پوہلی کے کانٹے
کہانی کار: سید حبدار قائم
گاؤں کے کچے راستوں پر چلتے ہوئے اکثر لوگوں کے پاؤں میں پوہلی کے کانٹے چبھ جاتے تھے۔ یہ کانٹے چھوٹے مگر بے حد نوکیلے ہوتے جو نہ صرف جسم بلکہ کپڑوں میں بھی چبھ جاتے
گاؤں کے لوگ ان کانٹوں کے عادی ہو چکے تھے، مگر ایک لڑکا ایسا تھا جو ہر بار رک جاتا کانٹا نکالتا اور کچھ دیر سوچ میں گم ہو جاتا
اس لڑکے کا نام احمد تھا وہ باقی بچوں کی طرح لاپرواہ نہیں تھا جب بھی اس کے پاؤں میں کانٹا چبھتا وہ صرف درد محسوس نہیں کرتا بلکہ یہ سوچتا کہ آخر یہ کانٹے راستے میں کیوں ہیں؟
اور کیوں لوگ ان کو ہٹانے کی کوشش نہیں کرتے؟
ایک دن اس نے اپنے دادا سے پوچھا
دادا جان ہم یہ کانٹے راستے سے کیوں نہیں اٹھاتے؟
دادا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا
بیٹا یہ کانٹے صرف زمین پر نہیں لوگوں کے دلوں میں بھی اُگ آئے ہیں
جب تک دلوں کے کانٹے نہیں نکلیں گے یہ راستوں میں ہی پڑے رہیں گے
احمد کو یہ بات سمجھ تو نہ آئی مگر اس کے دل میں ایک چبھن سی رہ گئی
اگلے دن وہ ایک ٹوکری لے کر نکلا اور راستے سے پوہلی کے کانٹے چننا شروع کر دیے
بچے اُسے دیکھ کر ہنسنے لگے
ارے احمد! کیا تم اکیلے ہی سارا گاؤں صاف کرو گے؟
کسی نے آواز لگائی
احمد نے مسکرا کر جواب دیا
نہیں
مگر میں اپنے حصے کا راستہ تو صاف کر سکتا ہوں
دن گزرتے گئے اور احمد روز تھوڑے تھوڑے کانٹے چنتا رہا آہستہ آہستہ کچھ بچے اس کے ساتھ شامل ہو گئے پھر چند بزرگ بھی آگے بڑھے دیکھتے ہی دیکھتے وہی راستہ جو کبھی کانٹوں سے بھرا ہوتا تھا اب صاف ستھرا دکھائی دینے لگا
ایک دن احمد کے دادا نے اسے پاس بلا کر کہا،
بیٹا جی اب تمہیں میری بات سمجھ آئی؟
احمد نے مسکراتے ہوئے کہا
جی دادا جان جب ہم اپنے دل کے کانٹے نکالتے ہیں تو راستے کے کانٹے بھی خود ہی ختم ہونے لگتے ہیں
دادا نے خوش ہو کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا گاؤں کے لوگ اب صرف راستہ صاف نہیں کرتے تھے بلکہ ایک دوسرے کے دلوں میں بھی نرمی پیدا ہو گئی تھی
احمد کو دادا نے بتایا کہ ہمارے پیارے آقا
حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ
دوسروں کی تکالیف دور کرنے سے اللہ پاک راضی ہوتا ہے
پیارے بچو!
ہمیں اپنے پیارے آقا حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کی ہر بات ماننی چاہیے تاکہ انسان سُکھی ہو جائیں
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |