جب خیالوں میں بلاغت کا صحیفہ اترا
شاعری
وہ لوگ ڈوب چکے ہیں جو بحر ِ ذلت میں
میں آں کیمبل پور نا واسی دل مدینے چ رہنا
تعریف ہے جو تیرے محل کے قرینے کی
ہم دونوں پر یہ وقت کا جادو سا چل گیا
ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے
میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے
کوئی پورا دکھائی دیتا ہے
گہرا رہتا ہے ہمیشہ تو سمندر کی طرح
بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے
اس ارض پہ کیا صورتیں قربان ہوئی ہیں ,شعلوں میں جلی ہیں
اس ارض کے کنکر ہیں مرے...
رک گیا تھا قافلہ موجِ رواں تو نے کیا