اسلام آباد مذاکرات کا اونٹ
ایک محاورہ ہے کہ، "جنگ میں سب سے پہلا قتل سچائی کا ہوتا ہے۔” یہ المیہ ہے کہ فروری کی خلیجی جنگ میں سچائی کا قتل کیا ہونا تھا، متحارب گروپس اسے جنگی حکمت عملی کے طور پر ہی اپنا رہے ہیں۔ اس جنگ میں اسرائیل اور امریکہ اتحادی ہیں اور دونوں مل کر ایران کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ امریکی صدر دن میں کئی مرتبہ اپنے ہی بیانات پر یو ٹرن لیتے ہیں۔ گو کہ اسرائیل امریکہ کی مرضی کے خلاف کوئی اہم جنگی فیصلہ نہیں کر سکتا ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پانچ روزہ جنگ بندی اعلان کے بعد بھی اسرائیل جنگ جاری رکھتے ہوئے ایران پر پے در پے حملے کر رہا ہے۔ ایران بھی اسرائیل اور خلیجی ممالک پر جوابی حملے کر رہا ہے۔ ایک طرف ایران اسلام آباد میں مذاکرات کی حامی بھر چکا ہے اور دوسری طرف جنگ بندی کی اپنی من مرضی کی شرائط پر بھی اڑا ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کی وارننگ دیتے ہوئے 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن جاری کی تھی اور ساتھ میں یہ دھمکی دی تھی کہ ایران نے ہرمز نہ کھولا تو امریکہ اور اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات، گیس سپلائی، توانائی پلانٹس اور واٹر سپلائی جیسی سہولیات پر حملہ کریں گے۔ اس دھمکی پر ایران بھی پیچھے نہیں رہا اور اس نے بھی فورا اسرائیل سمیت 6 خلیجی ممالک کی 12 نامزد تنصیبات کی فہرست جاری کر دی جن پر وہ جوابی حملہ کرے گا۔ اس میں سعودی عرب کا شقیق پاور پلانٹ (جنوبی گرڈ سٹیشن)، قطر کا الخرسعہ پاور پلانٹ، راس لفان سی پاور اینڈ واٹر پلانٹ (جو قطر کی لائف لائن ہے)، اردن کا سمراء پاور پلانٹ (جو اردن کی کل بجلی کا 40 فیصد پیدا کرتا ہے، بحرین کا الدُر پاور اینڈ واٹر پلانٹ (جس پر بحرین کے بنیادی پانی کا 60 فیصد انحصار ہے) اور کویت کا نارتھ الزور پاور پلانٹ شامل ہیں جس پر اپنے شہریوں کی زندگی جاری رکھنے کے لیئے کویت 90 فیصد انحصار کرتا ہے۔ اسی طرح ایران نے امارات کے اہداف کو ہٹ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ستم ظریفی دیکھیں کہ ایران کی جاری کردہ اس فہرست میں کوئی فوجی اڈہ شامل نہیں ہے۔ یہ 100 فیصد شہری انفراسٹرکچر ہے جس کا تعلق پانی اور بجلی سے ہے، جس پر عام شہری اپنی زندگیوں کو برقرار رکھتے ہیں۔
یہ ایران کا ایسا جنگی انداز ہے کہ جس کے ذریعے ایران امریکہ اسرائیل (اور اس کے خلیجی اتحادیوں) کو ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے۔ ایک خیر کی خبر جو "جنگی دھمکیوں” اور "بلیک میلنگ” کے درمیان ابھی تک قائم ہے، وہ صرف یہ ہے کہ تیاری کے باوجود سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران پر تاحال کوئی جوابی حملہ نہیں کیا ہے۔ یہ اس جنگ کی واحد پرافزاء امید ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے جنگ بندی کے مذاکرات کامیاب ہونے کا زیادہ امکان ہے کیونکہ درون خانہ متاثرہ خلیجی ممالک بھی امریکہ پر جنگ بندی کا دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ دراصل اس جنگ کو شروع کرنے کا اسرائیل اور امریکہ کا ایک بنیادی مقصد ہی عرب اور مسلم ممالک کو تقسیم کر کے آپس میں لڑانا تھا جسے ان دونوں ممالک نے برداشت اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کر کے ابھی تک کامیاب نہیں ہونے دیا ہے۔ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور ٹرمپ اپنی دھمکی کے مطابق ایران کی فوجی اور سول سہولیات پر حملہ کرتا ہے اور جواب میں ایران بھی ان ممالک کی کسی ایٹمی تنصیب پر حملہ کرتا ہے (جس کی اس نے دھمکی بھی دی ہے) تو خطے میں ایٹم بم چلائے بغیر ہی ایٹمی تابکاری کے فوری اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔
پاکستان کو مزاکرات کامیاب کرانے اور جنگ بندی کراوانے میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ ایران نے جنگ بندی کی چھ دھماکہ خیز شرائط ظاہر کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل تحریری ضمانت دیں کہ وہ دوبارہ کبھی ایران کے خلاف جنگ یا جارحیت نہیں کریں گے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک سے امریکی فوجی اڈے فوری طور پر بند کیے جائیں اور امریکی فوج خطے سے نکل جائے۔ امریکہ اور اسرائیل ایران کو ہونے والے تمام جانی و مالی نقصان کا مکمل معاوضہ ادا کریں۔ خطے میں ایران کے حامی گروپوں کے خلاف جاری تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں۔عالمی سطح پر انتہائی اہم تجارتی راستے "آبنائے ہرمز” (Strait of Hormuz) پر ایران کی مرضی کا نیا قانونی نظام نافذ کیا جائے اور ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے "معاندانہ میڈیا” (Hostile Media) کے اہم عناصر اور افراد کو ایران کے حوالے کیا جائے۔ کیا پاکستان کے چیف مارشل امریکہ کو کوئی ضمانت دے کر یہ کڑی ایرانی شرائط یا ان شرائط پر ایران سے گفت شنید کر کے کچھ کمی کروا کر، امریکہ کو انہیں قبول کرنے پر آمادہ کر لیں گے؟
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، عالمی میڈیا کے مطابق، ایرانی حکام سے مذاکرات کرنے کے لیئے، تادم تحریر اسلام آباد کے لیئے روانہ ہو چکے تھے۔ ایران نے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشز اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف کے ساتھ اسلام آباد میں مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نائب صدر کو ایران سے مذاکرات کے لیئے نامزد کیا۔ مذاکرات سے پہلے یہ ایران کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ اسرائیل بظاہر حملے جاری رکھنے اور جنگ بندی نہ کرنے کا ڈرامہ کر رہا ہے مگر اس جنگ میں اسرائیل کی جتنی بربادی ہوئی اور جیسے اس کے پڑوسی مسلم خلیجی ممالک کے متحد ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے، اسرائیل بھی اس جنگ میں اندر سے خوفزدہ ہو گیا ہے۔ اسرائیل اچھی طرح جان چکا ہے کہ موجودہ جنگ سے یورپی یونین، نیٹو اور دنیا بھر کے ممالک میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نفرت کی حد تک مخالفت بھی پیدا ہوئی ہے، کیونکہ ایک تو اسرائیل اور امریکہ نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر ایران کے خلاف جنگ چھیڑی، دوسرا اس جنگ کے محض چند ہی ہفتوں میں تیل اور توانائی کی کمی سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھی ہے اور عالمی معیشت کے بیٹھنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ ایک قسم کا اکانومک ریسیشن (Economic Recession) ہے جس سے امریکہ کے لیئے آسان نہیں ہے کہ وہ یہ جنگ مزید جاری رکھنے کا الزام اپنے سر پر لے سکتا ہے۔ پھر یہ جنگ اسرائیل، امریکہ اور خلیجی ریاستوں کے لیئے انتہائی مہنگی ثابت ہو رہی ہے، جبکہ ایران کا جانی اور انفراسٹرکچر کا نقصان تو ہو رہا ہے لیکن اس کی پشت پر روس اور چین جیسی عالمی طاقتیں کھڑی ہیں۔ پاکستان بھی کسی صورت نہیں چاہتا ہے کہ ایران کی شکست اور وہاں اسرائیل امریکہ نواز حکومت کی صورت میں ایران پر براجمان ہو جائیں، جس کے بعد اسرائیل اور پاکستان کے درمیان ایرانی "بفر سٹیٹ” (Buffer State) کی رکاوٹ بھی پاکستان کے ہاتھ سے جاتی رہے۔
گو کہ اصل جنگی صورتحال کی سچی خبر ڈھونڈھنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو 48 گھنٹے کا "الٹی میٹم” دیا اور اس کا وقت ختم ہونے سے پہلے وہ ایران سے مذاکرات کے لیئے تیار ہو گئے۔ یہ پاکستان سمیت ترکی، مصر اور عمان کی سفارت کاری کا کرشمہ ہے یا جو بھی ہے، امریکی صدر کے وعدوں اور بیانات پر اعتبار کرنا، بے وفا محبوبہ کی وعدہ خلافیوں جیسا ہے۔ اسرائیل امریکہ کی اس غیریقینی جنگی پالیسی کی وجہ سے سچی خبروں اور وعدوں کا تواتر سے قتل ہو رہا ہے۔ امریکی صدر بہت شاطر ہیں اور اپنے گزشتہ بیانات کے برعکس عمل کرنے پر فورا تل جاتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ میں ہر دن کوئی نیا شوشہ چھوڑنے سے ہرگز نہیں گھبرا رہے ہیں۔ خصوصا، ٹرمپ نے ایسی جنگی حکمت عملی اپنا رکھی ہے کہ جس پر سو فیصد اعتماد کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، جیسا کہ انہوں نے جنیوا میں جاری عین مذاکرات کے درمیان ایران پر حملہ کر دیا تھا۔ وقت سے پہلے اب بھی سو فیصد سچی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں کہ، مذاکرات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، لیکن میرے خیال میں امکان یہی ہے کہ اسلام آباد مذاکرات بوجوہ مستقل جنگ بندی کی نوید پر ہی ختم ہوں گے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |