاری رہی ۔۱۲/جنوری ۱۹۷۵ کو فوارہ چوک میں علماء کا ایک بڑا  اجتماع ہوا،ہر مکتبہ فکر کے عالم نے  شرکت کی۔

   14 ستمبر 1967ء مطابق  19/جمادی الثانی  1387ھ کو ساڑھےسات بجے شام حاجی عبدالعزیز کی دوکان پر مولانا انوارالحق کے ساتھ  ملاقات  ہوئی اور مختلف مسائل زیرِ بحث   رہے ۔پرنسپل   ظہور احمد, شیخ قبد الحمید سہروردی,ملک محمد اکرم(شمس آباد )ڈائریکٹرمحکمۂ تعلیمات راولپنڈی (ثریا سلیم )اور کمشنر پنڈی ڈویژن کا تذکرہ ہوتا رہا ۔میرے سر میں ہلکا ہلکا درد تھا،میں نے نگاہ کی کمزوری کا ذکر کیا تو انہوں نے عینک لگانے پر زور دیا اور ساتھ میں یہ بھی تجویز تھی کہ پرانے سے پرانا شہد اگر مل سکے تو دونوں آنکھوں میں اس کی ایک ایک سلائی ڈالیں ۔بصارت کےلئے بہت مفید ہے۔اس محفل میں میرے نبیﷺ کے معجزات کا بھی ذکر آیا۔سائنس کی طرف سے شق القمر کی تصدیق کا تذکرہ ہوا،یہ بھی ذکر آیا کہ نبیﷺ نور ہیں تو بھی اور اگر بشر ہیں تو بھی سراپا اعجاز ہیں ۔نور کھاتا پیتا نہیں اور بشر عرش پر جا نہیں سکتا ؛یہاں یہ دونوں اوصاف موجود ہیں۔

          پروفیسر اشفاق علی خان کو یہاں آئے ہوئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔پروفیسر محمد عثمان ،کالج میں اور کالج سے باہر بھی اکثر ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ایک  دن مولانا نے احتجاجاً پوچھاکہ تمہارا پرنسپل اور پروفیسر محمد عثمان ,شام کو خشک میوے کی دوکان کے سامنے سٹول پر بیٹھ کر چلغوزے وغيرہ کھاتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔میں نے گزارش کی کہ پروفیسر اشفاق علی خان نیا آدمی ہے ، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ,ممکن وہ طبعاً عوام پسند ہو مگر,مگر پروفیسر عثمان کو بھی اچھی طرح جانتا ہوں ,اس کا یہ اصلی رنگ نہیں۔یہ لوگ تو اپنے شاگردوں کو بھی ایک فاصلے پر رکھنے کے عادی ہیں۔اس کا کوئی مقصد ہے ,جس کی وجہ  سے وہ اشفاق علی خان کےاس درجے قریب نظر آتا ہے اوران کے ساتھ عوامی سطح پر اترنا بھی گوارا کر رہا ہے۔میرا اندازہ بالکل درست نکلااور جلد ہی پروفیسر عثمان یہاں سے تبدیل ہو کر گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے ۔یہ ان کی دیرینہ آذرش تھی۔

شروع شروع میں ،جب میں چوبارہ میں رہا کرتا تھا ، بچے زیادہ تر بیمار رہتے تھے ۔بعض اوقات مولانا سے تعویذ لیتا تھا ۔ایک دفعہ تعویذ لیا،شفا ہو گئی ۔مگر کچھ دنوں  بعد شکایت عود کر آئی۔میں نے گزارش کی تو پوچھا:تعویذ کا کیا کیا تھا؟میں نے کہا گھر میں پڑا ہے فرمانے لگےکہ’اس کو شہر سے دور  کسی بیری کے بلند درخت کی بلند شاخوں  سے باندھنا تھا’۔میں نے ایسے  ہی کیا تو شکایت  دور ہو گئی ۔ایسے  ہی ایک اور موقع  پر  تعویذ  دیا  بیماری  سے صحت کے بعد اس کو بھی گھر میں رکھ چھوڑا ،شکایت  کا اعادہ ہوا تومولانا  سے ملاقات   پر معلوم  ہوا کہاسے صاف پانی کی کسی ندیا میں بہا دینا تھا۔,چنانچہ ایسا ہی کیا  تو آسیب رفع ہوگیا ۔ یہ ایک عام سا واقعہ ہے مگر اس کے ذکر سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مولانا عامل بھی تھے اور اس طریقہ  علاج میں کچھ رکھ رکھاؤ اور پرہیز ہوتی ہے، بلکہ زیادہ ہی ہوتی ہے,ورنہ سفلی الٹ بھی جاتی ہےاور شدید ردِ عمل رونما ہو سکتا ہے۔

      ایک دفعہ حاجی عبدالعزیز کک دوکان سے نمازِ ظہر کےلئے اکٹھے اٹھے۔فوارہ چوک سے مسجد کی طرف مڑے تو ایک شخص نے مولانا سے ملاقات کے دوران یہ سوال کیا کہ مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے ایک مرید نے خواب میں ان کو دیکھاہے کہ فلاں کلمہ پڑھ رہا ہے۔مرید نے مولانا سے اس پراگندہ خواب کا ذکر کیا تو مولانا تھانوی ؒ نے اس کی تردید نہیں کی ۔قاضی صاحب کے لیے یہ ایک اچھا موقع تھا کہ اس کو دیو بندی کی طرف لوٹا دیتے کہ ان سے جا کر پوچھو۔سائل سےفرمایا کہ’مرید اس وقت فنانی الشیخ کی منزل میں تھے۔خواب میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے’ ۔اس واقعہ سے مولانا کی سلامت روی کا پتا چلتا ہےکہ وہ علمی ذمہ داریوں کا کس درجہ تصور رکھتے تھےاور کس علمی دیانت داری سے لوگوں کی رہنمائی کا سامان فراہم کرتے تھے ،جو فتنہ فساد کا باعث ہو۔ممکن تھا کہ وہ آدمی امتحان لے رہا ہو یا اس کا تعلق کسی مخالف گروہ سے ہو ۔میں نے اس کو پہلی دفعہ دیکھا تھا۔

