عالمی نعتیہ مشاعرہ

معروف ادبى تنظىم نعت آشنا گروپ میں پیر نصیر الدین نصیر رحمۃ اللہ علیہ کے طرحی مصرعے ” تھى جس کے مقدر مىں گدائی ترے در کی” پر اىک آن لائن انٹرنیشنل مشاعرہ منعقد ہواجس کى خصوصی  شعری رپورٹ مرتب کى گئى ہے چونکہ نعت سنتِ الہیہ ہے اسں لئے یہ سب کے دلوں میں اپنا راستہ عقیدت اور عشق کی بنیاد پر خود ہی نکال لیتی ہے ،یوں تو بہت سے گروپس اپنے انداز اور رنگ میں خدمتِ نعت اور ترویج و فروغ کے لیے کوشاں ہیں لیکن ان سب میں نعت آشنا کو خاص مقام حاصل ہے اور وہ یہ کہ جب بھی مشاعرے کا اعلان ہوتا ہے تو عاشقانِ نعتِ مصطفےٰ ﷺ کا ایک جم غفیر امڈ آتا ہے اور اس بار بھی بابرکت مصرعے کی کرامت نے خوب سماں باندھے رکھا اور کم و بیش تین سو کلام پیش کئے گئے جو ایک ریکارڈ ساز کامیابی ہے ،اتنی بڑی تعداد میں کلام کا آنا اس گروپ کی اللہ تعالی اور حضور ﷺ کی بارگاہ میں منظوری کا بھی پتہ چلتا ہے ،اس شاندار اور فقید المثال کامیابی پر سید مقصود علی شاہ صاحب، اشفاق احمد غوری صاحب ،رضا المصطفیٰ طیبی، محترمہ سمعیہ ناز صاحبہ، افضل شیر صاحب ،ریاض احمد برکاتی سمیت دیگر ٹیم کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں                   

madina

 ارادہ تھا کہ تمام کلاموں سے سب شعراء کا ایک ایک شعر بطورِ انتخاب پیش کروں لیکن ناسازی طبع کے باعث ىہ ممکن نہیں ہو سکا اور جن شعرا کے اشعار شامل نہیں ہو سکے ان سے شدید معذرت خواہ ہوں لیکن پھر بھی امید ہے کہ احبابِ نعت کو اتنی کوشش بھی پسند آئے گی ، یہ ترتیب بہترین اشعار کی بنیاد پر نہیں بلکہ عمومی طور پر شامل کیے گئے ہیں

