چونچ
افسانہ نگار:۔ سید حبدار قائم
جھیل کے کنارے ایک پرانا برگد کھڑا تھا جس کی جڑوں میں وقت کی تھکن بسی ہوئی تھی اس کے سایے کے نیچے پرندوں کی ایک دنیا آباد تھی کوئی صبح کی روشنی کو اپنے پروں میں سمیٹتا تو کوئی شام کے سنہری سکوت میں اپنے خواب بُن لیتا انہی پرندوں میں ایک ننھی سی چڑیا پھدکتی نظر آتی تھی جس کی چونچ اگرچہ چھوٹی تھی مگر اس کے خواب بہت بڑے تھے
وہ اکثر پانی کے کنارے جا بیٹھتی اور اپنی ہی پرچھائی سے باتیں کرتی کیا میری چونچ بھی کبھی کسی بڑے کام آۓ گی وہ سوچتی کہ دوسرے پرندے اس کی بات سن کر مسکرا دیتے ہیں کوّا طنز سے کہتا چونچ تو چونچ ہوتی ہے اس میں کیا خاص بات اور طوطا اپنی رنگینی میں مگن رہتا ایک دن آسمان پر سیاہ بادل چھا گئے ہوا میں بے چینی تھی اور جھیل کا پانی غیر معمولی شور مچا رہا تھا اچانک ایسا طوفان آیا کہ برگد کی مضبوط شاخیں بھی کانپ اٹھیں گھونسلے ٹوٹنے لگے انڈے زمین پر گرنے لگے اور پرندوں کی دنیا بکھرنے لگی اسی افراتفری میں ایک ننھا سا بچہ جو ابھی اڑنا بھی نہ سیکھ پایا تھا پانی کے قریب جا گرا لہریں اسے اپنی آغوش میں لینے کو بے تاب تھیں بڑے پرندے طوفان کے خوف سے پیچھے ہٹ گئے ہر کوئی اپنی جان بچانے میں لگا تھا
وہ ننھی چڑیا جس کی چونچ پر سب ہنستے تھے اچانک اڑی اس کے پروں میں خوف تو تھا مگر اس سے بڑا اس کا حوصلہ تھا وہ بچے کے پاس پہنچی اور اپنی چھوٹی سی چونچ سے اسے کھینچنے لگی ایک بار دو بار کئی بار ہر کوشش ناکام لگتی مگر اس کی ضد میں ایک عجب روشنی تھی آخرکار اس نے بچے کو پانی سے گھسیٹ کر دور کرلیا طوفان تھم چکا تھا مگر اس کی سانسیں اب بھی تیز تھیں باقی پرندے حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے کوّا خاموش تھا طوطا اپنی زبان بھول گیا تھا اور طوطا چشمی کر رہا تھا چڑیا نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا چونچ چھوٹی ضرور ہوتی ہے مگر ارادہ بڑا ہو تو یہی چونچ کسی کی زندگی بچا سکتی ہے
برگد کی جڑوں میں جیسے ایک نئی کہانی جنم لے چکی تھی ایک ایسی کہانی جس میں چونچ صرف خوراک کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ ہمت اور امید کی علامت بن گئی اور اس دن کے بعد جب بھی ہوا درخت کی شاخوں کو چھوتی تو یوں لگتا جیسے وہ سرگوشی میں کہہ رہی ہو قد کا نہیں حوصلے کا قد بڑا ہوتا ہے
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |