رک گیا تھا قافلہ موجِ رواں تو نے کیا

رک گیا تھا قافلہ موجِ رواں تو نے کیا

دم الجھتا کارواں، فخرِ جہاں تو نے کیا

بت پرستوں نے ہماری زندگی کو ڈس لیا

تھی اجیرن زندگی ، زیر عِناں تو نے کیا

بربریت کی فضا میں گُھٹ رہی تھی زندگی

لا الہ کی موج سے سیلِ رواں تو نے کیا

جب جہاں میں بے نشاں تھی امتِ فخرِ رسل

نظریہ اجداد کا سب پر عیاں تو نے کیا

زندگی کو ریشمی دے کر تبسم کی ادا

ولولہ سب کے دلوں میں پھر جواں تو نے کیا

دم بخود تھی زندگی جس میں نہیں تھی نغمگی

زمزمے "حبدار” دے کر پھر رواں تو نے کیا

سید حبدار قائم آف غریبوال اٹک

در بارہ حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١٩٨٩ میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

یہ بھی دیکھیں

عمران اسد

بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے

بن کر شفق کے پھُول سرِ شام آگئے