اب مزید طوالت سے بچتے ہوئے اشعار کا انتخاب پیش کیا جا رہا ہے ملاحظہ کیجیے:۔

سب ہیچ ہوئے چنگ و رباب آج جہاں کے

مرغوب   ہوئی   نغمہ   سرائی   ترے   در   کی

محمد خلیل الرحمٰن خلیل

طیبہ میں صبا چلتی ہے جو “ناز” ادب سے

تکریم  اسے  رب  نے  سکھائی  ترے در کی

سمیعہ ناز

دل نے ہےبڑے شوق سے یہ نعت لکھی جب

منظوری صبا جھوم  کے  لائی ترے  در کی

محمد افضل شیر

طیبہ کی اسیری میں بقاہے مری مضمر

تا عمر نہ دیکھوں میں جدائی ترے در کی

بلال ملک

گو دولتِادراک سبھی کام میں لایا

ممکن نہ ہوئی مدح سرائی ترے در کی

ہارون عدیل

یہ نعت سے مظہر ہے جو نسبت، مری ماں نے

الفت مجھے گھٹی میں پلائی ترے در کی

مظہر حسین مظہر

وا ہوتے گئے مجھ پے سبھی زیست کے منظر

آنکھوں پے وہ جب خاک لگائی ترے در کی

سرور صمدانی

مقصود نے اشفاق نے اس ملک سخن میں

کیا خوب یہ تحریک چلائی ترے در کی

محمد خیر کثیر

ہے رب کو خبر ساری مگر شوق میں آ کر

سنتا ہے فرشتوں سے بڑائی ترے در کی

عشرت شاہجہان

در در پہ بھٹکنے کی ضرورت نہیں ہم کو

آرام سے کھاتے ہیں ، کمائی ترے در کی

عثمان ابراہیم

پہنچا    ہوں   نتیجے پہ   رضا   میں تو قسم سے

ہے    تیرا    خدا    ،   ساری خدائی    ترے در کی

محمد رضا طیبی

جبریل سا خادم ہے تو صدیق سا ساتھی

کونین سے بڑھ کر ہے چٹائی ترے در کی

رضوان انجم

یاں سےچلےجانےکانہ کوئی ہمیں  بولے

ہررنج پہ بھاری ہےجدائی ترےدرکی

حافظ محبوب احمد

عظمت  خدا  نے  اتنی   بڑھائی  ترے   در  کی

گن  گاتی  ہے  ساری   ہی  خدائی   ترے   کی

عرفان نعمانی جاہدی

مخلوق ،گدا ساری بنائی ترے در کی

اللہ نے یوں شان بڑھائی ترے در کی

عادل یزدانی

اسرار  تری  ذات  پہ  بارش ہے کرم کی

اس دل  میں محبت جو  بسائی ترے  در کی

علیم اسرار

ٹھہرا ہے وہ خود آن کے سلمان کی صورت

تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی

سیدہ منور جہاں منور

فارس سے چلا آیا کوئی حبشہ سے پہنچا

تھی جس کے مقدر میں گدائی تیرے در کی

برکات احمد خان

رنجیدہ و آرزدہ ، ہراساں جہاں دیکھا

سمجھانے مجھے یاد بھی آئی ترے در کی

ڈاکٹر عقیل ہاشمی

یاقُوت و گُہر ہیچ ہَیں سَب میری نَظَر میں

بس خاک جَبِیں پَر ہے سَجاٸِی تِرےﷺ دَر کی

مُحمد خالد خان

اشکوں سے وضو کر کے مری پلکیں شب و روز

حسرت ہے کریں آقاﷺ صفائی ترے در کی

“فیصل ندیم فیصل”

قرطاس و قلم ،فکر و تخیّل ہوئے مشکیں

تمہید ثنا جب بھی اٹھائی ترے در کی

فرقان بزمی

یاں صبح و مسا آئیں سلامی کو فرشتے

یوں شان ترے رب نے بڑھائی ترے در کی

بشیر احمد قادری

جبریل تَشَہُد میں نمازی کی طرح تھے

قالین سے افضل ھے چٹائی ترے در کی

بشارت حسین وقار

“جاٶک” میں مضمر ہے یہی  راز و  قرینہ

بخشش کےیقیں تک ہےرساٸی ترے در کی

محمد اسماعیل ارمان طاہری

اْٹھیں  گے سر  حشر  ہی عشاق  یہ اَب تو

کیا  چین  دے  اِک آنکھ لگائی ترے در کی

شیر افضل شیر

سُنتے  ہیں  بہت  تخت ِ سلیمانؑ   کی  شہرت

ہے عرش  کے  ہم   پایہ  چٹائی ترے در کی

صفیہ ناز صابری

ایمان کا کھوٹا ہے منافق ہے وہ انساں

کی جس نے بھی انگشت نمائی ترے در کی

محمدعبدالمجید محامدرضوی

 مصباحی

جھکنے کے لیے در تھا نہ گھر تو مرے رب نے

اک دنیا نئی پل میں بنائی ترے در کی

سید حبدار قائم آف اٹک

بیمار جہاں بھر کے شفایاب   ہوں فوراً

جوگھول کے مٹی ہو پلائی ترے در کی

  سیدخالدعبداللہ

صادق کوئی عادل کوئی مولا کوئی عثماں

صد رشک ہزاراں ہے اکائی ترے در کی

فاتح چشتی مظفر پور

پھر مجھ کو نظر آنے لگا خلد کا نقشہ

ان آنکھوں میں مٹی جو لگائی ترے در کی

حسن فردوسی

دیوانہ شَناسائی میں گم رہنے لگا ہے

لَو اِس نے تو ایسی ہے لَگائی ترے دَر کی

نور ایمان

ایمان یہ  کہتا  ہے  نعیم  اپنا ہمیشہ

مخمل سے بھی بہتر ہے چٹائی ترے در کی

نعیم رضا برکاتی گونڈوی

انسان تو انسان فرشتے تو فرشتے

مکڑی نے بھی تعظیم نبھائی ترے در کی

مختار تلہری

احساں وہ کبھی تیرا چکا ہی نہیں سکتا

جس شخص نے اک پائی بھی کھائی ترے در کی

شمس تبریز بلگرامی

اجداد سے سیکھا ہے غلامی کا سلیقہ

میراث میں پائی ہے گدائی ترے در کی

محمد مسعود اختر

محشر میں ہو جس وقت حسابوں کا جھمیلا

اشفاق  کرے  مدح ِ سرائی  ترے  در  کی

 اشفاق احمد غوری

وہ اپنے مقدر کا دہنی کیسے نہ ہو گا

جس کو بھی ملی آبلہ پائی ترے در کی

عزیز الذین خاکی

میں بزمِ ملائک میں بھی تقسیم کروں گا

مل جائے جو قسمت سے مٹھائی ترے در کی

اظہار شاہجہان پوری

رپورٹ: محمد احمد زاہد سانگلہ ہل

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

ضلع اٹک کے شہری علاقوں میں ٹائیفائیڈ ٹیکوں کی مہم 14سے 26جون 2021تک

بدھ جون 9 , 2021
ٹک (خصوصی رپورٹ) پنجاب بھر کی طرح ضلع اٹک کے شہری علاقوں میں بھی ٹائیفائیڈ ٹیکوں کی مہم 14سے 26جون 2021تک جاری رہے گی
blue and silver stetoscope