نہ تیسری عالمی جنگ نہ تیسرا ایٹم بم
تحریر: جوسف علی
گزشتہ چند ہفتے اسرائیلی صدر نیتن یاہو کے ہلاک ہونے کی خبریں چلتی رہیں لیکن یاہو زندہ ہے اور ٹرمپ کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کے لیئے دوبارہ منظر عام پر آ گیا ہے۔ شائد اسرائیل کو تحفظ دینے کی کچھ امریکی مجبوریاں بھی ہوں گی مگر یہ پہلا اسرائیلی صدر ہے جس کو ٹرمپ کی صورت میں ایک کٹھ پتلی امریکی صدر مل گیا ہے۔ نتین یاہو ایران پر گزشتہ حملوں کے بعد سے ہمہ وقت پریشان تھا کہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا منصوبہ ادھورا جا رہا ہے۔ اس کے بعد نیتن یاہو مسلسل اس کوشش میں تھا کہ ٹرمپ کو ایران پر بھاری حملہ کرنے کے لیئے کس طرح اکسایا جائے۔ بلآخر نیتن یاہو کو ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں وہ مہرہ مل گیا ہے جس کو چابی والے جن کی طرح نیتن یاہو جس طرح چاہتا ہے اسے استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل پر ایران کی شدید بمباری اور تباہی کے بعد اب اسرائیل نے ٹرمپ کا جنگی بندی والا بٹن دبا دیا ہے۔
سابق انگلش ممبر پارلیمنٹ جارج گیلوے نے از راہ تفنن مگر برمحل کہا تھا کہ، "نیتن یاہو ہلاک ہو گیا ہے تو پھر امریکہ کو کون چلا رہا ہے؟” امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوئے اور اتنے استعمال ہوئے کہ یوں لگ رہا تھا جیسے نیتن یاہو ٹرمپ پر ہی نہیں بلکہ اس کی جگہ وہ امریکہ پر بھی حکمرانی کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر ایٹمی حملے کا کوئی امکان نہیں تھا لیکن نیتن یاہو کی پوری کوشش تھی کہ امریکہ کو استعمال کر کے ایران کو اتنی ہی بربادی سے دوچار کر دیا جائے کہ جتنی تباہی ایٹم بم لے کر آتا ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کو تیسری عالمی جنگ کے چھڑ جانے کا بھی کوئی ملال نہیں تھا۔ ایک تو یہ دونوں ممالک جنگ کی بھرپور تیاری کے ساتھ ایران پر حملہ آور ہوئے اور ایران کو جانی اور معاشی حوالے سے نقصان پہنچا کر جنگ جیت بھی رہے تھے۔ دوئم، ان دونوں ممالک پر ایسا کوئی دباؤ بھی نہیں تھا کہ اس جنگ سے الٹا ان کی اپنی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ البتہ اگر ایران کے پاس کوئی بڑا خفیہ ہتھیار ہے تو بدحواس ہو کر اسے چلا سکتا تھا جو امریکہ اسرائیل کو ایٹمی حملہ کرنے پر مجبور کرتا، جیسا کہ جاپان کے پرل ہاربر پر حملے کے بعد امریکہ نے جنگ عظیم دوم میں جاپان پر یکے بعد دیگرے دو ایٹم بم گرا دیئے تھے۔ لیکن ایران نے جنگ کے آغاز ہی میں ایسی جنگی پالیسی اختیار کی کہ اس نے عالمی جنگ کی طرز پر شروع ہی میں جنگ کو خلیجی ممالک میں پھیلا دیا۔ ایک تو ایران نے جنگ کی وجہ سے اپنے ملک کے اندر کوئی خوف یا افراتفری پیدا نہیں ہونے دی اور دوسرا جس بہادری سے اس نے جنگ کے دوران ایرانی قوم کا مورال بلند رکھا اس سے ایرانی عوام ایک مضبوط اور متحد قوم بن کر ابھری۔ جنگ کے پہلے ہی دن ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کی شہادت سے ایران میں جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں مایوسی کی بجائے متحد ہو کر لڑنے کا جذبہ سامنے آیا۔ پھر ایران اس صدمے کی وجہ سے بدحواس نہیں ہوا جسے دیکھ کر قیاس کیا جا سکتا تھا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو عین ممکن تھا کہ وہ بدحواس ہو کر یا عالم جنون میں آ کر اپنے قریبی دشمن اسرائیل پر ایٹم بم چلا دیتا۔
دنیا میں اس خلیجی جنگ کے بعد اب ایٹم بنانے کے بارے بہت سے ممالک سوچنے لگے ہیں۔ یاد رہے کہ ایٹم بم کو تیار کرنا کافی سارے ترقی یافتہ ممالک مثلا جاپان، جنوبی کوریا، جرمنی، کینیڈا، نیدرلینڈ، سعودی عرب اور ترکیہ وغیرہ کے لیے آسان کام ہے مگر وہ ایٹم بم خود ہی تیار نہیں کرتے۔ ایٹم بم کو اپنی ملکیت میں رکھنا اور اسے سنبھالنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ زمانہ جدید میں ایٹم بم سے دشمن ملک کو شکست دینے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ ایٹم بم صرف "بیلنس آف پاور” کو نمایاں کرتا ہے۔ جہاں تک مفروضاتی منظر کشی کی بات ہے تو کسی بھی ملک پر ایٹمی حملے سے اس کے پڑوسی ممالک پر کچھ نہ کچھ برے اثرات ضرور پڑ سکتے ہیں مثلا ریڈیشن کا پھیلاؤ وغیرہ، مگر ان سب خطرات کا تعین اس بات سے طے ہوتا ہے کہ چلائے گئے کسی ایٹم بم کی طاقت اور اثرات کی رینج کیا ہو سکتی ہے اور وہ کہاں گرایا گیا ہے یا ایٹم بم گرنے کے آس پاس کون کونسے، کس نسل اور مذہب کے، اور کتنی طاقتور معیشت کے ممالک واقع ہیں۔
ایٹم بم کے چلنے کے بعد یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایٹمی وقوعہ کے مہینوں میں ہواؤں کا رخ ایران اور اسرائیل سے کن ممالک کی طرف ہوتا ہے۔ اسرائیل امریکہ یا ایران کی طرف سے کسی بھی ایٹمی حملے کی صورت میں ہمسایہ ممالک کا اس کے ایٹمی اثرات سے بچنا ممکن نہیں تھا۔ پھر کسی بھی ایٹمی حملے کی صورت میں واشنگٹن سمیت پوری دنیا ایٹمی حملوں کی لپیٹ میں آ سکتی تھی۔ اس لیے ننانوے فیصد یہی چانس تھا کہ امریکہ کسی بھی صورت میں ایران پر تیسرا ایٹم بم نہیں چلائے گا اور نہ ہی اس کی اجازت اسرائیل کو دے گا۔ ہاں اسرائیل اپنا وجود کھونے کے ڈر سے شاید کچھ بھی کر سکتا تھا۔ لیکن بیک ڈور جنگ بندی اور زیادہ اسرائیلی و امریکی نقصانات کی بناء پر اس کے بھی بہت کم چانسز تھے۔
جہاں ایٹم بم گرتا ہے اسکے بیس تیس کلومیٹر کے علاقے میں ہولناک اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ روسی ایٹمی پلانٹ چرنوبل میں معمولی ایٹمی خرابی کے اثرات کی مثال سامنے ہے جس سے ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں۔ تیسری عالمی جنگ کی صورت میں تو پوری دنیا ہی ایٹمی جنگ سے آگ کے الاوء میں بدل کر راکھ کا ڈھیر ہو جانی تھی۔ ایٹم بم کی تابکاری بارش، ریڈی ایشن کے طوفان اور خوفناک ایکو سسٹم کی خرابی کی صورت میں آدھی سے زیادہ دنیا نے اپاہج ہو جانا تھا، گرمی سے عمارات پگھل جانی تھیں، صحت مند انسانوں کی ہڈیوں سے گوشت یکدم جدا ہو جانا تھا اور سانس لینے سے آنا فانا کینسر پھیل جاتا۔ نہ جانے ایک ایٹم کے بعد کتنے مزید ایٹم بم چلنے تھے اور دنیا انسان کے بنائے ہوئے ہتھیاروں ہی سے قیامت صغرا کا منظر پیش کرنے لگنی تھی۔ اول تو امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر ایٹمی حملہ کا ذرا برابر بھی امکان نہیں تھا۔ لیکن بنی آدم کی خوش قسمتی ہے کہ اب جنگ بندی کی کوششیں تیز تر ہو گئی ہیں۔
موسمِ سرما اور بہار کے آغاز میں سائبیریا اور وسطی ایشیا سے آنے والی ہوائیں ایران کے راستے پاکستان (خاص طور پر بلوچستان اور سندھ) میں داخل ہوتی ہیں۔ اگر ایٹمی حملہ ایران کے مشرقی یا وسطی حصوں میں ہوتا، تو یہ ہوائیں تابکار گرد و غبار کو چند گھنٹوں یا دنوں میں پاکستان کے سرحدی علاقوں (تفتان، گوادر، کوئٹہ) اور پھر کراچی تک پہنچا سکتی تھیں۔ یہ ایٹمی گرد و غبار بارش کے ذریعے زمین پر بیٹھ سکتا ہے، جس سے پینے کا پانی، فصلیں اور لائیو اسٹاک شدید متاثر ہو سکتے تھے۔ تمام ایٹمی طاقتوں کی زمہ داری ہے کہ وہ بھی اعلان کریں کہ اگر کسی نے کوئی انتہائی اقدام اٹھانے کی کوشش کی تو پھر اس کی بھی خیر نہیں ہو گی۔ آج کے دور میں بڑی مشکل ہے کہ کوئی ملک ایٹمی حملہ کر دے کیونکہ اب ہر ملک نے اپنی ایٹمی آبدوزیں ایک دوسرے کے خلاف پانی کے اندر چھپا رکھی ہیں، اس وجہ سے ایران پر ایٹمی حملہ ہونے کا امکان بہت کم تھا۔ ایران کا اپنا آبدوز 15 ماہ تک پانی کے اندر رک سکتا ہے، جس کے بعد اسے مزید ایندھن کی کمک بھی پہنچائی جا سکتی ہے۔
اگر خدانخواستہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر ایٹمی حملہ کرتے تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہنا تھے، کیونکہ ایٹمی دھماکے کے بعد تابکاری ہوا کے ذریعے دور دور تک پھیل سکتی ہے۔ پاکستان اور عرب ممالک پر اثرات ہوا کی سمت، دھماکے کی جگہ اور ایٹمی ہتھیار کی طاقت پر منحصر ہونا تھے۔ یوں سمجھ لیں اگر دھماکہ ایران کے مشرقی علاقوں میں ہو اور ہوا پاکستان کی طرف چل رہی ہو تو بلوچستان کے سرحدی علاقوں تک تابکاری پہنچ سکتی تھی جو پورے پاکستان کو بھی لپیٹ میں لے سکتی تھی۔ اگر ہواؤں کا رخ ایٹم بم کے چلنے کے بعد اسرائیل کی طرف مڑ جاتا تو سمجھ لیں یہ ایٹم بم تباہی و بربادی کے حوالے سے اسرائیل پر چلایا جانا متصور ہوتا۔ لیکن اچھا ہوا کہ پاکستان سمیت ترکی اور عمان جنگ بندی کی کوششوں میں متحرک ہو چکے ہیں۔ ایٹمی جنگ صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے تباہی لاتی ہے، اس لیے دنیا بھر میں امن پسند طبقات کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ایسے حالات کبھی پیدا نہ ہوں جب تیسری عالمی جنگ ہو یا خدانخواستہ کسی ملک کو تیسرا ایٹم بم چلانا پڑے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |