سلیقہ سکھایا مجھے زندگی کا
مجھے باپ اقبال نے دیں سکھایا
شاعری
حیاتی دا مقصد ہے سارا محمدؐ
میڈی زندگی دا سہارا محمدؐ
بگڑا ہوا نظامِ چمن دیکھتا ہوں میں
ہر سُو ہجومِ رنج و محن دیکھتا ہوں میں
پاک وطن سے الفت ہم کو
جیسے ماں سے راحت ہم کو
تحاریرِ گل و لالہ میں بس فکرِ رسا تُو ہے
یہی دل میرا کہتا ہے کُجا میں ہوں...
نخلِ وفا کو پھولنے پھلنے بھی دیجیے
دل میرا جل اُٹھا ہے تو جلنے بھی دیجیے
مرے کشمیر تیری پھر کہانی لکھ رہا ہوں میں
لبوں کی پیاس اشکوں کی روانی لکھ رہا ہوں...
زیست میں اپنی بہاراں کیجئے
” خوب مدحِ شاہِ خوباں کیجئے”
جو دل میں آئے وہ مانگو خدا سے خضریٰ پر
ہمیشہ ہوتی ہے رب کی عطا مدینے میں
خوش بخت ہوں کہ لب پہ محمدﷺ کا نام ہے
اس واسطے لبوں پہ ثنا صبح و شام...