دنیا میں اس طرح سے کچھ الجھے ہوئے ہیں سب

فیض ؔ بہرائچی

دنیا میں اس طرح سے کچھ الجھے ہوئے ہیں سب
عقبی ٰ کو اک فسانہ ہی سمجھے ہوئے ہیں سب

اپنے سوا کسی کو کسی کی خبر نہیں
ایسا فریب نفس میں الجھے ہوئے ہیں سب

تاریکیوں سے رات کی اکتا چکے ہیں دل
منظر تباہیوں کے بھی دیکھے ہوئے ہیں سب

بربادئ حیات کا ماتم ہے ہر طرف
پھر بھی اسی حیات سے چپکے ہوئے ہیں سب

اشکوں کا اک ہجوم ہے گو فیضؔ آنکھ میں
اشکوں کو بھی فریب ہی سمجھے ہوۓ ہیں سب

faiz bahraichi

فیض بہرائچی

بہرائچ، اتر پردیش

فیضؔ بہرائچی

Next Post

حل

بدھ ستمبر 15 , 2021
دانشورجماعت بحثوں میں الجھارہی۔ رعایا آپس میں ہی لڑنے مرنے لگی اور تواریخ میں اس سلطان کانام ایک عقل مند سلطان کے نام سے درج ہوگیا
sultan