حالیہ خلیجی جنگ میں ایرانی میر جعفر و صادق
مسلم دنیا کو اپنے گھر کے اندر کا خیال رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسرائیل سے باہر دنیا میں سب سے زیادہ یہودی ایران میں پائے جاتے ہیں۔ ان یہودیوں کے ساتھ کچھ ایرانی مسلمان بھی ملے ہوئے ہیں جو گذشتہ اور موجودہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ کو خفیہ مخبری کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل امریکہ کو ایران کے سپریم لیڈر سید آیت اللہ علی خامنائی کو شہید کرنے کا موقع مل گیا۔ جس جرنیل کو ایران نے گرفتار کیا اور جو 28 فروری 2026ء کے پہلے اسرائیلی حملے اور سید علی خامنائی کی شہادت سے تھوڑی دیر پہلے نکل گیا تھا، اس کا اوپر نیچے تک پورا نیٹ ورک تھا جس پر ابھی تک ایران ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میر جعفر صادقوں کی پہلے بیخ کنی کی ہوتی تو ایران کو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ اب بھی وقت ہے کہ ایران اور دیگر مسلم دنیا اپنے گھر کو ٹھیک کرے اور اپنے اتحاد و اتفاق کو مضبوط کرے۔
ہمارے اسلامی داعی اور مبلغین دنیا کے مقابلے میں آخرت کے اجر و ثواب پر زیادہ زور دیتے ہیں، حالانکہ قرآنی تعلیمات کے مطابق دنیا اور آخرت دونوں برابر کی اہمیت رکھتے ہیں۔ سورۃ البقرہ (آیت 201) میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو سکھاتا ہے کہ، "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر”۔ قرآن پاک کی اجتماعی تعلیمات کی روشنی میں بھی، "مومن وہ ہے جو دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرتا ہے۔” دنیا کی کامیابی پہلے آتی ہے یعنی آخرت کی کامیابی دنیا کی کامیابی و کامرانی سے مشروط ہے۔ یوں پائیدار کامیاب مومن مسلمان وہی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے، ان کے لیے دونوں جہانوں میں کامیابی ہے۔ ہمارے علمائے عظام نے مقابلتا دنیاوی تعلیم کو فوکس کیا ہے اور نہ ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیئے اسلامی عقائد کو زریعہ بنایا ہے۔
عموما سائنسی علوم اور قوانین کی بنیاد "تحقیق اور تشکیک” پر ہے۔ مسلم دنیا کا المیہ ہے کہ وہ اسلامی عقائد پر کامل یقین اور فرائض کی دن رات ادائیگی اور عبادات کے باوجود سائنسی اور تجرباتی تحقیق کو نظر انداز کرتے ہیں۔ تحریر و تحقیق سے دوری کی وجہ سے ہم حق و باطل کی پہنچان سے بھی دور ہو گئے ہیں۔ اس وجہ سے ہم مسلمانوں کا "اندھا اعتقاد” جہاں ہمیں دنیاوی سمجھ بوجھ سے دور کر رہا ہے وہاں ہم اپنوں پر غیر ضروری اعتماد کی وجہ سے غداری کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔
مسلمانوں کو اپنے اندر ہی غدار آسانی سے مل جاتے ہیں۔ "گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے”، کے مصداق یہ غدار اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ہر وقت منڈی میں سستے داموں بکنے کے لیئے تیار رہتے ہیں۔ انہیں جب بھی کوئی اچھا خریدار مل جائے یہ بک جاتے ہیں اور اپنے ہی اسلامی بھائیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے بالکل نہیں ہچکچاتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں سے یہ گھر کے بھیدی غدار لیبیا، عراق، شام، یمن، ایران اور افغانستان میں کھلے عام بکتے رہے ہیں۔ مسلم دنیا کو تباہ کروانے کیلیے مسلمان ملکوں میں ان غداروں نے امریکہ کی سہولت کاری کی جو کہ ایک انتہائی شرم کا مقام ہے۔ ہمارے اسلامی ممالک کے ان غداروں کا بس چلے تو یہ امریکی صدر ہی کو اپنا مذہبی پیشوا بنا لیں۔ غداروں کی اس کھیپ نے امریکہ کو مشرق وسطی میں غنڈہ گردی کرنے کا موقعہ فراہم کیا یے۔ امریکہ نے اپنے علاوہ اسرائیل کی صورت میں بھی خطے میں ایک بدمعاش پال رکھا ہے جو آئے روز پہلے غزہ اور لبنان میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا تھا اور اب امریکہ کے اشتراک سے ایران پر جنگ کے ذریعے "انسانی بحران” پیدا کر رہا ہے۔
حالیہ ایران، اسرائیل امریکہ جنگ ہند میں اسلامی تاریخ کی غداری سے ملتی جلتی ہے۔ میر جعفر صادق ہماری تاریخ کے گھناؤنے ترین کردار ہیں جنہیں ہماری تاریخ کبھی معاف نہیں کر سکتی ہے۔ یہ غداری کے دو تمثیلی ہی نہیں بلکہ حقیقی کردار ہیں جن سے ہم آج بھی حد درجہ نفرت کرتے ہیں لیکن ہماری شومئی قسمت دیکھیں کہ ان سے ملتے جلتے کرداروں ہی نے ایران کے لیئے مخبری کی۔ اس خلیجی جنگ میں ایران کو نقصان پہنچانے اور سپریم لیڈر کی شہادت کے ذمہ دار بھی یہی اندر کے غدار ایرانی ہیں۔ میر جعفر نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کے ساتھ غداری کی اور انگریزوں کے ساتھ ساز باز کر کے بنگال پر انگریزوں کی حکومت قائم کرا دی۔ میر جعفر نواب سراج الدولہ کی فوج کا سپہ سالار تھا، جس نے 1757ء کی "جنگ پلاسی” کے دوران نواب سراج الدولہ کے ساتھ غداری کر کے غدار کے لقب سے شہرت پائی۔ میر جعفر کا پورا نام میر جعفر علی خان بہادر تھا جو متحدہ ہندوستان کی ریاست متحدہ بنگال میں غداری کے ذریعے نواب بنا تھا۔ غداری کی قیمت پر حاصل کی گئی ایسی نوابی پر آج میں درد دل مسلمان لعنت بھیجتے ہیں۔ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک بنگال پاکستان کے حصے میں آیا جو اپنوں کی غداری سے آج بنگلہ دیش بن چکا ہے، جبکہ دوسرا بنگال جسے مغربی بنگال کہتے ہیں وہ آج بھی بھارت کی اہم ترین ریاست ہے۔ یہ آپسی غداری پورے برصغیر کو غلامی میں جکڑنے کا سبب بنی تھی۔ میر جعفر نے برصغیر میں مسلمانوں کو غلامی کی دلدل میں دھنسانے کا دروازہ کھولا تو چند ایرانی غداروں نے امریکہ اور اسرائیل سے گٹھ جوڑ کر کے ایران کو امریکہ کی غلامی میں لانے کی ناکام کوشش کی۔ میر صادق کا تعلق جنوبی ہند سے تھا جو ٹیپو سلطان کا وزیر تھا۔ اس نے اپنے آقا یعنی ٹیپو سلطان سے غداری کی۔ وہ صرف زمین، جائیداد اور دولت کے لیے انگریزوں کا آلہ کار بن گیا تھا اس نے ٹیپو سلطان کے اہم خفیہ راز انگریزوں کو پہنچائے۔ اس غدار اور اس کے ساتھیوں کی وجہ سے میسور میں ٹیپو سلطان کی سلطنت انگریزوں کے قبضے میں چلی گئی۔ ایران میں غداری کی جو بدنما تاریخ رقم ہوئی اس نے میر جعفر صادق کی تاریخی غداری یاد دلا دی ہے۔ اگر مسلم دنیا متحد ہو جائے اور اس میں ایسے غداروں کا بھی قلع قمع ہو جائے تو اب بھی مسلم دنیا دوبارہ "سپر پاور” بن سکتی ہے۔ مفکر اسلام اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے ایسے ہی کرداروں سے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا، "جعفر از بنگال و صادق از دکن، ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |