اگست 17, 2026

دنیا میں اس طرح سے کچھ الجھے ہوئے ہیں سب

دنیا میں اس طرح سے کچھ الجھے ہوئے ہیں سب
عقبی ٰ کو اک فسانہ ہی سمجھے ہوئے ہیں سب

فیض ؔ بہرائچی

دنیا میں اس طرح سے کچھ الجھے ہوئے ہیں سب
عقبی ٰ کو اک فسانہ ہی سمجھے ہوئے ہیں سب

اپنے سوا کسی کو کسی کی خبر نہیں
ایسا فریب نفس میں الجھے ہوئے ہیں سب

تاریکیوں سے رات کی اکتا چکے ہیں دل
منظر تباہیوں کے بھی دیکھے ہوئے ہیں سب

بربادئ حیات کا ماتم ہے ہر طرف
پھر بھی اسی حیات سے چپکے ہوئے ہیں سب

اشکوں کا اک ہجوم ہے گو فیضؔ آنکھ میں
اشکوں کو بھی فریب ہی سمجھے ہوۓ ہیں سب

faiz bahraichi

فیض بہرائچی

بہرائچ، اتر پردیش

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

کیا      آپ      بھی      لکھاری      ہیں؟

اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

iattockmag@gmail.com