میں نے اس کے ہی لئے خود کو سجا رکھا تھا

نور سحرؔ احمرین،بہرائچ

میں نے اس کے ہی لئے خود کو سجا رکھا تھا
وہ یہ سمجھا کہ یہ گل اس نے کھلا رکھا تھا


اس نے دیکھا ہی نہیں  مجھ کو پریشانی میں
میں نے خوشیوں کی ردا سے جو چھپا رکھا تھا


جب بھی ملتی تھی اسے ہنستے ہوئے ملتی تھی
غم کو سینے میں کہیں میں نے دبا رکھا تھا


اتنا پابند کسی کو کبھی پایا ہی نہیں
جتنا اس کے لئے اس دل کو بنا رکھا تھا


جاگ کر بھی نہ ملی تجھ کو سحرؔ کی خوشبو
ظلمتوں نے جو اجالوں کو چھپا رکھا تھا

Taj Mahal
Image by InspiredImages from Pixabay

نور سحرؔ احمرین

Next Post

مرد پر اسرار

منگل اکتوبر 12 , 2021
تاریخ آج تک اس جیسی کوئی دوسری شخصیت سامنے نہیں لا سکی جو فتنہ پروری ، چالاکی ،ذہانت اور خطرناکیت میں اس کی ہم پلہ قرار دی جا سکے
Mysterious man