            17 مارچ 1963ءکو غلاف کعبہ کی زیارت کے لئے  چند دوستوں کے ساتھ  سٹیشن  کی طرف  گیا , بے پناہ  ہجوم تھا  ۔خلقِ خدا  ٹوٹی  پڑ رہی تھی ۔عورتیں اور  بچے بھی  اس سیلاب  میں پھولوں  کی طرح  تیرتے  نظر  آ رہے تھے  ۔ہر ایک کی یہی خواہش  تھی کہ دیدار  سے آگے بڑھ کر لمس کی سعادت بھی حاصل  کر لیں ۔میرے  دبلے  پتلے کمزور  جسم  نے اس کی اجازت  نہیں  دی کہ ہجوم  کو چیر لر غلافِ  کعبہ  تک پہنچوں  اور اس کے دامن کو آنکھوں  میں سرمے کی طرح  لگاؤں ۔ایک گروہ  نے ملک میں اس کی نمائش کی مخالفت کی  تھی اور اس کو توہینِ  شعائر  کے مترادف  قرار  دیا تھا ۔ اس موقع  پر مولانا  انوارالحق نے ہجو م سے خطاب  کیا اور زیارت غلافِ  کعبہ  کو سعادت مندی  کا بڑا نشان  ٹھہرایا ۔میں نے زیارت سے قبل  مولانا  سے مصافحہ کیا تھا۔ اور اس کو اپنے لیے نیک فال سمجھا تھا۔کیونکہ مولانا  غلافِ  کعبہ  کے بہت نزدیک  سے خطاب  فرما رہے تھے۔

11 دسمبر 1981ء  کی صبح گھر پر ایک تنقیدی اجلاس منعقد ہوا,مولانا  اختر شادانی نے اس کی صدارت  فرمائی ۔مولوی فضل الہیٰ کا مضمون زیرِ بحث تھا ۔محفل کے یارانِ کہن سبھی شریکِ اجلاس تھے۔ گیارہ بجے محفل  برخاست ہوئی ۔سب لوگ اپنی اپنی منزل کےلئے روانہ ہوئے ۔میرے پاس صرف پروفیسر اشرف الحسینی رہ گئے تھے ۔ہم نے اسکول کی مسجد میں وضو کیا اور نماز کےلئے “جامعہ حنفیہ ” چلے گئے ۔تقریر روک کر خطیب نے یہ اعلان کیا کہ مولانا انوارالحق کا وصال ہو گیا ہےاور ان کی نماز جنازہ ساڑھے آٹھ بجے شام عید گاہ میں ادا کی جائے گی ۔اس کے ساتھ ہی ذہن اس بات کی طرف تیزی سے لوٹ گیا،جب کہ محفل “شعر و ادب ” کا پہلا اجلاس اسی مسجد میں مولانا کی صدارت میں ہوا تھا اور یہ کیسی اتفاق کی بات ہے کہ آج جب عالمِ نزع میں تھے تو محفل کا اجلاس جاری  تھا۔

مرقد منوّر
مرقد منوّر

          نمازِ جنازہ میں شامل ہوا چودھویں کا چاند مشرق میں کوئی دس درجہ کے زاویہ  پر چمک رہا تھا  اور کرنیں پورے منظر گاہ کو ایک ہالہ نور کی طرح اپنے گھیرے میں لیے ہوئے تھیں ،جیسا کہ ایک ایک سے گلے مل رہی ہوں اور مولانا سے مل رہی ہوں اور مولانا کے کفن سے لپٹ کر ان کو اپنا آخری سلام کہہ رہی ہوں ۔نہ جانے کیسے کیسے ، کون کون اور کہاں کہاں سے لوگ جنازہ میں شریک  تھے۔مجھے یوں لگ رہا تھا کہ آسمان سے قدسیوں کی ایک جماعت اتر آئی ہے اور ان کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے۔

          اس سیل ہجوم میں جو مولانا کا آخری دیدار کرتا ہوا گزر رہا تھا,وہ شخص بھی ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں کےساتھ شامل تھا ،جو ان کو دیکھ کر رستہ بدل لیتا تھا،سامنے آتے تھے تو آنکھیں چراتا تھا ،آج وہ اپنی نظروں کو ان کے چہرے پر گاڑے ہوئے تھا ،مگر وہ آنکھ اٹھا  کر دیکھ نہیں رہے تھے ۔

غلام محمد نذر صابری مرحوم

سابق لائبریرین: گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک

بانی : محفل شعر ادب کیمبل پور

آغا جہانگیر بخاری

بانی مدیر و چیف ایگزیکیٹو

Next Post

نماز شب والوں کے گھر ستاروں کی مانند

جمعہ جولائی 9 , 2021
سبحان اللہ ! نمازِ شب کی کیا شان ہے ؛ کیا عظمت ہے؛ کیا عرفان ہے
iattock