سخنوری کے سلسلے کی زر کہے علی ؑعلیؑ

سخنوری میں زیر اور زبر کہے علی ؑعلیؑ

جو لفظ بن گیا گہر، گہر کہے علی ؑعلیؑ

زمین سے نظر ہٹی، گئی فلک سے پار جب

جہاں گئی جدھر گئی نظر کہے علی ؑعلیؑ

علی مری تو سانس میں اتر گئے کچھ اس طرح

کہ تن کہے، یہ من کہے، جگر کہے علی ؑعلیؑ

ضیائے شمس میں گیا، نگاہ شمس نے کہا

چلو گے جس طرف بھی رہگزر کہے علی ؑعلیؑ

ثمر سے پوچھنے گیا ، بتاو مولا کون ہے

ثمر کی بات سن کے پھر شجر کہے علی ؑعلیؑ

میں شب سے پوچھتا رہا، کہ ہے تری امید کیا

تو شب کے ساتھ جھوم کر سحر کہے علی ؑعلیؑ

سفر جو وحدتوں کا ہے، وہ کثرتوں میں ڈھل گیا

نگر نگر میں گھوم کر سفر کہے علی ؑعلیؑ

کرن کرن جو چاندنی سے پھوٹتا ہے فضل بھی

وہ بحر و بر میں جا کے بے خطر کہے علی ؑعلیؑ

میں قائم الصلواة ہوں ،میں بندگی کی بات ہوں

سجود کا ،قیام کا سفر کہے علی ؑعلیؑ

سید حبدار قائم آف اٹک

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١٩٨٩ میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ہجرت

جمعہ نومبر 27 , 2020
دیار غیر میں مقیم کئی ہم وطنوں اور پردیسیوں کو اس تلخ تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