محبتوں کے ہر ایک قصے کے ہم نشاں تھے تو تم کہاں تھے
شاعری
اج اساڈی عیدالوطنی
اج یوم پاکستان
یہ خاک میرے دیس کی ہے کیمیا مجھے
آل نبیؐ کے گھر کی حفاظت تجھی کو دی
معراج کی شب چرخِ خالق نے جِلا پائی
رب کے حضور بندہء رحمٰن چل پڑا
لوگ یہ منظر دیکھیں گے
مرے لوح و قلم کے سب ،حساب بھی اُدھورے ہیں
مشکلوں نے کہا یا علؑی یا علیؑ
جب خیالوں میں بلاغت کا صحیفہ اترا
وہ لوگ ڈوب چکے ہیں جو بحر ِ ذلت میں
میں آں کیمبل پور نا واسی دل مدینے چ رہنا