کِھلتی نہیں ہے ذوقِ ّتمنا اداس ہے
کِھلتی نہیں ہے ذوقِ ّتمنا اداس ہے
جب آنکھ ہی نہ دیکھے تو دنیا اداس ہے
دل میں ہوا چلی ہے یوں دیدِ رسولﷺ کی
سب بجھ گئے چراغ اجالا اداس ہے
معراج سے زمین پہ آٸے مرے حضور
"تاروں کا روپ ،چاند کا چہرہ اداس ہے”
نکلے نہیں ہیں گھر سے رسولِﷺ خدا تو پھر
اصحابؓ کی بھی دید تمنا اداس ہے
روکا ہے جب یزید کی فوجِ پلید نے
پانی بھی ہاتھ ملتا ہے دریا اداس ہے
ہجرِ نبی ﷺ جہاں سے جو لے کر چلا گیا
اس کے لیے بھی مجھ سا یہ بوڑھا اداس ہے
ّقاٸم عمل نہیں ہے ترا نیک اس لیے
عشقِ نبیﷺ میں دل کا ٹھکانہ اداس ہے
سید حبدار قائم
Title Image by egypt_man147 from Pixabay
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |